کتاب نکاح کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 28 · 49 hadiths · Page 2 of 3

1002Mauwatta Imam Malik

جو نکاح درست نہیں اس کا بیان

عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِنِکَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ فَقَالَ هَذَا نِکَاحُ السِّرِّ وَلَا أُجِيزُهُ وَلَوْ کُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ

ابو زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر خطاب کے سامنے ایک نکاح کا ذکر آیا جس کا کوئی گواہ نہ تھا سوائے ایک مرد اور ایک عورت کے آپ نے فرمایا یہ چوری چھپے کا نکاح میں جائز نہیں رکھتا اگر میں پہلے اس کو بیان کرچکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr al-Makki that a case was brought to Umar about a marriage which had only been witnessed by one man and one woman . He said, "This is a secret marriage and I do not permit it. Had I been the first to come upon it, I would have ordered them to be stoned."

1003Mauwatta Imam Malik

جو نکاح درست نہیں اس کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ طُلَيْحَةَ الْأَسَدِيَّةَ کَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ فَطَلَّقَهَا فَنَکَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَضَرَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَکَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنْ کَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الْأَوَّلِ ثُمَّ کَانَ الْآخَرُ خَاطِبًا مِنْ الْخُطَّابِ وَإِنْ کَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ الْأَوَّلِ ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنْ الْآخَرِ ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا قَالَ مَالِک وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْهَا

سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طلحہ الاسدیہ رشید ثقفی کے نکاح میں تھیں انہوں نے طلاق دی تو طلحہ الاسدیہ نے عدت کے اندر دوسرے شخص سے نکاح کرلیا حضرت عمر نے دونوں کو کوڑے مارے اور نکاح چھڑوا دیا پھر فرمایا کہ عورت عدت میں نکاح کرے کسی اور شخص سے تو اگر جماع نہ کیا ہو تو نکاح چھوڑ کر پہلے خاوند کی جس قدر عدت باقی ہو پوری کرے اب جس سے جی چاہے نکاح کرے دوسرے خاوند سے زندگی بھر نکاح نہیں ہوسکتا سعید بن مسیب نے کہا کہ وہ عورت دوسرے خاوند سے اپنا مہر لے سکتی ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab and from Sulayman ibn Yasar that Tulayha al-Asadiya was the wife of Rushayd ath-Thaqafi. He divorced her, and she got married in her idda-period. Umar ibn al-Khattab beat her and her husband with a stick several times, and separated them. Then Umar ibn al-Khattab said, "If a woman marries in her idda-period, and the new husband has not consummated the marriage, then separate them, and when she has completed the idda of her first husband, the other becomes a suitor. If he has consummated the marriage then separate them. Then she must complete her idda from her first husband, and then the idda from the other one, and they are never to be reunited." Malik added, Said ibn al-Musayyab said that she had her dowry because he had consummated the marriage." Malik said,"The practice with us concerning a free woman whose husband dies, is that she does an idda of four months and ten days and she does not marry if she doubts her period until she is free of any doubt or if she fears that she is pregnant."

1004Mauwatta Imam Malik

آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنے کا بیان

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَأَرَادَ أَنْ يَنْکِحَ عَلَيْهَا أَمَةً فَکَرِهَا أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ ایک شخص کے نکاح میں آزاد عورت موجود ہو پھر وہ لونڈی سے نکاح کرنا چاہے جواب دیا ان دونوں کو جمع کرنا مکروہ ہے۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Abdullah ibn Abbas and Abdullah ibn Umar were asked about a man who had a free woman as a wife and then wanted to marry a slave-girl. They disapproved that he should combine the two of them.

1005Mauwatta Imam Malik

آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنے کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَا تُنْکَحُ الْأَمَةُ عَلَی الْحُرَّةِ إِلَّا أَنْ تَشَائَ الْحُرَّةُ فَإِنْ طَاعَتْ الْحُرَّةُ فَلَهَا الثُّلُثَانِ مِنْ الْقَسْمِ قَالَ مَالِک وَلَا يَنْبَغِي لِحُرٍّ أَنْ يَتَزَوَّجَ أَمَةً وَهُوَ يَجِدُ طَوْلًا لِحُرَّةٍ وَلَا يَتَزَوَّجَ أَمَةً إِذَا لَمْ يَجِدْ طَوْلًا لِحُرَّةٍ إِلَّا أَنْ يَخْشَی الْعَنَتَ وَذَلِکَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ فِي کِتَابِهِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ مِنْ فَتَيَاتِکُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَقَالَ ذَلِکَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ قَالَ مَالِک وَالْعَنَتُ هُوَ الزِّنَا

