کتاب الطہارة

Mauwatta Imam Malik · Chapter 2 · 92 hadiths · Page 2 of 5

49Mauwatta Imam Malik

جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کے بیان میں

عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

ابو نعیم وہب بن کیسان نے سنا جابر بن عبداللہ سے کہ انہوں نے دیکھا ابوبکر صدیق کو گوشت کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔

Yahya related to me from Malik from Abu Nuaym Wahb ibn Kaysan that he heard Jabir ibn Abdullah al-Ansari saying, "I saw Abu Bakr (RA) as-Siddiq eat meat and then pray without doing wudu."

50Mauwatta Imam Malik

جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کے بیان میں

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُعِيَ لِطَعَامٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أُتِيَ بِفَضْلِ ذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت ہوئی کھانے کی تو سامنے کیا گیا ان کے روٹی گوشت پس کھایا آپ ﷺ نے اس میں سے اور وضو کر کے نماز پڑھی پھر اس کھانے کا بچا ہوا آیا اس کو کھا کر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا،۔

Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn al-Munkadir that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was invited to eat, and some bread and meat was brought to him. He ate some of it, and then did wudu and prayed. Then more of the same food was brought and he ate some more and then prayed without doing wudu.

51Mauwatta Imam Malik

جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَدِمَ مِنْ الْعِرَاقِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ فَقَرَّبَ لَهُمَا طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ فَأَکَلُوا مِنْهُ فَقَامَ أَنَسٌ فَتَوَضَّأَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ مَا هَذَا يَا أَنَسُ أَعِرَاقِيَّةٌ فَقَالَ أَنَسٌ لَيْتَنِي لَمْ أَفْعَلْ وَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ فَصَلَّيَا وَلَمْ يَتَوَضَّآَ

عبدالرحمن بن زید انصاری سے روایت ہے کہ انس بن مالک جب آئے عراق تو گئے ان کی ملاقات کو ابوطلحہ اور ابی بن کعب تو سامنے کیا انس نے ان دونوں کے کھانا جو پکا ہوا تھا آگ سے پھر کھایا سب نے تو اٹھے انس اور وضو کیا پس کہا ابوطلحہ اور ابی بن کعب نے کہ کھانا کھا کر وضو کرنا کیا تم نے عراق سے سیکھا ہے پس کہا انس نے کاش میں وضو نہ کرتا اور کھڑے ہوئے ابوطلحہ اور ابی بن کعب تو نماز پڑھی دونوں نے اور وضو نہ کیا۔

It was related to me from Malik from Musa ibn Uqba from Abd ar-Rahman ibn Yazid al-Ansari that when Anas ibn Malik came back from Iraq, Abu Talha and Ubayy ibn Kab visited him. He brought them some cooked food and they ate, and then Anas got up and did wudu. Abu Talha and Ubayy ibn Kab asked, "Whats this, Anas? Is it an Iraqi custom?" and Anas said, "I wish I had not done it." (i.e. wudu). Abu Talha and Ubayy ibn Kab both got up and prayed without doing wudu.

52Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْاسْتِطَابَةِ فَقَالَ أَوَلَا يَجِدُ أَحَدُکُمْ ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ

عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پوچھا گیا استنجاء کے بارے میں تو فرمایا آپ ﷺ نے کیا نہیں پاتا کوئی تم میں سے تین پتھروں کو۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked about cleaning after excretion. He replied, "Are any of you unable to find three stones?"

53Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا بِإِخْوَانِکَ قَالَ بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَی الْحَوْضِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَکَ مِنْ أُمَّتِکَ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ کَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ الْوُضُوئِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَی الْحَوْضِ فَلَا يُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي کَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ أَلَا هَلُمَّ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ فَسُحْقًا فَسُحْقًا فَسُحْقًا

