نکاح کا پیام دینے کے بیان میں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْطُبُ أَحَدُکُمْ عَلَی خِطْبَةِ أَخِيهِ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ پیغام بھیجے نکاح کا کوئی تم میں سے اپنے بھائی مسلمان کے پیغام پر۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Yahya ibn Habban from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not ask for a woman in marriage when another muslim has already done so."
نکاح کا پیام دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَتَرْكَنَ إِلَيْهِ وَيَتَّفِقَانِ عَلَى صَدَاقٍ وَاحِدٍ مَعْلُومٍ وَقَدْ تَرَاضَيَا فَهِيَ تَشْتَرِطُ عَلَيْهِ لِنَفْسِهَا فَتِلْكَ الَّتِي نَهَى أَنْ يَخْطُبَهَا الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَمْ يَعْنِ بِذَلِكَ إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُوَافِقْهَا أَمْرُهُ وَلَمْ تَرْكَنْ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَخْطُبَهَا أَحَدٌ فَهَذَا بَابُ فَسَادٍ يَدْخُلُ عَلَى النَّاسِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ پیغام بھیجے نکاح کا کوئی تم میں سے اپنے بھائی مسلمان کے پیغام پر۔ کہا مالک نے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کی نسبت کسی عور رت سے ٹھہر جائے اور عورت کا دل کسی مرد کی طرف مائل ہوجائے اور مہر ٹھہر جائے اب پھر اس عورت کو دوسرا شخص پیام نہ دے اور غرض نہیں کہ کسی شخص نے ایک عورت کو پیام دیا ہو اور اس کا پیام ٹھہرا نہ ہو تو دوسرے کو پیام درست نہیں۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not ask for a woman in marriage when another muslim has already done so." Malik said, "The explanation of the statement of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, according to what we think - and Allah knows best - is that Do not ask for a woman in marriage when another muslim has already done so means that when a man has asked for a woman in marriage, and she has inclined to him and they have agreed on a bride-price, which she has suggested and with which they are mutually satisfied, it is forbidden for another man to ask for that woman in marriage. It does not mean that when a man has asked for a woman in marriage, and his suit does not agree with her and she does not incline to him that no one else can ask for her in marriage. That is a door to misery for people."
نکاح کا پیام دینے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَلَا جُنَاحَ عَلَيْکُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَائِ أَوْ أَکْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِکُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّکُمْ سَتَذْکُرُونَهُنَّ وَلَکِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَةِ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا إِنَّکِ عَلَيَّ لَکَرِيمَةٌ وَإِنِّي فِيکِ لَرَاغِبٌ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَائِقٌ إِلَيْکِ خَيْرًا وَرِزْقًا وَنَحْوَ هَذَا مِنْ الْقَوْلِ
قاسم بن محمد کہتے تھے اس آیت کی تفسیر میں (وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِ يْمَا عَرَّضْتُمْ بِه مِنْ خِطْبَةِ النِّسَا ءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِيْ اَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا اِلَّا اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ڛ وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰي يَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَه وَاعْلَمُوْ ا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِىْ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ وَاعْلَمُوْ ا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ) 2۔ البقرۃ: 235) یعنی گناہ نہیں ہے تم پر تعریض کرنا کسی عورت سے جب وہ عدت میں ہو۔ تعریض اس کو کہتے ہیں کہ مرد عورت سے کہلا بھیجے تو مجھے پسند ہے یا میں تجھ سے رغبت کرتا ہوں یا اللہ تجھ کو بہتری اور روزی پہنچانے والا ہے یا ایسی کوئی بات کہے۔
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim that his father said about the word of Allah, the Blessed, the Exalted, "There is no fault in you about the proposal you offer to women, or hide in yourselves. Allah knows that you will be mindful of them; but do not make troth with them secretly without honourable words," (Sura 2 ayat 235) that it referred to a man saying to a woman while she was still in her idda after the death of her husband, "You are dear to me, and I desire you, and Allah brings provision and blessing to you," and words such as these.