سعید بن مسیب کہتے تھے کہ آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح نہ کیا جائے گا مگر جب آزاد عورت راضی ہوجائے دو دن خاوند اس کے پاس رہے گا اور ایک دن لونڈی کے پاس۔ کہا مالک نے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہو تو لونڈی سے نکاح نہ کرے اور اگر آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو بھی لونڈی سے نکاح نہ کرے مگر اس حال میں کہ زنا کا خوف ہو کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے قدرت نہ رکھے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی تو مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرلے اور یہ اس شخص کے واسطے ہے جو تم میں سے زنا کا خوف کرے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "The slave girl is not married when there is a free woman who is a wife unless the free woman wishes it. If the free woman complies, she has two-thirds of the division of time."

1006Mauwatta Imam Malik

تین طلاق کے بعد لونڈی کے خرید لینے کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ الْأَمَةَ ثَلَاثًا ثُمَّ يَشْتَرِيهَا إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ زَوَّجَ عَبْدًا لَهُ جَارِيَةً فَطَلَّقَهَا الْعَبْدُ الْبَتَّةَ ثُمَّ وَهَبَهَا سَيِّدُهَا لَهُ فَهَلْ تَحِلُّ لَهُ بِمِلْکِ الْيَمِينِ فَقَالَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ

زید بن ثابت کہتے تھے جو شخص لونڈی کو تین طلاقیں دے کر خرید لے تو صحبت کرنا درست نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرلے۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنے غلام کا اپنی لونڈی سے نکاح کردیا غلام نے لونڈی کو دو طلاقیں دیں اس کے بعد مولیٰ نے وہ لونڈی غلام کو ہبہ کردی اب وہ لونڈی غلام کو درست ہے یا نہیں ان دونوں نے جواب دیا درست نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Abd ar-Rahman that Zayd ibn Thabit said that if a man divorced his slave-girl three times and then bought her, she was not halal for him until she had married another husband.

1007Mauwatta Imam Malik

تین طلاق کے بعد لونڈی کے خرید لینے کا بیان

و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ مَمْلُوكَةٌ فَاشْتَرَاهَا وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً فَقَالَ تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ مَا لَمْ يَبُتَّ طَلَاقَهَا فَإِنْ بَتَّ طَلَاقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَنْکِحُ الْأَمَةَ فَتَلِدُ مِنْهُ ثُمَّ يَبْتَاعُهَا إِنَّهَا لَا تَکُونُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ بِذَلِکَ الْوَلَدِ الَّذِي وَلَدَتْ مِنْهُ وَهِيَ لِغَيْرِهِ حَتَّی تَلِدَ مِنْهُ وَهِيَ فِي مِلْکِهِ بَعْدَ ابْتِيَاعِهِ إِيَّاهَا قَالَ مَالِک وَإِنْ اشْتَرَاهَا وَهِيَ حَامِلٌ مِنْهُ ثُمَّ وَضَعَتْ عِنْدَهُ کَانَتْ أُمَّ وَلَدِهِ بِذَلِکَ الْحَمْلِ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ

مسنگ کہا مالک نے ایک شخص نکاح کرے ایک لونڈی سے پھر اس سے بچہ پیدا ہو اس کے بعد لونڈی کو خرید کرلے تو وہ لونڈی پہلے بچے کی وجہ سے اس کی ام ولد نہ ہوگی البتہ اگر خریدنے کے بعد دوسرا بچہ مالک سے پیدا ہوا تو ام ولد ہوجائے گی اور جس نے اس لونڈی کو خریدا حمل کی حالت میں وہ حمل خریدنے والے کا تھا اس کے پاس آ کر جنے تو ام ولد ہوجائے گی۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Said ibn al-Musayyab and Sulayman ibn Yasar were asked whether, when a man married a slave of his to a slave-girl and the slave divorced her irrevocably, and then her master gave her to the slave, she was then halal for the slave by the possession of the right hand. They said, "No. She is not halal until she has married another husband."

