کتاب الجہاد کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 22 · 51 hadiths · Page 2 of 3

892Mauwatta Imam Malik

نفل خمس میں سے دئیے جانے کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ النَّاسُ يُعْطَوْنَ النَّفَلَ مِنْ الْخُمُسِ

سعید بن مسیب نے کہا لوگ نفل کو خمس میں سے دیا کرتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad that Said ibn al-Musayyab said, "People used to be given bonuses from the Khumus." Malik said, "That is the best of what I have heard on the matter." Malik was asked about bonuses and whether they were taken from the first of the spoils, and he said, "That is only decided according to the ijtihad of the Imam. We do not have a known reliable command about that other than it is up to the ijtihad of the Sultan. I have not heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave bonuses in all his raids. I have only heard that he gave bonuses in one of them, namely the day of Hunayn. It depends on the ijtihad of the Imam whether they are taken from the first of the spoils or what is after it."

893Mauwatta Imam Malik

گھوڑے کے حصے کا بیان جہاد میں

عَنْ مَالِک أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ کَانَ يَقُولُ لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمٌ قَالَ مَالِک وَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ ذَلِکَ

مالک نے روایت کیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا " گھوڑے کے دو حصے ہیں اور مرد کا ایک حصہ ہے "۔ کہا مالک نے " میں ہمیشہ ایسا ہی سنتا ہوا آیا "۔

Yahya related to me that Malik said that he had heard that Umar ibn Abdul Aziz used to say, "The man on horse-back has two shares, and the man on foot has one."

894Mauwatta Imam Malik

غنیمت کے مال میں چرانے کا بیان

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَدَرَ مِنْ حُنَيْنٍ وَهُوَ يُرِيدُ الْجِعِرَّانَةَ سَأَلَهُ النَّاسُ حَتَّی دَنَتْ بِهِ نَاقَتُهُ مِنْ شَجَرَةٍ فَتَشَبَّکَتْ بِرِدَائِهِ حَتَّی نَزَعَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي أَتَخَافُونَ أَنْ لَا أَقْسِمَ بَيْنَکُمْ مَا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ مِثْلَ سَمُرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَکُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا کَذَّابًا فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَی أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ثُمَّ تَنَاوَلَ مِنْ الْأَرْضِ وَبَرَةً مِنْ بَعِيرٍ أَوْ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لِي مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ وَلَا مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْکُمْ

عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حنین سے لوٹے اور ارادہ رکھتے تھے جعرانہ کا ؛ مانگنے لگے لوگ آپ سے (مال غنیمت)، اسی اثنا میں آپ کا اونٹ کانٹوں کے درخت کی طرف چلا گیا اور کانٹے آپ کی چادر میں اٹک کر چادر آپ کی پشت مبارک سے اتر گئی، تب آپ نے فرمایا ؛ " کہ میری چادر مجھ کو دے دو کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں نہ بانٹوں گا وہ چیز تم کو جو اللہ نے تم کو دی " " قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر اللہ تم کو جتنے تہامہ کے درخت ہیں اتنے اونٹ دے تو میں بانٹ دوں گا تم کو ؛ پھر نہ پاؤ گے مجھ کو بخیل نہ بودا نہ جھوٹا، پھر جب اترے رسول اللہ ﷺ کھڑ ہوئے لوگوں میں اور کہا کہ؛ اگر کسی نے تاگا اور سوئی لے لی ہو وہ بھی لاؤ کیونکہ غنیمت کے مال میں سے چرانا شرم ہے دین میں اور آگ ہے اور عیب ہے قیامت کے روز، پھر زمین سے اونٹ یا بکری کے بالوں کا ایک گچھا اٹھایا اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، جو مال اللہ پاک نے تم کو دیا ؛ اس میں سے میرا اتنا بھی نہیں ہے، مگر پانچواں حصہ اور پانچواں حصہ بھی تمہارے ہی واسطے ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn Said from Amr ibn Shuayb that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came back from Hunayn heading for al-Jiirrana, the people crowded around so much to question him that his she-camel backed into a tree, which became entangled in his cloak and pulled it off his back. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Return my cloak to me. Are you afraid that I will not distribute among you what Allah has given you as spoils. By He in whose hand my self is! Had Allah given you spoils equal to the number of acacia trees on the plain of Tihama, I would have distributed it among you. You will not find me to be miserly, cowardly, or a liar." Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, got down and stood among the people, and said, "Hand over even the needle and thread, for stealing from the spoils is disgrace, fire, ignominy on the Day of Rising for people who do it." Then he took a bit of camel fluff or something from the ground and said, "By He in whose hand my self is! What Allah has made spoils for you is not mine - even the like of this! - except for the tax of one fifth, and the tax of one fifth is returned to you."