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گئے مقبرہ کو سو کہا سلام ہے تمہارے پر اے قوم مومنوں کی اور ہم اگر اللہ چاہے تو تم سے ملنے والے ہیں تمنا کی میں نے کہ میں دیکھ لوں اپنے بھائیوں کو تو کہا صحابہ نے یا رسول اللہ ﷺ کیا نہیں ہیں ہم بھائی آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ تم بھائیوں سے بڑھ کر اصحاب ہو میرے اور بھائی میرے وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے دنیا میں اور میں قیامت کے روز ان کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر تب کہا صحابہ نے یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کیونکر پہچانیں گے ان لوگوں کو قیامت کے روز جو دنیا میں بعد آپ ﷺ کے پیدا ہوں گے امت میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھ کو بتلاؤ کہ کسی شخص کے سفید منہ اور سفید پاؤں کے گھوڑے خالص مشکی گھوڑوں میں مل جائیں کیا وہ اپنے گھوڑے نہ پہچانے گا کہا صحابہ نے پہچانے گا پس فرمایا آپ ﷺ نے کہ قیامت کے روز بھائی میرے آئیں گے چمکتے ہوں گے منہ اور پاؤں ان کے وضو سے اور میں ان کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر تو ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص نکالا جائے میرے حوض سے جیسے نکالا جاتا ہے وہ اونٹ جو اپنے مالک سے چھٹ گیا ہو تو پکاروں گا میں ان کو ادھر آؤ ادھر آؤ کہا جائے گا مجھ سے کہ ان لوگوں نے بدل دیا سنت تیری کو بعد تیرے تب میں کہنے لگوں گا دور ہو دور ہو۔

Yahya related to me from Malik from al-Ala ibn Abd ar-Rahman from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went to the burial grounds and said, "Peace be upon you, home of a people who believe! We shall be among you, Allah willing. I wish that I had seen our brothers!" The people with him said, "Messenger of Allah! Are we not your brothers?" "No," he said, "You are my companions. Our brothers are those who have not yet come. And I will precede them to the Hawd. (The Hawd: the watering place of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, from which he will give to the people of his community on the day of rising.)" They asked him, "Messenger of Allah! How will you recognise those of your community who come after you?" He said, "Doesnt a man who has horses with white legs and white blazes on their foreheads among totally black horses recognise which ones are his own?" They said, "Of course, Messenger of Allah." He went on, "Even so will they come on the day of rising with white marks on their foreheads, hands and feet from wudu, and I will precede them to the Hawd. Some men will be driven away from the Hawd as if they were straying camels and I shall call out to them, Will you not come? Will you not come? Will you not come? and someone will say, They changed things after you, so I shall say, Then away with them, away with them, away with them! "

54Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ جَلَسَ عَلَی الْمَقَاعِدِ فَجَائَ الْمُؤَذِّنُ فَآذَنَهُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَدَعَا بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّکُمْ حَدِيثًا لَوْلَا أَنَّهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُکُمُوهُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوئَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَی حَتَّی يُصَلِّيَهَا قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِک أُرَاهُ يُرِيدُ هَذِهِ الْآيَةَ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِينَ

روایت ہے حمران سے جو غلام ہیں عثمان بن عفان کے کہ عثمان بن عفان بیٹھے تھے چبوترہ پر اتنے میں مؤذن آیا اور نماز عصر کی خبر دی حضرت عثمان نے پانی منگوایا اور وضو کیا پھر کہا کہ اللہ کی قسم میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں اگر وہ حدیث اللہ کی کتاب میں نہ ہوتی تو میں بیان نہ کرتا سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے کہ کوئی آدمی نہیں ہے کہ وضو کرے اچھی طرح پھر نماز پڑھے مگر جتنے گناہ اس کے اس کی نماز سے لے کر دوسری نماز تک ہوں گے معاف کر دئیے جائیں گے یہاں تک کہ دوسری نماز پڑھے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father from Humran, the mawla of Uthman ibn Affan, that Uthman ibn Affan was once sitting on the Maqaid (the benches surrounding the Madina Mosque, or else a stone near Uthman ibn Affans house where he sat to discuss with people), when the muadhdhin came and told him that it was time for the asr prayer. He called for water and did wudu. Then he said, "By Allah, I shall tell you something which I would not tell you if it were not in the Book of Allah. I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, If a man does wudu, and makes sure he does it correctly, and then does the prayer, he will be forgiven everything that he does between then and the time when he prays the next prayer. " Yahya said that Malik said, "I believe he meant this ayat - Establish prayer at the two ends of the day and in some watches of the night. Good actions take away wrong actions. That is a reminder for those who remember. " (Sura 11 ayat 114).

55Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ وَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ قَالَ ثُمَّ کَانَ مَشْيُهُ إِلَی الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ

روایت ہے عبداللہ صنابحی سے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس وقت وضو شروع کرتا ہے بندہ مومن پھر کلی کرتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کے منہ سے پھر جس وقت ناک صاف کرتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کی ناک سے پھر جس وقت منہ دھوتا ہے نکل جاتے ہیں اس کے منہ سے یہاں تک کہ نکل جاتے ہیں پلکوں کے اگنے کی جگہ یعنی پپوٹوں سے پھر جس وقت مسح کرتا ہے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں اس کے دونوں کانوں سے پھر جس وقت پاؤں دھوتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخنوں سے پھر چلنا اس کا مسجد کی طرف اور نماز الگ ہے یعنی اس کا ثواب جدا گانہ ہے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar from Abdullah as-Sanabihi that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A trusting slave does wudu and as he rinses his mouth the wrong actions leave it. As he cleans his nose the wrong actions leave it. As he washes his face, the wrong actions leave it, even from underneath his eyelashes. As he washes his hands the wrong actions leave them, even from underneath his fingernails. As he wipes his head the wrong actions leave it, even from his ears. And as he washes his feet the wrong actions leave them, even from underneath the toenails of both his feet." He added, "Then his walking to the mosque and his prayer are an extra reward for him."

56Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ کُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ کُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ کُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ حَتَّی يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ

روایت ہے ابوہریرہ ؓ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس وقت وضو شروع کرتا ہے بندہ مسلمان یا مومن پھر دھوتا ہے منہ اپنا نکل جاتا ہے اس کے منہ سے وہ گناہ جو دیکھا تھا اس نے اپنی آنکھوں سے ساتھ پانی کے یا سات اخیر قطرہ کے پانی سے پھر جب ہاتھ دھوتا ہے نکل جاتا ہے اس کے ہاتھوں سے جو گناہ کہ پکڑا تھا اس کے ہاتھوں نے ساتھ پانی کے یا ساتھ اخیر قطرے پانی کے پھر جب دھوتا ہے وہ پاؤں اپنے نکل جاتا ہے جو گناہ کہ چلے تھے اس کے لئے پاؤں اس کے ساتھ پانی یا ساتھ آخر قطرے پانی کے یہاں تک کہ نکل آتا ہے پاک صاف گناہوں سے۔

Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A muslim slave (or a trusting slave) does wudu and as he washes his face every wrong action he has seen with his eyes leaves with the water (or the last drop of water). As he washes his hands every wrong action he has done with his hands leaves with the water (orthe last drop of water). And as he washes his feet every wrong action his feet have walked to leaves with the water (or the last drop of water) so that he comes away purified of wrong actions."

57Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ وَضُوئًا فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئٍ فِي إِنَائٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ الْإِنَائِ يَدَهُ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ يَتَوَضَّئُونَ مِنْهُ قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ الْمَائَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّی تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو جب قریب آگیا عصر کا وقت پس ڈھونڈا لوگوں نے پانی وضو کے لئے مگر نہ پایا اور ایک برتن میں پانی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھ دیا اور لوگوں کو حکم دیا وضو کرنے کا انس کہتے ہیں کہ میں دیکھتا تھا پانی کا فوارہ نکلتا تھا آپ ﷺ کی انگلیوں کے نیچے سے پھر وضو کرلیا لوگوں نے یہاں تک کہ جو سب سے اخیر میں تھا اس نے بھی وضو کرلیا۔

Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik said, "I saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on one occasion when the asr prayer was at hand . Everyone was looking for water for wudu but no-one could find any. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, brought some water in a vessel . He put his hand into the vessel and then he told them all to do wudu from it." Anas added, "I saw water coming out from his fingers. Then all of them to the last man did wudu."

58Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيِّ الْمُجْمِرِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوئَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَی الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَعْمِدُ إِلَی الصَّلَاةِ وَإِنَّهُ يُکْتَبُ لَهُ بِإِحْدَی خُطْوَتَيْهِ حَسَنَةٌ وَيُمْحَی عَنْهُ بِالْأُخْرَی سَيِّئَةٌ فَإِذَا سَمِعَ أَحَدُکُمْ الْإِقَامَةَ فَلَا يَسْعَ فَإِنَّ أَعْظَمَکُمْ أَجْرًا أَبْعَدُکُمْ دَارًا قَالُوا لِمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ مِنْ أَجْلِ کَثْرَةِ الْخُطَا

نعیم بن عبداللہ نے سنا ابوہریرہ ؓ کہتے تھے جس نے وضو کیا اچھی طرح پھر نکلا نماز کی نیت سے تو وہ گویا نماز میں ہے جب تک نماز کا قصد رکھتا ہے ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹائی جاتی ہے تو جب کوئی تم میں سے تکبیر نماز کی سنے تو نہ دوڑے کیونکہ زیادہ ثواب اسی کو ہے جس کا مکان زیادہ دور ہو کہا انہوں نے کیوں اے ابوہریرہ ؓ کہا اس وجہ سے کہ اس کے قدم زیادہ ہوں گے

Yahya related to me from Malik from Nuaym ibn Abdullah al-Madani al-Mujmir that he heard Abu Hurayra say, "If someone does wudu and does it correctly and then goes off intending to do the prayer, then he is in prayer as long as he intends to do the prayer. A good action is written for every alternate step he makes and a wrong action is erased for the second. When you hear the iqama do not lengthen your stride, and the one who has the greatest reward is the one whose house is farthest away." They said, "Why, Abu Hurayra?" He replied, "Because of the greater number of steps."

59Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُسْأَلُ عَنْ الْوُضُوئِ مِنْ الْغَائِطِ بِالْمَائِ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّمَا ذَلِکَ وُضُوئُ النِّسَائِ

سعید بن مسیب سوال کئے گئے بعد پاخانے کے پانی لینے سے تو کہا کہ یہ طہارت عورتوں کی ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he heard someone ask Said ibn al-Musayyab about washing off excreta with water. Said said, "That is the way women wash."

60Mauwatta Imam Malik

اس میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَرِبَ الْکَلْبُ فِي إِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْمَلُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِکُمْ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَی الْوُضُوئِ إِلَّا مُؤْمِنٌ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب پی جائے کتا تمہارے کسی برتن میں تو دھوئے اس کو سات بار۔ مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سیدھی راہ پر رہو اور نہ شمار کرسکو گے اس کے ثواب کا یا نہ طاقت رکھو گے تم استقامت کی اور سب کاموں میں تمہارے بہتر نماز ہے اور نہیں محافظت کرے گا وضو پر مگر مومن۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If a dog drinks from your vessel, wash it seven times."

61Mauwatta Imam Malik

سر اور کانوں کے مسح کا بیان

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَأْخُذُ الْمَائَ بِأُصْبُعَيْهِ لِأُذُنَيْهِ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ سُئِلَ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ فَقَالَ لَا حَتَّى يُمْسَحَ الشَّعْرُ بِالْمَاءِ

عبداللہ بن عمر اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے۔ مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری پوچھے گئے عمامہ پر مسح کرنے سے تو کہا کہ نہ کرے یہاں تک کہ مسح کرے بال کا پانی سے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used two fingers to take water to his ears.

62Mauwatta Imam Malik

سر اور کانوں کے مسح کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ کَانَ يَنْزِعُ الْعِمَامَةَ وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ بِالْمَائِ

عروہ بن زبیر عمامہ سر سے اتار کر سر پر مسح کرتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Abu Urwa ibn az-Zubayr used to take off his turban and wipe his head with water.

