کتاب مختلف بابوں کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 46 · 229 hadiths · Page 10 of 12

1692Mauwatta Imam Malik

سفر کے احکام کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفر بھی ایک قسم کا عذاب ہے۔ روک دیتا ہے آدمی کو کھانے اور پینے اور سونے سے تو جب تم میں سے کوئی اپنے کام کیلئے سفر کرے اور وہ کام پورا ہوجائے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔

Malik related to me from Sumayy, the mawla of Abu Bakr (RA) from Abu Salih from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Travelling is a portion of the torment. It denies you your sleep, food, and drink. When you have accomplished your purpose, you should hurry back to your family."

1693Mauwatta Imam Malik

غلام لونڈی کے ساتھ نرمی کرنا

بَاب الْأَمْرِ بِالرِّفْقِ بِالْمَمْلُوكِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يُكَلَّفُ مِنْ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَذْهَبُ إِلَى الْعَوَالِي كُلَّ يَوْمِ سَبْتٍ فَإِذَا وَجَدَ عَبْدًا فِي عَمَلٍ لَا يُطِيقُهُ وَضَعَ عَنْهُ مِنْهُ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مملوک ( غلام لونڈی) کو کپڑا اور کھانا ملے گا موافق دستور کے اور کام اس سے نہ لیا جائے طاقت سے زیادہ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن الخطاب ہر ہفتے کے روز مدینے کے آس پاس گاؤں میں جایا کرتے تھے جب کسی غلام کو ایسے کام میں مشغول پاتے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہوتا تو کم کردیتے تھے۔

Malik related to me that he heard that Abu Hurayra said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A slave has his food and clothing in the normal manner, and he is only obliged to do such work as he is capable of doing."

1694Mauwatta Imam Malik

غلام لونڈی کے ساتھ نرمی کرنا

عَنْ مَالِک عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ لَا تُکَلِّفُوا الْأَمَةَ غَيْرَ ذَاتِ الصَّنْعَةِ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوهَا ذَلِکَ کَسَبَتْ بِفَرْجِهَا وَلَا تُکَلِّفُوا الصَّغِيرَ الْکَسْبَ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَرَقَ وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّکُمْ اللَّهُ وَعَلَيْکُمْ مِنْ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْهَا

مالک بن ابی عامر اصبحی نے حضرت عثمان بن عفان سے سنا وہ خطبے میں فرماتے تھے کہ جو لونڈی کوئی ہنر نہ جانتی ہو اس کو مجبور مت کرو کمائی پر کیونکہ جب تم اس کو مجبور کرو گے کمائی پر تو وہ غلط کام (حرام کاری) سے کمائی گی اور نابالغ غلام کو کمائی پر مجبور مت کرو کیونکہ وہ جب مجبور ہوگا تو چوری کرے گا اور جب اللہ تمہیں اچھی طرح روزی دیتا ہے تو تم بھی ان کو محنت معاف کردو جیسے اللہ نے تمہیں معاف کیا ہے اور لازم کرو وہ کمائی جو حلال ہے

Malik related to me from his paternal uncle, Abu Suhayl ibn Malik, that his father heard Uthman ibn Affan say in a khutba, "Do not oblige the slave-girl to earn money unless she has a skill. When you oblige her to do that, she will earn money by prostitution. Do not oblige the child to earn money. If he does not find it, he will steal. Have integrity since Allah has integrity with you, and you must feed them good food."

1695Mauwatta Imam Malik

غلام لونڈی کی تربیت اور وضع کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَبْدُ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غلام جب اپنے مولیٰ کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت بھی کرے تو اس کو دوہرا ثواب ہوگا۔

Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When a slave gives good counsel to his master and worships Allah correctly, he has his reward twice over. "

1696Mauwatta Imam Malik

غلام لونڈی کی تربیت اور وضع کا بیان

عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَمَةً کَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ بِهَيْئَةِ الْحَرَائِرِ فَدَخَلَ عَلَی ابْنَتِهِ حَفْصَةَ فَقَالَ أَلَمْ أَرَ جَارِيَةَ أَخِيکِ تَجُوسُ النَّاسَ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ بِهَيْئَةِ الْحَرَائِرِ وَأَنْکَرَ ذَلِکَ عُمَرُ

امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کی ایک لونڈی تھی اس نے آزاد عورتوں کی وضع بنائی تھی حضرت عمر نے اس کو دیکھا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام المومنین حفصہ کے پاس گئے اور کہا میں نے تیرے بھائی کی لونڈی کو دیکھا جو آزاد عورتوں کی وضع بنا کو لوگوں میں پھرتی ہے اور حضرت عمر نے اس کو برا جانا

Malik related to me that he heard that Umar ibn al-Khattab saw a female slave belonging to Abdullah ibn Umar ibn al-Khattab. She was dressed up in silks. He went to his daughter Hafsa and said, "Didnt I see your brothers slave-girl dressed up in silks walking among the people and causing trouble?" Umar disapproved of that.

