جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ يَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَهُ اللَّهُ إِلَی جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ
کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک پرندہ کی شکل بن کر جنت کے درخت سے لٹکتی رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ پھر اس کو لوٹا دے گا اس کے بدن کی طرف جس دن اس کو اٹھائے گا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abd ar-Rahman ibn Kab ibn Malik al-Ansari told him that his father, Kab ibn Malik, used to relate that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The ruh of the mumin is a bird that sits in the trees of the Garden until Allah returns it to his body on the day He raises him ."
جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَائَهُ وَإِذَا کَرِهَ لِقَائِي کَرِهْتُ لِقَائَهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات چاہتا ہے تو میں بھی اس کی ملاقات چاہتا ہوں اور جب وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے تو میں بھی اس سے نفرت کرتا ہوں۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah, the Blessed and Exalted, said, If My slave longs to meet Me, I long to meet him, and if he is averse to meeting Me, I am averse to meeting him. "
جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لِأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ أَذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ مِنْ خَشْيَتِکَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ قَالَ فَغَفَرَ لَهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی جب وہ مرنے لگا تو اپنے لوگوں سے بولا کہ بعد مرنے کے مجھے جلانا اور میری راکھ کے دو حصے کر کے ایک حصہ خشکی میں ڈال دینا اور ایک حصہ دریا میں اس لئے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پا لیا تو ایسا عذاب کرے گا کہ سارے جہاں میں ویسا عذاب کسی کو نہ کرے گا جب وہ مرگیا تو اس کے ساتھ لوگوں نے ایسا ہی کیا اللہ جل جلالہ نے خشکی کو حکم دیا کہ اس کی تمام راکھ اکٹھی کردی پھر دریا کو حکم کیا اس نے بھی اکٹھی کردی بعد اس کے اللہ جل جلالہ نے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا وہ بولا تیرے خوف سے اے پروردگار اور تو خوب جانتا ہے پس بخش دیا اس کو اللہ جل جلالہ نے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A man said to his family that he had never done a good action, and that when he died they were to burn him and then scatter half of him on the land and half of him on the sea, and by Allah, if Allah destined it for him He would punish him with a punishment which He had not punished anyone else with in all the worlds. When the man died, they did as he had told them. Then Allah told the land to collect everything that was in it, and told the sea to collect everything that was in it, and then He said to the man, Why did you do this? and he said, From fear of You, Lord, and You know best. " Abu Hurayra added, "And He forgave him."
جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ کَمَا تُنَاتَجُ الْإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَائَ هَلْ تُحِسُّ فِيهَا مِنْ جَدْعَائَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ہر بچہ پیدا ہوتا ہے دین اسلام پر پھر ماں باپ اس کے اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں جیسے اونٹ پیدا ہوتا ہے صحیح سلامت جانور سے بھلا اس میں کوئی کنکٹا بھی ہوتا ہے صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جو بچے چھوٹے پن میں مرجائیں ان کا کیا حال ہوگا فرمایا آپ ﷺ نے اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں بڑے ہو کر۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Every child is born on the fitra and it is his parents who make him a jew or a christian. Just as a camel is born whole - do you perceive any defect?" They said, "Messenger of Allah, what happens to people who die when they are (very) young?" He said, "Allah knows best what they used to do."
جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي مَکَانَهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قیامت نہیں ہوگی یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص کی قبر کے سامنے سے نکل کر کہے گا کاش کہ میں اس کی جگہ قبر میں ہوتا۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The Hour will not come until a man passes by the grave of another and says, If only I were in his place. "
جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَی رَحْمَةِ اللَّهِ وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ
ابوقتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر گزرا ایک جنازہ تو فرمایا آپ ﷺ نے مستریخ ہے یا مستراح منہ، صحابہ نے پوچھا مستریح کسے کہتے ہیں اور مستراح منہ، کسے کہتے ہیں فرمایا بندہ مومنی مستریح ہے یعنی جب مرجاتا ہے تو دنیا کی تکلیفوں اور اذیتوں سے نجات پا کر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں راحت پاتا ہے اور بندہ مستراح منہ ہے جب وہ مرجاتا ہے تو لوگوں کو بستیوں کو اور درختوں کو اور جانوروں کو اس سے راحت ہوتی ہے۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Amr ibn Halhalaad-Dili from Mabad ibn Kab ibn Malik that Abu Qatada ibn Ribi used to relate that a funeral procession passed by the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he said, "One is relieved and another others are relieved from." They said, "Who is the one relieved and the one from whom others are relieved?" He said, "A slave who is mumin is the one who is relieved from the exhaustion and suffering of this world to the mercy of Allah, and a wrong-acting slave is the one from whom people, towns, trees and animals are relieved."
جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَمُرَّ بِجَنَازَتِهِ ذَهَبْتَ وَلَمْ تَلَبَّسْ مِنْهَا بِشَيْئٍ
ابو النصر نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب گزرا ان پر جنازہ حضرت عثمان بن مظعون کا چلے گئے تم دنیا سے اور نہیں لیا اس میں سے کچھ۔
Yahya related to me from Malik that Abun Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah, said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, when Uthman ibn Madhuns funeral procession passed by him, "You have gone and you were not involved in any of it."
جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ قَالَتْ فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ تَتْبَعُهُ فَتَبِعَتْهُ حَتَّی جَائَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي فَلَمْ أَذْکُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّی أَصْبَحَ ثُمَّ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَی أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کھڑے ہوئے رسول اللہ ﷺ ایک رات کو اور کپڑے پہنے پھر چلے آپ ﷺ تو کہا میں نے اپنی لونڈی بریرہ سے کہ پیچھے پیچھے جائیے آپ ﷺ کے تو گئی وہ یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع پہنچے اور کھڑے ہوئے قریب اس کے جب اللہ کو منظور تھا آپ ﷺ کا کھڑا رہنا پھر لوٹے آپ ﷺ تو بریرہ آپ ﷺ سے اول میرے پاس پہنچ گئی اور میں نے کچھ ذکر آپ ﷺ سے نہیں کیا یہاں تک کہ صبح ہوئی پھر میں نے ذکر کیا اس کا حضرت سے تو فرمایا مجھے حکم ہوا تھا بقیع والوں کے پاس جانے کا تاکہ دعا کروں ان کے لئے۔
Malik related to me from AIqama ibn Abi Alqama that his mother said that she had heard Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, say, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, rose one night and put on his clothes and then went out. I ordered my slave-girl, Barira, to follow him, and she followed him until he got to al-Baqi. He stood near it as long as Allah willed and then he left. Barira arrived back before him and told me and I did not say anything to him until morning, and then I mentioned it to him and he explained, I was sent out to the people of al-Baqi to pray for them. "
جنازوں کے احکام میں مختلف حدیثیں۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِکُمْ فَإِنَّمَا هُوَ خَيْرٌ تُقَدِّمُونَهُ إِلَيْهِ أَوْ شَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِکُمْ
نافع سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا جلدی کرو جنازہ کو لئے ہوئے چلنے میں اس لئے کہ اگر وہ اچھا ہے تو جلدی اس کو بہتری کی طرف لے جاتے ہو اور اگر برا ہے تو جلدی اپنے کندھوں سے اتارتے ہو۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abu Hurayra said, "Make your funerals speedy, for it is only good that you are advancing him towards, or evil that you are taking off your necks."