کتاب الجہاد کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 22 · 51 hadiths · Page 3 of 3

912Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَطُوفُ بَيْنَ الْقَتْلَی فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ بَعَثَنِي إِلَيْکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآتِيَهُ بِخَبَرِکَ قَالَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِ فَاقْرَأْهُ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ طُعِنْتُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ طَعْنَةً وَأَنِّي قَدْ أُنْفِذَتْ مَقَاتِلِي وَأَخْبِرْ قَوْمَکَ أَنَّهُ لَا عُذْرَ لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ إِنْ قُتِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَاحِدٌ مِنْهُمْ حَيٌّ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ جنگ احد کے روز آپ ﷺ نے فرمایا کون خبر لا کردیتا ہے مجھ کو سعد بن ربیع انصاری کی ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں دوں گا وہ جا کر لاشوں میں ڈھونڈھنے لگا سعد نے کہا کہ کیا کام ہے؟ اس شخص نے کہا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے تمہاری خبر لینے کو بھیجا ہے کہا کہ تم جاؤ رسول اللہ ﷺ کے پاس اور میرا سلام عرض کرو اور کہو کہ مجھے بارہ زخم برچھوں کے لگے ہیں اور میرے زخم کاری ہیں اپنی قوم سے کہ اللہ جل جلالہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر قبول نہ ہوگا اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہوئے اور تم میں سے ایک بھی زندہ رہا۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "On the Day of Uhud, The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Who will bring me news of Sad ibn al-Rabi al-Ansari? a man said, Me, Messenger of Allah! ﷺ So the man went around among the slain, and Sad ibn al-Rabi said to him, What are you doing? The man said to him, The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent me to bring him news of you. He said, Go to him, and give him my greetings, and tell him that I have been stabbed twelve times, and am mortally wounded. Tell your people that they will have no excuse with Allah if the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, is slain while one of them is still alive. "

913Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغَّبَ فِي الْجِهَادِ وَذَکَرَ الْجَنَّةَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْکُلُ تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ فَقَالَ إِنِّي لَحَرِيصٌ عَلَی الدُّنْيَا إِنْ جَلَسْتُ حَتَّی أَفْرُغَ مِنْهُنَّ فَرَمَی مَا فِي يَدِهِ فَحَمَلَ بِسَيْفِهِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رغبیت دلائی جہاد میں اور بیان کیا جنت کا حال اتنے میں ایک شخص انصاری کھجوریں ہاتھ میں لئے ہوئے کھا رہا تھا وہ بولا مجھے بڑی حرص ہے دنیا کی اگر میں بیٹھا رہوں اس انتظار میں کہ کھجوریں کھالوں پھر کھجوریں پھینک دیں اور تلوار اٹھا کر لڑائی شروع کی اور شہید ہوا۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stimulated people for jihad and mentioned the Garden. One of the Ansar was eating some dates in his hand, and said, "Am I so desirous of this world that I should sit until I finish them?" He threw aside what was in his hand and took his sword, and fought until he was slain .

914Mauwatta Imam Malik

جہاد کی فضلیت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَغَزْوٌ تُنْفَقُ فِيهِ الْکَرِيمَةُ وَيُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيکُ وَيُطَاعُ فِيهِ ذُو الْأَمْرِ وَيُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِکَ الْغَزْوُ خَيْرٌ کُلُّهُ وَغَزْوٌ لَا تُنْفَقُ فِيهِ الْکَرِيمَةُ وَلَا يُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيکُ وَلَا يُطَاعُ فِيهِ ذُو الْأَمْرِ وَلَا يُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِکَ الْغَزْوُ لَا يَرْجِعُ صَاحِبُهُ کَفَافًا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل نے کہا جہاد دو قسم کے ہیں ایک وہ جس میں عمدہ سے عمدہ مال صرف کیا جاتا ہے اور رفیق کے ساتھ محبت کی جاتی ہے اور افسر کی اطاعت کی جاتی ہے اور فسار سے پرہیز رہتا ہے یہ جہاد سب کا سب ثواب ہے اور ایک وہ جہاد ہے جس میں اچھا مال صرف نہیں کیا جاتا اور رفیق سے محبت نہیں ہوتی اور افسر کی نافرمانی ہوتی ہے اور فسار سے پرہیز نہیں ہوتا یہ جہاد ایسا ہے اس میں جو کوئی جائے ثواب تو کیا خالی لوٹ کر آنا مشکل ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Muadh ibn Jabal said, "There are two military expeditions. There is one military expedition in which valuables are spent, the contributor is willing, the authorities are obeyed, and corruption is avoided. That military expedition is all good. There is a military expedition in which valuables are not spent, the contributor is not willing, the authorities are not obeyed, and corruption is not avoided. The one who fights in that military expedition does not return with reward."

915Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری اور برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Blessing is in the forelocks of horses until the Day of Rising."

916Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنْ الْحَفْيَائِ وَکَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَی مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شرط لگائی آگے بڑھنے کی ان گھوڑوں میں جو تیار کئے گئے تھے گھوڑ دوڑ کے لئے خفیا سے ثینہ الوداع تک اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی حدی ثینہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقرر کی عبداللہ بن عمر بھی گھوڑ دوڑ میں شریک تھے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, held a race between horses which had been made lean by training, from al-Hafya to Thaniyatu-lWada. He held a race between horses which had not been made lean from the Thaniya (a mountain pass near Madina) to the mosque of the Banu Zurayq. Abdullah ibn Umar was among those who raced them .

917Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا دَخَلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبَقَ وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَکُنْ عَلَيْهِ شَيْئٌ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کہتے تھے گھوڑ دوڑ کی شرط میں کچھ قباحت نہیں ہے جب دو شخصوں کے بیچ میں ایک اور شخص آجائے اگر وہ آگے بڑھ جائے تو شرط کا روپیہ لے لے اور جب پیچھے رہ کچھ نہ دے۔

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said heard Said ibn al-Musayyab say, "There is no harm in placing stakes on horses if a third horse enters it. The winner takes the stake, and there is no fine against the loser."

918Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ وَهُوَ يَمْسَحُ وَجْهَ فَرَسِهِ بِرِدَائِهِ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنِّي عُوتِبْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْخَيْلِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو لوگوں نے دیکھا کہ اپنے گھوڑے کا منہ چادر سے صاف کر رہے ہیں لوگوں نے اس کا سبب پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ رات مجھ پر عتاب ہوا گھوڑے کی خبر نہ لینے پر۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was seen wiping the face of his horse with his cloak. He was questioned about it and said, "I was reproached in the night about horses." i.e. not taking care of them.

919Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَی خَيْبَرَ أَتَاهَا لَيْلًا وَکَانَ إِذَا أَتَی قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ حَتَّی يُصْبِحَ فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَکَاتِلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب چلے خیبر کو پہنچے وہاں رات کو اور آپ ﷺ جب کسی قوم پر رات کو پہنچتے تو جنگ شروع نہ کرتے یہاں تک کہ صبح ہو تو خیبر کے یہودی اپنی کدالیں اور زنبلیں لے کر نکلے جب انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے قسم ہے اللہ کی محمد ہیں اور پورا لشکر ان کے ساتھ ہے تو فرمایا آپ ﷺ نے اللہ اکبر خراب ہو خیبر انا اذانزلنا بساحہ قوم فساء صباح المنذرین۔

Yahya related to me from Malik from Humayd at-Tawil from Anas ibn Malik that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went out to Khaybar, he arrived there at night, and when he came upon a people by night, he did not attack until morning. In the morning, the jews came out with their spades and baskets. When they saw him, they said, " Muhammad ﷺ ! By Allah, Muhammad and his army!" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Allah is greater! Khaybar is destroyed. When we come to a people, it is an evil morning for those who have been warned . "

920Mauwatta Imam Malik

گھوڑوں کا اور گھوڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَی مَنْ يُدْعَی مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَی أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ کُلِّهَا قَالَ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْهُمْ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایک جوڑا صرف کرے اللہ کی راہ میں تو قیامت کے روز جنت کے دروازے پر پکارا جائے گا اے بندے اللہ کے! یہ خیر ہے تو جو شخص نمازی ہوگا وہ نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص جہادی ہوگا وہ شخص جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص صدقہ دینے والا ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا جو شخص روزے بہت رکھے گا اور باب الریان سے بلایا جائے گا حضرت ابوبکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جو شخص کسی ایک دروازے سے بلایا جائے اس کو کچھ حزن نہ ہوگا مگر کوئی ایسا بھی جو سب دروازوں سے بلایا جائے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہوگے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Humayd ibn Abd ar-Rahman ibn Awf from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever hands over two of any type of property in the way of Allah is called to the Garden, with the words O slave of Allah! This is good! Whoever is among the people of prayer, is called from the gate of prayer. Whoever is among the people of jihad is called from the gate of jihad. Whoever is among the people of sadaqa, is called from the gate of sadaqa. Whoever is among the people of fasting, is called from the gate of the well-watered. (Bab ar-Rayyan)." Abu Bakr (RA) as-Siddiq said, "Messenger of Allah! Is it absolutely necessary that one be called from one of these gates? Can someone be called from all of these gates?" He said, "Yes, and I hope you are among them ." 21.2O Acquisition of the Land of Those who Surrender from the People of Dhimma