1697Mauwatta Imam Malik

بیعت کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ کُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ

عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرتے ماننے اور طاعت کرنے پر تو شفقت اور رحمت سے آپ ﷺ فرماتے کہ جہاں تک تم کو طاقت ہو۔

Malik related to me from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar said, "When we took an oath of allegiance with him to hear and obey, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to us, In what you are able. "

1698Mauwatta Imam Malik

بیعت کا بیان

عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ بَايَعْنَهُ عَلَی الْإِسْلَامِ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُکَ عَلَی أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيَکَ فِي مَعْرُوفٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ قَالَتْ فَقُلْنَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا هَلُمَّ نُبَايِعْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَائَ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ کَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ مِثْلِ قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ

امیمہ بنت رقیقہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ میں رسول اللہ کے پاس آئی بہت سی عورتوں میں جو بیعت کرنے کو آئی تھیں دین اسلام پر ان عورتوں نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ ﷺ سے بیعت کرتی ہیں اس بات پر کہ شریک نہ کریں گی ساتھ اللہ کے کسی چیز کو اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو ماریں گی اور نہ بہتان باندھیں گی اپنی اپنی طرف سے اسی پر اور نہ آپ ﷺ کی نافرمانی کریں گی شروع کے کام میں رسول اللہ ﷺ نے کمال شفقت اور محبت سے فرمایا جہاں تک تمہاری طاقت یا قدرت ہے

Malik related to me from Muhammad ibn al-Munkadir that Umayma bint Ruqayqa said, "I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with the women who took an oath of allegiance with him in Islam. They said, Messenger of Allah! We take a pledge with you not to associate anything with Allah, not to steal, not to commit adultery, not to kill our children, nor to produce any lie that we have devised between our hands and feet, and not to disobey you in what is known. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, In what you can do and are able. " Umayma continued, "They said, Allah and His Messenger are more merciful to us than ourselves. Come, let us give our hands to you, Messenger of Allah! ﷺ The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, I do not shake hands with women. My word to a hundred women is like my word to one woman. "

1699Mauwatta Imam Malik

بیعت کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ فَکَتَبَ إِلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَمَّا بَعْدُ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ سَلَامٌ عَلَيْکَ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْکَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأُقِرُّ لَکَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَی سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ

عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عبدالملک بن مروان کو لکھا بیعت نامہ اس مضمون سے بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ جل جلالہ کے بندے سلام ہو تجھ پر میں تعریف کرتا ہو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور اقرار کرتا ہوں تیری بات سننے اور اطاعت کرنے کا اللہ جل جلالہ کے حکم کے موافق اور اس کے رسول کی سنت کے موافق جہاں تک کہ مجھے قدرت ہے۔

Malik related to me from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar wrote to Abdul Malik ibn Marwan, making an oath of allegiance. He wrote, "In the name of Allah, the Merciful, the Compassionate. To the slave of Allah, Abdul Malik, the amir al-muminin, Peace be upon you. I praise Allah to you. There is no god but Him. I acknowledge your right to my hearing and my obedience according to the sunna of Allah and the sunna of His Prophet, in what I am able."

1700Mauwatta Imam Malik

بری بات چیت کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ کَافِرٌ فَقَدْ بَائَ بِهَا أَحَدُهُمَا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک کافر ہوگیا۔

Malik related to me from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If a man says to his muslim brother, O kafir! it is true about one of them."

1701Mauwatta Imam Malik

بری بات چیت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَکَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَکُهُمْ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو سنے کسی کو یہ کہتے ہوئے کہ لوگ تباہ ہوگئے تو وہ سب سے زیادہ تباہ ہے

Malik related to me from Suhayl ibn Abu Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you hear a man say, The people are ruined, he himself is the most ruined of them all."

1702Mauwatta Imam Malik

بری بات چیت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی تم میں سے زمانے کو برا نہ کہے کیونکہ اللہ خود زمانہ ہے۔

Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Let none of you complain about time, for Allah is time.

1703Mauwatta Imam Malik

بری بات چیت کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ لَقِيَ خِنْزِيرًا بِالطَّرِيقِ فَقَالَ لَهُ انْفُذْ بِسَلَامٍ فَقِيلَ لَهُ تَقُولُ هَذَا لِخِنْزِيرٍ فَقَالَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُعَوِّدَ لِسَانِي الْمَنْطِقَ بِالسُّوئِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سامنے ایک سور آیا راہ میں، آپ نے فرمایا چلا جا سلامتی سے، لوگوں نے کہا آپ سور سے اس طرح فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری زبان کو بری بات چیت کی عادت نہ ہوجائے۔

Malik related to me from Yahya ibn Said that Isa ibn Maryam encountered a pig on the road. He said to it, "Go in peace." Somebody asked, "Do you say this to a pig?" Isa said, "I fear lest I accustom my tongue to evil speech."

