Mauwatta Imam Malik 1013

کتاب نکاح کے بیان میں

1013Mauwatta Imam Malik

لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ أَنَّهُ وَهَبَ لِصَاحِبٍ لَهُ جَارِيَةً ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَهَبَهَا لِابْنِي فَيَفْعَلُ بِهَا کَذَا وَکَذَا فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لَمَرْوَانُ کَانَ أَوْرَعَ مِنْکَ وَهَبَ لِابْنِهِ جَارِيَةً ثُمَّ قَالَ لَا تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ سَاقَهَا مُنْکَشِفَةً قَالَ مَالِک لَا يَحِلُّ نِکَاحُ أَمَةٍ يَهُودِيَّةٍ وَلَا نَصْرَانِيَّةٍ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ فَهُنَّ الْحَرَائِرُ مِنْ الْيَهُودِيَّاتِ وَالنَّصْرَانِيَّاتِ وَقَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ مِنْ فَتَيَاتِکُمْ الْمُؤْمِنَاتِ فَهُنَّ الْإِمَائُ الْمُؤْمِنَاتُ قَالَ مَالِک فَإِنَّمَا أَحَلَّ اللَّهُ فِيمَا نُرَی نِکَاحَ الْإِمَائِ الْمُؤْمِنَاتِ وَلَمْ يُحْلِلْ نِکَاحَ إِمَائِ أَهْلِ الْکِتَابِ الْيَهُودِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ قَالَ مَالِک وَالْأَمَةُ الْيَهُودِيَّةُ وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحِلُّ لِسَيِّدِهَا بِمِلْکِ الْيَمِينِ وَلَا يَحِلُّ وَطْئُ أَمَةٍ مَجُوسِيَّةٍ بِمِلْکِ الْيَمِينِ

عبدالملک بن مروان نے اپنے دوست کو ایک لونڈی ہبہ کی پھر اس سے اس لونڈی کا حال پوچھا اس نے کہا میرا ارادہ ہے کہ میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے عبدالملک نے کہا کہ مروان تجھ سے زیادہ پرہیز گار تھا اس نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہہ دیا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے اس کی پنڈلیاں کھلی ہوئی دیکھی تھیں۔ کہا مالک نے یہودی لونڈی اور نصرانی لونڈی سے نکاح کرنا درست نہیں اور اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں جو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست کیا ہے اس سے آزاد عورتیں مراد ہیں اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو شخص تم میں سے مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے اللہ نے مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرنا حلال کیا ہے نہ کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے البتہ یہودی یا نصرانی لونڈی سے اس کے مالک کو جماع کرنا درست ہے مگر مشرکہ لونڈی سے درست نہیں۔