895Mauwatta Imam Malik

غنیمت کے مال میں چرانے کا بیان

عَنْ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُمْ ذَکَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِکَ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ صَاحِبَکُمْ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِينَ دِرْهَمَيْنِ

زید بن خالد جہنی نے کہا ایک شخص مرگیا حنین کی لڑائی میں تو بیان کیا گیا یہ رسول اللہ ﷺ سے؛ آپ ﷺ نے فرمایا نماز پڑھ لو اپنے ساتھی پر، لوگوں کے چہرے زرد ہوگئے، تب آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے مال غنیمت میں چوری کی تھی، زید نے کہا ہم نے اس شخص کا اسباب کھولا تو چند منکے یہودیوں کے پائے جو دو درہم کے مال کے برابر تھے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Yahya ibn Habban from Ibn Abi Amra that Zayd ibn Khalid al-Juhani said, "A man died on the day of Hunayn, and they mentioned him to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace." Zayd claimed that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "You pray over your companion." (i.e. he would not pray himself). The peoples faces dropped at that. Zayd claimed that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Your companion stole from the spoils taken in the way of Allah." Zayd said, "So we opened up his baggage and found some Jews beads worth about two dirhams."

896Mauwatta Imam Malik

غنیمت کے مال میں چرانے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْکِنَانِيِّ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی النَّاسَ فِي قَبَائِلِهِمْ يَدْعُو لَهُمْ وَأَنَّهُ تَرَکَ قَبِيلَةً مِنْ الْقَبَائِلِ قَالَ وَإِنَّ الْقَبِيلَةَ وَجَدُوا فِي بَرْدَعَةِ رَجُلٍ مِنْهُمْ عِقْدَ جَزْعٍ غُلُولًا فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَبَّرَ عَلَيْهِمْ کَمَا يُکَبِّرُ عَلَی الْمَيِّتِ

عبداللہ بن مغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے لوگوں کی جماعتوں پر تو دعا کی سب جماعتوں کے واسطے مگر ایک جماعت کے واسطے دعا نہ کی کیونکہ اس جماعت میں ایک شخص تھا جس کے بچھونے کے نیچے سے ایک کنٹھا چوری کا نکلا تھا جب رسول اللہ ﷺ اس جماعت پر آئے تو آپ نے تکبیر کہی جیسے جنازے پر کہتے ہیں۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abdullah ibn al-Mughira ibn Abi Burda al-Kinani that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to the people in their tribes and made dua for them, but left out one of the tribes. Abdullah related, "The tribe found an onyx necklace in the saddle-bags of one of their men. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to them, and then did the takbir over them as one does the takbir over the dead."

