عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُکُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَی ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْکُلُهُ وَجَعَلُوا يَذْکُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيکَ فَتَوَلَّی الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّکَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْکُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا قَالَ الْأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ مَالِک وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقُدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّی أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایک تم میں سے اپنی رسی میں لکڑی کا گٹھا باندھ کر اپنی پٹھے پر لادے تو وہ بہتر ہے اس سے کہ وہ اسے شخص کے پاس آئے جس کو اللہ نے مال دیا ہے اور اس سے مانگے وہ دے یا نہ دے۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ جو بنی اسد میں سے تھا کہ میں اور میرے گھر کے لوگ بقیع الغرقد میں اترے میری بی بی نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس جا اور کھانے کے لئے آپ سے کچھ مانگے اور اپنی محتاجی بیان کر تو میں رسول اللہ ﷺ کہ پاس گیا اور دیکھا کہ ایک شخص آپ ﷺ سے سوال کر رہا ہے اور آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں تجھ کو دوں وہ شخص غصے میں پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا قسم اپنی عمر کی تم اسی کو دیتے ہو جس کو چاہتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو وہ غصے ہوتا ہے اس بات پر کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں اس کو دوں جو شخص تم میں سے سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں یا اتنا مال ہو تو اس نے پلٹ کر سوال کیا میں نے کہا ایک اونٹ ہم کو بہتر ہے چالیس درہم سے پھر میں لوٹ آیا اور میں نے حضرت ﷺ سے کچھ سوال نہیں کیا بعد اس کے رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور خشک انگور آئے آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا یہاں تک کہ اللہ نے غنی کردیا ہم کو۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "By Him in whose hand myself is! To take your rope and gather firewood on your back is better for you than that you come to a man to whom Allah has given some of His favour and ask him, so he gives to you or refuses."
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ وَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا قَالَ الْأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ مَالِك وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that a man of the Banu Asad said, "My family and I dismounted to rest at Baqi. My family said to me, Go to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and ask him for something that we can eat, and they began to mention their need. I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and found that a man was asking for something, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was saying, I do not have anything to give you. The man turned away from him in anger, saying, By my life! You give to whomever you wish. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, He is angry with me because I do not have anything to give him. Whoever asks of you while he has an uqiya or its like, has asked with importunity. " The man continued, "I said to myself about a camel that we had, It is better than an uqiya. (Malik explained that an uqiya was forty dirhams.) So I returned and did not ask him for anything, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent me barley and raisins after that. He gave us from his share until Allah, the Mighty, the Majestic gave us relief."
و عَنْ مَالِك عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ عَبْدٌ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ قَالَ مَالِك لَا أَدْرِي أَيُرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا
علاء بن عبدالرحمن کہتا ہے کہ صدقہ دینے سے مال میں کمی و نقصان نہیں ہوا اور جو بندہ معاف کرتا رہتا ہے اس کی عزت زیادہ ہوتی ہے اور جو تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ اور بلند کردیتا ہے۔
Yahya related that Malik heard al-Ala ibn Abd ar-Rahman say, "Sadaqa does not decrease property, and Allah only increases a slave in worth for his restraint, and no slave is humble but that Allah raises him." Malik said, "I do not know whether this hadith goes back to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, or not."
عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ
امام مالک کو پنہچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ درست نہیں ہے صدقہ محمد ﷺ کی آل کو کیونکہ یہ میل ہے لوگوں کا۔
Yahya related to me from Malik that he heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Sadaqa to the family of Muhammad is not halal. It is only peoples impurities."
عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ إِبِلًا مِنْ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ وَکَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ تَحْمَرَّ عَيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ فَإِنْ مَنَعْتُهُ کَرِهْتُ الْمَنْعَ وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَسْأَلُکَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا
ابوبکر بن محمد، عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ ﷺ سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا) آپ غصے ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہوا اور آپ ﷺ کے غصے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ ﷺ کی سرخ ہوجاتیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بعض آدمی مانگتے ہیں مجھ سے جو لائق نہیں دیتا اس کو نہ مجھ کو اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی برا معلوم ہوتا ہے ( کیونکہ) سخاوت آپ ﷺ کی طبیعت خلقی تھی اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں وہ شخص بولا یا رسول اللہ اب میں کوئی چیز اس میں سے نہ مانگوں گا۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave a man from the Banu Abdul Ashal charge over some sadaqa. When he came to ask him for some camels from the sadaqa, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was so angry that the anger showed in his face. One way in which anger could be recognised in his face was that his eyes became red. Then he said, "This man has asked me for what is not good for me or him. If I refuse it, I hate to refuse. If I give it to him, I will give him what is not good for me or him." The man said, "Messenger of Allah! I will never ask you for any of it!"
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ ادْلُلْنِي عَلَی بَعِيرٍ مِنْ الْمَطَايَا أَسْتَحْمِلُ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْتُ نَعَمْ جَمَلًا مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ أَتُحِبُّ أَنَّ رَجُلًا بَادِنًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ غَسَلَ لَکَ مَا تَحْتَ إِزَارِهِ وَرُفْغَيْهِ ثُمَّ أَعْطَاکَهُ فَشَرِبْتَهُ قَالَ فَغَضِبْتُ وَقُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ أَتَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ أَوْسَاخُ النَّاسِ يَغْسِلُونَهَا عَنْهُمْ
اسلم عدوی سے عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ مجھے ایک اونٹ بتادے سواری کا میں اس کو حضرت عمر سے کہہ کر اپنی سواری کے لئے لے لوں گا میں نے کہا اچھا ایک اونٹ ہے صدقے کا عبداللہ بن ارقم نے کہا تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا شخص گرمی کے دنوں میں اپنی شرمگاہ اور چڈ سے دھو کر تمہیں وہ پانی دے اور تو اس کو پی لے، اسلم کہتے ہیں کہ مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا کہ اللہ تمہیں بخشے تم مجھ سے ایسی بات کہتے ہو عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ صدقہ بھی لوگوں کا میل ہے اور ان کا دھون ہے
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that his father said, "Abdullah ibn al-Arqam said, Show me a riding-camel which the amir al-muminim can give me to use. I said, Yes. One of the sadaqa camels. Abdullah ibn al-Arqam said, Would you want a stout man on a hot day to wash for you what is under his lower garment and its folds, and then give it to you to drink? I was angry and said, May Allah forgive you! Why do you say such things to me? Abdullah ibn al-Arqam said, Sadaqa is the impurities of people which they wash off themselves.
عَنْ لُقْمَانَ الْحَکِيمَ أَوْصَی ابْنَهُ فَقَالَ يَا بُنَيَّ جَالِسْ الْعُلَمَائَ وَزَاحِمْهُمْ بِرُکْبَتَيْکَ فَإِنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْقُلُوبَ بِنُورِ الْحِکْمَةِ کَمَا يُحْيِي اللَّهُ الْأَرْضَ الْمَيْتَةَ بِوَابِلِ السَّمَائِ
حضرت لقمان فرماتے تھے اپنے بیٹے سے (مرتے وقت اس بیٹے کا نام شکو تھا یا اسم) کہ اے میرے بیٹے عالموں کے پاس بیٹھا کر اور اپنے گھٹنے ان سے ملادے کیونکہ اللہ جل جلالہ جلاتا (آباد کرتا) ہے دلوں کو حکمت کے نور سے جیسے جلاتا (آباد کرتا) ہے مری ہوئی زمین کو بارش سے۔
Yahya related to me from Malik that he heard that Luqman al-Hakim made his will and counselled his son, saying, "My son! Sit with the learned men and keep close to them. Allah gives life to the hearts with the light of wisdom as Allah gives life to the dead earth with the abundant rain of the sky."