63Mauwatta Imam Malik

سر اور کانوں کے مسح کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ رَأَی صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ تَنْزِعُ خِمَارَهَا وَتَمْسَحُ عَلَی رَأْسِهَا بِالْمَائِ وَنَافِعٌ يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ

نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا صفیہ کو جو بیوی تھیں عبداللہ بن عمر کی اتارتی تھیں اس کپڑے کو جس سے سر ڈھانپتے ہیں اور مسح کرتی تھیں اپنے سر پر پانی سے اور نافع اس وقت نابالغ تھے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that she saw Safiyya bint Abi Ubayd, the wife of Abdullah ibn Umar, take off her head-covering and wipe her head with water. Nafi was a child at the time. Malik was asked about a man who did wudu but forgot to wipe his head until the water had dried. He said, "I consider that he should wipe his head and then repeat the prayer if he has already performed it." Malik was asked about a man who did wudu but forgot to wipe his head until the water had dried. He said, "I consider that he should wipe his head and then repeat the prayer if he has already performed it."

64Mauwatta Imam Malik

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَذَهَبْتُ مَعَهُ بِمَائٍ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَکَبْتُ عَلَيْهِ الْمَائَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ کُمَّيْ جُبَّتِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ ضِيقِ کُمَّيْ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّيْنِ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّی بِهِمْ رَکْعَةً فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِمْ فَفَزِعَ النَّاسُ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتُمْ

مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گئے حاجت ضروری کو جنگ تبوک میں تو میں نے پانی ساتھ لے کر گیا اور جب آپ ﷺ فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈالا تو دھویا آپ ﷺ نے منہ اپنا پھر نکالنے لگے ہاتھ اپنے جبہ کی آستینوں سے مگر وہ اس قدر تنگ تھیں کہ ہاتھ نہ نکل سکے آخر نکالا آپ ﷺ نے ہاتھوں کو جبہ کے نیچے سے اور ہاتھ دھوئے اور مسح کیا سر پر اور موزوں پر پھر آئے آپ ﷺ تو عبدالرحمن بن عوف امامت کر رہے تھے اور ایک رکعت ہوچکی تھی پس پڑھی رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت جو باقی تھی عبدالرحمن بن عوف کے پیچھے اور لوگ گھبرائے جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو فرمایا کہ اچھا کیا تم نے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abbad ibn Ziyad, a descendant of al-Mughira ibn Shuba from his father from al Mughira ibn Shuba that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went to relieve himself during the expedition of Tabuk. Mughira said, "I went with him, taking water. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came back and I poured out the water for him. He washed his hands and then went to push his hands out of the sleeves of his garment, but could not do so because of their narrowness. So he brought them out from underneath his garment. Then he washed his arms, wiped his head and wiped over his leather socks. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, returned and Abdar Rahman ibn Awf was leading the people in prayer, and he had already finished one raka with them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed the remaining raka with them to everyones concern. When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, finished he said, You have acted correctly. "

65Mauwatta Imam Malik

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدِمَ الْکُوفَةَ عَلَی سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَهُوَ أَمِيرُهَا فَرَآهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّيْنِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ سَلْ أَبَاکَ إِذَا قَدِمْتَ عَلَيْهِ فَقَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ فَنَسِيَ أَنْ يَسْأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِکَ حَتَّی قَدِمَ سَعْدٌ فَقَالَ أَسَأَلْتَ أَبَاکَ فَقَالَ لَا فَسَأَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ إِذَا أَدْخَلْتَ رِجْلَيْکَ فِي الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ فَامْسَحْ عَلَيْهِمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَإِنْ جَائَ أَحَدُنَا مِنْ الْغَائِطِ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ وَإِنْ جَائَ أَحَدُکُمْ مِنْ الْغَائِطِ

