جو شخص غلام میں سے اپنا حصة آزاد کر دے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَکَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأَعْطَی شُرَکَائَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْعَبْدِ يُعْتِقُ سَيِّدُهُ مِنْهُ شِقْصًا ثُلُثَهُ أَوْ رُبُعَهُ أَوْ نِصْفَهُ أَوْ سَهْمًا مِنْ الْأَسْهُمِ بَعْدَ مَوْتِهِ أَنَّهُ لَا يَعْتِقُ مِنْهُ إِلَّا مَا أَعْتَقَ سَيِّدُهُ وَسَمَّى مِنْ ذَلِكَ الشِّقْصِ وَذَلِكَ أَنَّ عَتَاقَةَ ذَلِكَ الشِّقْصِ إِنَّمَا وَجَبَتْ وَكَانَتْ بَعْدَ وَفَاةِ الْمَيِّتِ وَأَنَّ سَيِّدَهُ كَانَ مُخَيَّرًا فِي ذَلِكَ مَا عَاشَ فَلَمَّا وَقَعَ الْعِتْقُ لِلْعَبْدِ عَلَى سَيِّدِهِ الْمُوصِي لَمْ يَكُنْ لِلْمُوصِي إِلَّا مَا أَخَذَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَعْتِقْ مَا بَقِيَ مِنْ الْعَبْدِ لِأَنَّ مَالَهُ قَدْ صَارَ لِغَيْرِهِ فَكَيْفَ يَعْتِقُ مَا بَقِيَ مِنْ الْعَبْدِ عَلَى قَوْمٍ آخَرِينَ لَيْسُوا هُمْ ابْتَدَءُوا الْعَتَاقَةَ وَلَا أَثْبَتُوهَا وَلَا لَهُمْ الْوَلَاءُ وَلَا يَثْبُتُ لَهُمْ وَإِنَّمَا صَنَعَ ذَلِكَ الْمَيِّتُ هُوَ الَّذِي أَعْتَقَ وَأُثْبِتَ لَهُ الْوَلَاءُ فَلَا يُحْمَلُ ذَلِكَ فِي مَالِ غَيْرِهِ إِلَّا أَنْ يُوصِيَ بِأَنْ يَعْتِقَ مَا بَقِيَ مِنْهُ فِي مَالِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لِشُرَكَائِهِ وَوَرَثَتِهِ وَلَيْسَ لِشُرَكَائِهِ أَنْ يَأْبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ لِأَنَّهُ لَيْسَ عَلَى وَرَثَتِهِ فِي ذَلِكَ ضَرَرٌ قَالَ مَالِك وَلَوْ أَعْتَقَ رَجُلٌ ثُلُثَ عَبْدِهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَبَتَّ عِتْقَهُ عَتَقَ عَلَيْهِ كُلُّهُ فِي ثُلُثِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُعْتِقُ ثُلُثَ عَبْدِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ لِأَنَّ الَّذِي يُعْتِقُ ثُلُثَ عَبْدِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ لَوْ عَاشَ رَجَعَ فِيهِ وَلَمْ يَنْفُذْ عِتْقُهُ وَأَنَّ الْعَبْدَ الَّذِي يَبِتُّ سَيِّدُهُ عِتْقَ ثُلُثِهِ فِي مَرَضِهِ يَعْتِقُ عَلَيْهِ كُلُّهُ إِنْ عَاشَ وَإِنْ مَاتَ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي ثُلُثِهِ وَذَلِكَ أَنَّ أَمْرَ الْمَيِّتِ جَائِزٌ فِي ثُلُثِهِ كَمَا أَنَّ أَمْرَ الصَّحِيحِ جَائِزٌ فِي مَالِهِ كُلِّهِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مشترک غلا میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس شخص کے پاس انتا مال کہ غلام کی قیمت دے سکے تو اس غلام کی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو موافق حصہ ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جس قدر اس غلام میں سے آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ مولیٰ اگر اپنے مرنے کے بعد اپنے غالم کا ایک حصہ جیسے ثلث یاربع یا نصف آزاد کر جائے تو بعد مولیٰ کے مرجانے کے اسی قدر حصہ جتنامولیٰ نے آزاد کیا تھا آزاد ہوجائے گا کیونکہ اس حصے کی آزادی بعد مولیٰ کے مرجانے کے لازم ہوئی اور جب تک مولیٰ ازندہ تھا اس کو اختیار تھا جب مرگیا تو موافق اس کی وصیت کے اسی قدر حصہ آزاد ہوگا اور باقی غلام آزاد نہ ہوگا اس واسطے کہ وہ غیر کی ملک ہوگا تو باقی غلام غیر کی طرف سے کیونکر آزاد ہوگا نہ اس نے آزادی شروع کی اور نہ ثابت کی اور نہ اس کے واسطے ولاء ہے بلکہ یہ میت کا فعل ہے اسی نے آزاد کیا اور اسی نے اپنے لئے ولاء ثابت کی تو غیر کے مالک میں کیونکر درست ہوگا البتہ اگر یہ وصیت کر جائے کہ باقی غلام بھی اس کے مال میں سے آزاد کردیا جائے گا اور ثلث مال میں سے وہ غلام آزاد ہوسکتا ہو تو آزاد ہوجائے گا پھر اس کے شریکوں یا وارثوں کو تعرض نہیں پہنچتا کیونکہ ان کا کچھ ضرر نہیں۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی بیماری میں تہائی غلام آزاد کردیا تو وہ ثلث مال میں سے پورا آزاد ہوجائے گا کیونکہ یہ مثل اس شخص کے نہیں ہے جو اپنی تہائی غلام کی آزادی اپنی موت پر معلق کردے اس واسطے کہ اس کی آزادی قطعی نہیں جب تک زندہ ہے رجوع کرسکتا ہے اور جس نے اپنے مرض میں تہائی غلام قطعا آزاد کردیا اگر وہ زندہ رہ گیا تو کل غلام آزاد ہوجائے گا کیونکہ میت کا تہائی مال میں وصیت درست ہے جیسے صحیح سالم کا تصرف کل مالک میں درست ہے۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنا غلام قطعی طور پر آزاد کردیا یہاں تک کہ اس کی شہادت ہوگئی اور اس کی حرمت پوری ہوگئی اور اس کی میراث ثابت ہوگئی اب اس کے مولیٰ کو نہیں پہنچتا کہ اس پر کسی مال یا خدمت کی شرط لگادے یا اس پر کچھ غلامی کا بوجھ ڈالے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا حصہ غلام میں سے آزاد کردے تو اس کی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو موافق حصہ کر آزاد کرے اور غلام اس کے اوپر آزاد ہوجائے گا پس جس صورت میں وہ غلام خاص اسی کی ملک ہے تو زیادہ تر اس کی آزادی پوری کرنے کا حقدار ہوگا اور غلامی کا بوجھ اس پر نہ رکھے سکے گا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace,said, "If a man frees his share of a slave and has enough money to cover the full price of the slave justly evaluated for him, he must buy out his partners so that the slave is completely freed. If he doesnt have the money, he partially frees him.