عورت بکر اور ثیبہ سے اذن لینے کا بیان
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ السُّلْطَانِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَانَا يُنْكِحَانِ بَنَاتِهِمَا الْأَبْكَارَ وَلَا يَسْتَأْمِرَانِهِنَّ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي نِكَاحِ الْأَبْكَارِ قَالَ مَالِك وَلَيْسَ لِلْبِكْرِ جَوَازٌ فِي مَالِهَا حَتَّى تَدْخُلَ بَيْتَهَا وَيُعْرَفَ مِنْ حَالِهَا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ كَانُوا يَقُولُونَ فِي الْبِكْرِ يُزَوِّجُهَا أَبُوهَا بِغَيْرِ إِذْنِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لَهَا
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ثیبہ زیادہ حقدار ہے اپنے نفس پر ولی سے اور باکرہ سے اذن لیا جائے گا اور اذن اس کا سکوت ہے۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا عورت کا نکاح نہ کیا جائے مگر اس کے ولی کے اذن سے یا اس کے کنبے میں یا جو شخص عقلمند ہو اس کے اذن سے یا بادشاہ کے اذن سے۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اپنی بیٹیوں کا نکاح کرتے تھے اور ان سے نہیں پوچھتے تھے۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے اگر باکرہ عورت کا نکاح اس کے اذن کے بغیر کر دے تو نکاح اس کا لازم ہوجاتا ہے۔
Malik related to me from Abdullah ibn al-Fadl from Nafi ibn Jubayr ibn Mutim from Abdullah ibn Abbas that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A woman who has been previously married is more entitled to her person than her guardian, and a virgin must be asked for her consent for herself, and her consent is her silence "
سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَکَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَکُنْ لَکَ بِهَا حَاجَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَيْئٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَکَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا فَقَالَ مَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْئٌ فَقَالَ نَعَمْ مَعِي سُورَةُ کَذَا وَسُورَةُ کَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْکَحْتُکَهَا بِمَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ ایک عورت جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اس نے کہا کہ تحقیق میں نے اپنی جان آپ ﷺ کے واسطے بخشی اور کھڑی رہی دیر تک پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ اس سے میرا نکاح کردو اگر اس سے نکاح کی آپ ﷺ کو کچھ حاجت نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس کوئی چیز ہے کہ مہر میں دے اس کو وہ شخص بولا سوائے اس تہبند کے میرے پاس کچھ نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو اپنا تہبند اس کو دے دے گا تو بغیر تہنبد کے بیٹھے گا کوئی چیز ڈھونڈ لے اس نے کہا مجھے کچھ نہیں ملتا آپ ﷺ نے فرمایا ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ ملا تب آپ ﷺ نے پوچھا تجھے قرآن یاد ہے بولا ہاں فلانی فلانی سورت یاد ہے کئی سورتوں کا نام لیا آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اس قرآن کے عوض میں اس عورت کا نکاح تیرے ساتھ کردیا جو تجھ کو یاد ہے۔
Yahya related to me from Malik from Malik from Abu Hazim ibn Dinar from Sahl ibn Sad as-Saidi that a woman came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, "Messenger of Allah! I have given myself to you." She stood for a long time, and then a man got up and said, "Messenger of Allah, marry her to me if you have no need of her." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do you have anything to give her as a bride-price?" He said, "I possess only this lower garment of mine." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If you give it to her you will not have a garment to wear so look for something else." He said, "I have nothing else." He said, "Look for something else, even if it is only an iron ring." He looked, and found that he had nothing. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do you know any of the Quran?" He said, "Yes. I know such-and-such a sura and such-and-such a sura," which he named. The Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "I have married her to you for what you know of the Quran."
سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهَا جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ بَرَصٌ فَمَسَّهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا کَامِلًا وَذَلِکَ لِزَوْجِهَا غُرْمٌ عَلَی وَلِيِّهَا قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا يَکُونُ ذَلِکَ غُرْمًا عَلَی وَلِيِّهَا لِزَوْجِهَا إِذَا کَانَ وَلِيُّهَا الَّذِي أَنْکَحَهَا هُوَ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ مَنْ يُرَی أَنَّهُ يَعْلَمُ ذَلِکَ مِنْهَا فَأَمَّا إِذَا کَانَ وَلِيُّهَا الَّذِي أَنْکَحَهَا ابْنَ عَمٍّ أَوْ مَوْلًی أَوْ مِنْ الْعَشِيرَةِ مِمَّنْ يُرَی أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ ذَلِکَ مِنْهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ غُرْمٌ وَتَرُدُّ تِلْکَ الْمَرْأَةُ مَا أَخَذَتْهُ مِنْ صَدَاقِهَا وَيَتْرُکُ لَهَا قَدْرَ مَا تُسْتَحَلُّ بِهِ
سعید بن مسیب نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کو جنوں یا جذام یا برص ہو اور خاوند نہ جان کر اس سے جماع کرے اس عورت کو خاوند پورا مہرے دے اور اس کے ولی سے پھیر لے۔ کہا مالک نے ولی کو مہر اس صورت میں واپس دینا ہوگا جب وہ عورت کا باپ یا بھائی یا ایسا قریب ہو کہ عورت کا حال جانتا ہو اور جو ولی محرم نہ ہو جیسے چچا کا بیٹا یا مولیٰ یا اور کوئی کنبے والا ہو جس کو عورت کا حال معلوم نہ ہو تو اس پر مہر پھیرنا لازم نہ ہوگا بلکہ اس عورت سے مہر پھیرلیا جائے گا صرف اس قدر چھوڑ دیا جائے گا جس سے اس کی فرج حلال ہو۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab had said that Umar ibn al-Khattab said, "If a man marries a woman who is insane, or has leprosy or white leprosy, without being told of her condition by her guardian, and he has sexual relations with her, she keeps her bride-price in its entirety. Her husband has damages against her guardian."
نَافِعٍ أَنَّ ابْنَةَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأُمُّهَا بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ کَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا فَابْتَغَتْ أُمُّهَا صَدَاقَهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ وَلَوْ کَانَ لَهَا صَدَاقٌ لَمْ نُمْسِکْهُ وَلَمْ نَظْلِمْهَا فَأَبَتْ أُمُّهَا أَنْ تَقْبَلَ ذَلِکَ فَجَعَلُوا بَيْنَهُمْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَضَی أَنْ لَا صَدَاقَ لَهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ فِي خِلَافَتِهِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ أَنَّ كُلَّ مَا اشْتَرَطَ الْمُنْكِحُ مَنْ كَانَ أَبًا أَوْ غَيْرَهُ مِنْ حِبَاءٍ أَوْ كَرَامَةٍ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ إِنْ ابْتَغَتْهُ قَالَ مَالِك فِي الْمَرْأَةِ يُنْكِحُهَا أَبُوهَا وَيَشْتَرِطُ فِي صَدَاقِهَا الْحِبَاءَ يُحْبَى بِهِ إِنَّ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ يَقَعُ بِهِ النِّكَاحُ فَهُوَ لِابْنَتِهِ إِنْ ابْتَغَتْهُ وَإِنْ فَارَقَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلِزَوْجِهَا شَطْرُ الْحِبَاءِ الَّذِي وَقَعَ بِهِ النِّكَاحُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُزَوِّجُ ابْنَهُ صَغِيرًا لَا مَالَ لَهُ إِنَّ الصَّدَاقَ عَلَى أَبِيهِ إِذَا كَانَ الْغُلَامُ يَوْمَ تَزَوَّجَ لَا مَالَ لَهُ وَإِنْ كَانَ لِلْغُلَامِ مَالٌ فَالصَّدَاقُ فِي مَالِ الْغُلَامِ إِلَّا أَنْ يُسَمِّيَ الْأَبُ أَنَّ الصَّدَاقَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ النِّكَاحُ ثَابِتٌ عَلَى الْابْنِ إِذَا كَانَ صَغِيرًا وَكَانَ فِي وِلَايَةِ أَبِيهِ قَالَ مَالِك فِي طَلَاقِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَهِيَ بِكْرٌ فَيَعْفُو أَبُوهَا عَنْ نِصْفِ الصَّدَاقِ إِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لِزَوْجِهَا مِنْ أَبِيهَا فِيمَا وَضَعَ عَنْهُ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ فَهُنَّ النِّسَاءُ اللَّاتِي قَدْ دُخِلَ بِهِنَّ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ فَهُوَ الْأَبُ فِي ابْنَتِهِ الْبِكْرِ وَالسَّيِّدُ فِي أَمَتِهِ قَالَ مَالِك وَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ وَالَّذِي عَلَيْهِ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك فِي الْيَهُودِيَّةِ أَوْ النَّصْرَانِيَّةِ تَحْتَ الْيَهُودِيِّ أَوْ النَّصْرَانِيِّ فَتُسْلِمُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا إِنَّهُ لَا صَدَاقَ لَهَا قَالَ مَالِك لَا أَرَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ بِأَقَلَّ مِنْ رُبْعِ دِينَارٍ وَذَلِكَ أَدْنَى مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ
نافع سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن عمر کی بیٹی جن کی ماں زید بن خطاب کی بیٹی تھیں عبداللہ بن عمر کے بیٹے کے نکاح میں آئی وہ مرگئے مگر انہوں نے اس سے صحبت نہیں کی نہ ان کا مہر مقرر ہوا تھا تو ان کی ماں نے مہر مانگا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مہر کا ان کو استحقاق نہیں اگر ہوتا تو ہم رکھ نہ لیتے نہ ظلم کرتے ان کی ماں نے نہ مانا زید بن ثابت کے کہنے پر رکھا زید نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کو مہر نہیں ملے گا البتہ ترکہ ملے گا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عامل کو لکھا کہ نکاح کردینے والا باپ ہو یا کوئی اور اگر خاوند سے کچھ تحفہ یا ہدیہ لینے کی شرط کرے تو وہ عورت کو ملے گا اگر طلب کرے۔ کہا مالک نے جس عورت کا نکاح باپ کر دے اور اس کے مہر میں کچھ حبا کی شرط کرے اگر وہ شرط ایسی ہو جس کے عوض میں نکاح ہوا ہے تو وہ حبا اس کی بیٹی کو ملے گا اگر چاہے۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کرے اور اس لڑکے کا کوئی ذاتی مال نہ ہو تو مہراس کے باپ پر واجب ہوگا اور اگر اس لڑکے کا ذاتی مال ہو تو اس کے مال میں سے دلایا جائے گا مگر جس صورت میں باپ مہر کو اپنے ذمے کرلے اور یہ نکاح لڑکی پر لازم ہوگا جب وہ نابالغ ہو اور اپنے باپ کی ولایت میں ہو۔ کہا مالک نے میرے نزدیک ربع دینار سے کم مہر نہیں ہوسکتا اور نہ ربع دینار کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that the daughter of Ubaydullah ibn Umar whose mother was the daughter of Zayd ibn al-Khattab, married the son of Abdullah ibn Umar. He died and had not yet consummated the marriage or specified her bride-price. Her mother wanted the bride-price, and Abdullah ibn Umar said, "She is not entitled to a bride-price. Had she been entitled to a bride-price, we would not have kept it and we would not do her an injustice. "The mother refused to accept that. Zayd ibn Thabit was brought to adjudicate between them and he decided that she had no bride-price, but that she did inherit.