897Mauwatta Imam Malik

غنیمت کے مال میں چرانے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا وَرِقًا إِلَّا الْأَمْوَالَ الثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ قَالَ فَأَهْدَی رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی وَادِي الْقُرَی حَتَّی إِذَا کُنَّا بِوَادِي الْقُرَی بَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ ذَلِکَ جَائَ رَجُلٌ بِشِرَاکٍ أَوْ شِرَاکَيْنِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِرَاکٌ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نکلے ہم ساتھ رسول اللہ ﷺ کے، خبیر کے سال تو غنیمت میں سونا اور چاندی حاصل نہیں کیا بلکہ کپڑے اور اسباب ملے اور رفاعہ بن زید نے ایک غلام کالا ہدیہ دیا رسول اللہ ﷺ کو جس کا نام مدعم تھا، تو چلے رسول اللہ ﷺ وادی القری کی طرف تو جب پہنچے ہم وادی القری میں تو مدعم اتنے میں ایک تیر بےنشان کے آلگا اور وہ مرگیا، لوگوں نے کہا مبارک ہو جنت کی اس کے واسطے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز ایسا نہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ جو کمبل اس نے حنین کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے قبل تقسیم لیا تھا، آگ ہو کر اس پر جل رہا ہے۔ جب لوگوں نے یہ سنا ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ تسمہ یا دو تسمے آگ کے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Thawr ibn Zayd ad-Dili from Abul-Ghayth Salim, the mawla of ibn Muti that Abu Hurayra said, "We went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, in the yearof Khaybar. We did not capture any gold or silver except for personal effects, clothes, and baggage. Rifaa ibn Zayd presented a black slave boy to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, whose name was Midam. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, made for Wadil-Qura, and when he arrived there, Midam was unsaddling the camel of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, when a stray arrow struck and killed him. The people said, Good luck to him! The Garden! The Messenger of Allah ﷺ said, No! By He in whose hand my self is! The cloak which he took from the spoils on the Day of Khaybar before they were distributed will blaze with fire on him. When the people heard that, a man brought a sandal-strap or two sandal-straps to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, A sandal-strap or two sandal-straps of fire! "

898Mauwatta Imam Malik

غنیمت کے مال میں چرانے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ مَا ظَهَرَ الْغُلُولُ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا أُلْقِيَ فِي قُلُوبِهِمْ الرُّعْبُ وَلَا فَشَا الزِّنَا فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا کَثُرَ فِيهِمْ الْمَوْتُ وَلَا نَقَصَ قَوْمٌ الْمِکْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا قُطِعَ عَنْهُمْ الرِّزْقُ وَلَا حَکَمَ قَوْمٌ بِغَيْرِ الْحَقِّ إِلَّا فَشَا فِيهِمْ الدَّمُ وَلَا خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَهْدِ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ الْعَدُوَّ

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جو قوم غنیمت کے مال میں چوری کرتی ہے ان کے دل بودے ہوجاتے ہیں اور جس قوم میں زنا زیادہ ہوجاتا ہے ان میں موت بھی بہت زیادہ ہوجاتی ہے اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے ان کی روزی بند ہوجاتی ہے اور جو قوم ناحق فیصلہ کرتی ہے ان میں خون زیادہ ہوجاتا ہے اور جو قوم عہد توڑتی ہے ان پر دشمن غالب ہوجاتا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he had heard that Abdullah ibn Abbas said, "Stealing from the spoils does not appear in a people but that terror is cast into their hearts. Fornication does not spread in a people but that there is much death among them. A people do not lessen the measure and weight but that provision is cut off from them. A people do not judge without right but that blood spreads among them. A people do not betray the pledge but that Allah gives their enemies power over them."

899Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ فَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثَلَاثًا أَشْهَدُ بِاللَّهِ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے چاہی یہ بات کہ اللہ کی راہ میں لڑوں پھر قتل کیا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ ابوہریرہ ؓ کہتے تھے؛ اس بات کی میں تین بار گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے ایسا ہی فرمایا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "By He in whose hand my self is! I would like to fight in the way of Allah and be killed, then be brought to life again so I could be killed, and then be brought to life again so I could be killed." Abu Hurayra said three times, "I testify to it by Allah!"

900Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُقَاتِلُ فَيُسْتَشْهَدُ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ ہنسے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دو شخصوں پر کہ ایک دوسرے کا قاتل ہوگا اور دونوں جنت میں جائیں گے ایک شخص نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور مارا گیا بعد اس کے مارنے والے پر اللہ نے رحم کیا اور وہ مسلمان ہوا اور جہاد کیا اور شہید ہوا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah laughs at two men. One of them kills the other, but each of them will enter the Garden: one fights in the way of Allah and is killed, then Allah turns to the killer, so he fights (in the way of Allah) and also becomes a martyr."

901Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُکْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُکْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْکِ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے نہیں زخمی ہوگا کوئی شخص اللہ کی راہ میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو زخمی ہوتا ہے اس کے راستے میں، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہوگا جس کا رنگ بھی خون جیسا ہوگا اور خوشبو مشک جیسی ہوگی۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "By He in whose hand my self is! None of you is wounded in the way of Allah - and Allah knows best who is wounded in HisWay, but that when the Day of Rising comes, blood will gush forth from his wound. It will be the colour of blood, but its scent will be that of musk."

902Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَتْلِي بِيَدِ رَجُلٍ صَلَّی لَکَ سَجْدَةً وَاحِدَةً يُحَاجُّنِي بِهَا عِنْدَکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے تھے اے پروردگار! میرا قاتل ایسے شخص کو نہ بنانا جس نے تجھے ایک سجدہ بھی کیا ہو تاکہ اس سجدہ کی وجہ سے قیامت کے دن تیرے سامنے مجھ سے جھگڑے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Umar ibn al-Khattab used to say, "O Allah! Do not let me be slain by the hand of a man who has prayed a single prostration to You with which he will dispute with me before You on the Day of Rising!"

903Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُکَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ قُلْتَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ کَذَلِکَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ

ابوقتادہ انصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر میں قتل کیا جاؤں اللہ کی راہ میں جس حال میں کہ میں صبر کرنے والا ہوں مخلص ہوں منہ سامنے رکھنے والا ہوں نہ پیٹھ موڑنے والا ہوں، کیا بخش دے گا اللہ گناہ میرے؟ فرمایا آپ ﷺ نے ہاں، جب وہ شخص واپس لوٹا، آپ ﷺ نے اس کو بلایا یا بلانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا کہا تو نے؟ اس نے اپنی بات کو دہرادیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں مگر قرض، ایسا ہی کہا مجھ سے جبرائیل نے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Said al-Maqburi from Abdullah ibn Abi Qatada that his father had said that a man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, "O Messenger of Allah! ﷺ If I am killed in the way of Allah, expectant for reward, sincere, advancing, and not retreating, will Allah pardon my faults?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes." When the man turned away, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, called him - or commanded him and he was called to him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "What did you say?" He repeated his words to him, and the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Yes, except for the debt. Jibril said that to me."

904Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِشُهَدَائِ أُحُدٍ هَؤُلَائِ أَشْهَدُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ أَلَسْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِإِخْوَانِهِمْ أَسْلَمْنَا کَمَا أَسْلَمُوا وَجَاهَدْنَا کَمَا جَاهَدُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَی وَلَکِنْ لَا أَدْرِي مَا تُحْدِثُونَ بَعْدِي فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ ثُمَّ بَکَی ثُمَّ قَالَ أَئِنَّا لَکَائِنُونَ بَعْدَکَ

ابو النصر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد کے شہیدوں کے لئے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کا میں گواہ ہوں حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں مسلمان ہوئے ہم جیسے وہ مسلمان ہوئے اور جہاد کیا ہم نے جیسے انہوں نے جہاد کیا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں مگر مجھے معلوم نہیں کہ بعد میرے کیا کرو گے تو ابوبکر رونے لگے اور فرمایا کہ ہم زندہ رہیں گے بعد آپ ﷺ کے۔

Yahya related to me from Malik from Abun-Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said over the martyrs of Uhud, "I testify for them." Abu Bakr (RA) as-Siddiq said, "Messenger of Allah! Are we not their brothers? We entered Islam as they entered Islam and we did jihad as they did jihad." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes, but I do not know what you will do after me." Abu Bakr (RA) wept profusely and said, "Are we really going to out-live you!"

905Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ مَا قُلْتَ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مِثْلَ لِلْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ بُقْعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَکُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور قبر کھد رہی تھی، مدینہ میں ایک شخص قبر کو دیکھ کر بولا کیا بری جگہ ہے مسلمان کی! آپ ﷺ نے فرمایا بری بات کہی تو نے، وہ شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ میرا یہ مطلب نہ تھا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا اس سے بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے برابر کوئی چیز نہیں مگر ساری زمین میں کوئی مقام ایسا نہیں کہ میں اپنی قبر وہاں پسند کرتا ہوں مدینہ سے تین بار آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was sitting by a grave which was being dug at Madina. A man looked into the grave and said, An awful bed for the mumin. The Messenger of Allah, may Allah blesshim and grant him peace, said, Evil? What you have said is absolutely wrong. The man said, I didnt mean that, Messenger of Allah. I meant being killed in the way of Allah. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Being killed in the way of Allah has no like! There is no place on the earth which I would prefer my grave to be than here (meaning Madina). He repeated it three times. "

906Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ شَهَادَةً فِي سَبِيلِکَ وَوَفَاةً بِبَلَدِ رَسُولِکَ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے اے پروردگار میں چاہتا ہوں کہ شہید ہوں تیری راہ میں اور مروں تیرے رسول کے شہر میں

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Umar ibn al-Khattab used to say, "O Allah! I ask you for martyrdom in Your way and death in the city of Your Messenger!"

907Mauwatta Imam Malik

شہادت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ کَرَمُ الْمُؤْمِنِ تَقْوَاهُ وَدِينُهُ حَسَبُهُ وَمُرُوئَتُهُ خُلُقُهُ وَالْجُرْأَةُ وَالْجُبْنُ غَرَائِزُ يَضَعُهَا اللَّهُ حَيْثُ شَائَ فَالْجَبَانُ يَفِرُّ عَنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَالْجَرِيئُ يُقَاتِلُ عَمَّا لَا يَئُوبُ بِهِ إِلَی رَحْلِهِ وَالْقَتْلُ حَتْفٌ مِنْ الْحُتُوفِ وَالشَّهِيدُ مَنْ احْتَسَبَ نَفْسَهُ عَلَی اللَّهِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے؛ عزت مومن کے تقوی میں ہے اور دین اس کی شرافت ہے اور مروت اس کا خلق ہے اور بہادری اور نامردی دونوں خلقی صفتیں ہیں جس شخص میں اللہ چاہتا ہے ان صفتوں کو رکھتا ہے تو نامرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بہادر اس شخص سے لڑتا ہے جس کو جانتا ہے کہ گھر تک نہ جانے دے گا اور قتل ایک موت ہے موتوں میں سے اور شہید وہ ہے جو اپنی جان خوشی سے اللہ کے سپرد کر دے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab said, "The nobility of the mumin is his taqwa. His deen is his noble descent. His manliness is his good character. Boldness and cowardice are but instincts which Allah places wherever He wills. The coward shrinks from defending even his father and mother, and the bold one fights for the sake of the combat not for the spoils. Being slain is but one way of meeting death, and the martyr is the one who gives himself, expectant of reward from Allah."

908Mauwatta Imam Malik

شہید کے غسل دینے کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غُسِّلَ وَکُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ وَکَانَ شَهِيدًا يَرْحَمُهُ اللَّهُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر غسل دئے گئے اور کفن پہنائے گئے اور نماز جنازہ ان پر پڑھی گئی حالانکہ وہ شہید تھے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab was washed and shrouded and prayed over, yet he was a martyr, may Allah have mercy on him .Yahya related to me from Malik that he had heard the people of knowledge say that martyrs in the way of Allah were not washed, nor were any of them prayed over. They were buried in the garments in which they were slain. Malik said, "That is the sunna for someone who is killed on the battleground and is not reached until he is already dead. Someone who is carried off and lives for as long as Allah wills after it, is washed and prayed over as was Umar ibn al-Khattab."

