Al-Inshiqaaq 84:11

Al-Inshiqaaq · from ayah 11

84:11

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا ۟ۙفَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا

وہ موت کو پکارے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He will cry out for destruction

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:11

وہ موت کو پکارے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو وه موت کو بلانے لگے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ عنقریب موت مانگے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو وہ عنقریب موت کو پکارے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو عنقریب وہ بڑی ہلاکت کو پکارے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو وہ موت کی دہائی دے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو وہ (رہ رہ کر) پکارے گا موت کو

— مولانا اسحاق مدنی

تو اب وہ موت کی طلب کرے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ موت کو پکارے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

shall cry for “perdition,”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

he will pray for death,

— Muhammad Taqi Usmani

he will pray for death,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He will invoke destruction,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He will cry out for destruction

— Saheeh International

they will say, "Woe to us!"

— Muhammad Sarwar

He shall call for perdition,

— Muhammad Habib Shakir

He shall presently call for death,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 84:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–12

سورة الْاِنْشِقَاق 8 سورۃ الحاقۃ میں فرمایا گیا ہے کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اور یہاں ارشاد ہوا ہے کہ اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ غالباً اس کی صورت یہ ہوگی کہ وہ شخص اس بات سے تو پہلے ہی مایوس ہوگا کہ اسے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا، کیونکہ اپنے کرتوتوں سے وہ خوب واقف ہوگا اور اسے یقین ہوگا کہ مجھے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملنے والا ہے۔ البتہ ساری خلقت کے سامنے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال لیتے ہوئے اسے خفت محسوس ہوگی، اس لیے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کرلے گا۔ مگر اس تدبیر سے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنا کچا چٹھا اپنے ہاتھ میں لینے سے بچ جائے۔ وہ تو بہرحال اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–15

فسوف یدعوا ثبوراً یعنی جس کا اعمالنامہ اس کی پشت کی طرف سے اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ وہاں اس کی تمنا کرے گا کہ کاش وہ پھر مر کر مٹی ہوجائے اور عذاب سے بچ جائے گا مگر وہاں یہ ناممکن ہوگا بلکہ اس کہ جہنم میں داخل کردیا جائیگا، اس کی ایک وجہ یہاں یہ ارشاد فرمائی کہ وہ دنیا میں اپنے اہل و عیال میں آخرت سے بےفکر ہو کر مگن اور خوش رہا کرتا تھا، بخلاف مؤمنین کے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں کبھی بےفکری نہیں ہوتی، ہر عیش و راحت کے وقت بھی آخرت کی فکر ضرور لگی رہتی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے ان کا حال بیان فرمایا ہے۔ انا کنا قبل فی اھلینا مشفقین یعنی ہم تو اپنے اہل و عیال کیساتھ آخرت سے بےفکر ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 11–12

اوپر اہل ایمان کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کی طرف خوش خوش لوٹیں گے، اس کے ٹھیک مقابل میں ایک دوسرے گروہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ موت اور ہلاکت کی دہائی دیں گے۔ یعنی جس دوزخ میں وہ داخل ہوں گے اس سے نجات کی واحد شکل ان کو صرف یہ نظر آئے گی کہ موت آ کر ان کا خاتمہ کرے لیکن وہ بھی ان کی پرسان حال نہ بنے گی۔ اگرچہ ’یَدْعُوْا ثُبُوْرًا‘ کو بظاہر ’یَصْلٰی سَعِیْرًا‘ کے بعد آنا چاہیے لیکن بہ تقاضائے بلاغت مسبب کو سبب پر مقدم کر دیا ہے تاکہ سابق گروہ کی شادمانی اور اس دوسرے گروہ کی بدبختی و حرماں نصیبی دونوں کا ذکر ایک دوسرے کے بالمقابل ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–12

9۔ 1 یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہونگے۔ یا مراد وہ حور عین اور دلدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–16

5: سورة الحاقہ : 25 میں فرمایا گیا ہے کہ برے لوگوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں بھی پیچھے کی طرف سے دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–12

