کتاب شرابوں کی بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 45 · 14 hadiths

1498Mauwatta Imam Malik

خمر کی حد کا بیان

عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَائِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَإِنْ کَانَ يُسْکِرُ جَلَدْتُهُ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا

سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نکلے اور کہا میں نے فلانے کے منہ سے شراب کی بو پائی وہ کہتا ہے میں طلا (انگور کے شیرے کو اتنا پکایا جائے کہ وہ گاڑھا ہوجائے مثلا دو ثلث جل جائے ایک ثلث رہ جائے) پی اور میں پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں نشہ ہے تو اس کو حد ماروں گا حضرت عمر نے اس کو پوری حد لگائی۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that as-Saib ibn Yazid informed him that Umar ibn al-Khattab came out to them. He said, "I have found the smell of wine on so-and-so, and he claimed that it was the drink of boiled fruit juice, and I am inquiring about what he has drunk. If it intoxicates, I will flog him." Umar then flogged him with the complete hadd.

1499Mauwatta Imam Malik

خمر کی حد کا بیان

عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ فِي الْخَمْرِ يَشْرَبُهَا الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ نَرَی أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَکِرَ وَإِذَا سَکِرَ هَذَی وَإِذَا هَذَی افْتَرَی أَوْ کَمَا قَالَ فَجَلَدَ عُمَرُ فِي الْخَمْرِ ثَمَانِينَ

ثور بن زید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے صحابہ سے مشورہ لیا خمر کی حد میں (کیونکہ حضور ﷺ نے کوئی حد معین نہیں کی تھی) حضرت علی نے فرمایا میرے نزدیک اسی کوڑے لگانے مناسب ہیں کیونکہ آدمی جب شراب پیے گا مست ہوجائے گا اور جب مست ہوجائے گا واہیات بکے گا اور جب واہیات بکے گا تو کسی کو گالی بھی دے گا ایسا ہی کیا حضرت عمر ؓ نے اسی کوڑے مقرر کئے خمر میں۔

Yahya related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili that Umar ibn al-Khattab asked advice about a man drinking wine. Ali ibn Abi Talib said to him, "We think that you flog him for it with eighty lashes. Because when he drinks, he becomes intoxicated, and when he becomes intoxicated, he talks confusedly, and when he talks confusedly, he lies." (8O lashes is the same amount as for slandering) Umar gave eighty lashes for drinking wine.

1500Mauwatta Imam Malik

خمر کی حد کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ حَدِّ الْعَبْدِ فِي الْخَمْرِ فَقَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَلَيْهِ نِصْفَ حَدِّ الْحُرِّ فِي الْخَمْرِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدْ جَلَدُوا عَبِيدَهُمْ نِصْفَ حَدِّ الْحُرِّ فِي الْخَمْرِ

ابن شہاب سے پوچھا گیا غلام اگر شراب پیے تو اس کی کیا حد ہے انہوں نے کہا مجھے یہ پہنچا کہ غلام پر آزاد کی نصف حد ہے اور حضرت عمر ؓ اور عثمان اور عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنے غلاموں کو آزاد کے نصف حد لگائی۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that he was asked about the hadd of the slave for wine. He said, "I heard that he has half the hadd of a freeman for drinking wine. Umar ibn al-Khattab, Uthman ibn Affan, and Abdullah ibn Umar flogged their slaves with half of the hadd of a freeman when they drank wine."

1501Mauwatta Imam Malik

خمر کی حد کا بیان

عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ مَا مِنْ شَيْئٍ إِلَّا اللَّهُ يُحِبُّ أَنْ يُعْفَی عَنْهُ مَا لَمْ يَکُنْ حَدًّا قَالَ مَالِک وَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ کُلَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا مُسْکِرًا فَسَکِرَ أَوْ لَمْ يَسْکَرْ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَدُّ

سعید بن مسیب ؓ کہتے تھے کہ کوئی گناہ نہیں مگر اللہ چاہتا ہے کہ معاف کردیا جائے سوائے حد کے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو کوئی ایسی شراب پئے جس میں نشہ ہو تو اس کو حد پڑے گی خواہ اس کو نشہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he heard Said ibn al-Musayyab say, "There is nothing that Allah does not like to be pardoned as long as it is not a hadd."

1502Mauwatta Imam Malik

جن دو چیزوں کو ملا کر نیبذ نہ بنانی چاہئے۔

حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ فَانْصَرَفَ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ فَسَأَلْتُ مَاذَا قَالَ فَقِيلَ لِي نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی غزوے میں خطبہ پڑھا میں بھی آپ ﷺ کی طرف چلا سننے کے واسطے لیکن میرے پہنچنے سے پہلے آپ ﷺ فارغ ہوگئے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا لوگوں نے کہا منع کیا آپ ﷺ نے نبیذ بھگونے سے توبنے اور مرتبان میں۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade preparing nabidh from nearly ripe dates and fresh dates together, and from dates and raisins together.