1008Mauwatta Imam Malik

دو بہنوں کو یا ماں بیٹیوں کو ملک یمین سے رکھنے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْکِ الْيَمِينِ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَی فَقَالَ عُمَرُ مَا أُحِبُّ أَنْ أَخْبُرَهُمَا جَمِيعًا وَنَهَی عَنْ ذَلِکَ

حضرت عمر بن خطاب سے سوال ہوا کہ ماں بیٹی دونوں سے جماع کرنا آگے پیچھے ملک یمین کی وجہ سے درست ہے بولے میرے نزدیک اچھا نہیں اور اس کو منع کیا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud from his father that Umar ibn al-Khattab was asked about a woman and her daughter who were in the possession of the right hand, and whether one could have intercourse with one of them after the other Umar said, "I dislike both being permitted together." He then forbade that.

1009Mauwatta Imam Malik

دو بہنوں کو یا ماں بیٹیوں کو ملک یمین سے رکھنے کا بیان

عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنْ الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْکِ الْيَمِينِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عُثْمَانُ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ فَأَمَّا أَنَا فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ ذَلِکَ قَالَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَوْ کَانَ لِي مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِکَ لَجَعَلْتُهُ نَکَالًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أُرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مِثْلُ ذَلِکَ قَالَ مَالِک فِي الْأَمَةِ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَيُصِيبُهَا ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ أُخْتَهَا إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّی يُحَرِّمَ عَلَيْهِ فَرْجَ أُخْتِهَا بِنِکَاحٍ أَوْ عِتَاقَةٍ أَوْ کِتَابَةٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِکَ يُزَوِّجُهَا عَبْدَهُ أَوْ غَيْرَ عَبْدِهِ

قبیصہ بن ذویب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عثمان بن عفان سے پوچھا کہ دو بہنوں کو ملک یمین سے رکھنا درست ہے یا نہیں حضرت عثماں نے فرمایا کہ ایک آیت کی رو سے درست ہے اور دوسری آیت کی رو سے درست نہیں ہے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا پھر وہ شخص چلا گیا اور ایک اور صحابی سے ملا ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا اگر میں حاکم ہوتا اور کسی کو ایسا کرتے دیکھتا تو سخت سزا دیتا ابن شہاب نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ صحابی حضرت علی تھے۔ زبیر بن عوام سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے پاس ایک لونڈی ہو اور وہ اس سے جماع کرے پھر اس کی بہن سے جماع کرنا چاہے تو یہ درست نہیں ہے جب تک پہلی بہن کی فرج اپنے اوپر حرام نہ کرے مثلا اس کا نکاح کر دے یا اپنے غلام سے بیاہ کر دے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Qabisa ibn Dhuayb that a man asked Uthman ibn Affan whether one could have intercourse with two sisters who one owned. Uthman said, "One ayat makes them halal, and one ayat makes them haram. As for me, I wouldnt like to do it." The man left him and met one of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and asked him about it, and he said, "Had I any authority and I found someone who had done it, I would punish him as an example." Ibn Shihab added, "I think that it was Ali ibn Abi Talib. "

1010Mauwatta Imam Malik

لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهَبَ لِابْنِهِ جَارِيَةً فَقَالَ لَا تَمَسَّهَا فَإِنِّي قَدْ کَشَفْتُهَا

حضرت عمر بن خطاب نے اپنے لڑکے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے ایک بار اس کا بدن کھولا تھا۔

1011Mauwatta Imam Malik

لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ أَنَّهُ قَالَ وَهَبَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لِابْنِهِ جَارِيَةً فَقَالَ لَا تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُهَا فَلَمْ أَنْشَطْ إِلَيْهَا

عبدالرحمن بن مجبر نے کہا کہ سالم بن عبداللہ نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا کہ اس سے جماع نہ کرنا کیونکہ میں نے ارادہ کیا تھا اس سے جماع کا میں رک گیا۔

1012Mauwatta Imam Malik

لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا نَهْشَلِ بْنَ الْأَسْوَدِ قَالَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِنِّي رَأَيْتُ جَارِيَةً لِي مُنْکَشِفًا عَنْهَا وَهِيَ فِي الْقَمَرِ فَجَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقُمْتُ فَلَمْ أَقْرَبْهَا بَعْدُ أَفَأَهَبُهَا لِابْنِي يَطَؤُهَا فَنَهَاهُ الْقَاسِمُ عَنْ ذَلِکَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابونہشل بن اسود نے قاسم بن محمد سے کہا کہ میں نے اپنی لونڈی کو ننگا دیکھا چاندنی میں تو میں اس کے پاؤں اٹھا کر جماع کو مستعد ہوگیا وہ بولی حائضہ ہوں تو میں اٹھ کھڑا ہوا اب میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے قاسم بن محمد نے منع کیا۔