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَی فِي الْمَرْأَةِ إِذَا تَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ أَنَّهُ إِذَا أُرْخِيَتْ السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حکم کیا کہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور خلوت صحیحہ ہوجائے تو مہر واجب ہوگیا۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that Umar ibn al-Khattab decided about the woman who was married by a man and the marriage had been consummated, that the bride-price was obligatory.
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ کَانَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ فِي بَيْتِهَا صُدِّقَ الرَّجُلُ عَلَيْهَا وَإِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي بَيْتِهِ صُدِّقَتْ عَلَيْهِ
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ جب مرد عورت کے گھر میں جائے تو مرد کی تصدیق ہوگی اور جو عورت مرد کے گھر میں جائے تو عورت کی تصدیق ہوگی۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Zayd ibn Thabit said, "When a man takes his wife to his house and co-habits with her then the bride-price is obliged." Yahya related to me from Malik that he had heard that Said ibn al-Musayyab said, "When a man comes to his wife in her room, he is believed. When she comes to him in his room, she is believed." Malik commented, "I think that this refers to sexual intercourse. When he comes in to her in her room and she says, He has had intercourse with me and he says, I have not touched her, he is believed. When she comes in to him in his room and he says, I have not had intercourse with her and she says, He had intercourse with me, she is believed." 28.5 Wedding Nights of Virgins and Women Previously Married
ثیبہ اور باکرہ کے پاس رہنے کا بیان
عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا لَيْسَ بِکِ عَلَی أَهْلِکِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَکِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَکِ وَدُرْتُ فَقَالَتْ ثَلِّثْ
ابوبکر بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ام سلمہ ؓ سے نکاح کیا اور صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا میں ایسا کام نہ کروں گا جس کے سبب سے تو اپنے لوگوں میں ذلیل ہو اگر تجھ کو منظور ہے تو سات دن تک تیرے پاس رہوں گا پھر سات سات دن ہر ایک بی بی کے پاس رہوں گا اور اگر تو چاہے تو تین دن تیرے پاس رہوں اور ایک ایک دن سب کے پاس رہ کر آؤں گا ام سلمہ نے کہا تین دن رہیے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm from Abdul Malik ibn Abi Bakr ibn Abd ar-Rahman ibn al-Harith ibn Hisham al-Makhzumi from his father that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, married Umm Salama and then spent the night with her, he said to her, "You are not being humbled in your right. If you wish, I will stay with you for seven nights as I stayed seven nights with the others. If you wish, I will stay with you for three nights, and then visit the others in turn." She said, "Stay three nights."
ثیبہ اور باکرہ کے پاس رہنے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لِلْبِکْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا
انس بن مالک کہتے تھے کہ باکرہ عورت کے سات دن ہیں اور ثیبہ کے تین دن۔
Yahya related to me from Malik from Humayd at-Tawil that Anas ibn Malik said, "A virgin has seven nights, and a woman who has been previously married has three nights." Malik affirmed, "That is what is done among us." Malik added, "If the man has another wife, he divides his time equally between them after the wedding nights. He does not count the wedding nights against the one he has just married."
جوشرطیں نکاح میں درست نہیں ان کا بیان۔
سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَشْتَرِطُ عَلَی زَوْجِهَا أَنَّهُ لَا يَخْرُجُ بِهَا مِنْ بَلَدِهَا فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَخْرُجُ بِهَا إِنْ شَائَ
سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے شرط کرے کہ میرے شہر سے مجھ کو نہ نکالنا سعید بن مسیب نے جواب دیا کہ اس کے باوجود نکال سکتا ہے۔
Yahya related to me from Malik that he had heard that Said ibn al-Musayyab was asked about a woman who made a stipulation on her husband not to take her away from her town. Said ibn al-Musayyab said, "He takes her away if he wishes." Malik said, "The custom among us is that when a man marries a woman, and he makes a condition in the marriage contract that he will not marry after her or take a concubine, it means nothing unless there is an oath of divorce or setting-free attached to it. Then it is obliged and required of him."
