بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَکْرِمْهَا فَکَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ لِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَکْرِمْهَا
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابوقتادہ ؓ انصاری نے رسول اللہ ﷺ سے کہا میرے بال کندھوں تک ہیں ان میں کنگھی کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں کنگھی کر اور بالوں کی عزت کر ابوقتادہ کبھی کبھی ایک دن میں دو بار تیل ڈالتے اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ بالوں کی عزت کر۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Abu Qatada al-Ansari said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "I have a lot of hair which comes down to my shoulders, shall I comb it? The Messenger of Allah. may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes, and honour it." Sometimes Abu Qatada oiled it twice in one day because the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him. "Honour it."
بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان
عَنْ عَطَائَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ اخْرُجْ کَأَنَّهُ يَعْنِي إِصْلَاحَ شَعَرِ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُکُمْ ثَائِرَ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ شَيْطَانٌ
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص نجس بال سر اور داڑھی کے پریشان تھے آیا آپ ﷺ نے اس کو اشارہ کیا یعنی مسجد سے باہر جا اور بالوں کو درست کر کے آ وہ شخص درست کر کے پھر آیا آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ اچھا نہیں اس صورت سے کہ آئے کوئی تم میں سے پریشان سر جیسے شیطان۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Ata ibn Yasar told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was in the mosque when a man came in with dishevelled hair and beard. The Messenger of Allah. may Allah bless him and grant him peace, motioned with his hand that he should be sent out to groom his hair and beard. The man did so and then returned. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Isnt this better than that one of you should come with his head dishevelled, as if he were a shaytan?"
بالوں کے رنگنے کے بیان میں
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ قَالَ وَکَانَ جَلِيسًا لَهُمْ وَکَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ قَالَ فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ حَمَّرَهُمَا قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ هَذَا أَحْسَنُ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ فَأَقْسَمَتْ عَلَيَّ لَأَصْبُغَنَّ وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ کَانَ يَصْبُغُ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي صَبْغِ الشَّعَرِ بِالسَّوَادِ لَمْ أَسْمَعْ فِي ذَلِکَ شَيْئًا مَعْلُومًا وَغَيْرُ ذَلِکَ مِنْ الصِّبْغِ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ وَتَرْکُ الصَّبْغِ کُلِّهِ وَاسِعٌ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَی النَّاسِ فِيهِ ضِيقٌ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصْبُغْ وَلَوْ صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَرْسَلَتْ بِذَلِکَ عَائِشَةُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن اسود ان کا ہم صحبت تھا اور اس کے سر اور داڑھی کے بال سب سفید تھے ایک روز صبح کو آیا اپنے بالوں پر سرخ خضاب لگا کر تو لوگوں نے کہا یہ اچھا ہے وہ بولا میری ماں حضرت عائشہ ؓ نے کہلا بھیجا نخیلہ اپنی لونڈی کے ہاتھ قسم دے کر کہ تو اپنے بالوں پر خضاب لگا اور بیان کیا کہ ابوبکر ؓ بھی خضاب لگایا کرتے تھے۔ کہا مالک نے سیاہ خضاب میں میں نے کوئی حدیث نہیں سنی اور سوائے سیاہ کے اور کوئی رنگ بہتر ہے اور خضاب نہ کرنا بہت بہتر ہے اگر اللہ چاہے اور لوگوں پر اس بارے میں کچھ تنگی نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے خضاب نہیں لگایا اگر لگایا ہوتا تو حضرت عائشہ ؓ عبدالرحمن کے پاس یہی کہلا بھیجتیں۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that Muhammad ibn Ibrahim at-Taymi had informed him that Abu Salama ibn Abd ar-Rahman said "Abd ar-Rahman ibn al-Aswad ibn Abdal-Yaghuth used to sit with us and he had a white beard and hair. One day he came to us and he had dyed them red, and the people said to him, This is better. He said. Aisha the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, sent her slave girl Nukhayla to me yesterday. She swore that my hair would be dyed and she informed me that Abu Bakr (RA) as-Siddiq used to dye his hair. "
سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
عَنْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُرَوَّعُ فِي مَنَامِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ
خالد بن ولید نے کہا رسول اللہ ﷺ سے کہ میں ڈرتا ہوں سوتے میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پڑھ لیا کر پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے اس کے غصے اور عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور شیطانوں کے میرے پاس آنے سے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said that he had heard that Khalid ibn al-Walid said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "I have nightmares." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Say, I seek refuge with the complete words of Allah from His anger and His punishment and the evil of His slaves, and from the evil suggestions of the shayatin and from their being present (at death). " Audhu bi kalimati llahit-tammati min ghadabihi wa iqabihi wa sharri ibadihi wa min hamazati sh-shayatin wa an yahdurun.
سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَی عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ يَطْلُبُهُ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ کُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ أَفَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِذَا قُلْتَهُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُهُ وَخَرَّ لِفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَی فَقَالَ جِبْرِيلُ فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْکَرِيمِ وَبِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ اللَّاتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنْ السَّمَائِ وَشَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ
یحییٰ بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جس رات معراج ہوئی ایک دیو نظر آیا گویا اس کے ایک ہاتھ میں ایک شعلہ تھا آگ کا جب رسول اللہ ﷺ نگاہ کرتے تو اس کو دیکھتے آپ ﷺ کی طرف چلا آتا تھا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا میں آپ ﷺ کو چند کلمات سکھا دوں کہ اگر آپ ﷺ ان کو فرمائیں تو ان کا شعلہ بجھ جائے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں سکھاؤ جبرائل نے کہا کہو اعوذ بوجہ اللہ یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی منہ سے جو بڑا عزت والا ہے اور اس کے کلمات سے جو پورے ہیں جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا برائی سے اس چیز کی جو آسمان سے اترے اور جو اسمان کی طرف چڑھے اور برائی سے ان چیزوں کی جن کو پیدا کیا ہے اس نے زمین میں اور جو نکلے زمین سے اور رات دن کے فتنوں سے اور شب و روز کی آفتوں سے اور حادثوں سے مگر جو حادثہ بہتر ہے یا رحمن۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was taken on the Night Journey, he saw an evil jinn seeking him with a torch of fire. Whenever the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, turned, he saw him. Jibril said to him, Shall I teach you some words to say? When you say them, his torch will be put out and will fall from him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Yes, indeed. Jibril said, Say, I seek refuge with the Noble Face of Allah and with the complete words of Allah which neither the good person nor the corrupt can exceed, from the evil of what descends from the sky and the evil of what ascends in it, and from the evil of what is created in the earth and the evil of what comes out of it, and from the trials of the night and day, and from the visitations of the night and day, except for one that knocks with good, O Merciful!" " Audhu bi wajhillahi l-karim wa bi kalimatillahit-tammati. Allati la yujawazu hunna barra wa la fajir, min sharri ma yanzil min as-sama, wa sharri ma yaruju fiha, wa sham ma dhara fil-ard, wa sharri ma yakhruju minha, wa min fitanil-layli wan-nahar, wa min tawariqil-layli wan-nahar illa tariqan yatruq bikhayr ya Rahman!
سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ فَقَالَ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّکَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّکَ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی قبیلہ اسلم کا بولا میں رات کو نہیں سویا، آپ ﷺ نے پوچھا کیوں کس وجہ سے؟ وہ بولا مجھے بچھو نے کاٹا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو شام کے وقت یہ کہہ لیتا اعوذب کلمات اللہ التامات من شرماخلق (یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ان چیزوں کے شر سے جن کو پیدا کیا اس نے) تو بچھو تجھے کچھ ضرر نہ دیتا۔
Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that a man of the Aslam tribe said, "I did not sleep last night." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "For what reason?" He said, "A scorpion bit me." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Had you said in the evening, I seek refuge with the complete words of Allah from the evil of what He has created, it would not have happened." Audhu bi kalimatillahit-tammati min sharri ma khalaq .
سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِيمٍ أَنَّ کَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ لَوْلَا کَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا فَقِيلَ لَهُ وَمَا هُنَّ فَقَالَ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْئٌ أَعْظَمَ مِنْهُ وَبِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ وَبِأَسْمَائِ اللَّهِ الْحُسْنَی کُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ
قعقاع بن حکیم سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا اگر میں چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہودی مجھے گدھا بنا دیتے لوگوں نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں کعب نے کہا یعنی میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے منہ سے جو بڑی عظمت ولا ہے نہیں ہے کوئی چیز عظمت میں اس سے بڑھ کر اور اس اللہ کے پورے کلمات سے جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا اور اس اللہ کے تمام اسمائے حسنی سے جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا اس چیز کے شر سے جس کو اس نے بنایا پیدا کیا اور پھیلایا۔
Yahya related to me from Malik from Summayy, the mawla of Abu Bakr (RA) from al-Qaqa ibn Hakim that Kab al-Ahbar said, "Had it not been for some words which I said, the jews would have made me into a donkey." Someone asked him what they were. He said, "I seek refuge with the immense Face of Allah - there is nothing greater than it - and with the complete words of Allah which neither the good person nor the corrupt can exceed and with all the most beautiful names of Allah, what I know of them and what I do not know, from the evil of what He has created and originated and multiplied." Audhu bi wajhillahi l-adheem aladhee laysa shayun adham minh, wa bi kalimatillahit-tammati, alatee la yujawizu hunna barra wa la fajir, wa bi asmaillahil-husna kulliha ma alamtu minha wa ma lam alam, min sharri ma khalaqa wa baraa wa dharaa.
خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ لِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جل جلالہ ارشاد فرمادے گا دن قیامت کے کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو آپس میں دوستی رکھتے تھے میری بزرگی کے واسطے آج کے دن میں ان کو سائے میں رکھوں گا یہ وہ دن ہے جس دن کہیں سایہ نہیں سوائے میرے سائے کے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Mamar from Abul-Hubab Said ibn Yasar that Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Allah, the Blessed, the Exalted, will say on the Day of Rising, "Where are those who loved each other for My majesty? Today I will shade them in My shade on the day when there is no shade except My shade." "
خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ إِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّی يَعُودَ إِلَيْهِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَی ذَلِکَ وَتَفَرَّقَا وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّی لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بدفعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے دیا بائیں ہاتھ کو اس کی خبر نہیں ہوئی
Yahya related to me from Malik from Khubayb ibn Abd ar-Rahman al-Ansari from Hafs ibn Asim that either Abu Said al-Khudri or Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, There are seven whom Allah will shade in His shade on the day on which there is no shade except His shade: a just imam, a youth who grows up worshipping Allah, a man whose heart is attached to the mosque when he leaves it until he returns to it, two men who love each other in Allah and meet for that and part for that, a man who remembers Allah when he is alone and his eyes overflow with tears, a man who refuses the approaches of a noble, beautiful woman, saying "I fear Allah," and a man who gives sadaqa and conceals it so that his left hand does not know what his right hand gives. "
خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِيلَ قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَائِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَائِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ الْعَبْدَ (قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو پکارتا ہے جبرائیل کو اور یہ فرماتا ہے کہ بیشک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تو بھی اس کو دوست رکھ تو جبرائیل اس سے محبت رکھتا ہے پھر پکار دیتا ہے جبرائیل آسمان والوں میں یعنی فرشتوں میں کہ بیشک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تم بھی اس کو دوست رکھو تو آسمان والے اس سے محبت رکھتے ہیں پھر اس محبوب بندے کی زمین میں قبولیت اتاری جاتی ہے یعنی زمین کے نیک لوگ اس کو مقبول جانتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں اور جب اللہ کسی بندہ سے ناراض وغصہ ہوتا ہے۔ (تو بھی اسی طرح کرتا ہے یعنی اس کا الٹ)
Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If Allah loves a slave, he says to Jibril, I love so-and-so, so love him, so Jibril loves him and then calls out to the people of heaven, Allah loves so-and-so, so love him, and the people of heaven love him, and then acceptance is placed in the Earth for him." When Allah is angry with a slave, Malik said, "I consider that he says the like of that about His anger."
خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فَتًی شَابٌّ بَرَّاقُ الثَّنَايَا وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْئٍ أَسْنَدُوا إِلَيْهِ وَصَدَرُوا عَنْ قَوْلِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّی قَضَی صَلَاتَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّکَ لِلَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ قَالَ فَأَخَذَ بِحُبْوَةِ رِدَائِي فَجَبَذَنِي إِلَيْهِ وَقَالَ أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ الْقَصْدُ وَالتُّؤَدَةُ وَحُسْنُ السَّمْتِ جُزْئٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ
ابو ادریس خولانی سے روایت ہے کہ میں دمشق کی مسجد میں گیا وہاں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا جو سفید دندان تھا اس کے ساتھ والے لوگ جب کسی بات میں اختلاف کرتے ہیں تو جو وہ کہتا ہے اسی کی سند پکڑتے ہیں اور اس کے قول پر تھم جاتے ہیں میں نے پوچھا یہ نوجوان کون ہے لوگوں نے کہا معاذ بن جبل ہیں جب دوسرا روز ہوا تو میں بہت سویرے گیا دیکھا تو وہ مجھ سے آگے آئے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں میں ٹھہرا رہا جب نماز پڑھ چکے تو میں ان کے سامنے آیا اور سلام کیا پھر میں نے کہا میں تم کو اللہ جل جلالہ کے واسطے چاہتا ہوں اور محبت کرتا ہوں انہوں نے کہا اللہ کے واسطے؟ میں نے کہا ہاں اللہ کے واسطے انہوں نے پھر کہا اللہ کے واسطے؟ میں کہا ہاں اللہ کے واسطے پھر انہوں نے میری چادر کا کونا پکڑ کے مجھے گھسیٹا اور کہا خوش ہوجا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ جل جلالہ فرماتے ہے واجب ہوئی محبت میری ان لوگوں سے جو میرے واسطے دوستی اور محبت رکھتے ہیں اور میرے واسطے مل کر بیٹھتے ہیں اور میرے واسطے اپنی جان اور مال صرف کرتے ہیں اور میرے واسطے ایک دوسرے کی ملاقات کو جاتے ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں میانہ روی اور نرمی اور اچھی سج دھج ایک جز ہے نبوت کے پچیس جزوں میں سے۔
Yahya related to me from Malik from Abu Hazim ibn Dinar that Abu Idris al-Khawlani said, "I entered the Damascus mosque and there was a young man with a beautiful mouth and white teeth sitting with some people. When they disagreed about something, they referred it to him and proceeded from his statement. I inquired about him, and it was said, This is Muadh ibn Jabal. The next day I went to the noon-prayer, and I found that he had preceded me to the noon prayer and I found him praying." Abu Idris continued, "I waited for him until he had finished the prayer. Then I came to him from in front of him and greeted him and said, By Allah! I love you for Allah! He said, By Allah? I said, By Allah. He said, By Allah? I said, By Allah. He said, By Allah? I said, By Allah. " He continued, "He took me by the upper part of my cloak and pulled me to him and said, Rejoice! I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Allah, the Blessed and Exalted, said, My love is obliged for those who love each other in Me, and those who sit with each other in Me, and those who visit each other in Me, and those who give to each other generously in Me. " "
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنْ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِکَ
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا خواب نیک بخت آدمی کا نبوت کا ایک جز ہے چھیالس جزوں میں سے۔ ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha al-Ansari from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The good dream of a man who is salih is a forty-sixth part of prophecy."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ هَلْ رَأَی أَحَدٌ مِنْکُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا وَيَقُولُ لَيْسَ يَبْقَی بَعْدِي مِنْ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فارغ ہوتے صبح کی نماز سے تو فرماتے کہ تم میں سے کسی نے رات کو کوئی خواب دیکھا ہے اور فرماتے کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا سوائے اچھے خواب کے۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Zufar ibn Sasaca from his father from Abu Hurayra that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, left the morning prayer, he would say, "Has any of you had a dream last night? All that will remain of prophecy after me will be the true dream ."
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنْ يَبْقَی بَعْدِي مِنْ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ فَقَالُوا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَهُ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ نہ رہے گا مگر مبشرات، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اچھے خواب جس کو نیک بخت آدمی دیکھے یا دوسرا اس کے واسطے دیکھے یہ جز ہے نبوت کے چھیالیس جزوں میں سے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "All that will be left of prophecy after me are the mubashshirat." They said, "What are the mubashshirat, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "The true dream which a man who is salih sees - or which is shown to him - is a forty-sixth part of prophecy."
