عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَدَعُوهُنَّ يَخْرُجْنَ لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا قَدْ أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَأَرْسِلُوهُنَّ بَعْدُ أَوْ أَمْسِکُوهُنَّ عَنْ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا جَنَتْ جِنَايَةً ضَمِنَ سَيِّدُهَا مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ قِيمَتِهَا وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُسَلِّمَهَا وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَحْمِلَ مِنْ جِنَايَتِهَا أَکْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا
صفیہ بن عبید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کیا حال ہے لوگوں کو جماع کرتے ہیں اپنی لونڈیوں سے پھر ان کو چھوڑ دیتے ہیں وہ نکلی پھرتی ہیں اب میرے پاس جو لونڈی آئے گی اور مولیٰ کا اقرار ہوگا اس سے صحبت کرنے کا تو میں اس کے لڑکے کا نسب مولیٰ سے ثابت کردوں گا اب اس کے بعد چاہے انہیں بھیجا کرو چاہے روکے رکھا کرو کہا مالک نے ام ولد جب جنایت کرے تو مولیٰ اس کا تاوان دے اور ام ولد کو اس جنایت کے عوض میں نہیں دے سکتا مگر قیمت سے زیادہ تاوان نہ دے گا۔
Malik related to me from Nafi that Safiyya bint Abi Ubayd informed him that Umar ibn al-Khattab said, "What is the matter with men who have intercourse with their slave-girls and then leave them to go? No slave-girl comes to me whose master confesses that he has had intercourse with her but that I connect her child to him, whether or not he has practised coitus interruptus or left off from intercourse with her."
بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے جو شخص ظلم سے وہاں کچھ تصرف کرے اس کو کچھ حق نہیں ہے۔
Yahya related from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If anyone revives dead land, it belongs to him, and the unjust root has no right." Malik explained, "The unjust root is whatever is taken, or planted without right."
بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah from his father that Umar ibn al-Khattab said, "Whoever revives dead land, it belongs to him."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ وَمُذَيْنِبٍ يُمْسَکُ حَتَّی الْکَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلُ الْأَعْلَی عَلَی الْأَسْفَلِ
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دونالوں میں ایک کا نام مہروز تھا اور دوسرے کا نام مذینیب کہ جس کا باغ نالہ کے متصل ہے وہ اپنے باغ میں ٹخنوں ٹخنوں پانی بھر کے پھر دوسرے کے باغ میں پانی چھوڑ دے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm that he heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said about the flood-channels of Mahzur and Mudhaynib (in Madina), "Dam them systematically, so that the water is diverted into each property in turn up to ankle level, starting upstream."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَائِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْکَلَأُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہیں روکا جائے گا پانی جو بچ رہا ہو تاکہ گھانس بچ جائے۔
Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Excess water is not withheld in order to prevent herbage from growing."
عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ
عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ منع کیا جائے اس پانی سے کنوئی کے جو بچ رہے۔
Malik related to me from Abur-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman from his mother Amra bint Abd ar-Rahman that she informed him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not withhold the surplus water of a well from people."
عَنْ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ
یحییٰ بن عمارہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ ضرر ہے اسلام میں نہ ضرار۔
Yahya related to me from Malik from Amr ibn Yahya al-Mazini from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "There is no injury nor return of injury."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعُ أَحَدُکُمْ جَارَهُ خَشَبَةً يَغْرِزُهَا فِي جِدَارِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاکُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَکْتَافِکُمْ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے منع کرتے تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کو لکڑی گاڑنے سے اپنی دیوار میں پھر ابوہریرہ ؓ کہتے تھے کیا وجہ ہے کہ تم اس حدیث کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے قسم اللہ کی میں اس کو خوب مشہور کروں گا۔
Malik related to me from Ibn Shihab from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "No one should prevent his neighbour from fixing a wooden peg in his wall." Then Abu Hurayra said, "Why do I see you turning away from it? By Allah! I shall keep on at you about it."
