عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قریب ہے کہ بہترین مال مسلمان کا چند بکریاں ہوں گی جن کو لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی پر چلا جائے گا یا کسی وادی کے اندر بھاگے گا فتنوں سے اپنا دین بچانے کو۔
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Abd ar-Rahman ibn Sasaca from his father that Abu Said al-Khudri said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It will soon happen that the best property of a muslim will be sheep which he takes to the peaks of the mountains and the valleys, fleeing with his deen from trials."
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تُؤْتَی مَشْرُبَتُهُ فَتُکْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ وَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ فَلَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَی غَنَمًا قِيلَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنَا
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بلا اس کی اجازت کے بھلا کوئی تم میں یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے خزانہ کی کوٹھڑی میں آ کے اس کو توڑ کے اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے سو ان کے جانور کے تھن تو ان کے کھانے کی دودھ کو حفاظت میں رکھتے ہیں یعنی تھن کوٹھڑی کی طرح حفاظت کے واسطے ہیں سو ہرگز نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بدون اس کی اجازت کے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے بھی؟ فرمایا کہ میں نے بھی۔
Malik related to me from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "No one should milk someone elses cow without his permission. Would any of you like someone to come to his apartment, break into his larder, and take his food? The udders of cows guard their food for their owners, so no one should milk someone elses cow without his permission."
چوہا گھی میں گر پڑے تو یا کرنا چاہئے اور کھانا بھی آجائے اور نماز کا وقت بھی آجائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہئے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يُقَرَّبُ إِلَيْهِ عَشَاؤُهُ فَيَسْمَعُ قِرَائَةَ الْإِمَامِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَلَا يَعْجَلُ عَنْ طَعَامِهِ حَتَّی يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ کے سامنے شام کا کھانا پیش کیا جاتا تو وہ امام کی قرأت سنا کرتے اپنے گھر میں اور کھانے میں جلدی نہ کرتے جب تک اچھے طور سے نہ کھالیتے۔
Malik related to me from Nafi that one time as Ibn Umar (RA) was served his evening meal, he heard the recitation of the Imam while he was in his house and he did not hurry from his food until he had finished what he needed.
چوہا گھی میں گر پڑے تو یا کرنا چاہئے اور کھانا بھی آجائے اور نماز کا وقت بھی آجائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہئے۔
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ فَقَالَ انْزِعُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ
حضرت ام المومنین میمونہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کہ اگر چوہا گھی میں گرپڑے تو کیا کرنا چاہئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو نکال ڈالو اور اس کے آس پاس کا گھی پھینک دو۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud from Abdullah ibn Abbas from Maimuna, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked about a mouse falling into clarified butter. He said, "Remove it and throw away what is around it "
جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ کَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْکَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَو حَدَّثَنِي مَالِک
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے ایک گھر دوسرے عورت تیسرے گھوڑے میں۔
Malik related to me from Malik from Ibn Shihab from Hamza and Salim the sons of Abdullah ibn Umar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Ill luck is in a house, a woman and a horse."
جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
و حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی ہے
جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَارٌ سَکَنَّاهَا وَالْعَدَدُ کَثِيرٌ وَالْمَالُ وَافِرٌ فَقَلَّ الْعَدَدُ وَذَهَبَ الْمَالُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا ذَمِيمَةً
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک عورت آئی رسول اللہ کے پاس، بولی یا رسول اللہ ایک گھر تھا جس میں ہم رہتے ہیں ہماری گنتی بھی زیادہ تھی اور مال بھی تھا، پھر گنتی بھی کم ہوگئی یعنی لوگ مرگئے اور مال میں بھی نقصان ہوا آپ ﷺ نے فرمایا چھوڑ دے تو اس گھر کو جبکہ تو اس کو برا جانتی ہے۔
Malik related to me that Yahya ibn Said said, "A woman came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah, we moved into a house when our number was great and our wealth was abundant. Now our number has dwindled and the wealth has gone. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Leave it as blameworthy. "
جو نام برے ہیں ان کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَقْحَةٍ تُحْلَبُ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مُرَّةُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ حَرْبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ يَعِيشُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْلُبْ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اس اونٹی کا دودھ کون دوہے گا؟ ایک شخص کھڑا ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ وہ بولا مرہ آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ جا آپ نے اس کا نام اچھا نہ سمجھا، مرہ تلخ کو بھی کہتے ہیں پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا حرب۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جا، پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا یعیش آپ نے فرمایا جا دوھ۔ یعیش نام آپ نے پسند کیا کیونکہ وہ عیش سے ہے آپ فال نیک بہت لیا کرتے تھے
Malik related to me from Yahya ibn Said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked about a milk camel about to be milked, "Who milks this camel?" A man stood up. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "What is your name?" The man said, "Murra (bitterness)." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Sit down." Then he said, "Who milks this one?" A man stood up and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "What is your name?" He said, "Harb (war)." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Sit down." Then he said, "Who milks this camel?" A man stood up, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "What is your name?" The man said, Yaish (he lives)." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Milk!"