آزادی میں شرط کرنے کا بیان
عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ رَجُلًا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ سِتَّةً عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَسْهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ ثُلُثَ تِلْكَ الْعَبِيدِ
حسن بصری اور محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا آپ ﷺ نے قرعہ ڈال کردو کی آزاد قائم رکھی۔
Malik related to me from Yahya ibn Said and somebody else from al-Hasan ibn Abi al-Hasan al-Basri and from Muhammad ibn Sirin that a man in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, freed six of his slaves while he was dying. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, drew lots between them and freed a third of those slaves. Malik added that he had heard that the man did not have any property other than them.
آزادی میں شرط کرنے کا بیان
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا فِي إِمَارَةِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ أَعْتَقَ رَقِيقًا لَهُ کُلَّهُمْ جَمِيعًا وَلَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَمَرَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ بِتِلْکَ الرَّقِيقِ فَقُسِمَتْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَسْهَمَ عَلَی أَيِّهِمْ يَخْرُجُ سَهْمُ الْمَيِّتِ فَيَعْتِقُونَ فَوَقَعَ السَّهْمُ عَلَی أَحَدِ الْأَثْلَاثِ فَعَتَقَ الثُّلُثُ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهِ السَّهْمُ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ ایک شخص نے ابان بن عثمان کی خلافت میں اپنے سب غلاموں کو آزاد کردیا اور سوا ان غلاموں کے اور کچھ مال اس شخص کے پاس نہ تھا تو ابان بن عثمان نے حکم کیا ان غلاموں کے تین حصے کئے گئے پھر جس حصے پر میت کا حصہ نکلا وہ غلام آزاد ہوگئے اور جب حصوں پر وارثوں کا نام نکلا وہ غلام رہے۔
Malik related to me from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman that a man in the time of Aban ibn Uthmans amirate freed all of his slaves and did not have other property than them. Aban ibn Uthman took charge of the slaves and they were divided into three groups. Then he drew lots on the basis that which ever group drew the dead mans arrow would be free. The arrow fell to one of the thirds, and that third was freed.
جب غلام آزاد ہوجائے اس کا مال کون لے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا أُعْتِقَ تَبِعَهُ مَالُهُ قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ وَالْمُکَاتَبَ إِذَا أَفْلَسَا أُخِذَتْ أَمْوَالُهُمَا وَأُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِمَا وَلَمْ تُؤْخَذْ أَوْلَادُهُمَا لِأَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَمْوَالٍ لَهُمَا قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا بِيعَ وَاشْتَرَطَ الَّذِي ابْتَاعَهُ مَالَهُ لَمْ يَدْخُلْ وَلَدُهُ فِي مَالِهِ قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَرَحَ أُخِذَ هُوَ وَمَالُهُ وَلَمْ يُؤْخَذْ وَلَدُهُ
شہاب کہتے تھے کہ سنت جاری ہے اس بات پر جب غلام آزاد ہوجائے اس کا مال اسی کو ملے گا۔ کہا مالک نے اس کی دلیل یہ ہے کہ غلام اور مکاتب جب مفلس ہوجائیں تو ان کے مالک اور ام دلد لے لیں گے مگر اولاد کو نہ لیں گے کیونکہ اولاد غلام کا مالک نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ غلام جب بیچا جائے اور خریدار اس کے مالک لینے کی طرف کرلے تو اولاد اس میں داخل نہ ہوگی۔ کہا مالک نے غلام اگر کسی کو زخمی کرے تو اس دیت میں وہ خود اور مال اس کا گرفت کیا جائے گا مگر اس کی اولاد سے مواخذہ نہ ہوگا۔
Malik related to me that he heard Ibn Shihab say, "The precedent of the sunna is that when a slave is freed, his property follows him."