عَنْ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الضَّحَّاکَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنْ الْعُرَيْضِ فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَأَبَی مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَهُ الضَّحَّاکُ لِمَ تَمْنَعُنِي وَهُوَ لَکَ مَنْفَعَةٌ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَلَا يَضُرُّکَ فَأَبَی مُحَمَّدٌ فَکَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاکُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ فَقَالَ مُحَمَّدٌ لَا فَقَالَ عُمَرُ لِمَ تَمْنَعُ أَخَاکَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَکَ نَافِعٌ تَسْقِي بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَهُوَ لَا يَضُرُّکَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ لَا وَاللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَی بَطْنِکَ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فَفَعَلَ الضَّحَّاکُ
یحییٰ بن عمارہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن خلیفہ نے ایک نہر نکالی عرض میں سے محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے ہو کر انہوں نے منع کیا ضحاک نے کہا تم کیوں منع کرتے ہو تمہارا تو اس میں نفع ہے اپنی زمین کو اول اور آخر پانی دیا کرنا اور کچھ ضرر نہیں محمد نہ مانا ضحاک نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے محمد بن مسلمہ کا بلا کر کہا تم اجازت دو محمد نے کہا میں نہ دوں گا حضرت عمر نے کہا تم اپنے بھائی مسلمان کو ایسی بات سے منع کرتے ہو جس میں اس کا نفع ہے اور تمہارا بھی نفع ہے تم بھی پانی لیا کرنا اول اور آخر میں اور تمہارا کچھ ضرر نہیں محمد نے کہا قسم اللہ کی میں اجازت نہ دوں گا حضرت عمر نے کہا وہ نہر بہائی جائے اگرچہ تمہارے پیٹ پر سے ہو پھر حضرت عمر نے ضحاک کو حکم کیا نہر جاری کرنے گا محمد بن مسلمہ کی زمین سے ہو کر ضحاک نے ایسا ہی کہا۔
Malik related to me from Amr ibn Yahya al-Mazini from his father that ad-Dahhak ibn Khalifa watered his irrigation ditch from a large source of water. He wanted to have it pass through the land of Muhammad ibn Maslama, and Muhammad refused. Ad-Dahhak said to him, "Why do you prevent me? It will benefit you. You can drink from it first and last and it will not harm you." Muhammed refused so ad-Dahhak spoke about it to Umar ibn al-Khattab, and Umar ibn al-Khattab summoned Muhammad ibn Maslama and ordered him to clear the way. Muhammad said, "No." Umar said, "Why do you prevent your brother from what will benefit him and is also useful for you? You will take water from it first and last and it will not harm you." Muhammad said, "No, by Allah!" Umar said, "By Allah, he will pass it through, even if it is over your belly!" Umar ordered him to allow its passage and ad-Dahhak did so.
عَنْ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ فِي حَائِطِ جَدِّهِ رَبِيعٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَأَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنْ يُحَوِّلَهُ إِلَی نَاحِيَةٍ مِنْ الْحَائِطِ هِيَ أَقْرَبُ إِلَی أَرْضِهِ فَمَنَعَهُ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَکَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي ذَلِکَ فَقَضَی لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِتَحْوِيلِهِ
یحییٰ بن عمارہ سے روایت ہے کہ میرے دادا کے باغ میں سے ہو کر ایک نہر بہتی تھی عبدالرحمن بن عوف کی عبدالرحمن نے یہ چاہا کہ اس کو باغ کی دوسری طرف سے لے جائیں کیونکہ وہ قریب تھا ان کی زمین سے لیکن باغ کے مالک یعنی میرے داد نے اجازت نہ دی عبدالرحمن نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے اجازت دے دی۔
Malik related to me from Amr ibn Yahya al-Mazini that his father said, "There was a stream in my grand-fathers garden belonging to Abd ar-Rahman ibn Awf Abd ar-Rahman ibn Awf wanted to transfer it to a corner of the garden nearer to his land, and the owner of the garden prevented him. Abd ar-Rahman ibn Awf spoke to Umar ibn al-Khattab about it, and he gave a judgement to Abd ar-Rahman ibn Awf that he should transfer it."
عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهِيَ عَلَی قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَکَهَا الْإِسْلَامُ وَلَمْ تُقْسَمْ فَهِيَ عَلَی قَسْمِ الْإِسْلَامِ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ هَلَکَ وَتَرَکَ أَمْوَالًا بِالْعَالِيَةِ وَالسَّافِلَةِ إِنَّ الْبَعْلَ لَا يُقْسَمُ مَعَ النَّضْحِ إِلَّا أَنْ يَرْضَی أَهْلُهُ بِذَلِکَ وَإِنَّ الْبَعْلَ يُقْسَمُ مَعَ الْعَيْنِ إِذَا کَانَ يُشْبِهُهَا وَأَنَّ الْأَمْوَالَ إِذَا کَانَتْ بِأَرْضٍ وَاحِدَةٍ الَّذِي بَيْنَهُمَا مُتَقَارِبٌ أَنَّهُ يُقَامُ کُلُّ مَالٍ مِنْهَا ثُمَّ يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ وَالْمَسَاکِنُ وَالدُّورُ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ
ثور بن زید ویلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو زمین یا مکان جاہلیت کے زمانے میں تقسیم ہوچکا ہے وہ اسی طور پر رہیگا البتہ جو مکان یا زمین اسلام کے زمانے تک تقسیم نہیں ہوئی تو وہ اسلام کے قاعدوں کے موافق تقسیم ہوگی۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور بارانی اور چاہی زمینیں چھوڑ جائے تو بارانی کو چاہی کے ساتھ ملا کر تقسیم نہ کریں گے بلکہ جدا جدا تقسیم کریں گے۔ (کیونکہ بارانی کا لگان دسواں حصہ اور چاہی کا بیسواں حصہ پیداوار کا) مگر جب سب شریک ملا کر تقسیم کرنے پر راضی ہوجائیں تو ملا کر تقسیم کردیں گے البتہ بارانی اور زیر تالاب یا کاریز کو ملا کر تقسیم کردیں گے۔ (کیونکہ ان کا دھارا ایک ہے یعنی دونوں قسموں کی زمینوں کا لگان پیداوار کا دسواں حصہ ہے اسی طرح اگر کسی قسم کے مال ہوں ایک ہی جگہ اور ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو ہر ایک مال کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کردیں گے مکانوں اور گھروں کا بھی یہی حکم ہے۔
Yahya related to me from Malik that Thawr ibn Zayd ad-Dili said, "I heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, A house or land that has been divided in the Jahiliyya, it is according to the division of the Jahiliyya. A house or land which has not been divided before the coming of Islam is divided according to Islam. "
عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَی أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتْ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَی أَهْلِهَا
حرام بن سعد محیصہ سے روایت ہے کہ براء بن عازب کا اونٹ ایک باغ میں چلا گیا اور نقصان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا کہ باغ کی حفاظت دن کو باغ والے کے ذمے پر ہے البتہ اگر رات کو کسی کا جانور باغغ میں جا کر نقصان کرے تو ضمان اس کا جانور کے مالک پر ہوگا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Haram ibn Sad ibn Muhayyisa that a female camel of al-Bara ibn Azib (RA) entered the garden of a man and it did some damage to it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave a judgement that the people of the garden were responsible for guarding it in the day, and the owner of the animals was liable for what the animals destroyed at night.
عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّ رَقِيقًا لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَ عُمَرُ کَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَرَاکَ تُجِيعُهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَأُغَرِّمَنَّکَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْکَ ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ کَمْ ثَمَنُ نَاقَتِکَ فَقَالَ الْمُزَنِيُّ قَدْ کُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِهِ ثَمَانَ مِائَةِ دِرْهَمٍ عَنْ مَالِک يَقُولُ وَلَيْسَ عَلَی هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا فِي تَضْعِيفِ الْقِيمَةِ وَلَکِنْ مَضَی أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا عَلَی أَنَّهُ إِنَّمَا يَغْرَمُ الرَّجُلُ قِيمَةَ الْبَعِيرِ أَوْ الدَّابَّةِ يَوْمَ يَأْخُذُهَا
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ غلاموں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر کاٹ ڈالا جب یہ مقدمہ حضرت عمر کے پاس گیا آپ ﷺ نے کثیر بن صلت سے کہا ان غلاموں کا ہاتھ کاٹ ڈال پھر حاطب سے کہا میں سمجھتا ہوں کہ تو ان غلاموں کو بھوکا رکھتا ہوگا پھر حضرت عمر نے کہا حاطب سے قسم اللہ کی میں تجھ سے ایسا تاوان دلاؤں گا جو تجھ پر بہت گران گزرے آپ ﷺ نے اونٹ والے سے پوچھا تیرا اونٹ کتنے کا ہوگا اس نے کہا میں نے چار سو درہم کو اسے اس نے نہیں بیچا حضرت عمر نے کہا تو آٹھ سو درہم اس کے دے کہا مالک نے ہمارے نزدیک قیمت دوچند لینے میں اس روایت پر عمل نہ ہوگا لیکن در آمد لوگوں کی یہ رہی کہ اس جانور کی جو قمیت چرانے کے دن ہوگی وہ دینی ہوگی۔
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that some slaves of Hatib stole a she-camel belonging to a man from the Muzayna tribe and they slaughtered it. The case was brought before Umar ibn al-Khattab, and Umar ordered Kathir ibn as-Salt to cut off their hands. Then Umar said to Habib, "I think you must be starving them," and he added, "By Allah! I will make you pay such a fine that it will be heavy for you." He enquired of the man from the Muzayna tribe, "What was the price of your camel?" The Muzayni said, "By Allah, I refused to sell her for 40O dirhams. Umar said, Give him 80O dirhams."
جو شخص کسی جانور کو نقصان پہنچائے اس کا حکم۔
عَنْ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ الْبَهَائِمِ إِنَّ عَلَی الَّذِي أَصَابَهَا قَدْرَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي الْجَمَلِ يَصُولُ عَلَی الرَّجُلِ فَيَخَافُهُ عَلَی نَفْسِهِ فَيَقْتُلُهُ أَوْ يَعْقِرُهُ فَإِنَّهُ إِنْ کَانَتْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَی أَنَّهُ أَرَادَهُ وَصَالَ عَلَيْهِ فَلَا غُرْمَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَقُمْ لَهُ بَيِّنَةٌ إِلَّا مَقَالَتُهُ فَهُوَ ضَامِنٌ لِلْجَمَلِ
کہا مالک نے جو کسی کے جانور کو نقصان پہنچائے تو نقصان کی وجہ سے جس قدر قیمت اس کی کم ہوجائے اس کا تاوان دینا ہوا۔ کہا مالک نے ایک اونٹ حملہ کرے کسی آدمی پر اور وہ آدمی اپنی جان کو خوف کرکے اس کو مار ڈالے یا زخمی کرے تو اگر وہ گواہ رکھتا ہو اس امر کا کہ اونٹ نے اس پر حملہ کیا تھا تو اس پر تاوان نہ ہوگا اور نہ تاوان دینا ہوگا۔
Yahya said that he heard Malik say, "What is done in our community about injury to a domestic animal, is that the one who injures it must pay the amount by which he has diminished the animals price."
