عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ ثُمَّ زَادَ شَيْئًا مَعَ ذَلِکَ أَيْضًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْيَمَانِي الَّذِي يَغْشَاکَ فَعَرَّفُوهُ إِيَّاهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ السَّلَامَ انْتَهَی إِلَی الْبَرَکَةِقَالَ يَحْيَی سُئِلَ مَالِک هَلْ يُسَلَّمُ عَلَی الْمَرْأَةِ فَقَالَ أَمَّا الْمُتَجَالَّةُ فَلَا أَکْرَهُ ذَلِکَ وَأَمَّا الشَّابَّةُ فَلَا أُحِبُّ ذَلِکَ
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا عبداللہ بن عباس کے پاس اتنے میں ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور بولا السلام علیکم و (رح) وبرکاتہ اور اس پر بھی کچھ زیادہ کیا ابن عباس ؓ کی ان دنوں بینائی جاتی رہی تھی انہوں نے کہا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ وہی یمن کا رہنے والا ہے جو آیا کرتا ہے آپ کے پاس اور پتہ دیا اس کا یہاں تک کہ ابن عباس پہچان گئے اس کو ابن عباس نے کہا سلام ختم ہوگیا وبرکاتہ پر اس سے زیادہ نہ بڑھانا چاہئے کہا یحییٰ نے سوال ہوا مالک سے مرد سلام کرے عورت پر انہوں نے کہا بڑھیا پر تو کچھ قباحت نہیں لیکن جوان پر اچھا نہیں۔
Yahya related to me from Malik from Wahb ibn Kaysan that Muhammad ibn Amr ibn Ata said, "I was sitting with Abdullah ibn Abbas when a Yemeni man came in. He said, Peace be upon you, and the mercy of Allah and His blessing (as-salamu alaykum wa rahmatullahi wa barakatuhu), and then he added something more to that. Ibn Abbas (RA) said (and at that time his eyesight had gone), Who is this? People said, This is a Yemeni who has come to see you, and they introduced him. Ibn Abbas (RA) said, The greeting ends with the word blessing. " Yahya said that Malik was asked, "Does one greet a woman?" He said, "As for an old woman, I do not disapprove of it. As for a young woman, I do not like it."
یہودی اور نصرانی کے سلام کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْکُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْکُمْ فَقُلْ عَلَيْکَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی جب تم کو سلام کرتے ہیں تو السلام علیکم کے بدلے السام علیکم کہتے ہیں تم بھی علیک کہا کرو۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When a jew greets you, and says Death to you (as-samu alaykum) say, And to you. " Yahya said, "Malik was asked whether a person who greeted a jew or christian, should apologise for it. He said, No."
سلام کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ فَلَمَّا وَقَفَا عَلَی مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَا فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَی فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنْ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَی إِلَی اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ
ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے مسجد میں لوگ آپ ﷺ کے ساتھ تھے اتنے میں تین آدمی آئے دو تو آپ ﷺ کے پاس آئے اور ایک چلا گیا جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو سلام کیا اور ایک شخص ان میں سے حلقے میں جگہ پا کر بیٹھ گیا اور ایک پیچھے بیٹھا رہا اور تیسرا تو پہلے ہی چلا گیا تھا جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ان تینوں آدمیوں کا حال نہ بتلاؤں؟ ایک تو ان میں سے اللہ کے پاس آیا اللہ نے بھی اس کو جگہ دی ایک نے ان میں سے شرم کی اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور ایک نے ان میں سے منہ پھیرلیا اللہ نے بھی اس طرف سے منہ پھیرلیا۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Abu Murra, the mawla of Aqil ibn Abi Talib from Abu Waqid al-Laythi that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was sitting in the mosque with some people when three people came in. Two came toward the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and one went away. When the two stopped at the assembly of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, they gave the greeting. One of them saw a gap in the circle and sat in it. The other sat down behind the circle. The third turned away and left. When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, finished, he said, "Shall I tell you about three people? One of them sought shelter with Allah, so Allah gave him shelter. The other was shy, so Allah was shy to him. The other turned away, so Allah turned away from him."