ام ولد کا آزاد ہونا اور آزاد کرنے کے اختیار کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا وَلَا يَهَبُهَا وَلَا يُوَرِّثُهَا وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ بِهَا فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَتْهُ وَلِيدَةٌ قَدْ ضَرَبَهَا سَيِّدُهَا بِنَارٍ أَوْ أَصَابَهَا بِهَا فَأَعْتَقَهَا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو لونڈی اپنے مالک سے جنے تو مالک اس کے بہ بیچے نہ ہبہ کر نہ وہ مالک کے وارثوں کے ملک میں آسکتی ہے بلکہ جب تک مالک زندہ رہے اس سے مزے لے جب مرجائے وہ آزاد ہوجائے گی۔ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک لونڈی آئی جس کو اس کے مولیٰ نے آگ میں جلایا تھا آپ نے اس کو آزاد کردیا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab said, "If a slave-girl gives birth to a child by her master, he must not sell her, give her away, or bequeath her. He enjoys her and when he dies she is free ."Malik said, "The generally agreed-on way of doing things among us is that a man is not permitted to be freed while he has a debt against him which exceeds his property. A boy is not allowed to be set free until he has reached puberty. The young person whose affairs are managed cannot set free in his property, even when he reaches puberty, until he manages his property."
جس لونڈی یا غلام کا عتاق واجب میں آزاد کرنا درست ہے اس کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً لِي کَانَتْ تَرْعَی غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنْ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ أَکَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَکُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ فَقَالَتْ فِي السَّمَائِ فَقَالَ مَنْ أَنَا فَقَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْهَا
عمر بن حکم سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میری ایک لونڈی بکریاں چرا رہی تھی جب میں وہاں گیا دیکھا تو ایک بکری گم ہے پوچھا میں نے ایک بکری کہاں ہے بولی اس کو بھیڑیا کھا گیا ہے مجھے غصہ آیا آخر میں آدمی تھا میں نے ایک طماچہ اس کے منہ پر جڑا میرے ذمے ایک بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا اسی کو آزاد کر دوں آپ ﷺ نے اس لونڈی سے فرمایا اللہ جل جلالہ کہاں ہے وہ بولی آسمان پر ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں کون ہو بولی آپ ﷺ اللہ کے رسول پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو فرمایا اس کو آزاد کر دے۔
Malik related to me from Hilal ibn Usama from Ata ibn Yasar that Umar ibn al-Hakam said, "I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah, a slave girl of mine was tending my sheep. I came to her and one of the sheep was lost. I asked her about it and she said that a wolf had eaten it, so I became angry and I am one of the children of Adam, so I struck her on the face. As it happens, I have to set a slave free, shall I free her? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, questioned her, Where is Allah? She said, In heaven. He said, Who am I? She said, You are the Messenger of Allah. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Free her. "
جس لونڈی یا غلام کا عتاق واجب میں آزاد کرنا درست ہے اس کا بیان
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ کُنْتَ تَرَاهَا مُؤْمِنَةً أُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْهَا عَنْ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يُعْتِقُ فِيهَا ابْنَ زِنًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ ذَلِکَ يُجْزِئُ عَنْهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا قَالَ نَعَمْ ذَلِکَ يُجْزِئُ عَنْهُ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری رسول اللہ ﷺ کے پاس کالی لونڈی لے کر آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے اوپر ایک مسلمان بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا میں اس کو آزاد کر دوں اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ مومنہ ہے تو میں اسی کو آزاد کر دوں آپ ﷺ نے اس لونڈی سے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ کے وہ بولی ہاں پھر آپ ﷺ نے فرمایا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں وہ بولی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کر کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھیں گے بولی ہاں تب آپ ﷺ نے فرمایا اس کو آزاد کر دے ابوہریرہ ؓ سوال ہوا کہ جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہوگیا ہو ولد الزنا کو آزاد کرسکتا ہے جواب دیا ہاں کرسکتا ہے۔ فضالہ بن عبید انصاری سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہوگیا وہ ولدا لزنا کو آزاد کرسکتا ہے جواب دیا ہاں کرسکتا ہے۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that one of the Ansar came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with a black slave-girl of his. He said, "Messenger of Allah, I must set a slave free who is a mumina. If you think that she is mumina, I will free her." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, questioned her, "Do you testify that there is no god but Allah?" She said, "Yes." "Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah? ﷺ " She said, "Yes." "Are you certain about the rising after death?" She said, "Yes." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Free her."
جن بردوں کا آزاد کرنا درست ہنہیں واجب اعتاق میں
أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ الرَّقَبَةِ الْوَاجِبَةِ هَلْ تُشْتَرَى بِشَرْطٍ فَقَالَ لَا قَالَ مَالِك وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لَا يَشْتَرِيهَا الَّذِي يُعْتِقُهَا فِيمَا وَجَبَ عَلَيْهِ بِشَرْطٍ عَلَى أَنْ يُعْتِقَهَا لِأَنَّهُ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَلَيْسَتْ بِرَقَبَةٍ تَامَّةٍ لِأَنَّهُ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا لِلَّذِي يَشْتَرِطُ مِنْ عِتْقِهَا قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّقَبَةَ فِي التَّطَوُّعِ وَيَشْتَرِطَ أَنْ يُعْتِقَهَا قَالَ مَالِك إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُعْتَقَ فِيهَا نَصْرَانِيٌّ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا يُعْتَقُ فِيهَا مُكَاتَبٌ وَلَا مُدَبَّرٌ وَلَا أُمُّ وَلَدٍ وَلَا مُعْتَقٌ إِلَى سِنِينَ وَلَا أَعْمَى وَلَا بَأْسَ أَنْ يُعْتَقَ النَّصْرَانِيُّ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ تَطَوُّعًا لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً فَالْمَنُّ الْعَتَاقَةُ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الرِّقَابُ الْوَاجِبَةُ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا يُعْتَقُ فِيهَا إِلَّا رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ فِي إِطْعَامِ الْمَسَاكِينِ فِي الْكَفَّارَاتِ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُطْعَمَ فِيهَا إِلَّا الْمُسْلِمُونَ وَلَا يُطْعَمُ فِيهَا أَحَدٌ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ جس بردہ کا آزاد کرنا واجبہو وہ شرط لگا کر خرید کیا جائے کہا نہیں۔ کہا مالک نے جو شخص غلام کو آزاد کرنے کے لئے اور اس پر آزاد کرنا واجب ہو تو اس شرط سے نہ خریدے کہ میں آزاد کردوں گا اس واسطے کہ اگر اس شرط سے خریدے گا تو بائع (بچنے والا) رعایت کرکے اس کی قیمت کم کردے گا اس صورت میں وہ پورارقبہ نہ ہوگا۔
Malik related to me that he had heard that Abdullah ibn Umar was asked whether a slave could be bought on the specific condition that it was to be used to fulfil the obligation of freeing a slave, and he said, "No."