1704Mauwatta Imam Malik

بات سمجھ بو جھ کر کہنا۔

عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا کَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَکْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَی يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا کَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَکْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَی يَوْمِ يَلْقَاهُ

بلال بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی ایک بات کہہ دیتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے اللہ اپنی رضا مندی قیامت تک اس بندے سے لکھ دیتا ہے اور ایک ایسی بات کہتا ہے جس کو وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے قیامت تک اللہ اپنی نارا ضگی اس بندے کیلئے لکھ دیتا ہے۔

Malik related to me from Muhammad ibn Amr ibn Alqama from his father from Bilal (RA) ibn al-Harith al-Muzani that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A man speaks what is pleasing to Allah and he does not suspect that it will have the result that it does, and Allah will write for him His good pleasure for it until the day when he meets Him. And a man speaks what excites the wrath of Allah and he does not suspect that it will have the result that it does, and Allah will write His wrath for him for it until the day when he meets Him."

1705Mauwatta Imam Malik

بات سمجھ بو جھ کر کہنا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا فِي الْجَنَّةِ

ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ آدمی بےسمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جہنم میں جاتا ہے، آدمی بےسمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جنت میں جاتا ہے

Malik related to me from Abdullah ibn Dinar that Abu Salih as-Samman informed him that Abu Hurayra said, "Truly a man utters words to which he attaches no importance, and by them he falls into the fire of Jahannam, and truly a man utters words to which he attaches no importance, and by them Allah raises him into the Garden."

1706Mauwatta Imam Malik

بے ہودہ گوئی کی مذمت

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنْ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ لَسِحْرًا أَوْ قَالَ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ کَانَ يَقُولُ لَا تُکْثِرُوا الْکَلَامَ بِغَيْرِ ذِکْرِ اللَّهِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُکُمْ فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنْ اللَّهِ وَلَکِنْ لَا تَعْلَمُونَ وَلَا تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ النَّاسِ کَأَنَّکُمْ أَرْبَابٌ وَانْظُرُوا فِي ذُنُوبِکُمْ کَأَنَّکُمْ عَبِيدٌ فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًی وَمُعَافًی فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلَائِ وَاحْمَدُوا اللَّهَ عَلَی الْعَافِيَةِ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُرْسِلُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِهَا بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَتَقُولُ أَلَا تُرِيحُونَ الْكُتَّابَ

ز ید بن اسلم سے روایت ہے کہ دو آدمی پورب (مشرق) سے آئے انہوں نے خطبہ پڑھا لوگ سن کر فریفتہ ہوگئے آپ نے فرمایا بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں کہ مت باتیں کرو بےکار سوائے یاد الٰہی کے کہ کہیں سخت ہوجائیں دل تمہارے اور سخت دل دور ہے اللہ سے لیکن تم نہیں سمجھتے اور مت دیکھو دوسروں کے گناہ کو گویا تم رب ہو۔ اپنے گناہوں کو دیکھو اپنے تئیں بندہ سمجھ کر، کیونکہ لوگوں میں سب طرح کے لوگ ہیں بعض اچھے ہیں۔ تو رحم کرو بیماروں پر اور اللہ کا شکر کرو اپنی تندرستی پر۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عائشہ ؓ بعد نماز عشاء کے اپنے لوگوں سے کہلا بھیجتیں کیا اب بھی تم آرام نہیں دیتے لکھنے والے فرشتوں کو۔

Malik related to me from Zayd ibn Aslam that Abdullah ibn Umar said, "Two men from the east stood up and spoke, and people were amazed at their eloquence. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Some eloquence is sorcery, or he said, Part of eloquence is sorcery. "

1707Mauwatta Imam Malik

غبیت کا بیان

عَنْ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبَ الْمَخْزُومِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْغِيبَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَذْکُرَ مِنْ الْمَرْئِ مَا يَکْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ کَانَ حَقًّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُلْتَ بَاطِلًا فَذَلِکَ الْبُهْتَانُ

مطلب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے غیبت کس کو کہتے ہیں آپ نے فرمایا کسی کا حال ایسا بیان کرے جو اگر وہ سنے تو اس کو برا معلوم ہو، وہ بولا یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ سچ ہو آپ نے فرمایا اگر جھوٹ ہو تو وہ بہتان ہے۔

Malik related to me from al-Walid ibn Abdullah ibn Sayyad that al-Muttalib ibn Abdullah ibn Hantab al-Makhzumi informed him that a man asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "What is backbiting?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It is to mention about a man what he does not want to hear." He said, "Messenger of Allah! Even if it is true?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If you utter something false, then it is slander."