کاریگروں کا جو مالک دیا جاتا ہے اس کا بیان
عَنْ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ دَفَعَ إِلَی الْغَسَّالِ ثَوْبًا يَصْبُغُهُ فَصَبَغَهُ فَقَالَ صَاحِبُ الثَّوْبِ لَمْ آمُرْکَ بِهَذَا الصِّبْغِ وَقَالَ الْغَسَّالُ بَلْ أَنْتَ أَمَرْتَنِي بِذَلِکَ فَإِنَّ الْغَسَّالَ مُصَدَّقٌ فِي ذَلِکَ وَالْخَيَّاطُ مِثْلُ ذَلِکَ وَالصَّائِغُ مِثْلُ ذَلِکَ وَيَحْلِفُونَ عَلَی ذَلِکَ إِلَّا أَنْ يَأْتُوا بِأَمْرٍ لَا يُسْتَعْمَلُونَ فِي مِثْلِهِ فَلَا يَجُوزُ قَوْلُهُمْ فِي ذَلِکَ وَلْيَحْلِفْ صَاحِبُ الثَّوْبِ فَإِنْ رَدَّهَا وَأَبَی أَنْ يَحْلِفَ حُلِّفَ الصَّبَّاغُ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي الصَّبَّاغِ يُدْفَعُ إِلَيْهِ الثَّوْبُ فَيُخْطِئُ بِهِ فَيَدْفَعُهُ إِلَی رَجُلٍ آخَرَ حَتَّی يَلْبَسَهُ الَّذِي أَعْطَاهُ إِيَّاهُ إِنَّهُ لَا غُرْمَ عَلَی الَّذِي لَبِسَهُ وَيَغْرَمُ الْغَسَّالُ لِصَاحِبِ الثَّوْبِ وَذَلِکَ إِذَا لَبِسَ الثَّوْبَ الَّذِي دُفِعَ إِلَيْهِ عَلَی غَيْرِ مَعْرِفَةٍ بِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ فَإِنْ لَبِسَهُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ لَيْسَ ثَوْبَهُ فَهُوَ ضَامِنٌ لَهُ
کہا مالک نے اگر کسی نے اپنا کپڑا رنگریز کو رنگنے کو دیا اس نے رنگا اب کپڑے والا یہ کہے میں نے تجھ سے یہ رنگ نہیں کہا تھا اور رنگریز کہے تو نے یہی رنگ کہا تھا تو رنگریز کا قول قسم سے مقبول ہوگا ایسا ہی درزی کا بھی حکم ہے اور سنار کا جب وہ حلف اٹھالیں البتہ اگر ایسی بات کا دعویٰ کرتے ہوں جو بالکل عرف اور رواج کے خلاف ہو تو اس کا قول مقبول نہ ہوگا بلکہ کپڑے والے سے قسم لی جائے گی اگر وہ قسم نہ کھائے گا تو کاریگر سے قسم لی جائے گی۔ کہا مالک نے ایک شخص نے اپنا کپڑا رنگریز کو دیا رنگنے کو واسطے رنگریز نے وہ کپڑا دوسرے شخص کو پہننے کو دے دیا۔ تو رنگریز پر اس کا تاوان ہوگا اگر پہننے والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کپڑا کسی اور کا ہے اور جو معلوم ہو تو تاوان اسی پر ہوگا۔
Yahya related that he heard Malik say that if a man gave a washer a garment to dye and he dyed it, and then the owner of the garment said, "I did not order you to use this dye," and the washer protested that he had done so, then the washer was to be believed. It was the same with the tailor and the gold-smith. They took an oath about it unless they produced something they would not normally have been employed to do. In that situation their statement was not allowed and the owner of the garment had to take an oath . If he rejected it and refused to swear, then the dyer was made to take an oath.