مردے کی طرف سے آزاد کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِکَ إِلَی أَنْ تُصْبِحَ فَهَلَکَتْ وَقَدْ کَانَتْ هَمَّتْ بِأَنْ تُعْتِقَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي هَلَکَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا پھر صبح تک دیر کی رات کو مرگئیں اور ان کا قصد بردہ آزاد کرنے کا تھا عبدالرحمن نے کہا میں نے قاسم بن محمد سے پوچھا اگر میں اپنی ماں کی طرف سے آزاد کر دوں تو ان کو کچھ فائدہ ہوگا قاسم نے کہا سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری ماں مرگئی اگر میں اس کی طرف سے آزاد کر دں کیا اس کو فائدہ ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا ہان۔
13 Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Abi Amra al-Ansari that his mother had wanted to make a bequest, but she delayed until morning and died. She had intended to set someone free, so Abd ar-Rahman said, I said to al-Qasim ibn Muhammad, Will it help her if I free a slave for her? Al-Qasim replied, Sad ibn Ubadah said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, My mother died, will it help her if I set a slave free for her? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Yes." "
مردے کی طرف سے آزاد کرنے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِقَابًا کَثِيرَةً قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِکَ
یحییٰ بن سعید نے کہا عبدالرحمن بن ابوبکرسوتے سوتے مرگئے حضرت عائشہ نے ان کی طرف سے بہت سے بردے آزاد کئے۔
Malik related to me that Yahya ibn Said said, Abd ar-Rahman ibn Abi Bakr died in his sleep, and Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, set free many slaves for him." Malik said, "This is what I like best of what I have heard on the subject."
بردے آزاد کرنے کی فضلیت اور زانیہ اور ولد زنا کے آزاد کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الرِّقَابِ أَيُّهَا أَفْضَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کون سا بررہ آزاد کرنا افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس کی قیمت بھاری ہو اور اس کے مالکون کر بہت مرغوب ہو۔
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked what was the most excellent kind of slave to free. The Messenger of Allah, May Allah bless him and grant him peace, answered, "The most expensive and the most valuable to his master."
بردے آزاد کرنے کی فضلیت اور زانیہ اور ولد زنا کے آزاد کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَعْتَقَ وَلَدَ زِنًا وَأُمَّهُ
عبداللہ بن عمر نے ولد الزنا کو اور اس کی ماں کو آزاد کیا۔
Malik related to me from Nafi that Abdullah ibn Umar freed an illegitimate child and its mother.
ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي کَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِي کُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُکِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَنْکِ عَدَدْتُهَا وَيَکُونَ لِي وَلَاؤُکِ فَعَلْتُ فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَی أَهْلِهَا فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِکَ فَأَبَوْا عَلَيْهَا فَجَائَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَتْ لِعَائِشَةَ إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ ذَلِکَ فَأَبَوْا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْوَلَائُ لَهُمْ فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمْ الْوَلَائَ فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي کِتَابِ اللَّهِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَائُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
حضرت عائشہ کے پاس بریرہ آئی اور کہا کہ مجھ کو میرے لوگوں نے مکاتب کیا ہے نو اوقیہ پر ہر سال میں ایک اوقیہ تو میری مدد کرو حضرت عائشہ نے کہا اگر تیرے لوگوں کو منظور ہو تو میں ایک دفعہ میں سب سے دیتی ہوں مگر تیری ولا میں لوں گی بریرہ اپنے لوگوں کے پاس گئی ان سے بیان کیا انہوں نے ولا دینے سے انکار کیا پھر بریرہ لوٹ کر آئی حضرت عائشہ کے پاس اور رسول اللہ ﷺ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور کہا میں نے اپنے لوگوں سے بیان کیا وہ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ولا ہم لیں گے رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر پوچھا کیا حال ہے حضرت عائشہ نے سارا قصہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا تم بریرہ کو لے لو اور ولا کی شرط انہیں لوگوں کے واسطے کردو کیونکہ ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے حضرت عائشہ نے ایسا ہی کیا بعد اس کے رسول اللہ ﷺ لوگوں میں گئے اور کھڑے ہو کر اللہ جل جلالہ کی تعریف کی پھر فرمایا کیا حال ہے لوگوں کا ایسی شرطین لگاتے ہیں جو اللہ کی کر با میں نہیں ہیں جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے گو سو بار لگائی جائے اللہ کا حکم سچا اور اس کی شرط مضبوط ہے ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Barira came to me and said, I have written myself as mukatab for my people for nine uqiyas, one uqiya per year, so help me. Aisha said, If your people agree that I pay it all to them for you, and that if I pay it, your wala is mine, then I will do it. Barira went to her masters and told them that and they didnt agree. She came back from her masters while the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was sitting. She said to Aisha, I offered that to them and they refused me unless they had the wala. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, heard that and asked her about it Aisha told him and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Take her and stipulate that the wala is yours, for the wala is for the one who sets free. So Aisha did that and then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood up in front of the people, and praised Allah and gave thanks to Him. Then he said, What is wrong with the people who make conditions which are not in the Book of Allah? Any condition which is not in the Book of Allah is invalid even if it is a hundred conditions. The decree of Allah is truer and the conditions of Allah are firmer, and the wala only belongs to the one who sets free. "
ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُکِهَا عَلَی أَنَّ وَلَائَهَا لَنَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَمْنَعَنَّکِ ذَلِکَ فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنا چاہا اس کے لوگوں نے کہا ہم اس شرط سے پیچتے ہیں کہ ولا ہم کو ملے حضرت عائشہ نے یہ امر رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا تیر کچھ حرج نہیں ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that Aisha umm al-muminin wanted to buy a slave-girl and set her free. Her people said, "We will sell her to you provided that her wala is ours." She mentioned that to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he said, "Dont let that hinder you, for the wala only belongs to the one who sets free."
ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ بَرِيرَةَ جَائَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُکِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَکِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَکِ فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ يَکُونَ لَنَا وَلَاؤُکِ عَنْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ بریرہ آئی حضرت عائشہ ؓ مدد مانگنے کو حضرت عائشہ نے کہا اگر تیرے لوگوں کو منظور ہو کہ میں یک مشت ان کو تیری قیمت ادا کردوں اور تجھ کو آزاد کر دوں تو میں راضی ہوں بریرہ نے یہ اپنے لوگوں سے بیان کیا انہوں نے کہا ہم نہیں بیچیں گے مگر اس شرط سے کہ ولا ہم کو ملے۔ عمرہ نے کہا کہ پھر حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا تو خرید کر آزاد کر دے کیونکہ ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کر دے گا۔
Malik related to me from Yahya ibn Said from Amra bint Abd ar-Rahman that Barira came asking the help of Aisha, umm al-muminin. Aisha said, "If your masters agree that I pay them your price in one lump sum and set you free I will do it." Barira mentioned that to her masters and they said, "No, not unless your wala is ours." Yahya ibn Said added that Amra bint Abd ar-Rahman claimed that Aisha mentioned that to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace said, "Buy her and set her free. The wala only belongs to the one who sets free."
ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الْوَلَائِ وَعَنْ هِبَتِهِ قَالَ مَالِک فِي الْعَبْدِ يَبْتَاعُ نَفْسَهُ مِنْ سَيِّدِهِ عَلَی أَنَّهُ يُوَالِي مَنْ شَائَ إِنَّ ذَلِکَ لَا يَجُوزُ وَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَذِنَ لِمَوْلَاهُ أَنْ يُوَالِيَ مَنْ شَائَ مَا جَازَ ذَلِکَ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَائِ وَعَنْ هِبَتِهِ فَإِذَا جَازَ لِسَيِّدِهِ أَنْ يَشْتَرِطَ ذَلِکَ لَهُ وَأَنْ يَأْذَنَ لَهُ أَنْ يُوَالِيَ مَنْ شَائَ فَتِلْکَ الْهِبَةُ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ اولاد کی بیع یا ہبہ سے۔ کہا مالک نے جو غلام اپنے تئیں مولیٰ سے مول لے لے اس شرط سے کہ میری ولاء جس کو میں چاہوں گا اس کو ملے گی تو یہ جائز نہیں کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے اور اگر مولیٰ نے غلام کو اجازت دے دی کہ جس سے جی چاہے موالات کا عقد کرلے تو بھی جائز نہ ہوگا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ولاء اس کو ملے گی جو ازاد کرے اور منع کیا آپ نے ولاء کی بیع اور ہبہ سے پس اگر مولیٰ کو یہ امر جائز ہو کہ غلام سے ولا کی شرط کرلے یا اجازت دے جس کو وہ چاہے ولاء ملے اس صورت میں ولاء کا ہبہ ہوجائے گا۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade selling or giving away the wala.
جب غلام آزاد ہو تو ولا اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ اشْتَرَی عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ وَلِذَلِکَ الْعَبْدِ بَنُونَ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهُ الزُّبَيْرُ قَالَ هُمْ مَوَالِيَّ وَقَالَ مَوَالِي أُمِّهِمْ بَلْ هُمْ مَوَالِينَا فَاخْتَصَمُوا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَی عُثْمَانُ لِلزُّبَيْرِ بِوَلَائِهِمْ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سُئِلَ عَنْ عَبْدٍ لَهُ وَلَدٌ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ لِمَنْ وَلَاؤُهُمْ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنْ مَاتَ أَبُوهُمْ وَهُوَ عَبْدٌ لَمْ يُعْتَقْ فَوَلَاؤُهُمْ لِمَوَالِي أُمِّهِمْ قَالَ مَالِك وَمَثَلُ ذَلِكَ وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ مِنْ الْمَوَالِي يُنْسَبُ إِلَى مَوَالِي أُمِّهِ فَيَكُونُونَ هُمْ مَوَالِيَهُ إِنْ مَاتَ وَرِثُوهُ وَإِنْ جَرَّ جَرِيرَةً عَقَلُوا عَنْهُ فَإِنْ اعْتَرَفَ بِهِ أَبُوهُ أُلْحِقَ بِهِ وَصَارَ وَلَاؤُهُ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ وَكَانَ مِيرَاثُهُ لَهُمْ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِمْ وَيُجْلَدُ أَبُوهُ الْحَدَّ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ الْمُلَاعِنَةُ مِنْ الْعَرَبِ إِذَا اعْتَرَفَ زَوْجُهَا الَّذِي لَاعَنَهَا بِوَلَدِهَا صَارَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مِيرَاثِهِ بَعْدَ مِيرَاثِ أُمِّهِ وَإِخْوَتِهِ لِأُمِّهِ لِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يُلْحَقْ بِأَبِيهِ وَإِنَّمَا وَرَّثَ وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ الْمُوَالَاةَ مَوَالِيَ أُمِّهِ قَبْلَ أَنْ يَعْتَرِفَ بِهِ أَبُوهُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَسَبٌ وَلَا عَصَبَةٌ فَلَمَّا ثَبَتَ نَسَبُهُ صَارَ إِلَى عَصَبَتِهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي وَلَدِ الْعَبْدِ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ وَأَبُو الْعَبْدِ حُرٌّ أَنَّ الْجَدَّ أَبَا الْعَبْدِ يَجُرُّ وَلَاءَ وَلَدِ ابْنِهِ الْأَحْرَارِ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ يَرِثُهُمْ مَا دَامَ أَبُوهُمْ عَبْدًا فَإِنْ عَتَقَ أَبُوهُمْ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى مَوَالِيهِ وَإِنْ مَاتَ وَهُوَ عَبْدٌ كَانَ الْمِيرَاثُ وَالْوَلَاءُ لِلْجَدِّ وَإِنْ الْعَبْدُ كَانَ لَهُ ابْنَانِ حُرَّانِ فَمَاتَ أَحَدُهُمَا وَأَبُوهُ عَبْدٌ جَرَّ الْجَدُّ أَبُو الْأَبِ الْوَلَاءَ وَالْمِيرَاثَ قَالَ مَالِك فِي الْأَمَةِ تُعْتَقُ وَهِيَ حَامِلٌ وَزَوْجُهَا مَمْلُوكٌ ثُمَّ يَعْتِقُ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَوْ بَعْدَمَا تَضَعُ إِنَّ وَلَاءَ مَا كَانَ فِي بَطْنِهَا لِلَّذِي أَعْتَقَ أُمَّهُ لِأَنَّ ذَلِكَ الْوَلَدَ قَدْ كَانَ أَصَابَهُ الرِّقُّ قَبْلَ أَنْ تُعْتَقَ أُمُّهُ وَلَيْسَ هُوَ بِمَنْزِلَةِ الَّذِي تَحْمِلُ بِهِ أُمُّهُ بَعْدَ الْعَتَاقَةِ لِأَنَّ الَّذِي تَحْمِلُ بِهِ أُمُّهُ بَعْدَ الْعَتَاقَةِ إِذَا عَتَقَ أَبُوهُ جَرَّ وَلَاءَهُ قَالَ مَالِك فِي الْعَبْدِ يَسْتَأْذِنُ سَيِّدَهُ أَنْ يُعْتِقَ عَبْدًا لَهُ فَيَأْذَنَ لَهُ سَيِّدُهُ إِنَّ وَلَاءَ الْعَبْدِ الْمُعْتَقِ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ لَا يَرْجِعُ وَلَاؤُهُ لِسَيِّدِهِ الَّذِي أَعْتَقَهُ وَإِنْ عَتَقَ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ زبیر بن عوان نے ایک غلام خریدا کر آزاد کیا اس غلام کی اولاد ایک آزاد عورت سے تھی جب زبیر نے غلام کو آزاد کردیا تو زبیر نے کہا اس کی اولاد میری مولیٰ ہیں اور ان کی ماں کے لوگوں نے کہا ہمارے مولیٰ ہیں دونوں نے جھگڑا کیا حضرت عثمان کے پاس آئے آپ نے حکم کیا کہ ان کی ولا زبیر کو ملے گی۔ سعید بن مسیب سے سوال ہوا اگر ایک غلام کا لڑکا آزاد عورت سے ہو تو اس لڑکے کی ولا کس کو ملے گی سعید نے کہا اگر اس لڑکے کا باپ غلامی کی حالت میں مرجائے تو ولا اس کی ماں کے موالی کو ملے گی۔ کہا مالک نے مثال اس کی یہ ہے ملا عنہ عورت کا لڑکا اپنی ماں کے موالی کی طرف منسوت ہوگا اگر وہ مرجائے گا وہی اس کے وارث ہوں گے اگر جنایت کرے گا وہی دیت دیں گے پھر اس عورت کا خاوند اقرار کرلے کہ یہ میرا لڑکا ہے تو اس کی ولاء باپ کے موالی کو ملے گی وہی وارث ہوں گے وہی دیت دیں گے مگر اس کے باپ پر حد قذف پڑے گی مالک نے اسی طرح کہا اگر عورت ملاعنہ عربی ہو اور خاوند اس کے لڑکے کا اقرار کرلے کا اقرار کرلے کہ میرا لڑکا ہے تو وہ لڑکا اپنے باپ سے ملا دیا جائے گا۔ جب تک خاوند اقرار نہ کرے تو اس لڑکے کا ترکہ اس کی ماں اور اخیافی بھائی کو حصہ دے کر جو بچ رہے گا۔ مسلمانوں کا حق ہوگا اور ملاعنہ کے لڑکے کی میراث اس کی ماں کے موالی کو اس واسطے ملتی ہے کہ جب تک اس کے خاوند نے اقرار نہیں کیا نہ اس لڑکے کا نسب ہے نہ اس کا کوئی عصبہ ہے جب خاوند نے اقرار کرلیانسب ثابت ہوگیا اپنے عصبہ سے مل جائے گا۔ کہا مالک نے جس غلام کی اولاد آزاد عورت سے ہو اور غلام کا باپ آزاد ہو و (ف) اپنے پوتے یے ولاء کا مالک ہوگا جب تک باپ غلام رہے گا جب باپ آزاد ہوجائے گا تو اس کے موالی کو ملے گی اگر باپ غلامی کی حالت میں مرجائے گا تو میراث اور ولاء دادا کو ملے گی اگر اس غلام کے دو آزاد لڑکوں میں سے ایک لڑکا مرجائے اور باپ ان کا غلام ہو تو ولاء اور میراث اس کے دادا کو ملے گی۔ کہا مالک نے حاملہ لونڈی اگر ازاد ہوجائے اور خاوند اس کا غلام ہو پھر خاوند بھی آزاد ہوجائے وضع حمل سے پہلے یا بعد تو ولاء اس بچہ کی اس کی ماں کے مولیٰ کو ملے گی کیونکہ یہ بچہ قبل آزادی کے اس کا غلام ہوگیا البتہ جو حمل اس عورت کو بعد آزادی کے ٹھہرے گا اس کی ولاء اس کے باپ کو ملے گی جب وہ آزاد کردیا جائے گا کہا مالک نے جو غلام اپنے مولیٰ کے اذن سے اپنے غلام کو آزاد کرے تو اس کی ولاء مولیٰ کو ملے گی غلام کو نہ ملے گی اگرچہ آزاد ہوجائے۔
Malik related to me from Rabia ibn Abd ar-Rahman that az-Zubayr ibn al-Awwam bought a slave and set him free. The slave had children by a free woman. When az-Zubayr freed him, he said, "They are my mawali." The man argued, "They are the mawali of their mother. Rather, they are our mawali." They took the dispute to Uthman ibn Affan, and Uthman gave a judgement that az-Zubayr had their wala.
عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْعَاصِيَ بْنَ هِشَامٍ هَلَکَ وَتَرَکَ بَنِينَ لَهُ ثَلَاثَةً اثْنَانِ لِأُمٍّ وَرَجُلٌ لِعَلَّةٍ فَهَلَکَ أَحَدُ اللَّذَيْنِ لِأُمٍّ وَتَرَکَ مَالًا وَمَوَالِيَ فَوَرِثَهُ أَخُوهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَالَهُ وَوَلَائَهُ مَوَالِيهِ ثُمَّ هَلَکَ الَّذِي وَرِثَ الْمَالَ وَوَلَائَ الْمَوَالِي وَتَرَکَ ابْنَهُ وَأَخَاهُ لِأَبِيهِ فَقَالَ ابْنُهُ قَدْ أَحْرَزْتُ مَا کَانَ أَبِي أَحْرَزَ مِنْ الْمَالِ وَوَلَائِ الْمَوَالِي وَقَالَ أَخُوهُ لَيْسَ کَذَلِکَ إِنَّمَا أَحْرَزْتَ الْمَالَ وَأَمَّا وَلَائُ الْمَوَالِي فَلَا أَرَأَيْتَ لَوْ هَلَکَ أَخِي الْيَوْمَ أَلَسْتُ أَرِثُهُ أَنَا فَاخْتَصَمَا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَی لِأَخِيهِ بِوَلَائِ الْمَوَالِي
عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ عاصی بن ہشام مرگئے اور تین بیٹے چھوڑ گئے دو اس میں سے سگے بھائی تھے اور ایک سوتیلا تو سکے بھائیوں میں سے ایک بھائی مرگیا اور ماں اور غلام آزاد کئے ہوئے چھوڑ گیا اس کا وارث سگا بھائی ہوا ماں اور غلاموں کی سب ولا اس نے لی پھر وہ بھائی بھی مرگیا اور ایک بیٹا اور سوتیلا بھائی چھوڑ گیا بیٹے نے کہا میں اپنے باپ کے مال اور ولا کا مالک ہوں بھائی نے کہا بیشک مال کا تو مالک ہے مگر ولا کا مالک نہیں فرض کر کہ اگر پہلا بھائی میرا آج مرتا تو میں اس کا وارث ہوتا تو پھر دونوں نے جھگڑا کیا حضرت عثمان کے پاس آئے آپ نے ولا بھائی کو دلائی
Malik related to me from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm from Abdul Malik ibn Abi Bakr ibn Abd ar-Rahman ibn al-Harith ibn Hisham that his father told him that al-Asi ibn Hisham had died and left three sons, two by one wife and one by another wife. One of the two with the same mother died and left property and mawali. His full brother inherited his property and the wala of his mawali. Then he also died, and left as heirs his son and his paternal half brother. His son said, "I obtain what my father inherited of property and the wala of the mawali." His brother said, "It is not like that. You obtain the property. As for the wala of the mawali, it is not so. Do you think that had it been my first brother who died today, I would not have inherited from him?" They argued and went to Uthman ibn Affan. He gave a judgement that the brother had the wala of the mawali.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَبُوهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ فَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَنَفَرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَکَانَتْ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ کُلَيْبٍ فَمَاتَتْ الْمَرْأَةُ وَتَرَکَتْ مَالًا وَمَوَالِيَ فَوَرِثَهَا ابْنُهَا وَزَوْجُهَا ثُمَّ مَاتَ ابْنُهَا فَقَالَ وَرَثَتُهُ لَنَا وَلَائُ الْمَوَالِي قَدْ کَانَ ابْنُهَا أَحْرَزَهُ فَقَالَ الْجُهَنِيُّونَ لَيْسَ کَذَلِکَ إِنَّمَا هُمْ مَوَالِي صَاحِبَتِنَا فَإِذَا مَاتَ وَلَدُهَا فَلَنَا وَلَاؤُهُمْ وَنَحْنُ نَرِثُهُمْ فَقَضَی أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ لِلْجُهَنِيِّينَ بِوَلَائِ الْمَوَالِي عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فِي رَجُلٍ هَلَکَ وَتَرَکَ بَنِينَ لَهُ ثَلَاثَةً وَتَرَکَ مَوَالِيَ أَعْتَقَهُمْ هُوَ عَتَاقَةً ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَيْنِ مِنْ بَنِيهِ هَلَکَا وَتَرَکَا أَوْلَادًا فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَرِثُ الْمَوَالِيَ الْبَاقِي مِنْ الثَّلَاثَةِ فَإِذَا هَلَکَ هُوَ فَوَلَدُهُ وَوَلَدُ إِخْوَتِهِ فِي وَلَائِ الْمَوَالِي شَرَعٌ سَوَائٌ