حلالہ کا نکاح اور جو اس کے مشابہ ہے اس کا بیان
عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزَّبِيرِ أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سِمْوَالٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَنَکَحَتْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ فَاعْتَرَضَ عَنْهَا فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا فَفَارَقَهَا فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْکِحَهَا وَهُوَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ الَّذِي کَانَ طَلَّقَهَا فَذَکَرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْ تَزْوِيجِهَا وَقَالَ لَا تَحِلُّ لَکَ حَتَّی تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ
زبیر بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ رفاعہ بن سموال قرظی نے اپنی بی بی تمیمہ بنت وہب کو رسول اللہ کے زمانے میں تین طلاقیں دیں تو انہوں نے نکاح کیا عبدالرحمن بن زبیر سے مگر عبدالرحمن اس پر قادر نہ ہوئے اور جماع نہ کرسکے اس واسطے عبدالرحمن نے اس کو چھوڑ دیا تب رفاعہ جو شوہر اول تھے انہوں نے پھر نکاح کرنا چاہا جب آپ ﷺ سے اس کا ذکر ہوا آپ ﷺ نے منع کیا اور رفاعہ سے فرمایا کہ وہ عورت تجھ کو حلال نہیں جب تک دوسرے شخص سے جماع نہ کرائے۔
Yahya related to me from Malik from al-Miswar ibn Rifaa al-Quradhi from az-Zubayr ibn Abd ar-Rahman ibn az-Zubayr that Rifaa ibn Simwal divorced his wife, Tamima bint Wahb, in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, three times. Then she married Abd ar-Rahman ibn az-Zubayr and he turned from her and could not consummate the marriage and so he parted from her. Rifaa wanted to marry her again and it was mentioned to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he forbade him to marry her. He said, "She is not halal for you until she has tasted the sweetness of intercourse."
حلالہ کا نکاح اور جو اس کے مشابہ ہے اس کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا هَلْ يَصْلُحُ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَا حَتَّی يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا هَلْ يَصْلُحُ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَا حَتَّی يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا
حضرت عائشہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص اپنی عورت کو جماع کرنے سے پہلے تین طلاقیں دیدے اب پہلا شوہر اس سے نکاح کرسکتا ہے جواب دیا کہ نہیں کرسکتا جب تک دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کرے۔ قاسم بن محمد سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیں پھر اس سے دوسرے شخص نے نکاح کیا اور وہ جماع کرنے سے پہلے مرگیا کیا پہلے شوہر کو اس سے نکاح کرلینا درست ہے جواب دیا نہیں۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from al-Qasim ibn Muhammad that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said when asked whether it was permissible for a man to marry again a wife he had divorced irrevocably if she had married another man who divorced her before consummating the marriage, "Not until she has tasted the sweetness of intercourse."
جن عورتوں کا جمع کرنا درست نہیں نکاح میں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو جمع نہ کرے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "One cannot be married to a woman and her paternal aunt, or a woman and her maternal aunt at the same time."
جن عورتوں کا جمع کرنا درست نہیں نکاح میں
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ يُنْهَی أَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَةُ عَلَی عَمَّتِهَا أَوْ عَلَی خَالَتِهَا وَأَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ وَلِيدَةً وَفِي بَطْنِهَا جَنِينٌ لِغَيْرِهِ
سعید بن مسیب کہتے تھے بھتیجی سے پھوپھی کے اوپر اور بھانجی سے خالہ کے اوپر نکاح کرنا منع ہے اور جماع کرنا اس لونڈی سے جو حاملہ ہو کسی اور شخص سے منع ہے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "It is forbidden to be married to a woman and her paternal or maternal aunt at the same time, and for a man to have intercourse with a female slave who is carrying another mans child."