عَنْ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يُحِيلُ الرَّجُلَ عَلَی الرَّجُلِ بِدَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ أَنَّهُ إِنْ أَفْلَسَ الَّذِي أُحِيلَ عَلَيْهِ أَوْ مَاتَ فَلَمْ يَدَعْ وَفَائً فَلَيْسَ لِلْمُحْتَالِ عَلَی الَّذِي أَحَالَهُ شَيْئٌ وَأَنَّهُ لَا يَرْجِعُ عَلَی صَاحِبِهِ الْأَوَّلِ قَالَ مَالِک وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک فَأَمَّا الرَّجُلُ يَتَحَمَّلُ لَهُ الرَّجُلُ بِدَيْنٍ لَهُ عَلَی رَجُلٍ آخَرَ ثُمَّ يَهْلِکُ الْمُتَحَمِّلُ أَوْ يُفْلِسُ فَإِنَّ الَّذِي تُحُمِّلَ لَهُ يَرْجِعُ عَلَی غَرِيمِهِ الْأَوَّلِ
کہا مالک نے ایک شخص نے اپنے ذمے پر جو قرض ہے اس کو اپنے ایک قرض دار پر اتاردیا قرض خواہ کی رضامندی سے اب وہ قرض دار مفلس ہوگیا یا بےجائداد مرگیا تو قرض خواہ پھر اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے البتہ اگر ایک شخص دوسرے کے ذمے پر جو قرض ہے اس کا ضامن ہوگیا پھر جو ضامن ہوا تھا بےجائداد مرگیا یا مفلس ہوگیا تو قرض خواہ قرضدار سے مطالبہ کرسکتا ہے۔
Yahya said that he heard Malik say, "What is done in our community about a man who refers a creditor to another man for the debt he owes him is that if the one referred to goes bankrupt or dies, and does not leave enough to pay the debt, then the creditor has nothing against the one who referred him and the debt does not return to the first party." Malik said, "This is the way of doing things about which there is no dispute in our community." Malik said, "If a man has his debt to somebody taken on for him by another man and then the man who took it on dies or goes bankrupt, then whatever was taken on by him returns to the first debtor."
جو شخص کپڑا خرید کرے اور اس میں عیب نکلے
عَنْ مَالِک يَقُولُ إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلُ ثَوْبًا وَبِهِ عَيْبٌ مِنْ حَرْقٍ أَوْ غَيْرِهِ قَدْ عَلِمَهُ الْبَائِعُ فَشُهِدَ عَلَيْهِ بِذَلِکَ أَوْ أَقَرَّ بِهِ فَأَحْدَثَ فِيهِ الَّذِي ابْتَاعَهُ حَدَثًا مِنْ تَقْطِيعٍ يُنَقِّصُ ثَمَنَ الثَّوْبِ ثُمَّ عَلِمَ الْمُبْتَاعُ بِالْعَيْبِ فَهُوَ رَدٌّ عَلَی الْبَائِعِ وَلَيْسَ عَلَی الَّذِي ابْتَاعَهُ غُرْمٌ فِي تَقْطِيعِهِ إِيَّاهُ عَنْ مَالِک وَإِنْ ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَوْبًا وَبِهِ عَيْبٌ مِنْ حَرْقٍ أَوْ عَوَارٍ فَزَعَمَ الَّذِي بَاعَهُ أَنَّهُ لَمْ يَعْلَمْ بِذَلِکَ وَقَدْ قَطَعَ الثَّوْبَ الَّذِي ابْتَاعَهُ أَوْ صَبَغَهُ فَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَائَ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ الْحَرْقُ أَوْ الْعَوَارُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ وَيُمْسِکُ الثَّوْبَ فَعَلَ وَإِنْ شَائَ أَنْ يَغْرَمَ مَا نَقَصَ التَّقْطِيعُ أَوْ الصِّبْغُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ وَيَرُدُّهُ فَعَلَ وَهُوَ فِي ذَلِکَ بِالْخِيَارِ فَإِنْ کَانَ الْمُبْتَاعُ قَدْ صَبَغَ الثَّوْبَ صِبْغًا يَزِيدُ فِي ثَمَنِهِ فَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَائَ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ الْعَيْبُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ وَإِنْ شَائَ أَنْ يَکُونَ شَرِيکًا لِلَّذِي بَاعَهُ الثَّوْبَ فَعَلَ وَيُنْظَرُ کَمْ ثَمَنُ الثَّوْبِ وَفِيهِ الْحَرْقُ أَوْ الْعَوَارُ فَإِنْ کَانَ ثَمَنُهُ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ وَثَمَنُ مَا زَادَ فِيهِ الصِّبْغُ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ کَانَا شَرِيکَيْنِ فِي الثَّوْبِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِقَدْرِ حِصَّتِهِ فَعَلَی حِسَابِ هَذَا يَکُونُ مَا زَادَ الصِّبْغُ فِي ثَمَنِ الثَّوْبِ