عَنْ أَبِی قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ الشَّيْئَ يَکْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِنْ کُنْتُ لَأَرَی الرُّؤْيَا هِيَ أَثْقَلُ عَلَيَّ مِنْ الْجَبَلِ فَلَمَّا سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا کُنْتُ أُبَالِيهَا
ابو قتادہ بن ربعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے تو جب کوئی تم میں سے برا خواب دیکھے تو چاہئے کہ بائیں طرف تھتکار دے تین بار اور پناہ مانگے اللہ سے اس کے شر سے پھر وہ اس کو نقصان نہ پہنچائے گا اگر اللہ چاہئے ابوسلمہ نے کہا پہلے میں خواب ایسے دیکھتا جن کا بوجھ میرے اوپر پہاڑ سے بھی زیادہ رہتا جب سے میں نے اس حدیث کو سنا ان کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Abu Salama ibn Abd ar-Rahman said, "I heard Abu Qatada ibn Ribiyy say that he heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, The good dream is from Allah, and the bad dream is from shaytan. When you see what you dislike, spit to your left side three times when you wake up, and seek refuge with Allah from its evil. It will not harm you then, Allah willing. " Abu Salama said, "I would see dreams which weighed on me more heavily than a mountain. When I heard this hadith, I was not concerned about it."
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمْ الْبُشْرَی فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَهُ
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ یہ جو اللہ جل جلالہ نے فرمایا ان کے واسطے خوشخبریاں ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس سے مراد نیک خواب ہیں جس کو آدمی خود دیکھے یا کوئی اس کے واسطے دیکھے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said about this ayat, "You have good news in the life of this world and the next world," (Sura 1O ayat 64), that it was the good dream which the man who was salih saw or which was shown to him.
عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے چوسر کھیلا تو اس نے نافرمانی کی اور اللہ اور اس کے رسول کی۔
Yahya related to me from Malik from Musa ibn Maysara from Said ibn Abi Hind from Abu Musa al-Ashari (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever plays games of dice has disobeyed Allah and His Messenger. "
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ فِي دَارِهَا کَانُوا سُکَّانًا فِيهَا وَعِنْدَهُمْ نَرْدٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجُوهَا لَأُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ دَارِي وَأَنْکَرَتْ ذَلِکَ عَلَيْهِمْ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے گھر میں کچھ لوگ رہا کرتے تھے آپ ﷺ نے سنا ان کے پاس شطرنج ہے تو کہلا بھیجا کہ شطرنج کو تم دور کردو میرے گھر سے نہیں تو میں تم کو اپنے گھر سے نکال دوں گا اور برا جانا اس کو۔
Yahya related to me from Malik from Alqama from his mother that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, heard that the people who lived in a room in her house had some dice. She sent a message to them, "If you do not remove them, I will remove you from my house," and she reproached them for it.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ضَرَبَهُ وَکَسَرَهَا قَالَ يَحْيَی و سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ لَا خَيْرَ فِي الشَّطْرَنْجِ وَکَرِهَهَا وَسَمِعْتُهُ يَکْرَهُ اللَّعِبَ بِهَا وَبِغَيْرِهَا مِنْ الْبَاطِلِ وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ
عبداللہ بن عمر ؓ جب اپنے گھر والوں میں سے کسی کو شطرنج کھیلتے دیکھتے تو اس کو مارتے اور شطرنج کو توڑ ڈالتے کہا یحییٰ نے سنا میں نے مالک سے شطرنج کھلینا بہتر نہیں ہے نہ اس میں کوئی فائدہ بھلائی ہے اور مکروہ جانتے تھے اس کو اور سنا میں نے مالک سے کہتے تھے شطرنج کھلینا اور لغو بےہودہ کھیل سب مکروہ ہیں اور پڑھتے تھے اس آیت کو پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that when he found one of his family playing dice he beat him and destroyed the dice. Yahya said that he heard Malik say, "There is no good in chess, and he disapproved of it." Yahya said, "I heard him disapprove of playing it and other worthless games. He recited this ayat, What is there after the truth except going the wrong way. " (Sura lO ayat 32).
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِي وَإِذَا سَلَّمَ مِنْ الْقَوْمِ وَاحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلام کرے سوار پیادے کو اور جب ایک آدمی قوم میں سے سلام کرے تو ان سب سے کافی ہوجائے گا۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The one riding greets the one walking, and when one of a group of people gives a greeting, it is enough for all of them."