1013Mauwatta Imam Malik

لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ أَنَّهُ وَهَبَ لِصَاحِبٍ لَهُ جَارِيَةً ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَهَبَهَا لِابْنِي فَيَفْعَلُ بِهَا کَذَا وَکَذَا فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لَمَرْوَانُ کَانَ أَوْرَعَ مِنْکَ وَهَبَ لِابْنِهِ جَارِيَةً ثُمَّ قَالَ لَا تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ سَاقَهَا مُنْکَشِفَةً قَالَ مَالِک لَا يَحِلُّ نِکَاحُ أَمَةٍ يَهُودِيَّةٍ وَلَا نَصْرَانِيَّةٍ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ فَهُنَّ الْحَرَائِرُ مِنْ الْيَهُودِيَّاتِ وَالنَّصْرَانِيَّاتِ وَقَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ مِنْ فَتَيَاتِکُمْ الْمُؤْمِنَاتِ فَهُنَّ الْإِمَائُ الْمُؤْمِنَاتُ قَالَ مَالِک فَإِنَّمَا أَحَلَّ اللَّهُ فِيمَا نُرَی نِکَاحَ الْإِمَائِ الْمُؤْمِنَاتِ وَلَمْ يُحْلِلْ نِکَاحَ إِمَائِ أَهْلِ الْکِتَابِ الْيَهُودِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ قَالَ مَالِک وَالْأَمَةُ الْيَهُودِيَّةُ وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحِلُّ لِسَيِّدِهَا بِمِلْکِ الْيَمِينِ وَلَا يَحِلُّ وَطْئُ أَمَةٍ مَجُوسِيَّةٍ بِمِلْکِ الْيَمِينِ

عبدالملک بن مروان نے اپنے دوست کو ایک لونڈی ہبہ کی پھر اس سے اس لونڈی کا حال پوچھا اس نے کہا میرا ارادہ ہے کہ میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے عبدالملک نے کہا کہ مروان تجھ سے زیادہ پرہیز گار تھا اس نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہہ دیا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے اس کی پنڈلیاں کھلی ہوئی دیکھی تھیں۔ کہا مالک نے یہودی لونڈی اور نصرانی لونڈی سے نکاح کرنا درست نہیں اور اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں جو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست کیا ہے اس سے آزاد عورتیں مراد ہیں اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو شخص تم میں سے مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے اللہ نے مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرنا حلال کیا ہے نہ کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے البتہ یہودی یا نصرانی لونڈی سے اس کے مالک کو جماع کرنا درست ہے مگر مشرکہ لونڈی سے درست نہیں۔

1014Mauwatta Imam Malik

احصان کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ الْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ هُنَّ أُولَاتُ الْأَزْوَاجِ وَيَرْجِعُ ذَلِکَ إِلَی أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الزِّنَا

سعید بن مسیب نے کہا کہ محصنات سے دو عورتیں مراد ہیں جو خاوند والیاں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ نے زنا کو حرم کیا۔

1015Mauwatta Imam Malik

احصان کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَبَلَغَهُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُمَا کَانَا يَقُولَانِ إِذَا نَکَحَ الْحُرُّ الْأَمَةَ فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ قَالَ مَالِک وَکُلُّ مَنْ أَدْرَکْتُ کَانَ يَقُولُ ذَلِکَ تُحْصِنُ الْأَمَةُ الْحُرَّ إِذَا نَکَحَهَا فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ

ابن شہاب اور قاسم بن محمد کہتے ہیں اگر آزاد شخص نے لونڈی سے نکاح کیا اور اس سے جماع کیا تو وہ محصن ہوگیا۔

1016Mauwatta Imam Malik

متعہ کا بیان

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ

حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا جنگ خبیر کے روز متعے سے اور گدھوں کے گوشت کھانے سے۔

1017Mauwatta Imam Malik

متعہ کا بیان

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَکِيمٍ دَخَلَتْ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ إِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ فَحَمَلَتْ مِنْهُ فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَزِعًا يَجُرُّ رِدَائَهُ فَقَالَ هَذِهِ الْمُتْعَةُ وَلَوْ کُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا لَرَجَمْتُ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ خولہ بنت حکیم حضرت عمر کے پاس گئیں اور کہا کہ ربیعہ بن امیہ نے ایک عورت مولدہ سے متعہ کیا تھا وہ ربیعہ سے حاملہ ہے پس حضرت عمر ؓ گھبرا کر چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہا یہ متعہ ہے اگر میں پہلے اس کی ممانعت کرچکا ہوتا تو رجم کرتا

