Mauwatta Imam Malik 1169

کتاب عتق اور ولاء کے بیان میں

1169Mauwatta Imam Malik

سائبہ کی میراث کا بیان اور اس غلام کی ولا کا بیان جسکو یہودی یا نصرانی آزاد کرے

عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبَةِ قَالَ يُوَالِي مَنْ شَائَ فَإِنْ مَاتَ وَلَمْ يُوَالِي أَحَدًا فَمِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِمْ قَالَ مَالِک إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي السَّائِبَةِ أَنَّهُ لَا يُوَالِي أَحَدًا وَأَنَّ مِيرَاثَهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلَهُ عَلَيْهِمْ قَالَ مَالِک فِي الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ يُسْلِمُ عَبْدُ أَحَدِهِمَا فَيُعْتِقُهُ قَبْلَ أَنْ يُبَاعَ عَلَيْهِ إِنَّ وَلَائَ الْعَبْدِ الْمُعْتَقِ لِلْمُسْلِمِينَ وَإِنْ أَسْلَمَ الْيَهُودِيُّ أَوْ النَّصْرَانِيُّ بَعْدَ ذَلِکَ لَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ الْوَلَائُ أَبَدًا قَالَ وَلَکِنْ إِذَا أَعْتَقَ الْيَهُودِيُّ أَوْ النَّصْرَانِيُّ عَبْدًا عَلَی دِينِهِمَا ثُمَّ أَسْلَمَ الْمُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ الْيَهُودِيُّ أَوْ النَّصْرَانِيُّ الَّذِي أَعْتَقَهُ ثُمَّ أَسْلَمَ الَّذِي أَعْتَقَهُ رَجَعَ إِلَيْهِ الْوَلَائُ لِأَنَّهُ قَدْ کَانَ ثَبَتَ لَهُ الْوَلَائُ يَوْمَ أَعْتَقَهُ

امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا سائبہ کا حکم انہوں نے کہا سائبہ جس شخص سے چاہے عقد موالات کرے اگر مرجائے اور کسی سے موالات نہ کرے تو اس کی میراث مسلمانوں کو ملے گی اگر وہ جنایر کرے گا تو دیب بھی وہی دیں گے۔ کہا مالک نے میرے نزدیک یہ ہے کہ سائبہ کسی سے عقد موالات نہ کرے اور میراث اس کی مسلمانوں کے ملے گی اور دیت بھی رہی دیں گے۔ کہا مالک نے اگر یہودی یا نصرانی کا لڑکا مسلمان ہو تو وہ اپنے باپ کے آزاد کئے ہوئے غلام کی ولاء پائے گا جب وہ غلام مسلمان ہوگیا ہو مگر باپ اس کا مسلمان نہ ہوا ہو جس نے آزاد کیا ہے اور اگر وہ غلام آزادی کے وقت بھی مسلمان تھا تو یہودی یا نصانی کے مسلمان لڑکے کو ولاء نہ ہوگی بلکہ وہ مسلمانوں کا حق ہوگی۔

Malik related to me that he had asked Ibn Shihab about a slave who was released. He said, "He gives his wala to whomever he likes. If he dies and has not given his wala to anyone, his inheritance goes to the muslims and his blood-money is paid by them."