جو نام برے ہیں ان کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَجُلٍ مَا اسْمُکَ فَقَالَ جَمْرَةُ فَقَالَ ابْنُ مَنْ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ مِمَّنْ قَالَ مِنْ الْحُرَقَةِ قَالَ أَيْنَ مَسْکَنُکَ قَالَ بِحَرَّةِ النَّارِ قَالَ بِأَيِّهَا قَالَ بِذَاتِ لَظًی قَالَ عُمَرُ أَدْرِکْ أَهْلَکَ فَقَدْ احْتَرَقُوا قَالَ فَکَانَ کَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عمر نے ایک شخص سے پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا جمرہ (انگارہ) انہوں نے پوچھا باپ کا نام؟ کہا ابن شہاب (شعلہ)، پوچھا کس قبیلے سے؟ کہا حرقہ سے جس کے معنے جنے کے ہیں، پوچھا کہاں رہتا ہے؟ کہا حرۃ النار میں، پوچھا کون سی جگہ میں؟ کہا ذات لظی میں، ان کے معنے بھی شعلے اور دہکتی آگ کے ہیں، حضرت عمر نے کہا جا اپنے لوگوں کی خبر لے وہ سب جل گئے راوی نے کہا جب وہ شخص گیا تو دیکھا یہی حال تھا جو حضرت عمر نے کہا تھا یعنی سب جل گئے تھے۔
Yahya related to me from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab asked a man what his name was. He said, "Jamra (live coal)." "The son of who?" He said, "Ibn Shihab (meteor, flame)." "From whom?" He said, "From al-Huraqa (burning)." "Where do you live?" He said, "At Harrat an-Nar (lava field of the fire). "At which one of them?" He said, "At Dhati Ladha (one with flames)." Umar said, "Go and look at your family - they have been burned." Yahya added, "It was as Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, said."
پھپنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ
انس بن مالک نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے ابوطیبہ کے ہاتھ سے پھر آپ ﷺ نے مزدوری میں ایک صاع کھجور کا دیا اور اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ اس کے خراج میں کمی کردیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی دوا ایسی ہوتی جو بیماری تک پہنچ جاتی تو وہ پچھنے ہوتے
Malik related to me from Humayd at-Tawil that Anas ibn Malik said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was cupped. Abu Tayba cupped him, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered him to be given a sa of dates and ordered his family to lessen what he paid them for his kitaba or kharaj."
پھپنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّی قَالَ اعْلِفْهُ نُضَّاحَکَ يَعْنِي رَقِيقَکَ
ابن محیصہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لانا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابوطبیہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں) آپ ﷺ نے منع کیا مگر یہ ممانعت تنزیہا ہے اکثر علماء کے نزدیک وہ ہمیشہ پوچھا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے اجازت مانگتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر۔
Malik related to me from Ibn Shihab from Ibn Muhayyisa al-Ansari, one of the Banu Haritha, that he asked permission from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, to give payment for cupping, and he forbade him to do it. He continued to ask and seek his permission until he said, "Feed the ones who drive your water-carrying camels," meaning "your slaves."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَی الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَی الْعِرَاقِ فَقَالَ لَهُ کَعْبُ الْأَحْبَارِ لَا تَخْرُجْ إِلَيْهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّ بِهَا تِسْعَةَ أَعْشَارِ السِّحْرِ وَبِهَا فَسَقَةُ الْجِنِّ وَبِهَا الدَّائُ الْعُضَالُ
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اشارہ کرتے تھے مشرق کی طرف اور فرماتے تھے فتنہ اسی طرف سے ہے فتنہ اسی طرف سے ہے جہاں سے شیطان کی چوٹی نکلتی ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے عر اق کو جانا چاہا تو کعت احبار نے کہا آپ وہاں نہ جائیے اے امیر المو میین کیونکہ اس ملک میں جادو کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں اور جتنے شریر اور خبیث جن میں وہاں موجود ہیں اور وہاں ایک بیماری ہے جو لا علاج ہے۔
Malik related to me from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said, "I saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, pointing at the east and saying, The cause of dissension is here. The cause of dissension is here, from where the helpers of shaytan arise. "
سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
عَنْ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ
ابو لبابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہیں
Malik related to me from Nafi from Abu Lubaba that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade killing snakes which were in the houses.
سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَائِ
سائبہ مولا سائبہ جو مولا تھے حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہوتے ہیں مگر ذی الطفیتین اور ابتر کو کہ وہ آنکھ کو اندھا کردیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔
Malik related to me from Nafi from Saiba, the female mawla of Aisha, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade killing the snakes which were in the houses except those with two white stripes on their back and the short ones. They made one go blind and caused miscarriages in women.
سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَی هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّی قَضَی صَلَاتَهُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيکًا تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِهِ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ لِأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ أَنْ اجْلِسْ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَی بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ أَتَرَی هَذَا الْبَيْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّهُ قَدْ کَانَ فِيهِ فَتًی حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْخَنْدَقِ فَبَيْنَا هُوَ بِهِ إِذْ أَتَاهُ الْفَتَی يَسْتَأْذِنُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أُحْدِثُ بِأَهْلِي عَهْدًا فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خُذْ عَلَيْکَ سِلَاحَکَ فَإِنِّي أَخْشَی عَلَيْکَ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الْفَتَی إِلَی أَهْلِهِ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً بَيْنَ الْبَابَيْنِ فَأَهْوَی إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعُنَهَا وَأَدْرَکَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّی تَدْخُلَ وَتَنْظُرَ مَا فِي بَيْتِکَ فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَی فِرَاشِهِ فَرَکَزَ فِيهَا رُمْحَهُ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فَنَصَبَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ وَخَرَّ الْفَتَی مَيِّتًا فَمَا يُدْرَی أَيُّهُمَا کَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْفَتَی أَمْ الْحَيَّةُ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
ابو سائب سے مولیٰ ہشام بن زہرہ کے روایت ہے (کہتے ہیں) کہ میں ابوسعید خدری ؓ کے پاس گیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں بیٹھ گیا نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا اتنے میں، میں نے ان کے تخت کے تلے سرسراہٹ سنی، دیکھا تو سانپ ہے میں اس کے مارنے کو اٹھا ابوسعید نے اشارہ کیا بیٹھ جا اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اشارہ کرنا درست ہے جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو؟ میں نے کہا ہاں ابوسعید خدری ؓ نے کہا اس کوٹھڑی میں ایک نوجوان رہتا تھا جس نے نئی شادی کی تھی وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ خندق میں گیا پھر وہ یکایک آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجیے میں نے شادی کی ہے آپ ﷺ نے اجازت دے دی اور فرمایا ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریضہ کا خوف ہے وہ نوجوان ہتھیار لے کر گیا جب گھر پہنچا تو بیوی کو دیکھا دروازہ پر کھڑی ہے اس نوجوان نے غیرت سے برچھا اس کے مارنے کو اٹھایا وہ بولی جلدی مت کر اپنے گھر میں جا کر دیکھ کہ اس میں کیا ہے وہ گھر میں گیا دیکھا تو ایک سانپ کنڈلی مارے ہوئے اس کے بچھونے پر بیٹھا ہوا ہے وہ نوجوان سانپ کو برچھی سے چھید کر نکلا اور برچھی کو گھر میں کھڑا کردیا وہ سانپ اس برچھی کی نوک میں پیچ کھاتا رہا اور نوجوان اسی وقت مرگیا معلوم نہیں سانپ پہلے مرا یا وہ نوجوان پہلے جب رسول اللہ ﷺ سے قصہ بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا مدینہ میں جن مسلمان ہوگئے ہیں۔ تو جب تم کسی سانپ کو دیکھو تو تین روز تک اسے آگاہ کیا کرو اگر بعد اس کے بھی نکلے تو اس کو مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
Malik related to me from Safiyy, the mawla of Ibn Aflah that Abus-Saib, the mawla of Hisham ibn Zuhra said, "I went to Abu Said al-Khudri and found him praying. I sat to wait for him until he finished the prayer. I heard a movement under a bed in his room, and it was a snake. I stood up to kill it, and Abu Said gestured to me to sit. When he was finished he pointed to a room in the house and said, Do you see this room? I said, Yes. He said, There was a young boy in it who had just got married. He went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, to al-Khandaq, (the ditch which the muslims dug in the 5th year of the Hijra to defend Madina against the Quraysh and their allies). When he was there, the youth came and asked his permission, saying, "Messenger of Allah. Give me permission to return to my family." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave him permission and said, "Take your weapons with you, for I fear the Banu Quraydha tribe. They may harm you." The youth went to his family and found his wife standing between the two doors. He lifted his spear to stab her as jealousy had been aroused in him. She said, "Dont be hasty until you go in and see what is in your house." He entered and found a snake coiled up on his bed. He transfixed it with his spear and then went out with it and pitched it into the house. The snake stirred on the end of the spear and the youth fell dead. No one knew which of them died first, the snake or the youth. That was mentioned to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he said, "There are jinn in Madina who have become muslim. When you see one of them, call out to it for three days. If it appears after that, then kill it, for it is a shaytan." "
بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْكَلَامِ فِي السَّفَرِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ يَقُولُ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَمِنْ كَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ و حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ فَإِنَّهُ لَنْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے سفر کے قصہ سے تو فرماتے کہ اللہ کے نام سے سفر کرتا ہوں اے پروردگار تو رفیق ہے سفر میں اور خلیفہ ہے میرے اہل و عیال میں اے پروردگار نزدیک کر دے ہم کو زمین جہاں ہم جاتے ہیں اور آسان کر ہم پر سفر اے پروردگار پناہ مانگتا ہوں میں تجھ سے سفر کی تکلیف سے اور برے لو ٹنے اور برے حال اور مال کے خولہ بنت حکیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی منزل میں اترے اور کہے کہ پناہ مانگتے ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ہر مخلوق کے شر سے تو اس کو کسی چیز سے نقصان نہ ہوگا کوچ کے وقت تک
Malik related to me that he heard that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, set foot in the stirrup intending to travel, he would say, "In the name of Allah. O Allah! You are my companion in the journey and the Khalifa of my family. O Allah! Spread out the earth for us and make the journey easy for us. O Allah! I seek refuge with You from the hardship of the journey and from returning to sorrow and a distressing sight regarding property and family."
اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّاکِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاکِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَکْبٌ
عبداللہ بن عمر بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اکیلا سفر کرنے والا شیطان ہے اور دو مل کر سفر کرنے والے دو شیطان ہیں اور تین جماعت ہے۔
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Harmala from Amr ibn Shuayb from his father from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "One rider is a shaytan. Two riders are two shaytans, and three are a riding-party."
اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّيْطَانُ يَهُمُّ بِالْوَاحِدِ وَالْاثْنَيْنِ فَإِذَا کَانُوا ثَلَاثَةً لَمْ يَهُمَّ بِهِمْ
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان قصد کرتا ہے ایک دو پر جب آدمی ہوں تو ان پر قصد نہیں کرتا
Malik related to me from Abd ar-Rahman ibn Harmala that Said ibn al-Musayyab heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Shaytan concerns himself with one and two. When there are three, he does not concern himself with them."
اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس کو درست نہیں سفر کرنا ایک دن رات کا مگر اپنے محرم کے ساتھ
Malik related to me from Said ibn Abi Said al-Maqburi from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It is not halal for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel the distance of a day and night without a man who is her mahram."
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ يَرْفَعُهُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَی بِهِ وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَی الْعُنْفِ فَإِذَا رَکِبْتُمْ هَذِهِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ فَأَنْزِلُوهَا مَنَازِلَهَا فَإِنْ کَانَتْ الْأَرْضُ جَدْبَةً فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنِقْيِهَا وَعَلَيْکُمْ بِسَيْرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَی بِاللَّيْلِ مَا لَا تُطْوَی بِالنَّهَارِ وَإِيَّاکُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَی الطَّرِيقِ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَی الْحَيَّاتِ
خالد بن معدان سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ نرمی کرتا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے نرمی کرنے پر اور مدد کرتا ہے نرمی پر وہ جو نہیں کرتا سختی پر جب تم چڑھو ان بےزبان جانوروں پر تو اتارو ان کو ان کی منزلوں پر اگر زمین صاف ہو جہاں گھاس نہ ہو تو جلدی سے نکال لے جاؤ تاکہ اس میں گودار ہے اور لازم کرلو رات کا چلنا کیونکہ رات کے چلنے میں جیسے راہ کٹتی ہے ویسی دن کو نہیں کٹتی تو رات کو جب اترو تو راستے میں نہ اترو کیونکہ وہاں جانور آتے جاتے ہیں اور سانپ بھی رہا کرتے ہیں۔
Malik related to me from Abu Ubayd, the mawla of Sulayman ibn Abdul Malik from Khalid ibn Madan who attributed it to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, "Allah, the Blessed and Exalted is kind and loves kindness. He is pleased with it and helps you with it as long as it is not misplaced. When you ride dumb beasts, stop them in their stopping places, and quicken their pace when the land is barren. Travel by night, because the land is travelled faster at night than it is during the day. Beware of pitching tents on the road, for it is the path of animals and the abode of snakes."