909Mauwatta Imam Malik

کونسی بات اللہ کے راستے میں بری ہے

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَحْمِلُ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ عَلَی أَرْبَعِينَ أَلْفِ بَعِيرٍ يَحْمِلُ الرَّجُلَ إِلَی الشَّامِ عَلَی بَعِيرٍ وَيَحْمِلُ الرَّجُلَيْنِ إِلَی الْعِرَاقِ عَلَی بَعِيرٍ فَجَائَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ احْمِلْنِي وَسُحَيْمًا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَشَدْتُکَ اللَّهَ أَسُحَيْمٌ زِقٌّ قَالَ لَهُ نَعَمْ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک برس میں چالیس ہزار اونٹ بھیجتے تھے شام کے جانے والوں کو فی آدمی ایک ایک اونٹ دیتے اور عراق کے جانے والوں کو دو آدمیوں میں ایک اونٹ دیتے تھے ایک شخص عراق کا رہنے والا آیا اور حضرت عمر سے بولا کہ مجھ کو اور سحیم کو ایک اونٹ دیجئے حضرت عمر نے فرمایا میں تجھ کو دیتا ہوں اللہ کی قسم سے تیری مراد کد ہے وہ بولا ہاں۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab in one year gave 40,00O camels as mounts. Sometimes he would give one man a camel to himself. Sometimes he would give one camel between two men to take them to Iraq. A man from Iraq came to him and said, "Give Suhaym and I a mount.Umar ibn al-Khattab said to him,"l demand from you, by Allah!, is Suhaym a water skin?" He said, "Yes."

910Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَی قُبَائٍ يَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي فِي رَأْسِهِ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ يَشُکُّ إِسْحَقُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِکُکَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ کَمَا قَالَ فِي الْأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَرَکِبَتْ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنْ الْبَحْرِ فَهَلَکَتْ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد قبا کو جاتے تو ام حرام بنت ملحان کے گھر میں آپ تشریف لے جاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتیں اور وہ اس زمانے میں عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک روز آپ ان کے گھر میں گئے انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ کے سر کے بال دیکھنے لگیں آپ ﷺ سو گئے پھر آپ ﷺ جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا آپ ﷺ کیوں ہنستے ہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ میرے امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سوار ہو رہے تھے بڑے دریا میں جیسے بادشاہ تخت پر سوار ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ دعا کیجئے کہ اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ ﷺ نے دعا کی پھر آپ ﷺ سر رکھ کے سو گئے پھر جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کیوں ہنستے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ میری امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کو جاتے تھے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ آپ ﷺ دعا کیجئے اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ ﷺ نے فرمایا تو پہلے لوگوں میں سے ہوچکی ام حرام معاویہ کے ساتھ دریا میں سوار ہوئیں جب دریا سے نکلیں تو جانور پر سے گر کر مرگئیں۔

Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik had said that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went to Quba, he visited Umm Haram bint Milhan and she fed him. Umm Haram was the wife of Ubadah ibn as-Samit. One day the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had called on her and she had fed him, and sat down to delouse his hair. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had dozed and woke up smiling. Umm Haram said, "What is making you smile, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "Some of my community were presented to me, raiding in the way of Allah. They were riding in the middle of the sea, kings on thrones, or like kings on thrones." (Ishaq wasnt sure). She said, "O Messenger of Allah! ﷺ Ask Allah to put me among them!" So he had made a dua for her, and put his head down and slept. Then he had woken up smiling, and she said to him, "Messenger of Allah, why are you smiling?" He said, "Some of my community were presented to me, raiding in the way of Allah. They were kings on thrones or like kings on thrones," as he had said in the first one. She said, "O Messenger of Allah! ﷺ Ask Allah to put me among them!" He said, "You are among the first." Ishaq added, "She travelled on the sea in the time of Muawiya, and when she landed, she was thrown from her mount and killed."

911Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ عَنْ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَکِنِّي لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَلَا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ فَيَخْرُجُونَ وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي فَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں کسی لشکر کا جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا مگر نہ پاس اس قدر سواریاں ہیں کہ سب لوگوں کو ان پر سوار کروں نہ ان کے پاس اتنی سواریاں ہیں کہ وہ سب سوار ہو کر نکلیں اگر میں اکیلا جاؤں تو ان کو میرا چھوڑنا شاق ہوتا ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں پھر مارا جاؤں

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abu Salih as-Samman from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Had I not been concerned for my community, I would have liked never to stay behind a raiding party going out in the way of Allah. However, I do not find the means to carry them to it, nor do they find anything on which to ride out and it is grievous for them that they should stay behind me. I would like to fight in the way of Allah and be killed, then brought to life so I could be killed and then brought to life so I could be killed."