مظلوم کی بد دعا سے بچنے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ مَوْلًی لَهُ يُدْعَی هُنَيًّا عَلَی الْحِمَی فَقَالَ يَا هُنَيُّ اضْمُمْ جَنَاحَکَ عَنْ النَّاسِ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِکْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَی الْمَدِينَةِ إِلَی زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِکْ مَاشِيَتُهُ يَأْتِنِي بِبَنِيهِ فَيَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَتَارِکُهُمْ أَنَا لَا أَبَا لَکَ فَالْمَائُ وَالْکَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيَّ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ وَمِيَاهُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلَادِهِمْ شِبْرًا
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے مولیٰ کو جس کا نام ہنی تھا عامل مقرر کیا حمی پر (حمی وہ احاطہ ہے جہاں صدقے کے جانور جمع ہوتے ہیں) اور کہا کہ اے ہنی اپنا بازو روکے رہ لوگوں سے، ظلم مت کر کیونکہ مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور جس کے پاس تیس اونٹ ہیں یا چالیس بکریاں ان کو چرانے سے مت روک اور بچا رہ عثمان نعم بن عضان اور عبدالرحمن بن عوف کے جانوروں پر رعایت کرنے سے کیونکہ اگر ان کے جانور تباہ ہوجائیں گے تو وہ اپنے باغات اور کھتیوں میں چلے آئیں گے اور تیس اونٹ والا اور چالیس والا اگر تباہ ہوجائے گا تو وہ اپنی اولاد کو لے کر میرے پاس آئے گا اور کہے گا اے امیرالمومنین اے امیرالمومنیں پھر کیا میں ان کو چھوڑ دوں گا ان کی خبر گیری نہ کروں گا، تیرا باپ نہ ہو (یہ ایک بد دعا ہے عرب کے محاورے میں) پانی اور گھاس دینا آسان ہے مجھ پر سونا چاندی دینے سے قسم اللہ کی وہ جانتا ہے کہ میں نے ان پر ظلم کیا حالانکہ وہ ان کی زمین ہے اور انہی کا پانی ہے، جس پر لڑے زمانہ جاہلیت میں پھر مسلمان ہوئے اسی زمین اور پانی پر، قسم اللہ کی اگر یہ صدقہ کے جانور نہ ہوتے جو انہی کے کام میں آتے ہیں اللہ کی راہ میں تو ان کی زمین سے ایک بالشت بھر بھی نہ لیتا۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from his father that Umar ibn al-Khattab gave a mawla of his called Hunayy charge over the hima. He said, "Hunayy! Do not harm the people. Fear the supplication of the wronged, for the supplication of the wronged is answered. Let the one with a small herd of camels and the one with a small herd of sheep enter, but be wary of the livestock of Ibn Awf and the livestock of Ibn Affan. If their livestock are destroyed, they will return to palm-trees and agriculture. If the livestock of the one with a small herd of camels and the one with a small herd of sheep are destroyed, he will bring his children to me crying, Amir al-muminin! Amir al-Muminin! Shall I neglect them? Water and pasturage are of less value to me than gold and silver. By Allah, they think that I have wronged them. This is their land and their water. They fought for it in the jahiliyya and became muslims on it in Islam. By He in whose hand my self is! Were it not for the mounts which I give to be ridden in the way of Allah, I would not have turned a span of their land into hima."
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ناموں کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَائٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ
محمد بن جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں، محمد (بہت سراہا ہوا) احمد (سب مخلوقات سے زیادہ تعریف کے لائق) ماحی (کفر کو مٹانے والا) میرے ہاتھ سے اللہ کفر کو مٹائے گا اور حاشر سب کا حشر میرے قدم پر ہوگا، (پانچواں) عاقب ہے
Malik related to me from Ibn Shihab from Muhammad ibn Jubayr ibn Mutim that the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I have five names. I am Muhammad. I am Ahmad. I am al-Mahi (the effacer), by whom Allah effaces kufr. I am al-Hashir (the gatherer), before whom people are gathered. I am al-Aqib (the last)."