کتاب مختلف بابوں کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 46 · 229 hadiths · Page 11 of 12

1712Mauwatta Imam Malik

سچ اور جھوٹ کا بیان۔

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکْذِبُ امْرَأَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا خَيْرَ فِي الْکَذِبِ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدُهَا وَأَقُولُ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا جُنَاحَ عَلَيْکَ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُقَالُ صَدَقَ وَبَرَّ وَكَذَبَ وَفَجَرَ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ مَا بَلَغَ بِكَ مَا نَرَى يُرِيدُونَ الْفَضْلَ فَقَالَ لُقْمَانُ صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَتُنْكَتُ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَسْوَدَّ قَلْبُهُ كُلُّهُ فَيُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الْكَاذِبِينَ

صفو ان بن سیلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول ﷺ سے کہا میں اپنی عورت سے جھوٹ بولوں آپ نے فرمایا جھوٹ بولنا اچھا نہیں ہے اور اس میں کچھ بھلائی و خیر نہیں ہے اور وہ شخص بولا میں اپنی عورت سے وعدہ کروں اور اس سے کہوں میں تیرے لئے یوں کر دوں گا یہ بنا دوں گا آپ نے فرمایا اس میں کچھ گناہ نہیں ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے لازم جانوں تم سچ بولنے کو کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ بتاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور بچو تم جھوٹ سے کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ بتاتا اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے کیا تم نے نہیں سنا لوگ کہتے ہیں فلاں نے سچ کہا اور نیک ہوا، جھوٹ بولا اور بدکار ہوا۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت لقمان سے کسی نے پوچھا کہ تم کو کس وجہ سے اتنی بزرگی حاصل ہوئی؟ لقمان نے کہا سچ بولنے سے امانت داری سے اور لغو کام چھوڑ دینے سے۔ عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے کہ ہمشہ آدمی جھوٹ بولا کرتا ہے پہلے اس کے دل میں ایک نکتہ سیاہ ہوتا ہے پھر سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے

Malik related to me from Safwan ibn Sulaym that a man asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "Can I lie to my wife, Messenger of Allah? ﷺ " The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "There is no good in lying." The man said, "Messenger of Allah! Shall I make her a promise and tell her?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It will not be held against you."

1713Mauwatta Imam Malik

سچ اور جھوٹ کا بیان۔

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ کَذَّابًا فَقَالَ لَا

صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ کیا مؤمن بودا بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر پوچھا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پوچھا کیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔

Malik related to me that Safwan ibn Sulaym said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was asked, Can the mumin be a coward? He said, Yes. He was asked, Can the mumin be a miser? He said, Yes. He was asked, Can the mumin be a liar? He said, No. "

1714Mauwatta Imam Malik

مال کو برباد کرنے کا (یعنی اسراف کا بیان) اور ذوالوجہین ( دوغلے) کا بیان

عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْضَی لَکُمْ ثَلَاثًا وَيَسْخَطُ لَکُمْ ثَلَاثًا يَرْضَی لَکُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَکُمْ وَيَسْخَطُ لَکُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَکَثْرَةَ السُّؤَالِ

ابو صالح سے روایت ہے ( انہوں نے ابوہریرہ ؓ سنا) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ خوش ہوتا ہے تین باتوں پر اور ناراض ہوتا ہے تین باتوں پر، خوش ہوتا ہے اس سے جو تم شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی کو، پکڑے رہو اللہ کی رسی کو یعنی قرآن کو) اور نصیب کرو اپنے حکم کو یعنی نیک باتیں اسے بتلاؤ اور بری باتوں سے بچاؤ اور ناراض ہوتا ہے بہت باتیں کرنے سے اور مال تلف کرنے سے یعنی بےجا خرچ کرنے سے اور بہت سوال کرنے سے۔

Malik related to me from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah is pleased with three things from you, and He is angry with three things from you. He is pleased that you worship Him and do not associate anything with Him, and that you take hold of the rope of Allah altogether, and that you give good counsel to the one to whom Allah gives command over you. He is angry with you for gossip, squandering property, and asking too many questions."