921Mauwatta Imam Malik

ذمیوں میں سے جو کوئی مسلمان ہوجائے اس کی زمین کا بیان دو آدمیوں یا زیادہ کو ایک قبر میں دفن کرنے کا بیان اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وعدے کا بعد آپ کی وفات کے ابوبکر کی وفا کرنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّيْنِ ثُمَّ السَّلَمِيَّيْنِ کَانَا قَدْ حَفَرَ السَّيْلُ قَبْرَهُمَا وَکَانَ قَبْرُهُمَا مِمَّا يَلِي السَّيْلَ وَکَانَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ وَهُمَا مِمَّنْ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فَحُفِرَ عَنْهُمَا لِيُغَيَّرَا مِنْ مَکَانِهِمَا فَوُجِدَا لَمْ يَتَغَيَّرَا کَأَنَّهُمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ وَکَانَ أَحَدُهُمَا قَدْ جُرِحَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَی جُرْحِهِ فَدُفِنَ وَهُوَ کَذَلِکَ فَأُمِيطَتْ يَدُهُ عَنْ جُرْحِهِ ثُمَّ أُرْسِلَتْ فَرَجَعَتْ کَمَا کَانَتْ وَکَانَ بَيْنَ أُحُدٍ وَبَيْنَ يَوْمَ حُفِرَ عَنْهُمَا سِتٌّ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً

عبدالرحمن بن ابی صعصہ سے روایت ہے کہ عمرو بن الجموع اور عبدالرحمن بن عمرو انصار سلمی جو شہید ہوئے تھے جنگ احد میں ان کی قبر کو پانی کے بہاؤ نے اکھیڑ دیا تھا اور قبر ان کی بہاؤ کے نزدیک تھی اور دونوں ایک ہی قبر میں تھے تو قبر کھودی گئی تو لاشیں ویسی ہی تہیں جیسے وہ شہید ہوئے تھے گویا کل مرے ہیں ان میں سے ایک شخص کو جب زخم لگا تھا تو اس نے ہاتھ اپنے زخم پر رکھ لیا تھا جب ان کو دفن کرنے لگے تو ہاتھ وہاں سے ہٹایا مگر ہاتھ پر وہیں آلگا جب ان کی لاشیں کھو دیں تو جنگ احد کو چھیالیس برس گزر چکے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn Abi Sasaca that he had heard that Amr ibn al-Jamuh al-Ansari and Abdullah ibn Umar al-Ansari, both of the tribe of Banu Salami, had their grave uncovered by a flood. Their grave was part of what was left after the flood. They were in the same grave, and they were among those martyred at Uhud. They were dug up so that they might be moved. They were found unchanged. It was as if they had died only the day before. One of them had been wounded, and he had put his hand over his wound and had been buried like that. His hand was pulled away from his wound and released, and it returned to where it had been. It was forty-six years between Uhud and the day they were dug up. Malik said, "There is no harm in burying two or three men in the same grave due to necessity. The oldest one is put next to the qibla."

922Mauwatta Imam Malik

ذمیوں میں سے جو کوئی مسلمان ہوجائے اس کی زمین کا بیان دو آدمیوں یا زیادہ کو ایک قبر میں دفن کرنے کا بیان اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وعدے کا بعد آپ کی وفات کے ابوبکر کی وفا کرنے کا بیان

عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ مَالٌ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَ مَنْ کَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأْيٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي فَجَائَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَحَفَنَ لَهُ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے پاس روپیہ آیا بحرین سے آپ ﷺ نے منادی کرائی کہ جس سے رسول اللہ ﷺ نے کچھ دینے کا وعدہ کیا ہو وہ ہمارے پاس آئے جابر بن عبداللہ حضرت ابوبکر نے ان کو تین لپ بھر کردیئے۔

Yahya related to me from Malik that Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman said, "Property was sent to Abu Bakr (RA) as-Siddiq from Bahrayn. He said, If someone had a promise or a pledge with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, let him come to me. So Jabir ibn Abdullah came to him, and he gave him three times as much of it as would fill both hands.