1503Mauwatta Imam Malik

جن دو چیزوں کو ملا کر نیبذ نہ بنانی چاہئے۔

و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا میوہ تر کرنے سے توبنے اور مرتبان میں۔

Yahya related to me from Malik from a reliable source from Bukayr ibn Abdullah ibn al-Ashajj from Abd ar-Rahman ibn al-Hubab al-Ansari from Abu Qatada al-Ansari that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade making nabidh from dates and raisins together, and nearly ripe dates and fresh dates together. Malik said, "That is the way of doing things among us in which the people of knowledge in our city continue. It is disapproved of because the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade it."

1504Mauwatta Imam Malik

جن دو چیزوں کو ملا کر نیبذ نہ بنانی چاہئے۔

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يُشْرَبَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَالزَّهْوُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا قَالَ مَالِک وَهُوَ الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا أَنَّهُ يُکْرَهُ ذَلِکَ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ

عطا بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ گدر کھجور اور پکی کھجور ملا کر بھگوئی جائیں یا کھجور اور انگور ملا کر بھگوئے جائیں۔ ابو قتادہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے کھجور اور انگور کے ملا کر نیبذ پینے سے اور گدر اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ پینے سے۔ کہا مالک نے اس امر پر اتفاق کیا ہے ہمارے شہر کے علماء نے کہ یہ مکروہ ہے کیونکہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے اس سے۔

1505Mauwatta Imam Malik

خمر کی حرمت کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِتْعِ فَقَالَ کُلُّ شَرَابٍ أَسْکَرَ فَهُوَ حَرَامٌ

حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے پوچھا بتع ( شہد کی شراب) کا حکم آپ ﷺ نے فرمایا جو شراب نشہ کرے وہ حرام ہے۔

Yahya related to me from Malik from ibn Shihab from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked about mead, and he replied, Every drink which intoxicates is haram. "

1506Mauwatta Imam Malik

خمر کی حرمت کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْغُبَيْرَائِ فَقَالَ لَا خَيْرَ فِيهَا وَنَهَی عَنْهَا

عطاء بن یسار سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا جوار کی شراب کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا بہتر نہیں ہے اور منع کیا اس سے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked about al-Ghubayra. He said, "There is no good in it," and forbade it. Malik said, "I asked Zayd ibn Aslam, What is al-Ghubayra? He said, It is an intoxicant. "

1507Mauwatta Imam Malik

خمر کی حرمت کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا میں شراب پئے گا پھر اس سے توبہ نہ کرے گا تو آخرت میں شراب سے محروم رہے گا۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Whoever drinks wine in this world and does not turn from it in tawba, it is haram for him in the Next World."

1508Mauwatta Imam Malik

شراب کی حرمت کے مختلف مسائل

عَنْ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنْ الْعِنَبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْدَی رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا قَالَ لَا فَسَارَّهُ رَجُلٌ إِلَی جَنْبِهِ فَقَالَ لَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ سَارَرْتَهُ فَقَالَ أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا فَفَتَحَ الرَّجُلُ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّی ذَهَبَ مَا فِيهِمَا

ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے واسطے ایک مشک شراب کی تحفہ لایا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کیا ہے وہ بولا مجھے خبر نہیں، ایک شخص نے چپکے سے اس کے کان میں کچھ کہا آپ ﷺ نے پوچھا تو نے کیا کہا؟ وہ بولا میں نے بیچ ڈالنے کو کہا، آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اس کا پینا حرام کیا اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا یہ سن کر اس شخص نے مشک کا منہ کھول دیا سب شراب بہہ گئی۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Ibn Wala al-Misri asked Abdullah ibn Abbas about what is squeezed from the grapes. Ibn Abbas (RA) replied, "A man gave the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, a small water-skin of wine. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, Dont you know that Allah has made it haram? He said, No. Then a man at his side whispered to him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked what he had whispered, and the man replied, I told him to sell it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The One who made drinking it haram has made selling it haram. The man then opened the water-skins and poured out what was in them ."

1509Mauwatta Imam Malik

شراب کی حرمت کے مختلف مسائل

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَأُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ قَالَ فَجَائَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ قُمْ إِلَی هَذِهِ الْجِرَارِ فَاکْسِرْهَا قَالَ فَقُمْتُ إِلَی مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّی تَکَسَّرَتْ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں ابوعیبد بن جراح اور ابی بن کعب کو شراب پلایا کرتا تھا کھجور اور خشک کھجور کی اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا شراب حرام ہوگئی، ابوطلحہ نے کہا اے انس اٹھو گھڑے پھوڑ دو میں اٹھا اور موسل سے مار کر سب گھڑوں کو پھوڑ دیا۔

Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik said, "I was serving wine to Abu Ubayda ibn al-Jarrah and Abu Talha al-Ansari and Umayy ibn Kab. The wine had been prepared from crushed ripe dates and dried dates. Someone came to them and said, Wine has been made haram. Abu Talha ordered me to go and take the jugs and break them. I stood up and went to a mortar of ours and I struck them with the bottom of it until they broke."