ساس سے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا هَلْ تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَا الْأُمُّ مُبْهَمَةٌ لَيْسَ فِيهَا شَرْطٌ وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ اسْتُفْتِيَ وَهُوَ بِالْكُوفَةِ عَنْ نِكَاحِ الْأُمِّ بَعْدَ الْابْنَةِ إِذَا لَمْ تَكُنْ الِابْنَةُ مُسَّتْ فَأَرْخَصَ فِي ذَلِكَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ كَمَا قَالَ وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ فَرَجَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الْكُوفَةِ فَلَمْ يَصِلْ إِلَى مَنْزِلِهِ حَتَّى أَتَى الرَّجُلَ الَّذِي أَفْتَاهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ تَكُونُ تَحْتَهُ الْمَرْأَةُ ثُمَّ يَنْكِحُ أُمَّهَا فَيُصِيبُهَا إِنَّهَا تَحْرُمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ وَيُفَارِقُهُمَا جَمِيعًا وَيَحْرُمَانِ عَلَيْهِ أَبَدًا إِذَا كَانَ قَدْ أَصَابَ الْأُمَّ فَإِنْ لَمْ يُصِبْ الْأُمَّ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ وَفَارَقَ الْأُمَّ و قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ يَنْكِحُ أُمَّهَا فَيُصِيبُهَا إِنَّهُ لَا تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا أَبَدًا وَلَا تَحِلُّ لِأَبِيهِ وَلَا لِابْنِهِ وَلَا تَحِلُّ لَهُ ابْنَتُهَا وَتَحْرُمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الزِّنَا فَإِنَّهُ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ فَإِنَّمَا حَرَّمَ مَا كَانَ تَزْوِيجًا وَلَمْ يَذْكُرْ تَحْرِيمَ الزِّنَا فَكُلُّ تَزْوِيجٍ كَانَ عَلَى وَجْهِ الْحَلَالِ يُصِيبُ صَاحِبُهُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ التَّزْوِيجِ الْحَلَالِ فَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا
یحییٰ بن سعید نے کہا کہ زید بن ثابت ؓ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے نکاح کیا ایک عورت سے پھر چھوڑ دیا اس کو جماع کرنے سے پہلے کیا اس کی ماں سے نکاح درست ہے بولے نہیں کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا تم پر تمہاری بیبیوں کی مائیں حرام ہیں اور اس میں کوئی شرط نہیں لگائی کہ جن بیبیوں سے تم جماع کرچکے ہو بلکہ شرط ربائب میں لگائی ہے۔ عبداللہ بن مسعود سے پوچھا گیا کہ کوفہ میں ایک عورت سے نکاح کیا پھر قبل جماع کے اس کو چھوڑ دیا اب اس کی ماں سے نکاح کرنا کیسا ہے انہوں نے کہا کہ درست ہے پھر ابن مسعود مدینہ میں آئے اور تحقیق کی معلوم ہوا کہ بی بی کی ماں مطلقا حرام ہے خواہ بی بی سے صحبت کرے یا نہ کرے اور صحبت کی قید ربائب میں ہے جب ابن مسعود کوفہ کو لوٹے پہلے اس شخص کے مکان پر گئے جس کو مسئلہ بتایا تھا اس سے کہا اس عورت کو چھوڑ دے۔ کہا مالک نے ایک شخص نے نکاح کیا ایک عورت سے پھر اس کی ماں سے نکاح کیا اور صحبت کی تو دونوں ماں بیٹی اس کو حرام ہوجائیں گئی ہمیشہ ہمیشہ۔ کہا مالک نے ایک شخص نکاح کرے ایک عورت سے پھر نکاح کرے اس کی ماں سے اور صحبت کرے اس سے تو اس پر اس عورت کی ماں کی ماں بھی حرام ہوجائے گی اور ماں (ساس) حرام رہے گی اس شخص کے باپ اور بیٹے پر۔ کہا مالک نے زنا سے حرمت ثابت نہ ہوگی۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Zayd ibn Thabit asked whether it was halal for a man who married a woman and then separated from her before he had cohabited with her, to marry her mother. Zayd ibn Thabit said, "No. The mother is prohibited unconditionally. There are conditions, however about foster-mothers."