سلام کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ سَأَلَ عُمَرُ الرَّجُلَ کَيْفَ أَنْتَ فَقَالَ أَحْمَدُ إِلَيْکَ اللَّهَ فَقَالَ عُمَرُ ذَلِکَ الَّذِي أَرَدْتُ مِنْکَ
انس بن مالک نے سنا حضرت عمر ؓ سے ان کو ایک شخص نے سلام کیا حضرت عمر ؓ نے اس کا جواب دیا پھر اس سے مزاج پوچھا اس نے کہا شکر کرتا ہوں اللہ کا حضرت عمر ؓ نے کہا میرا یہی مطلب تھا۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik heard Umar ibn al-Khattab return the greeting of a man who greeted him. Then Umar asked the man, "How are you?" He said, "I praise Allah to you." (Ahmadu ilayka Allah) Umar said, "That is what I wanted from you."
سلام کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ الطُّفَيْلَ بْنَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ يَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَهُ إِلَی السُّوقِ قَالَ فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَی السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَی سَقَاطٍ وَلَا صَاحِبِ بِيعَةٍ وَلَا مِسْکِينٍ وَلَا أَحَدٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ الطُّفَيْلُ فَجِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَی السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا تَصْنَعُ فِي السُّوقِ وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَی الْبَيِّعِ وَلَا تَسْأَلُ عَنْ السِّلَعِ وَلَا تَسُومُ بِهَا وَلَا تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ قَالَ وَأَقُولُ اجْلِسْ بِنَا هَاهُنَا نَتَحَدَّثُ قَالَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَا أَبَا بَطْنٍ وَکَانَ الطُّفَيْلُ ذَا بَطْنٍ إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ نُسَلِّمُ عَلَی مَنْ لَقِيَنَا
طفیل بن ابی بن کعب عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آتے اور صبح صبح ان کے ساتھ بازار کو جاتے طفیل کہتے ہیں جب ہم بازار میں پہنچے تو عبداللہ بن عمر ؓ ہر ایک ردی ودی بیچنے والے پر اور ہر دکاندار پر اور ہر مسکین پر اور ہر کسی پر سلام کرتے ایک روز میں عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا انہوں نے مجھے بازار لے جانا چاہا میں نے کہا تم بازار میں جا کر کیا کرو گے نہ تم بیچنے والوں کے پاس ٹھہرتے ہو نہ کسی اسباب کو پوچھتے ہو اس سے یہیں بیٹھے رہو ہم تم باتیں کریں گے عبداللہ بن عمر نے کہا اے پیٹ والے بازار میں سلام کرنے کو جاتے ہیں جس سے ملاقات ہوتی ہے اس کو سلام کرتے ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that at-Tufayl ibn Ubayy ibn Kab told him that he visited Abdullah ibn Umar one morning and went out with him to the market, and when they were out, Abdullah ibn Umar did not pass by anyone selling poor merchandise or selling commodities or a needy person or anyone but that he greeted them. At-Tufayl said, "I came to Abdullah ibn Umar one day and he asked me to follow him to the market. I said to him, What will you do in the market if you will not stop to sell nor seek any goods or barter with them or sit in any of the assemblies or market? Abdullah ibn Umar said that we should sit down and talk, and then he explained, Abu Batni, (lit. father of the belly, at-Tufayl had a prominent stomach), we go out in the morning only for the sake of the greeting. We greet whomever we meet. "
سلام کی مختلف احادیث کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ وَالْغَادِيَاتُ وَالرَّائِحَاتُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَلَيْکَ أَلْفًا ثُمَّ کَأَنَّهُ کَرِهَ ذَلِکَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ إِذَا دُخِلَ الْبَيْتُ غَيْرُ الْمَسْکُونِ يُقَالُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سلام کیا عبداللہ بن عمر ؓ کو تو کہا السلام علیکم و (رح) وبرکاتہ والغایات الرائحات عبداللہ بن عمر نے کہا وعلیک الفا اور اس طرح کہا جیسے کہ اس کو برا جانا۔ امام مالک کو پہنچا کہ جب کوئی آدمی ایسے گھر میں جائے جو خالی پڑا ہو تو کہے السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحیں یعنی سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that a man greeted Abdullah ibn Umar. He said, "Peace be upon you and the mercy of Allah and his barakat, on and on." Abdullah ibn Umar said to him, "And on you, a thousand times," as if he disliked that.
گھر میں جاتے وقت اذن لینے کا بیان
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَأْذِنُ عَلَی أُمِّي فَقَالَ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي خَادِمُهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً قَالَ لَا قَالَ فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ایک شخص نے کیا اجازت مانگوں میں اپنی ماں سے گھر جاتے وقت؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ بولا میں تو اس کے ساتھ ایک گھر میں رہتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اجازت لے کر جا وہ بولا میں تو اس کی خدمت کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اجازت لے کر جا کیا تو چاہتا ہے کہ اس کو ننگا دیکھے وہ بولا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا پس اجازت لے کر جا۔ ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اجازت تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ۔
Malik related to me from Safwan ibn Sulaym from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was questioned by a man who said, "Messenger of Allah, shall I ask permission of my mother to enter?" He said, "Yes " The man said, "I live with her in the house". The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said "Ask her permission." The man said, "I am her servant." The Messenger of Allah. may Allah bless him and grant him peace, said, "Ask her permission. Do you want to see her naked?" He said, "No." He said, "Then ask her permission."
گھر میں جاتے وقت اذن لینے کا بیان
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِيَّ جَائَ يَسْتَأْذِنُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا ثُمَّ رَجَعَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي أَثَرِهِ فَقَالَ مَا لَکَ لَمْ تَدْخُلْ فَقَالَ أَبُو مُوسَی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ فَقَالَ عُمَرُ وَمَنْ يَعْلَمُ هَذَا لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِي بِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِکَ لَأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا وَکَذَا فَخَرَجَ أَبُو مُوسَی حَتَّی جَائَ مَجْلِسًا فِي الْمَسْجِدِ يُقَالُ لَهُ مَجْلِسُ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي أَخْبَرْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ فَقَالَ لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِي بِمَنْ يَعْلَمُ هَذَا لَأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا وَکَذَا فَإِنْ کَانَ سَمِعَ ذَلِکَ أَحَدٌ مِنْکُمْ فَلْيَقُمْ مَعِي فَقَالُوا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قُمْ مَعَهُ وَکَانَ أَبُو سَعِيدٍ أَصْغَرَهُمْ فَقَامَ مَعَهُ فَأَخْبَرَ بِذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي مُوسَی أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْکَ وَلَکِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ربیعہ بن سبی عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ انہوں نے بہت سے علماء سے سنا کہ ابوموسیٰ اشعری نے اجازت چاہی اندر آنے کی حضرت عمر کے مکان پر تین بار جب تینوں بار جواب نہ ملا تو وہ لوٹ گئے حضرت عمر نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا جب وہ آئے تو ان سے کہا تم اندر کیوں نہ آئے ابوموسیٰ اشعری نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ اذن تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ حضرت عمر نے کہا تمہارے سوا اور کسی نے یہ حدیث سنی ہے اس کو لے کر آؤ اگر نہ لاؤ گے تو میں تم کو سزا دوں گا ابوموسیٰ نکلے اور مسجد میں بہت سے آدمیوں کو بیٹھے دیکھا ایک مجلس میں جس کو مجلس انصار کہتے تھے اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ فرماتے کہ اذن تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ میں نے یہ حدیث حضرت عمر سے بیان کی انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور نے یہ حدیث سنی ہو تو ان کو لے کر آؤ نہیں تو میں تم کو سزا دوں گا اگر تم میں سے کسی نے یہ حدیث سنی ہو تو میرے ساتھ چلے لوگ ابوسعید ابوموسیٰ کے ساتھ آئے اور حدیث حضرت عمر سے بیان کی حضرت عمر نے ابوموسیٰ سے کہا میں نے تم کو جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا ایسا نہ ہو کہ لوگ آنحضرت پر باتیں جوڑ لیا کریں
Malik related to me from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman from another of the ulama of that time that Abu Musa al-Ashari (RA) came and asked permission from Umar ibn al-Khattab to enter. He asked permission three times, and then went away Umar ibn al-Khattab sent after him and said, "Whats wrong with you? Why didnt you come in?" Abu Musa said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, Ask permission to enter three times. If you are given permission, then enter. If not, go away. Umar said, "Who can confirm this? If you do not bring me someone to confirm it, I will do such-and-such to you." Abu Musa went out until he came to an assembly in the mosque which was called the Majlis-al-Ansar. He said, "I told Umar ibn al-Khattab that I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, Ask permission three times. If you are given permission, then enter. If not, go away. Umar said, If you do not bring me someone who can confirm it, I will do such-and-such to you. If any of you have heard that, let him come with me. " They said to Abu Said al-Khudri, "Go with him". Abu Said was the youngest of them. He went with him and told Umar ibn al-Khattab about that." Umar ibn al-Khattab said to Abu Musa, "I did not suspect you, but I feared lest people forge sayings of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace."