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم کے والد ابن بن عثمان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں کچھ لوگ جہنیہ کے اور کچ لوگ بنی الحارث بن خزرج کے لڑتے جھگڑتے آئے مقدمہ یہ تھا کہ ایک جہنیہ کے نکاح میں تھی ایک شخص بنی الحارث بن خزرج میں سے جس کا نام ابرہیم بن کلیب تھا وہ عورت مرگئی اور مال اور غلام آزاد کئے ہوئے چھوڑ گئی اس کا خاوند اور بیٹا وارث ہوا پھر اس کا بیٹا مرگیا اب بیٹے کو وارثوں نے کہا ولا ہم کے ملے گی کیونکہ عورت کا بیٹا اس ولا پر قابض ہوگیا تھا اور جہنیہ کے لوگ یہ کہتے تھے کہ ولا کے مستحق ہم ہیں اس لئے وہ غلام ہمارے کنبے کی عورت کے غلام ہیں جب اس عورت کا لڑکا مرگیا ولا ہم کے ملے گی ابان بن عثما نے جہنیہ کے لوگوں کو ولا دیلائی۔ عید بن مسیب نے کہا جو شخص مرجائے اور تین بیٹے چھوڑ جائے اور آزاد کئے ہوئے غلام چھوڑ جائے پھر تینوں بیٹوں میں سے دو بیٹے مرجائیں اور اولاد اپنی چھوڑ جائیں تو ولا کا واث تیسر ابھائی ہوگیا جب وہ مرجائے تو اس کی اولاد اور ان دونوں بھائیوں کی اولاد ول کے استحقاق میں برابر ہوگی۔
Malik related to me from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Hazm that his father told him that he was sitting with Aban ibn Uthman, and an argument was brought to him between some people from the Juhayna tribe and some people from the Banu al-Harith ibn al-Khazraj. A woman of the Juhayna tribe was married to a man from the Banu al-Harith ibn al-Khazraj, called Ibrahim ibn Kulayb. She died and left property and mawali, and her son and husband inherited them from her. Then her son died and his heirs said, "We have the wala of the mawali. Her son obtained them." Those of the Juhayna said, "It is not like that. They are the mawali of our female associate. When her child died, we have their wala and we inherit them." Aban ibn Uthman gave a judgement that the people from the Juhayna tribe did indeed have the wala of the mawali.
سائبہ کی میراث کا بیان اور اس غلام کی ولا کا بیان جسکو یہودی یا نصرانی آزاد کرے
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبَةِ قَالَ يُوَالِي مَنْ شَائَ فَإِنْ مَاتَ وَلَمْ يُوَالِي أَحَدًا فَمِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِمْ قَالَ مَالِک إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي السَّائِبَةِ أَنَّهُ لَا يُوَالِي أَحَدًا وَأَنَّ مِيرَاثَهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلَهُ عَلَيْهِمْ قَالَ مَالِک فِي الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ يُسْلِمُ عَبْدُ أَحَدِهِمَا فَيُعْتِقُهُ قَبْلَ أَنْ يُبَاعَ عَلَيْهِ إِنَّ وَلَائَ الْعَبْدِ الْمُعْتَقِ لِلْمُسْلِمِينَ وَإِنْ أَسْلَمَ الْيَهُودِيُّ أَوْ النَّصْرَانِيُّ بَعْدَ ذَلِکَ لَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ الْوَلَائُ أَبَدًا قَالَ وَلَکِنْ إِذَا أَعْتَقَ الْيَهُودِيُّ أَوْ النَّصْرَانِيُّ عَبْدًا عَلَی دِينِهِمَا ثُمَّ أَسْلَمَ الْمُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ الْيَهُودِيُّ أَوْ النَّصْرَانِيُّ الَّذِي أَعْتَقَهُ ثُمَّ أَسْلَمَ الَّذِي أَعْتَقَهُ رَجَعَ إِلَيْهِ الْوَلَائُ لِأَنَّهُ قَدْ کَانَ ثَبَتَ لَهُ الْوَلَائُ يَوْمَ أَعْتَقَهُ
امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا سائبہ کا حکم انہوں نے کہا سائبہ جس شخص سے چاہے عقد موالات کرے اگر مرجائے اور کسی سے موالات نہ کرے تو اس کی میراث مسلمانوں کو ملے گی اگر وہ جنایر کرے گا تو دیب بھی وہی دیں گے۔ کہا مالک نے میرے نزدیک یہ ہے کہ سائبہ کسی سے عقد موالات نہ کرے اور میراث اس کی مسلمانوں کے ملے گی اور دیت بھی رہی دیں گے۔ کہا مالک نے اگر یہودی یا نصرانی کا لڑکا مسلمان ہو تو وہ اپنے باپ کے آزاد کئے ہوئے غلام کی ولاء پائے گا جب وہ غلام مسلمان ہوگیا ہو مگر باپ اس کا مسلمان نہ ہوا ہو جس نے آزاد کیا ہے اور اگر وہ غلام آزادی کے وقت بھی مسلمان تھا تو یہودی یا نصانی کے مسلمان لڑکے کو ولاء نہ ہوگی بلکہ وہ مسلمانوں کا حق ہوگی۔
Malik related to me that he had asked Ibn Shihab about a slave who was released. He said, "He gives his wala to whomever he likes. If he dies and has not given his wala to anyone, his inheritance goes to the muslims and his blood-money is paid by them."