1715Mauwatta Imam Malik

مال کو برباد کرنے کا (یعنی اسراف کا بیان) اور ذوالوجہین ( دوغلے) کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہت برا سب آدمیوں میں ذوالوجہین ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے و ہاں انہی کی سی بات کہہ دے جب دوسرے گروہ میں آئے و ہاں ان کی بات کہے۔

Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "One of the most evil of people is the two-faced person who shows one face to these people and another face to those people."

1716Mauwatta Imam Malik

چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کا تباہ ہونا

عَنْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِکُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ

حضرت ام المومنین ام سلمہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم اس وقت بھی تباہ ہوں گے جب ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں جب گناہ بہت ہونے لگیں۔

Malik related to me that he had heard that Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Messenger of Allah! Shall we be destroyed while there are people who are salih among us?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Yes, if there is much wickedness."

1717Mauwatta Imam Malik

چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کا تباہ ہونا

عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ کَانَ يُقَالُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِذَنْبِ الْخَاصَّةِ وَلَکِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْکَرُ جِهَارًا اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ کُلُّهُمْ

عمر بن عبدالعزیز کہتے تھے کہ اللہ جل جلالہ کسی خاص شخصوں کے گناہ کے سبب عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہ کرے گا مگر جب گناہ کی بات اعلانیہ کی جائے گی تو سب عذاب کے مستحق ہوں گے۔

Malik related to me that Ismail ibn Abi Hakim heard Umar ibn Abdul Aziz say, "Some say that Allah the Blessed, the Exalted, will not punish the many for the wrong action of the few. However, when the objectionable action is committed openly, then they all deserve to be punished."

1718Mauwatta Imam Malik

اللہ سے ڈرنے کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّی دَخَلَ حَائِطًا فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ جِدَارٌ وَهُوَ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَخٍ بَخٍ وَاللَّهِ لَتَتَّقِيَنَّ اللَّهَ أَوْ لَيُعَذِّبَنَّکَ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو سنا اور میں ان کے ساتھ تھا آپ ایک باغ میں تھے اور میرے اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل تھی آپ فرماتے تھے واہ واہ اے خطاب کے بیٹے ڈر اللہ سے، نہیں تو اللہ عذاب کرے گا تجھ کو۔

Malik related to me from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik said, "I heard Umar ibn al-Khattab, when I was going out with him to visit an orchard, say to himself, and there was a wall between him and me and he was inside the garden, Umar ibn al-Khattab, amir al-muminin! Well done! Well done! By Allah, fear Allah or he will punish you. "

1719Mauwatta Imam Malik

اللہ سے ڈرنے کا بیان

عَنْ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَانَ يَقُولُ أَدْرَکْتُ النَّاسَ وَمَا يَعْجَبُونَ بِالْقَوْلِ قَالَ مَالِک يُرِيدُ بِذَلِکَ الْعَمَلَ إِنَّمَا يُنْظَرُ إِلَی عَمَلِهِ وَلَا يُنْظَرُ إِلَی قَوْلِهِ

قاسم بن محمد کہتے تھے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ باتوں پر فریفیہ نہیں ہوتے تھے۔

Malik said, "I heard that al-Qasim ibn Muhammad used to say, I have seen the people, (i.e. the companions), and they were not impressed by speech. " Malik said, "He meant that only action and deeds would be looked at, not words."

1720Mauwatta Imam Malik

بادل گر جنے کے وقت کیا کہنا چایے

عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ کَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَکَ الْحَدِيثَ وَقَالَ سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِکَةُ مِنْ خِيفَتِهِ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّ هَذَا لَوَعِيدٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ شَدِيدٌ

عامر بن عبداللہ بن زبیر جب گرج کی آواز سنتے تو بات کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے کہ پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی بیان کرتا ہے ایک فرشتہ جو مقرر ہے ابر (بادل) پر اس کی آواز ہے جو گرج معلوم ہوئی اور بیان کرتے ہیں فرشتے پاکی اس کی اس کے ڈر سے پھر کہتے تھے کہ یہ آواز زمین کے رہنے والوں کے واسطے سخت وعید ہے۔

Malik related to me that Amir ibn Abdullah ibn az-Zubayr would stop speaking when he heard thunder and say, "Glory be to Allah whom the thunder glorifies with His praise and the angels from the fear of Him." (Subhana-aladhee yusabihu ar-radu bi hamdihi wa malaikatu min khiyfatihi.) Then he would say, "This is a severe warning to the people of the earth."

1721Mauwatta Imam Malik

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ

حضرت ام المومینن عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں نے بعد آپ کی وفات کے چاہا کہ حضرت عثمان کو ابوبکر صدیق کے پاس بھجیں اور اپنا ترکہ طلب کریں تو حضرت عائشہ نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔

Malik related to me from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr from Aisha, umm al-muminin that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, died, the wives of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, wanted to send Uthman ibn Affan to Abu Bakr (RA) as-Siddiq to ask him about their inheritance from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace Aisha said to them, "Didnt the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, No one inherits from us. What we leave is sadaqa. "

1722Mauwatta Imam Malik

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دَنَانِيرَ مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے وارث ترکہ کو تقسم نہ کریں گے جو میں چھوڑ جاؤں اپنی بیبیوں کی خوراک کے اور عامل کے خرچ کے بعد وہ سب صدقہ ہے

Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "My inheritance is not divided up by the dinar. What I leave apart from the maintenance of my wives and provision for my servant is sadaqa."

1723Mauwatta Imam Malik

جہنم کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي يُوقِدُونَ جُزْئٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْئًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِيَةً قَالَ إِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْئًا

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ آدمیوں کی آگ جس کو وہ سلگاتے ہیں ایک جز ہے ستر جزوں میں سے جہنم کی آگ کا ( یعنی جہنم کی آگ میں اس آگ سے انہتر حصے زیادہ جلن اور تیزی ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ آگ دنیا ہی کی کافی تھی ( جلانے کو) آپ نے فرمایا وہ آگ اس آگ سے انہتر حصے زیادہ ہے۔

Malik related to me from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The fire of the children of Adam which they kindle is a seventieth part of the fire of Jahannam." They said, "Messenger of Allah, this fire is certainly enough." He said, "That fire is sixty-nine times greater."

1724Mauwatta Imam Malik

جہنم کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَتُرَوْنَهَا حَمْرَائَ کَنَارِکُمْ هَذِهِ لَهِيَ أَسْوَدُ مِنْ الْقَارِ وَالْقَارُ الزِّفْتُ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کیا تم جہنم کی آگ کو سرخ سمجھتے ہو جیسے دنیا کی آگ۔ وہ قار سے بھی زیادہ سیاہ ہے اور قار کو زفت کہتے ہیں۔ (تارکول)

Malik related to me from his paternal uncle Abu Suhayl ibn Malik from his father that Abu Hurayra said, "Do you think that it is red like this fire of yours? It is blacker than tar."

1725Mauwatta Imam Malik

صدقے کی فضیلت کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ کَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا کَانَ إِنَّمَا يَضَعُهَا فِي کَفِّ الرَّحْمَنِ يُرَبِّيهَا کَمَا يُرَبِّي أَحَدُکُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّی تَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ

سعد بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص حلال مال سے صدقہ دے اور اللہ جل جلالہ نہیں قبول کرتا مگر مال حلال کو تو وہ اس صدقے کو اللہ جل جلالہ کی ہتھلی میں رکھتا ہے اور پروردگار اس کو پرورش کرتا ہے جیسے کوئی تم میں سے پالتا ہے اپنے بھپیرے (اونٹ کے بچے کو) کو اور وہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔

Malik related to me from Yahya ibn Said from Abul-Hubab Said ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever gives sadaqa from good earning - and Allah only accepts the good - it is as if he placed it in the palm of the Merciful to raise it, as one of you raises his foal or young camel until it is like the mountain "

1726Mauwatta Imam Malik

صدقے کی فضیلت کا بیان

عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَائَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهِ وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ

انس بن مالک کہتے تھے کہ ابوطلحہ سب انصاریوں سے زیادہ مالدار تھے مدینے میں یعنی کھجور کے درخت سب سے زیادہ ان کے پاس تھے اور سب مالوں میں ان کو ایک باغ بہت پسند تھا جس کو بیر حاء کہتے تھے اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ ﷺ اس میں جایا کرتے تھے اور وہاں کا صاف پانی پیا کرتے تھے، حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری " لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ " 3۔ ال عمران: 92) یعنی تم نیکی کو نہ پہنچو گے جب تک کہ تم خرچ نہ کرو گے اس مال میں سے جس کو تم چاہتے ہو تو ابوطلحہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے ارشاد فرمایا ہے لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون اور مجھے اپنے سب مالوں میں بیر حاء پسند ہے وہ صدقہ ہے اللہ کی راہ میں اللہ سے اس کی بہتری اور جزاء چاہتا ہوں اور وہ بیر حاء ذخیرہ ہے اللہ کے پاس آپ نے فرمایا واہ واہ یہ مال تو بڑا اجر لانے والا ہے یا بڑے نفع والا ہے اور میں سن چکا ہوں جو تم نے اس مال کے بارے میں کہا ہے میرے نزدیک تم اس مال کو اپنے عزیزوں میں بانٹ دو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ بانٹ دوں پھر ابوطلحہ نے اس کو تقسیم کردیا اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں۔

Malik related to me that Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha heard Anas ibn Malik say, "Abu Talha had the greatest amount of property in palm-trees among the Ansar in Madina. The dearest of his properties to him was Bayruha which was in front of the mosque. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to go into it and drink from the pleasant water which was in it." Anas continued, "When this ayat was sent down You will not obtain rightness of action until you expend of what you love, (Sura 2 ayat l76), Abu Talha went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah! Allah, the Blessed, the Exalted, has said, "You will not obtain until you expend of what you love." The property which I love the best is Bayruha. It is sadaqa for Allah. I hope for its good and for it to be stored up with Allah. Place it wherever you wish, Messengerof Allah. " "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Well done! That is property which profits! That is property which profits. I have heard what you have said about it and I think that you should give it to your relatives. Abu Talha said, I will do it, Messenger of Allah! ﷺ Abu Talha therefore divided it among his relatives and the children of his paternal uncle."

1727Mauwatta Imam Malik

صدقے کی فضیلت کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْطُوا السَّائِلَ وَإِنْ جَائَ عَلَی فَرَسٍ

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو وسائل کو اگرچہ آئے وہ گھوڑے پر۔

Malik related to me from Zayd ibn Aslam that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Give to a beggar even if he comes on a horse."

1728Mauwatta Imam Malik

صدقے کی فضیلت کا بیان

و حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاکُنَّ أَنْ تُهْدِيَ لِجَارَتِهَا وَلَوْ کُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقًا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِسْكِينًا سَأَلَهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ وَلَيْسَ فِي بَيْتِهَا إِلَّا رَغِيفٌ فَقَالَتْ لِمَوْلَاةٍ لَهَا أَعْطِيهِ إِيَّاهُ فَقَالَتْ لَيْسَ لَكِ مَا تُفْطِرِينَ عَلَيْهِ فَقَالَتْ أَعْطِيهِ إِيَّاهُ قَالَتْ فَفَعَلْتُ قَالَتْ فَلَمَّا أَمْسَيْنَا أَهْدَى لَنَا أَهْلُ بَيْتٍ أَوْ إِنْسَانٌ مَا كَانَ يُهْدِي لَنَا شَاةً وَكَفَنَهَا فَدَعَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ كُلِي مِنْ هَذَا هَذَا خَيْرٌ مِنْ قُرْصِكِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ مِسْكِينًا اسْتَطْعَمَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَبَيْنَ يَدَيْهَا عِنَبٌ فَقَالَتْ لِإِنْسَانٍ خُذْ حَبَّةً فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَعْجَبُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَتَعْجَبُ كَمْ تَرَى فِي هَذِهِ الْحَبَّةِ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ

مالک، زید بن اسلم، عمرو بن معاذ اشہلی انصاری سے روایت ہے کہ ان کی دادی فرماتی تھیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اے مسلمان عورتو! نہ حقیر کرے کوئی تم میں سے کسی ہمسائی اپنی کو اگرچہ وہ ایک کھر بھیجے بکری کا جلا ہوا۔ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک فقیر آیا مانگتا ہوا اور آپ روزہ دار تھیں اور گھر میں کچھ نہ تھا سوائے ایک روٹی کے، آپ نے اپنی لونڈی سے کہا یہ روٹی فقیر کو دیدے وہ بولی آپ کے افطار کے لئے کچھ نہیں ہے آپ نے کہا دیدے لونڈی نے وہ روٹی فقیر کہ حوالے کردی شام کو ایک گھر سے حصہ آیا بکری کا گوشت پکا ہوا حضرت عائشہ نے لونڈی کو بلا کر کہا کھا یہ تیری روٹی سے بہتر ہے۔ امام مالک نے کہا کہ ایک مسکین نے سوال کیا حضرت عائشہ ؓ اور ان کے سامنے انگور رکھے تھے انہوں نے ایک آدمی سے کہا ایک دانا انگور کا اٹھا کر اس کو دے وہ شخص تعجب سے دیکھنے لگا حضرت عائشہ نے کہا ایک دانہ کئی ذروں کے برابر ہے اور ایک ذرے کا ثواب بھی ضائع نہ ہوگا۔

Malik related to me from Zayd ibn Aslam from Amr ibn Muadh al-Ashali al-Ansari that his grandmother said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, O trusting women! Let none of you despise giving to her neighbour even if it is only a roasted sheeps trotter.

1729Mauwatta Imam Malik

سوال سے بچنے کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّی نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ثُمَّ قَالَ مَا يَکُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْکُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَائً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے ان کو دیا پھر انہوں نے سوال کیا آپ ﷺ نے پھر دیا یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا تمام ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جہاں تک مال ہوگا میں تم سے دریغ نہ کروں گا لیکن جو سوال سے بچے گا تو اللہ بھی اس کو بچائے گا اور جو قناعت کر کے اپنی تونگری ظاہر کرے گا تو اللہ اس کو غنی کر دے گا اور جو صبر کرے گا اللہ اس کو صبر کی توفیق دے گا اور کوئی نعمت جو لوگوں کو دی گئی ہے صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ نہیں ہے

Malik related to me from Malik from Ibn Shihab from Ata ibn Yazid al-Laythi from Abu Said al-Khudri that some people of the Ansar asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he gave to them. Then they asked him again, and he gave to them until he used up what he had. Then he said, "What wealth I have, I will not hoard from you. Whoever has forbearance, Allah will help him. Whoever tries to be independent, Allah will enrich him. Whoever tries to be patient, Allah will give him patience, and no one is given a better or vaster gift than patience."

1730Mauwatta Imam Malik

سوال سے بچنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْکُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَی هِيَ السَّائِلَةُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ اس وقت منبر پر ذکر کرتے صدقے کا اور سوال سے بچنے کا اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے اور اوپر والا خرچ کرنیوالا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said from the mimbar when mentioning sadaqa and refraining from asking, "The upper hand is better than the lower hand. The upper hand is the one which expends, and the lower one is the one which asks."

1731Mauwatta Imam Malik

سوال سے بچنے کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعَطَائٍ فَرَدَّهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ رَدَدْتَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَيْرًا لِأَحَدِنَا أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا ذَلِکَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ فَأَمَّا مَا کَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ يَرْزُقُکَهُ اللَّهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَأْتِينِي شَيْئٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَخَذْتُهُ

عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر کے پاس کچھ مال بھیجا حضرت عمر نے اس کو پھیر دیا پوچھا تم نے کیوں پھیر دیا حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے حضرت عمر نے کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لونگا۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a gift to Umar ibn al-Khattab, and Umar returned it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Why did you return it?" He said, "Messenger of Allah, didnt you tell us that it is better for us not to take anything from anyone?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "That is by asking. Provision which Allah gives you is different from asking." Umar ibn al-Khattab said, "By the One in whose hand my self is, I will not ask anything from anyone, and anything that comes to me without my asking for it, I will accept."