چھینک کا جواب دینے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَقُلْ إِنَّکَ مَضْنُوکٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ لَا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ
محمد بن عمر بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص چھینکے تو اس کا جواب دو پھر اگر چھینکے تو جواب دو پھر چھینکے تو جھٹ کہہ دو تجھ زکام ہوگیا؟ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا معلوم نہیں کہ تیسری کے بعد آپ نے یہ کہا یا چوتھی کے بعد۔
Malik related to me from Abdullah ibn Abi Bakr from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If a man sneezes, invoke a blessing on him. Then if he sneezes, invoke a blessing on him. Then if he sneezes, invoke a blessing on him. Then if he sneezes, say, You have a cold." Abdullah ibn Abi Bakr said, "I dont know whether it was after the third or fourth."
چھینک کا جواب دینے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا عَطَسَ فَقِيلَ لَهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ قَالَ يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَإِيَّاکُمْ وَيَغْفِرُ لَنَا وَلَکُمْ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کو جب چھینک آتی اور کوئی یرحمک اللہ کہتا تو وہ یرحمنا اللہ وایاکم و یغفرلنا و لکم کہتے یعنی اللہ ہم پر رحم کرے اور تم پر بھی اور ہم کو بخشے اور تم کو بھی۔
Malik related to me from Nafi that when Abdullah ibn Umar sneezed and someone said to him, "May Allah have mercy on you," (Yarhamukallah), he said, "May Allah have mercy on us and you, and forgive us and you." (Yarhamunallah wa yaghfirlana wa lakum).
تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
عَنْ رَافِعَ بْنَ إِسْحَقَ مَوْلَی الشِّفَائِ أَخْبَرَهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَلَائِکَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ شَکَّ إِسْحَقُ لَا يَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ
رافع بن اسحاق سے جو مولیٰ ہیں شفا کے روایت ہے کہ میں اور عبداللہ بن ابی طلحہ مل کر ابوسعید خدری کے پاس گئے ان کے دیکنے کو وہ بیمار تھے ابوسعید نے کہا مجھ سے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے کہ فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویریں یا مورتیاں ہوں اسحاق کو شک ہے کہ ابوسعید نے ان دونوں میں سے کیا کہا،۔
Malik related to me from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Rafi ibn Ishaq, the mawla of ash-Shifa informed him that he and Abdullah ibn Abi Talha had gone to visit Abu Said al-Khudri while he was ill. Abu Said said to them, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, informed us, The angels do not enter a house which contains pictures or images. " Ishaq was not sure which of them Abu Said said.
تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ قَالَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا مِنْ تَحْتِهِ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لِمَ تَنْزِعُهُ قَالَ لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا قَدْ عَلِمْتَ فَقَالَ سَهْلٌ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا کَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ قَالَ بَلَی وَلَکِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری کی عیادت کو گئے وہاں سہل بن حنیف کو بھی دیکھا ابوطلحہ نے ایک آدمی کو بلایا اور کہا میرے نیچے سے شطرنجی نکال لے سہل نے کہا کیوں ابوطلحہ نے کہا اس میں تصویروں کے بارے میں جو ارشاد فرمایا وہ ہے اگر نقشی ہو کپڑے وغیرہ پر تو کچھ قباحت نہیں ابوطلحہ نے کہا ہاں یہ سچ ہے مگر میری خوشی یہی ہے کہ ہر قسم کی تصویر سے پرہیز کرو۔
Malik related to me from Abun-Nasr that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud went to visit Abu Talha al-Ansari when he was ill. He said, "I found Sahl ibn Hunayf with him. Abu Talha summoned a man and removed a rug which was under him. Sahl ibn Hunayf said to him, Why did you remove it? He said, Because there were pictures on it, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said what you know about them. Sahl replied, Didnt the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "except for markings on a garment?" (A rug was considered a garment). He said, Yes, but it is more pleasing to myself. "
تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْکَرَاهِيَةَ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ قَالَتْ اشْتَرَيْتُهَا لَکَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِکَةُ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ نے ایک تکیہ خریدا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب آپ ﷺ نے اس کو دیکھا تو آپ ﷺ حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو رہے اور اندر نہ آئے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے حضرت عائشہ ؓ نے کہا میں توبہ کرتی ہوں اللہ اور اس کے رسول سے میرا کیا گناہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے حضرت عائشہ ؓ نے کہا میں نے اس تکیے کو اس لئے خریدا ہے کہ آپ ﷺ اس پر بیٹھیں اس پر تکیہ لگائیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تصویر بنانے والے عذاب دیئے جائیں گے قیامت کے روز ان سے کہا جائے گا تم جان ڈالو ان صورتوں کو جن کو تم نے دنیا میں بنایا تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں آتے۔
Malik related to me from Nafi from al-Qasim ibn Muhammad from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that she bought a cushion which had pictures on it. When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saw it, he stopped at the door and did not enter. She recognised disapproval on his face and said, "Messenger of Allah, I turn in repentance to Allah and His Messenger. What have I done wrong?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "What is the meaning of this cushion?" She said, "I bought it for you to sit and recline on." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Those who make such pictures will be punished on the Day of Rising. It will be said to them, Bring to life what you have created. Then he said, The angels do not enter a house in which there are pictures. "
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَإِذَا ضِبَابٌ فِيهَا بَيْضٌ وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا فَقَالَتْ أَهْدَتْهُ لِي أُخْتِي هُزَيْلَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ كُلَا فَقَالَا أَوَلَا تَأْكُلُ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي تَحْضُرُنِي مِنْ اللَّهِ حَاضِرَةٌ قَالَتْ مَيْمُونَةُ أَنَسْقِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ لَبَنٍ عِنْدَنَا فَقَالَ نَعَمْ فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا فَقَالَتْ أَهْدَتْهُ لِي أُخْتِي هُزَيْلَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتِكِ جَارِيَتَكِ الَّتِي كُنْتِ اسْتَأْمَرْتِينِي فِي عِتْقِهَا أَعْطِيهَا أُخْتَكِ وَصِلِي بِهَا رَحِمَكِ تَرْعَى عَلَيْهَا فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكِ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میمونہ بنت حارث کے مکان میں گئے وہاں گوہ دیکھا سفید اور آپ ﷺ کے ساتھ عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید تھے آپ ﷺ نے پوچھا یہ گوشت کہاں سے آیا میمونہ نے کہا میری بہن ہزیلہ بنت حارث نے بھیجا تھا آپ ﷺ نے عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید سے کہا کھاؤ انہوں نے کہا آپ ﷺ نہیں کھاتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس اللہ جل جلالہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی آیا کرتے ہیں میمونہ نے کہا ہم آپ ﷺ کو دودھ پلادیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، جب آپ ﷺ دودھ پی چکے تو پوچھا یہ کہاں سے آیا میمونہ نے کہا میری بہن ہزیلہ نے تحفہ بھیجا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اپنی لونڈی کو جس کے آزاد کرنے کے واسطے تم نے مجھ سے مشورہ کیا تھا اپنی بہن کو دے دو اور قرابت کی رعایت کرو وہ اس کی بکریاں چرایا کرے تو مناسب ہے اور بہتر ہے تیرے واسطے۔
