Mauwatta Imam Malik 321

کتاب قصر الصلوة فی السفر

321Mauwatta Imam Malik

چاشت کی نماز کا بیان جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں وقت اسکا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَی قَطُّ وَإِنِّي لَأَسْتَحِبُّهَا وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی بھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو اور رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو دوست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہوجائے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I never once saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, doing the voluntary prayer of duha, but I myself do it. Sometimes the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, would refrain from a practice that he loved to do, fearing that people would do the same and it would become fard for them ."