نافع اور عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر آئے کوفے میں سعد بن ابی وقاص پر اور وہ حاکم تھے کوفہ کے تو دیکھا ان کو عبداللہ نے کہ مسح کرتے ہیں موزوں پر پس انکار کیا اس فعل کا عبداللہ نے۔ کہا سعد نے تم اپنے باپ سے پوچھنا جب جانا تو جب آئے عبداللہ بھول گئے پوچھنا اپنے باپ سے یہاں تک کہ سعد آئے اور انہوں نے کہا ذکر کیا تم نے اپنے باپ سے پوچھا تھا عبداللہ نے کہا نہیں پھر پوچھا عبداللہ نے تو فرمایا حضرت عمر نے جب ڈالے تو پاؤں اپنے موزوں کے اندر اور پاؤں پاک ہوں تو مسح کر موزوں پر کہا عبداللہ نے اگرچہ ہم پائخانہ سے ہو کر آئیں کہا ہاں اگرچہ کوئی تم میں سے پائخانہ سے ہو کر آئے۔

Yahya related to me from Malik that Nafi and Abdullah ibn Dinar told him that Abdullah ibn Umar arrived at Kufa and went to Sad ibn Abi Waqqas, who was the Amir of Kufa at that time. Abdullah ibn Umar saw him wiping over his leather socks and disapproved of it. So Sad said to him, "Ask your father when you get back." Abdullah returned but forgot to ask Umar about the matter until Sad arrived and said, "Have you asked your father?" and he said, "No." Abdullah then asked Umar and Umar replied, "If your feet are ritually pure when you put them in the leather socks then you can wipe over the socks." Abdullah said ,"What about if we have just come from relieving ourselves?" Umar said, "Yes, even if you have just come from relieving yourself."

66Mauwatta Imam Malik

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بَالَ فِي السُّوقِ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ دُعِيَ لِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا حِينَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّی عَلَيْهَا

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے پیشاب کیا بازار میں پھر وضو کیا اور دھویا منہ اور ہاتھوں کو اپنے اور مسح کیا سر پر پھر بلائے گئے جنازہ کی نماز کے لئے جب جا چکے مسجد میں تو مسح کیا موزوں پر پھر نماز پڑھی جنازہ پر۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar urinated in the market place and then did wudu, washing his face and hands and wiping his head. Then as soon as he had come into the mosque, he was called to pray over a dead person, so he wiped over his leather socks and prayed.

67Mauwatta Imam Malik

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رُقَيْشٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أَتَی قُبَا فَبَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّيْنِ ثُمَّ جَائَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی

سعید بن عبدالرحمن نے دیکھا انس بن مالک کو آئے وہ قبا کو تو پیشاب کیا پھر لایا گیا پانی وضو کا تو وضو کیا دھویا منہ کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کیا سر پر اور مسح کیا موزوں پر پھر مسجد میں آ کر نماز پڑھی۔

Yahya related to me from Malik that Said ibn Abd ar-Rahman ibn Ruqash said, "I saw Anas ibn Malik come and squat and urinate.Then water was brought and he did wudu. He washed his face, then his arms to the elbows, and then he wiped his head and wiped over his leather socks. Then he came to the mosque and prayed." Yahya said that Malik was asked whether a man who did wudu for prayerand then put on his leather socks, and then urinated and took them off and put them back on again, should begin wudu afresh. Malik replied, "He should take off his socks and wash his feet. Only someone who puts on leather socks when his feet are (already) ritually purified by wudu can wipe over them. Someone who puts on leather socks when his feet are not ritually purified by wudu, should not wipe over them."

68Mauwatta Imam Malik

موزوں کے مسح کی ترکیب کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ رَأَی أَبَاهُ يَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّيْنِ قَالَ وَکَانَ لَا يَزِيدُ إِذَا مَسَحَ عَلَی الْخُفَّيْنِ عَلَی أَنْ يَمْسَحَ ظُهُورَهُمَا وَلَا يَمْسَحُ بُطُونَهُمَا

ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کو دیکھا جب مسح کرتے موزوں پر تو مسح کرتے موزوں کی پشت پر نہ کہ اندر کی جانب۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that he saw his father wiping over his leather socks. He said, "When he wiped over his socks he would never do more than wipe the tops and he would not wipe the bottoms."