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Abdullah ibn Abd ar-Rahman ibn Abi Sasaca that Sulayman ibn Yasar said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, entered the house of Maimuna bint al-Harith and there was a lizard in which there were eggs to eat. Abdullah ibn Abbas and Khalid ibn al-Walid were with him. He said, From where did you get this? She replied, My sister, Huzayla bint al-Harith, gave it to me. He then told Abdullah ibn Abbas and Khalid to eat. They said, Wont you eat, Messenger of Allah? ﷺ He said, There are those who visit me from Allah. Maimuna said, Messenger of Allah, shall we give you some milk to drink which we have? He said, Yes. When he drank, he said, From where did you get this? She said, My sister, Huzayla gave it to me. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Do you see your slave-girl whom you asked me for permission to free? Give her to your sister and bring her to your maternal relatives to take care of her. That is better for you. "
عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَی إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْکُلَ مِنْهُ فَقِيلَ هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَفَعَ يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا وَلَکِنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَکَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ
خالد بن ولید بن مغیرہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میمونہ کے گھر میں گئے وہاں ایک گوہ بھنا ہوا آیا رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ اٹھایا کھانے کو عورتوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کو بتادو جس کا یہ گوشت ہے آپ ﷺ نے ہاتھ کھینچ لیا، میں نے کہا کیا حرام ہے یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں لیکن یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس واسطے مجھے اس کے کھانے سے کراہت آتی ہے خالد نے کہا میں نے اس کو اپنی طرف کھیینچ کر کھایا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf from Abdullah ibn Abbas that Khalid ibn al-Walid ibn al-Mughira entered the house of Maimuna, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he was brought a roasted lizard. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stretched his hand toward it. One of the women who was in Maimunas house said, "Tell the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, what he means to eat." Someone said, "It is a lizard, Messenger of Allah." He withdrew his hand. Khalid said, "Is it haram, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "No, but there were none in my peoples land, and I find that I dislike them." Khalid added, "I chewed and ate it while the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was looking."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا نَادَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَی فِي الضَّبِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ بِآکِلِهِ وَلَا بِمُحَرِّمِهِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پکار کر کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ گوہ کے گوشت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that a man called the Messenger of Allah ﷺ and said, "Messenger of Allah, what do you think about lizards?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I do not eat them, and I do not forbid them."
عَنْ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَاسًا مَعَهُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ
سفیان بن زہیر سے روایت ہے کہ وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے مسجد نبوی کے دروازے پر انہوں نے کہا میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ فرماتے تھے جو شخص کتا پالے نہ کھیت کی حفاظت کے واسطے نہ بکریوں کی حفاظت کے واسطے تو ہر روز اس کے اعمال میں ایک قیراط کے برابر کمی و نقصان ہوا کرے گا، سائب نے سفیان سے کہا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں قسم ہے اس مسجد کے پروردگار کی۔
Malik related to me from Yazid ibn Khusayfa that as-Saib ibn Yazid informed him that he heard Sufyan ibn Abi Zuhayr who was from the Azd Shanua tribe and among the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, speaking with some people who were with him at the door of the mosque. He said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, If anyone acquires a dog which he does not use as a sheepdog or for hunting, a qirat will be deducted from the reward of his good deeds each day. " He was asked, "Did you hear this from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace?" He said, "Yes, by the Lord of this mosque."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا إِلَّا کَلْبًا ضَارِيًا أَوْ کَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کتا پالے سوائے شکاری کتے کے یا کھیت کے کتے کے تو ہر روز اس کے عمل میں سے دو قیراط کے برابر کمی و نقصان ہوگا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever acquires a dog other than a sheepdog or hunting dog, will have two qirats deducted from the reward of his good actions every day."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا کتوں کے قتل کا۔
Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered dogs to be killed.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأْسُ الْکُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَائُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّکِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بڑا کفر مشرق کی طرف ہے اور فخر اور تکبر گھوڑوں اور اونٹ والوں میں ہے جو بلند آواز رکھتے ہیں جنگل میں رہتے ہیں اور عاجزی اور تواضع بکری والوں میں ہے۔
Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The head of kufr is towards the east. Boasting and price is among people who have horses and camels. The loud-voiced people are the people of tents (the Bedouins). Tranquillity is with the people who have sheep."