1018Mauwatta Imam Malik

غلام کے نکاح کا بیان

عَنْ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ يَنْکِحُ الْعَبْدُ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَالْعَبْدُ مُخَالِفٌ لِلْمُحَلِّلِ إِنْ أَذِنَ لَهُ سَيِّدُهُ ثَبَتَ نِکَاحُهُ وَإِنْ لَمْ يَأْذَنْ لَهُ سَيِّدُهُ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَالْمُحَلِّلُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا عَلَی کُلِّ حَالٍ إِذَا أُرِيدَ بِالنِّکَاحِ التَّحْلِيلُ قَالَ مَالِک فِي الْعَبْدِ إِذَا مَلَکَتْهُ امْرَأَتُهُ أَوْ الزَّوْجُ يَمْلِکُ امْرَأَتَهُ إِنَّ مِلْکَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ يَکُونُ فَسْخًا بِغَيْرِ طَلَاقٍ وَإِنْ تَرَاجَعَا بِنِکَاحٍ بَعْدُ لَمْ تَکُنْ تِلْکَ الْفُرْقَةُ طَلَاقًا قَالَ مَالِک وَالْعَبْدُ إِذَا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَتُهُ إِذَا مَلَکَتْهُ وَهِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ لَمْ يَتَرَاجَعَا إِلَّا بِنِکَاحٍ جَدِيدٍ

ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے غلام چار عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے۔ کہا مالک نے یہ قول بہت اچھا ہے میرے نزدیک۔ کہا مالک نے غلام کا نکاح مالی کی اجازت پر موقوف ہے اگر مالی اجازت دے گا تو صحیح ہوگا ورنہ تفریق کی جائے اور حلالہ کا نکاح ہر طرح سے چھوڑا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر زوج زوجہ کا مالک ہوجائے یا زوجہ زوج کی مالک ہوجائے تو نکاح خوبخود بغیر طلاق کے فسخ ہوجائے گا اب اگر پھر نکاح کریں گے تو خاوند کو تین طلاق کا اختیار رہے گا۔ کہا مالک نے اگر زوجہ اپنے خاوند کو خرید کر آزاد کر دے اور وہ عدت میں ہو تو وہ دونوں نئے نکاح کے بغیر نہیں مل سکتے۔

1019Mauwatta Imam Malik

مشرک کی زوجہ کا خاوند سے پہلے مسلمان ہونے کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نِسَائً کُنَّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ کُفَّارٌ مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَکَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنْ الْإِسْلَامِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْإِسْلَامِ وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ وَإِلَّا سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ نَادَاهُ عَلَی رُئُوسِ النَّاسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ هَذَا وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ جَائَنِي بِرِدَائِکَ وَزَعَمَ أَنَّکَ دَعَوْتَنِي إِلَی الْقُدُومِ عَلَيْکَ فَإِنْ رَضِيتُ أَمْرًا قَبِلْتُهُ وَإِلَّا سَيَّرْتَنِي شَهْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْزِلْ أَبَا وَهْبٍ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ حَتَّی تُبَيِّنَ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ لَکَ تَسِيرُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ فَأَرْسَلَ إِلَی صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ يَسْتَعِيرُهُ أَدَاةً وَسِلَاحًا عِنْدَهُ فَقَالَ صَفْوَانُ أَطَوْعًا أَمْ کَرْهًا فَقَالَ بَلْ طَوْعًا فَأَعَارَهُ الْأَدَاةَ وَالسِّلَاحَ الَّذِي عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ کَافِرٌ فَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ وَهُوَ کَافِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ وَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ حَتَّی أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِکَ النِّکَاحِ و عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ کَانَ بَيْنَ إِسْلَامِ صَفْوَانَ وَبَيْنَ إِسْلَامِ امْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرَيْنِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ امْرَأَةً هَاجَرَتْ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَزَوْجُهَا کَافِرٌ مُقِيمٌ بِدَارِ الْکُفْرِ إِلَّا فَرَّقَتْ هِجْرَتُهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ زَوْجُهَا مُهَاجِرًا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا

ابن شہاب سے روایت ہے کہ چند عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمان ہوجاتی تھیں اپنے ملک میں ہجرت نہیں کرتی تھیں اور خاوند ان کے کافر ہوتے تھے انہی عورتوں میں سے ایک عاتکہ تھی جو ولید بن مغیرہ کی بیٹی تھیں جو صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں وہ فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئیں اور ان کے خاوند صفوان بھاگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا زاد بھائی وہب بن عمیر کو اپنی چادر نشانی کے واسطے دے کو صفوان کے پاس بھیجا اور ان کو امان دی اور اسلام کی طرف بلایا اور یہ کہا کہ میرے پاس آئے اگر تمہای خوشی ہو تو مسلمان ہونا نہ تو تم کو دو مہینے کی مہلت ملے گی جب صفوان رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کی چادر لے کر آ آئے تو لوگوں کے سامنے پکار اٹھے اے محمد وہب بن عمیر میرے پاس تمہاری چادر لے کر آئے اور مجھ سے کہا کہ تم نے مجھ کو بلایا ہے اس شرط پر کہ اگر میں چاہوں تو مسلمان ہوجاؤں نہیں تو مجھ کو دو مہینے کی مہلت ملے گی۔ آپ نے فرمایا اترو اے ابو وہب صفوان نے کہا قسم اللہ کی میں کبھی نہ اتروں گا جب تک تم مجھ سے بیان نہ کرو گے کہ وہب بن عمیر کا پیام صحیح ہے آپ نے فرمایا وہ تو کیا میں تمہیں چار مہینے کی مہلت دیتا ہوں پھر رسول اللہ ﷺ قبیلہ ہوازن کی طرف حنین میں گئے اور آپ نے صفوان سے کچھ ہتھیار اور سامان عاریتاً مانگا صفوان نے کہا آپ خوشی سے مانگتے ہیں یا زبردستی سے آپ نے فرمایا خوشی سے صفوان نے ہتھیار اور سامان دئیے پھر رسول اللہ ﷺ لوٹے اور صفوان کفر ہی کی حالت میں آپ کے ساتھ رہے مگر آپ نے ان کی عورت کو ان سے نہ چھڑایا یہاں تک کہ صفوان بھی مسلمان ہوگئے اور ان کی عورت بدستور ان کے پاس رہیں۔ ابن شہاب نے کہا کہ صفوان کی بی بی خاوند سے ایک مہینہ پہلے اسلام لائی تھیں اور جو عورت دارالکفر سے مسلمان ہو کر دارالا سلام میں ہجرت کر کے آئے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہوجائے گی اور عدت کر کے دوسرا نکاح کرلے گی مگر جب اس کا خاوند اس کی عدت کے اندر مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آجائے۔

1020Mauwatta Imam Malik

مشرک کی زوجہ کا خاوند سے پہلے مسلمان ہونے کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أُمَّ حَکِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَکَانَتْ تَحْتَ عِکْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِکْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنْ الْإِسْلَامِ حَتَّی قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَکِيمٍ حَتَّی قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ فَدَعَتْهُ إِلَی الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ إِلَيْهِ فَرِحًا وَمَا عَلَيْهِ رِدَائٌ حَتَّی بَايَعَهُ فَثَبَتَا عَلَی نِکَاحِهِمَا ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَإِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ قَبْلَ امْرَأَتِهِ وَقَعَتْ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا إِذَا عُرِضَ عَلَيْهَا الْإِسْلَامُ فَلَمْ تُسْلِمْ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَلَا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ام حکیم عکرمہ بن ابوجہل کی بی بی فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئی اور ان کے خاوند عکرمہ یمن بھاگ گئے ام حکیم بھی وہاں چلی گئیں اور ان کو دین اسلام کی طرف بلایا وہ مسلمان ہوگئے اور اسی سال آپ ﷺ کے پاس آئی آپ ﷺ نے جب ان کو دیکھا تو خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے بیعت لی اس وقت آپ ﷺ کے جسم شریف پر چادر نہ تھی پھر دونوں میاں بی بی اپنے نکاح پر قائم رہے۔ کہا مالک نے جب مرد اپنی بی بی سے پہلے مسلمان ہوجائے اور بی بی سے مسلمان ہونے کو کہا جائے اور وہ مسلمان نہ ہو تو نکاح فسخ ہوجائے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے مت علاقہ رکھو کافر عورتوں سے

1021Mauwatta Imam Malik

ولیمہ کے بیان میں

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا فَقَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان پر زردی کا نشان تھا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا مہر دیا ہے انہوں نے کہا ایک گٹھلی برابر سونا آپ ﷺ نے فرمایا ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کا ہو۔