1510Mauwatta Imam Malik

شراب کی حرمت کے مختلف مسائل

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ شَکَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَائَ الْأَرْضِ وَثِقَلَهَا وَقَالُوا لَا يُصْلِحُنَا إِلَّا هَذَا الشَّرَابُ فَقَالَ عُمَرُ اشْرَبُوا هَذَا الْعَسَلَ قَالُوا لَا يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ هَلْ لَکَ أَنْ نَجْعَلَ لَکَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لَا يُسْکِرُ قَالَ نَعَمْ فَطَبَخُوهُ حَتَّی ذَهَبَ مِنْهُ الثُّلُثَانِ وَبَقِيَ الثُّلُثُ فَأَتَوْا بِهِ عُمَرَ فَأَدْخَلَ فِيهِ عُمَرُ إِصْبَعَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَتَبِعَهَا يَتَمَطَّطُ فَقَالَ هَذَا الطِّلَائُ هَذَا مِثْلُ طِلَائِ الْإِبِلِ فَأَمَرَهُمْ عُمَرُ أَنْ يَشْرَبُوهُ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ أَحْلَلْتَهَا وَاللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ کَلَّا وَاللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ

حضرت عمر بن خطاب ؓ جب شام کی طرف آئے تو لوگوں نے وبا اور آب و ہوا کے بھاری ہونے کا بیان کیا اور کہا بغیر اس شراب کے ہمارا مزاج اچھا نہیں رہتا آپ نے کہا شہد پیو انہوں نے کہا شہد موافق نہیں ایک شخص بولا ہم اسی کو اس طرح تیار کریں جس میں نشہ نہ ہو آپ نے کہا ہاں، انہوں نے اس کو پکایا اتنا کہ ایک تہائی رہ گیا دو تہائی جل گیا اس کو حضرت عمر ؓ کے پاس لائے انہوں نے انگلی ڈالی جب وہ چَپ چَپ کرنے لگا آپ نے فرمایا یہ طلا تو اونٹ کے طلا کے مشابہ ہے حضرت عمر ؓ نے اس کے پینے کی اجازت دی عبادہ بن صامت نے کہا آپ نے حلال کردیا حضرت عمر ؓ نے کہا نہیں قسم اللہ کی یا اللہ میں نے کبھی اس چیز کو حلال نہیں کیا جس کو تو نے حرام کیا اور نہ حرام کیا جس کو تو نے حلال کیا۔

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn that Waqid ibn Amr ibn Sad ibn Muadh informed him from Mahmud ibn Labid al-Ansari that when Umar ibn al-Khattab went to ash-Sham, the people of ash-Sham complained to him about the bad air of their land and its heaviness. They said, "Only this drink helps." Umar said, "Drink this honey preparation." They said, "Honey does not help us." A man from the people of that land said, "Can we give you something of this drink which does not intoxicate?" He said, "Yes." They cooked it until two-thirds of it evaporated and one-third of it remained. Then they brought it to Umar. Umar put his finger in it and then lifted his head and extended it. He said, "This is fruit juice concentrated by boiling. This is like the distillation with which you smear the camels scabs." Umar ordered them to drink it. Ubadah ibn as-Samit said to him, "You have made it halal, by Allah!" Umar said, "No, by Allah! O Allah! I will not make anything halal for them which You have made haram for them! I will not make anything haram for them which You have made halal for them."

1511Mauwatta Imam Malik

شراب کی حرمت کے مختلف مسائل

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالُوا لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَبْتَاعُ مِنْ ثَمَرِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ فَنَعْصِرُهُ خَمْرًا فَنَبِيعُهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْکُمْ وَمَلَائِکَتَهُ وَمَنْ سَمِعَ مِنْ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَنِّي لَا آمُرُکُمْ أَنْ تَبِيعُوهَا وَلَا تَبْتَاعُوهَا وَلَا تَعْصِرُوهَا وَلَا تَشْرَبُوهَا وَلَا تَسْقُوهَا فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان سے عراق کے لوگوں نے کہا ہم کھجور اور انگور کے پھل خریدتے ہیں پھر اس کی شراب بنا کر بیچتے ہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو اور فرشتوں کو اور جو سنتے ہیں جن اور آدمی کہ میں اجازت نہیں دیتا تم کو بیچنے کی نہ خریدنے کی نہ نچوڑنے کی نہ پینے کی نہ پلانے کی کیونکہ شراب پلید ہے شیطان کا کام ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that some men from Iraq said to him, "Abu Abd ar-Rahman, we buy the fruit of the palm and grapes and we squeeze them into wine and we sell it." Abdullah ibn Umar said, "I call on Allah and His angels and whoever hears of jinn and men to testify to you that I order you not to buy it nor sell it nor to press it nor to drink it nor to give it to people to drink. It is something impure from the work of Shaytan."