کہا مالک نے جب کوئی شخص کپڑا خریدے اور اس میں عیب نکلے مثلا پھٹا ہوا ہو یا اور کچھ عیب بائع (بچنے والا) (بچنے والا) کے پاس کا ہو گواہوں کی گواہی سے یا بائع (بچنے والا) (بچنے والا) کے اقرار سے اب مشتری (خریدنے والا) نے اس کپڑے میں رصرف کیا جیسے اس کو کتربیونت کر ڈالا۔ جس سے کپڑے کی قیمت گھٹ گئی پھر اس کو عیب معلوم ہوا تو وہ کپڑا بائع (بچنے والا) کو پھیر دے اور کاٹنے کا ضمان مشتری (خریدنے والا) پر نہ ہوگا۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کپڑا خریدا اور اس میں عیب پایا مثلا پھٹا ہو یا چرا ہوا ہے بائع (بچنے والا) نے کہا مجھے اس عیب کی خبر نہ تھی اور مشتری (خریدنے والا) اس کپڑے کو کاٹ بیونت کرچکا ہے یا رنگ چکا ہے تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے چاہے کپڑا رکھ لے اور بائع (بچنے والا) سے عیب کے موافق نقصان مجرالے چاہے کپڑا پھیر دے اور جس قدر کاٹ بیونت یا رنگ سے کپڑے کی قینت گھٹ گئی ہے اس قدر بائع (بچنے والا) کو مجرادے اگر مشتری (خریدنے والا) نے اس پر وہ رنگ کیا ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھ گئی تب بھی مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہوگا چاہے عیب کا نقصان بائع (بچنے والا) سے وصول کرکے کپڑا رکھ لے چاہے بائع (بچنے والا) کا مشریک ہوجائے۔ اس کپڑے میں اب دیکھا جائے گا کہ اس کپڑے کی قیمت عیب کے لحاظ سے کتنی ہے مثلا دس درہم ہو اور مشتری (خریدنے والا) کے رنگنے کی وجہ سے پندرہ درہم قیمت ہوگئی ہو تو بائع (بچنے والا) دو ثلث کا اور مشتری (خریدنے والا) ایک ثلث کا اس کپڑے میں شریک ہوگا جب وہ کپڑا بکے اس کی قیمت کو اسی حساب سے بانٹ لیں گے۔
Yahya said that he heard Malik say, "If a man buys a garment which has a defect, a burn or something else, which the seller knows about and that is testified against him or he confirms it, and the man who has bought it causes a new tear which decreases the price of the garment, and then he learns about the original defect, he can return it to the seller and he is not liable for his tearing it.
جو ہبہ درست نہیں اس کا بیان
عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَبَاهُ بَشِيرًا أَتَی بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا کَانَ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلَّ وَلَدِکَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا فَقَالَ لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَجِعْهُ
نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ مجھ کو رسول اللہ کے پاس لے کر آئے اور کہا یا رسول اللہ میں نے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام ہبہ کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا سب بیٹوں کو تو نے ایسا ہی غلام دیا بولا نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا رجوع کر ہبہ سے
Yahya related to us from Malik from Ibn Shihab from Humayd ibn Abd ar-Rah man ibn Awf and from Muhammad ibn an-Numan ibn Bashir that they related to him that an-Numan ibn Bashir said that his father Bashir brought him to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, "I have given this son of mine one of my slaves." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Have you given each of your children the same as this?" He said, "No." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Then take the slave back."