1708Mauwatta Imam Malik

زبان کے گناہ کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَی فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَا تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ أَيْضًا فَقَالَ الرَّجُلُ لَا تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ أَيْضًا ثُمَّ ذَهَبَ الرَّجُلُ يَقُولُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَی فَأَسْکَتَهُ رَجُلٌ إِلَی جَنْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ بچا دے دو چیزوں کی برائی سے وہ جنت میں جائے گا۔ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم کو نہیں بتاتے وہ دو چیزیں کیا ہیں؟ آپ چپ ہو رہے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص یہی بولا اور آپ چپ ہو رہے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص و ہی بولا یعنی آپ ہم کو نہیں بتاتے؟ پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص بولا آپ ہم کو نہیں بتاتے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص و ہی بولا جاتا تھا اتنے میں ایک دوسرے شخص نے اس کو چپ کرا دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے خود ہی فرمایا جس کو اللہ دو چیزوں کے شر سے بچا دے وہ جنت میں جائے گا ایک وہ جو اس کے دونوں جبڑوں کے بیچ میں ہے یعنی زبان دوسری وہ جو اس کے دونوں پاؤں کے بیچ میں ہے (شرم گاہ) تین بار آپ نے اس کو ارشاد فرمایا۔

Malik related to me from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whomever Allah protects from the evil of two things will enter the Garden." A man said, "Messenger of Allah, do not tell us!" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was silent. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, repeated what he had said the first time. The man said to him, "Do not tell us, Messenger of Allah! ﷺ " The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was silent. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said the same thing again. The man said, "Do not tell us, Messenger of Allah! ﷺ " Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said the same thing again. Then the man began to say what he had said previously and a man at his side silenced him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whomever Allah protects from the evil of two things will enter the Garden. They are what is between his jaws and what is between his legs, what is between his jaws and what is between his legs, what is between his jaws and what is between his legs."

1709Mauwatta Imam Malik

زبان کے گناہ کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ دَخَلَ عَلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَهْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ

اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر گئے ابوبکر کے پاس اور وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے حضرت عمر نے کہا ٹھہرو بخشے اللہ تم کو ابوبکر صدیق نے کہا اسی نے مجھ کو تباہی میں ڈالا ہے۔

Malik related to me from Zayd ibn Aslam from his father that Umar ibn al-Khattab came upon Abu Bakr (RA) as-Siddiq pulling his tongue. Umar said to him, "Stop, may Allah forgive you!" Abu Bakr (RA) replied, "This has brought me to dangerous places."

1710Mauwatta Imam Malik

دو آدمی ایک کو چھوڑے کر کانا پھوسی اور نہ سرگوشی نہ کریں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَةَ الَّتِي بِالسُّوقِ فَجَائَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ وَلَيْسَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الرَّجُلِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَجُلًا آخَرَ حَتَّی کُنَّا أَرْبَعَةً فَقَالَ لِي وَلِلرَّجُلِ الَّذِي دَعَاهُ اسْتَأْخِرَا شَيْئًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ

عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عمر خالد بن عقبہ کے گھر کے پاس تھے جو بازار کے ساتھ تھا عبداللہ بن عمر سے کان میں کچھ کہنا چاہا اور عبداللہ کے ساتھ سوائے میرے اور اس شخص کے جو کان میں کہنے کو آیا تھا اور کوئی نہ تھا عبداللہ بن عمر نے ایک اور شخص کو بلایا اب ہم چار آدمی ہوگئے پھر عبداللہ بن عمر نے مجھ کو اور چوتھے شخص کو کہا ذرا ہٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے اس سے تیسرے آدمی کو رنج ہوتا ہے۔

Malik related to me from Abdullah ibn Dinar saying, "Abdullah ibn Umar and I were at the house of Khalid ibn Uqba who was away at the market. A man came who wanted to speak to Abdullah ibn Umar and I was the only other person present Abdullah ibn Umar called another man so that we were four and said to me and the man whom he had called, Go a little way off together, because I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "Two do not converse secretly to the exclusion of another. "

1711Mauwatta Imam Malik

دو آدمی ایک کو چھوڑے کر کانا پھوسی اور نہ سرگوشی نہ کریں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو دو مل کر کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں تیسرے کو چھوڑ کر۔

Malik related to me from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Two must not converse secretly to the exclusion of another person."