جس عورت سے زنا کرے اس کی ماں سے نکاح درست ہونے کا بیان
قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ فَيُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ فِيهَا إِنَّهُ يَنْکِحُ ابْنَتَهَا وَيَنْکِحُهَا ابْنُهُ إِنْ شَائَ وَذَلِکَ أَنَّهُ أَصَابَهَا حَرَامًا وَإِنَّمَا الَّذِي حَرَّمَ اللَّهُ مَا أُصِيبَ بِالْحَلَالِ أَوْ عَلَی وَجْهِ الشُّبْهَةِ بِالنِّکَاحِ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَلَا تَنْکِحُوا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ مِنْ النِّسَائِ قَالَ مَالِک فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا نَکَحَ امْرَأَةً فِي عِدَّتِهَا نِکَاحًا حَلَالًا فَأَصَابَهَا حَرُمَتْ عَلَی ابْنِهِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَذَلِکَ أَنَّ أَبَاهُ نَکَحَهَا عَلَی وَجْهِ الْحَلَالِ لَا يُقَامُ عَلَيْهِ فِيهِ الْحَدُّ وَيُلْحَقُ بِهِ الْوَلَدُ الَّذِي يُولَدُ فِيهِ بِأَبِيهِ وَکَمَا حَرُمَتْ عَلَی ابْنِهِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا حِينَ تَزَوَّجَهَا أَبُوهُ فِي عِدَّتِهَا وَأَصَابَهَا فَکَذَلِکَ يَحْرُمُ عَلَی الْأَبِ ابْنَتُهَا إِذَا هُوَ أَصَابَ أُمَّهَا
کہا مالک نے جو شخص زنا کرے ایک عورت سے اور اس کو حد لگائی جائے اب وہ شخص اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے اور اس شخص کا بیٹا اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے عدت کے اندر کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت کی تو وہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہوجائے گی اور اس عورت سے جو لڑکا پیدا ہوگا اس کا نسب اس شخص سے ثابت ہوگا اور اس شخص پر اس عورت کی بیٹی حرام ہوجائے گی۔
Malik said that a man who had committed fornication with a woman and the hadd-punishment had been applied to him for it, could marry that womans daughter and his son could marry the woman herself if he wished. That was because he had haram relations with her, and the relations Allah had made haram were from the relations made in a halal manner or in a manner resembling marriage. Allah, the Blessed, the Exalted, said, "Do not marry the women your fathers have married. " (Sura 4 ayat 21)
جو نکاح درست نہیں اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَی أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع کیا ہے۔ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کر دے اس شرط پر کہ دوسرا شخص اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دے سوائے اس کے کچھ مہر نہ ہو ( ہر ایک کی بیٹی دوسرے کی بیٹی کے لئے مہر ہوگی)۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade shighar, which meant one man giving his daughter in marriage to another man on the condition that the other gave his daughter to him in marriage without either of them paying the bride-price.
جو نکاح درست نہیں اس کا بیان
عَنْ خَنْسَائَ بِنْتِ خِدَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَکَرِهَتْ ذَلِکَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِکَاحَهُ
خنساء بنت خدام کا اس کے باپ نے نکاح کردیا اور وہ ثیبہ تھیں اور اس نکاح سے ناراض تھیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں آپ ﷺ نے ان کا نکاح فسخ کردیا۔
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim from his father from Abd ar-Rahman and Mujamma the sons of Yazid ibn Jariya al-Ansari from Khansa bint Khidam al-Ansariya that her father gave her in marriage and she had been previously married. She disapproved of that, and went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he revoked the marriage.