کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی فضلیت کا بیان بیٹھ کر پڑھنے سے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ نَالَنَا وَبَائٌ مِنْ وَعْکِهَا شَدِيدٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ فِي سُبْحَتِهِمْ قُعُودًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ مِثْلُ نِصْفِ صَلَاةِ الْقَائِمِ
عبداللہ بن عمر العاص سے روایت ہے کہ کہ جب آئے ہم مدینہ میں تو بخار وبائی بہت سخت ہوگیا ہم کو پس آئے رسول اللہ ﷺ لوگوں کے پاس اور وہ نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھ رہے تھے سو فرمایا آپ ﷺ نے جو بیٹھ کر پڑھے گا اس کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کا آدھا ثواب ملے گا
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abdullah ibn Amr ibn al As said, "When we arrived at Madina we were struck down by a severe epidemic which debilitated us greatly. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came out to the people while they were praying nawafil prayers sitting down. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The prayer of the one sitting is equal to only half the prayer of the one standing. "
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّی کَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَکَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّی تَکُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا
حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو نفل بیٹھ کر پڑھتے ہوئے کبھی مگر وفات سے ایک سال پہلے آپ ﷺ نفل بیٹھ کر پڑھتے اور سورت کو اس قدر خوبی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ بڑی سے بڑی ہوجاتی۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from as-Saib ibn Yazid from al Muttalib ibn Abi Wadaa as-Sahmi that Hafsa, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I never saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, praying nawafil sitting, until a year before his death, when he began to pray them sitting. He would recite the sura with a measured slowness so that it would seem to be longer than other suras which were actually longer than it."
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّی أَسَنَّ فَکَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا حَتَّی إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ قَامَ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً ثُمَّ رَکَعَ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا رسول اللہ ﷺ کو تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے مگر جب سن آپ ﷺ کا زیادہ ہوگیا تو بیٹھ کر پڑھنے لگے پھر بھی تیس یا چالیس آیتیں رکوع سے پہلے کھڑے ہو کر پڑھ لیتے پھر رکوع کرتے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, told him that she had never seen the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, doing night prayers sitting down until he was getting on in years. He would recite sitting down until when he wanted to go into ruku, he would stand up and recite about thirty or forty ayats and then go into ruku.
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَائَتِهِ قَدْرُ مَا يَکُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّکْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِکَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَا يُصَلِّيَانِ النَّافِلَةَ وَهُمَا مُحْتَبِيَانِ
عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو پڑھا کرتے کلام اللہ کو بیٹھے بیٹھے جب تیس یا چالیس آیتیں باقی رہتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے اور دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے۔ امام مالک کو پہنچا عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب سے کہ وہ نفل نماز پڑھتے بیٹھ کر دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے اور سرین زمین سے لگا کر۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Yazid al-Madani and from Abun Nadr from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray sitting. He would recite sitting, and then, when about thirty or forty ayats of what he was reciting remained, he would stand up and recite standing and then go into ruku and sajda. He would do the same in the second raka.
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَی عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَکْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ثُمَّ قَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو یونس سے روایت ہے کہ حکم کیا مجھ کو ام المومنین حضرت عائشہ نے کلام کے لکھنے کا اور کہا کہ جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ: 238) تو مجھ کو خبر کردینا پس جب پہنچا میں اس آیت کو تو خبر دے دی میں نے ان کو، کہا انہوں نے یوں لکھو حافظو علی الصلوت والصلوہ الوسطی والصلوہ العصر یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور وسطی نماز پر اور عصر کی نماز پر کہا عائشہ سے کہ میں نے سنا اس کو رسول اللہ ﷺ سے۔
Yahya related to me from Malik that he had heard that Urwa ibn az-Zubayr and Said ibn al-Musayyab used to pray voluntary prayers sitting.
عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَکْتُبُ مُصْحَفًا لِحَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ کلام اللہ لکھتا تھا حضرت ام المومنین حفصہ کے واسطے تو کہا انہوں نے جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ: 238) تو مجھے اطلاع کرنا پس جب پہنچا اس آیت پر خبر کی میں نے ان کو تو لکھوایا انہوں نے اس طرح حافظوا علی الصلوات والصلوہ الوسطی وصلوہ العصر وقومو اللہ قانتین یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور بیچ والی نماز پر اور عصر کی نماز پر اور کھڑے رہو اللہ کے سامنے چپ اور خاموش۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from al-Qaqa ibn Hakim that Abu Yunus, the mawla of Aisha, umm al-muminin said, Aisha ordered me to write out a Quran for her. She said, When you reach this ayat, let me know, "Guard the prayers carefully and the middle prayer and stand obedient to Allah." When I reached it I told her, and she dictated to me, Guard the prayers carefully and the middle prayer and the asr prayer and stand obedient to Allah. Aisha said, I heard it from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. "
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ ابْنِ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ الصَّلَاةُ الْوُسْطَی صَلَاةُ الظُّهْرِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَا يَقُولَانِ الصَّلَاةُ الْوُسْطَی صَلَاةُ الصُّبْحِ قَالَ مَالِک وَقَوْلُ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِکَ
عبدالرحمن بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا زید بن ثابت ؓ سے کہتے تھے صلوہ الوسطی ظہر کی نماز ہے۔ امام مالک کو پہنچا حضرت علی بن ابی طالب اور عبدا اللہ بن عباس سے وہ دونوں صاحب فرماتے تھے کہ صلوہ وسطی صبح کی نماز ہے۔
Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn that Ibn Yarbu al-Makhzumi said, "I heard Zayd ibn Thabit say, The middle prayer is the prayer of dhuhr. "
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَی عَاتِقَيْهِ
عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹتے تھے آپ ﷺ اس کو اور دونوں کنارے اس کے دونوں کندھوں پر تھے حضرت ام سلمہ کے گھر میں
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Umar ibn Abi Salama saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, praying in one garment in the house of Umm Salama. He was completely covered by it, and had put both ends over his shoulders.
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ لِکُلِّکُمْ ثَوْبَانِ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے کہ نماز درست ہے ایک کپڑے میں فرمایا آپ ﷺ نے کیا تم میں سے ہر کسی کو دو کپڑے ملتے ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab from Abu Hurayra that some one asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace about praying in one garment. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do you all have two garments?"
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَلْ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ هَلْ تَفْعَلُ أَنْتَ ذَلِکَ فَقَالَ نَعَمْ إِنِّي لَأُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَإِنَّ ثِيَابِي لَعَلَی الْمِشْجَبِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَانَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ پوچھے گئے ابوہریرہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے سے کہا درست ہے پس کہا گیا ان سے کیا تم بھی ایسا کرتے ہو جواب دیا ہاں میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہوں باوجود اس بات کے کہ میرے کپڑے تپائی پر رکھے ہوتے ہیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری نماز پڑھتے تھے ایک کپڑے میں۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al-Musayyab said that Abu Hurayra was asked, "May a man pray in one garment?" He said, "Yes." The man then said to him "Do you do that?" and he replied, "Yes, I pray in one garment while my clothes are on the clothes-rack."
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان-r-nعورت کی نماز فقط کرتے اور سر بندھن میں ہوجانے کا بیان
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ کَانَ يُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَجِدْ ثَوْبَيْنِ فَلْيُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِهِ فَإِنْ کَانَ الثَّوْبُ قَصِيرًا فَلْيَتَّزِرْ بِهِ بَاب الرُّخْصَةِ فِي صَلَاةِ الْمَرْأَةِ فِي الدِّرْعِ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ
ربیعہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ محمد بن عمرو بن حزم نماز پڑھتے تھے صرف کرتہ پہن کر۔ جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص نہ پائے تو نماز پڑھے ایک کپڑا لپیٹ کر اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اس کی تہ بند کرلے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور سر بندھن میں
Yahya related to me from Malik from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman that Muhammad ibn Amr ibn Hazm used to pray in a single long shirt.
عورت کی نماز فقط کرتے اور سر بندھن میں ہوجانے کا بیان
عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنْ الثِّيَابِ فَقَالَتْ تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ إِذَا غَيَّبَ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ الْخَوْلَانِيِّ وَکَانَ فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَيْمُونَةَ کَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ
ام حرام سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا حضرت ام سلمہ ؓ سے کہ عورت کس قدر کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے تو جواب دیا کہ خمار اور کرتہ میں ایسا لمبا ہو کہ اس سے پاؤں ڈھپ جائیں۔ عبیداللہ خولانی جو لے پالک تھے حضرت میمونہ ام المومنین کے ان سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور خمار یعنی سر بندھن میں اور ازار نہیں پہنے ہوتی تھیں۔
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Zayd ibn Qunfudh that his mother asked Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, "What clothes can a woman wear in prayer?" She said, "She can pray in a shift that reaches down and covers the top of her feet."
عورت کی نماز فقط کرتے اور سر بندھن میں ہوجانے کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً اسْتَفْتَتْهُ فَقَالَتْ إِنَّ الْمِنْطَقَ يَشُقُّ عَلَيَّ أَفَأُصَلِّي فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا کَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا
عروہ بن زبیر سے ایک عورت نے پوچھا کہ ازار باندھنا دشوار ہوتا ہے مجھ کو کیا نماز پڑھ لوں کرتہ اور سر بندھن میں جواب دیا عروہ نے کہ ہاں جب کرتہ خوب بڑا ہو۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that a woman asked him for a decision, saying, "Waist-wrappers are painful to me. Can I pray in a shift and head-covering?" He replied, "Yes, if the shift is long."