جو ہبہ درست نہیں اس کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ کَانَ نَحَلَهَا جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ بِالْغَابَةِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ وَاللَّهِ يَا بُنَيَّةُ مَا مِنْ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ غِنًی بَعْدِي مِنْکِ وَلَا أَعَزُّ عَلَيَّ فَقْرًا بَعْدِي مِنْکِ وَإِنِّي کُنْتُ نَحَلْتُکِ جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا فَلَوْ کُنْتِ جَدَدْتِيهِ وَاحْتَزْتِيهِ کَانَ لَکِ وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ وَارِثٍ وَإِنَّمَا هُمَا أَخَوَاکِ وَأُخْتَاکِ فَاقْتَسِمُوهُ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ وَاللَّهِ لَوْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لَتَرَکْتُهُ إِنَّمَا هِيَ أَسْمَائُ فَمَنْ الْأُخْرَی فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ أُرَاهَا جَارِيَةً
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے باپ حضرت ابوبکر صدیق نے ان کو ہبہ کئے تھے کھجور کے درخت جن میں سے بیس وسق کھجور نکلتی تھی اپنے باغ میں سے جو غابہ میں تھے جب حضرت ابوبکر کی وفات ہونے لگی انہوں نے کہا اے بیٹی کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کا مالدار رہنا مجھے پسند ہو بعد اپنے تجھ سے زیادہ اور نہ کسی آدمی کا مفلس رہنا ناپسند ہے مجھ کو بعد اپنے تجھ سے زیادہ میں نے تجھے بیس وسق کھجور کے درخت ہبہ کئے تھے اگر تو ان درختوں سے کھجور کاٹتی اور ان پر قبضہ کرلیتی تو وہ تیرا مال ہوجاتا اب تو وہ سب وارثوں کا مال ہے اور وارث کون ہیں دو بھائی ہیں تمہارے اور دو بہنیں ہیں تو بانٹ لینا کا کو کتاب اللہ کے موافق حضرت عائشہ نے کہا اے میرے باپ قسم اللہ کی اگر بڑے سے بڑا مال ہوتا تو میں اس کو چھوڑ دیتی لیکن میں حیران ہوں اور دوسری بہن کون ہے حضرت ابوبکر نے کہا وہ جو حبیبہ بنت خارجہ کے پیٹ میں ہے میں اس کو لڑکی سمجھتا ہوں۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, " Abu Bakr (RA) as-Siddiq gave me palm trees whose produce was twenty awsuq from his property at al-Ghaba. When he was dying, he said, By Allah, little daughter, there is no one I would prefer to be wealthy after I die than you. There is no one it is more difficult for me to see poor after I die than you. I gave you palm-trees whose produce is twenty awsuq. Had you cut them and taken possession of them, they would have been yours, but today they are the property of the heirs, and they are your two brothers and your two sisters, so divide it according to the Book of Allah. Aisha continued, "I said, My father! By Allah, even if it had been more, I would have left it. There is only Asma. Who is my other sister?" Abu Bakr (RA) replied, What is in the womb of Kharija? (Kharija was the wife of Abu Bakrs brother from the Ansar.) I think that it is going to be a girl. "
جو ہبہ درست نہیں اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَائَهُمْ نُحْلًا ثُمَّ يُمْسِکُونَهَا فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ مَا لِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا وَإِنْ مَاتَ هُوَ قَالَ هُوَ لِابْنِي قَدْ کُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً فَلَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نُحِلَهَا حَتَّی يَکُونَ إِنْ مَاتَ لِوَرَثَتِهِ فَهِيَ بَاطِلٌ
عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہا کیا حال ہے لوگوں کا کہ ہبہ کرتے ہیں اپنے بیٹوں کو پھر روک لیتے ہیں اگر بیٹا مرجاتا ہے تو کہتے ہیں میرا مال میرے قبضے میں ہے کسی کو نہیں دیا اگر باپ مرجاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ کہ وہ میرے بیٹے کو ہے اس کو میں ہبہ کرچکا ہوں جو کوئی ہبہ کرے اور اس کو نافذ نہ کرے یعنی موہوب لہ اس پر قبضہ نہ کرے اس طرح سے کہ جب موہوب لہ مرے تو وہ اس کے وارثوں کو ملے تو وہ ہبہ باطل ہے۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr from Abd ar-Rahman ibn Abdul Qari that Umar ibn al-Khattab said, "What is wrong with men who give their sons gifts and then keep them and if the son dies, they say, My property is in my possession and I did not give it to anyone. But if they themselves are dying, they say, It belongs to my son, I gave it to him. Whoever gives a gift, and does not hand it over to the one to whom it was given, the gift is invalid, and if he dies it belongs to the heirs in general."