واما من .................................... سعیرا (10:84 تا 12) رہے وہ لوگجن کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا “۔ ایسے مناظر کی تصویر کشی اس سے قبل قرآن کریم میں اس طرح کی گئی ہے کہ کامیاب ہونے والوں کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اور اہل جہنم کا بائیں ہاتھ میں۔ لیکن یہاں کی تصویر ذرا مختلف ہے۔ یہاں تصویر میں نظر یوں آتا ہے کہ اہل جہنم کو ان کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا جارہا ہے۔ لہٰذا تصویر میں کوئی تضاد نہیں ہے بائیں ہاتھ میں پیچھے سے دیا جارہا ہے۔ یہ ایسے شخص کی تصویر ہے جو نامہ اعمال نہیں لینا چاہتا ہے ، وہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

آیت 1 1{ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُــبُوْرًا۔ } ”تو اب وہ موت کی طلب کرے گا۔“ اس وقت اس کی ایک ہی خواہش ہوگی کہ مجھے موت آجائے اور میں مر کر ختم ہو جائوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–12

8 بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ پکڑنے کے بعد اسے اپنا سارا انجام نظر آنے لگے گا لہذا وہ موت کو پکارے گا اور مرنے کی کوشش کرے گا مگر اسے موت کہاں میسر ہوگی۔ انسان اس دنیا میں مرنے پر مجبور ہے اس دنیا میں جینے پر مجبور ہوگا۔ وہ انہی خیالوں میں پڑا ہوگا کہ جہنم اسے اپنے قبضے میں لے لے گی اور وہ اس میں از خود گرپڑے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

6۔ (جیسا کہ دنیا میں بھی انسان انتہائی مصیبت کے وقت پکارتا ہے) (آیت) ” واما ..... ظہرہ “۔ ذکرکفار اہل جہنم کا ہورہا ہے، انہیں نامہ اعمال پشت کی طرف سے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–15

الی اھلہ مسروراً ” اہل “ سے مراد اہل خاندان دوست و احباب بھی مراد ہوسکتے ہیں جن کو حساب یسیر کے بعد چھوڑ دیا گیا ہوگا اور جنت میں ملنے والے حور و غلمان بھی مراد ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فسوف یدعوا ثبو را . ثبور کا معنی ہے ہلاکت یعنی وہ مرنے کی تمنا کریگا اور کہے گا : وائے موت (آ جا ! )

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–13

(10۔ 13) اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں ملے گا مثلا اسود بن عبدالاسد سو وہ موت کو پکارے گا اور جہنم میں داخل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فسوف یدعوا ثبوراً : یعنی عذاب کے ڈر سے ہلاکت کو پکارے گا، تاکہ وہ مر کر عذاب سے نجات پا جائے

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–12

واما من اوتی کتابہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ بصیر۔ واما من اوتی کتابہ وراء ظہرہ، فسوف یدعو ثبورا۔ ویصلی سعیرا۔ یہ آیت اسود بن عبدالاسد کے بارے میں نازل ہوئی جو ابوسلہم کا بھائی تھا یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے پھر یہ ہر مومن اور کافر کے بارے میں عام ہے حضرت ابن عباس نے کہا، وہ اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھائے گا تاکہ وہ اپنی کتاب لے تو فرشتے اسے کھینچے گا اور اس کا دایاں ہاتھ الگ کردے گا تو وہ اپنی کتاب بائیں ہاتھ میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے لے گا قتادہ اور مقاتل نے کہا، اس کے سینے کی ہڈیاں اور پسلیاں توڑ دی جائیں گی پھر اس کا ہاتھ داخل کیا جائے گا اور اس کی پیٹھ کے پیچھے سے نکالاجائے گا تو وہ اپنی کتاب اسی طرح لے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–15

30۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر اور بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واما من اوتی کتبہ وراء ظہرہ اور لیکن جس کو اعمال نامہ پیٹھ پیچھے دیا گیا۔ یعنی اس کا بایاں ہاتھ اس کے پیٹ پیچھے کردیا جائے گا۔ اور اس سے وہ اپنے اعمال نامہ کو لے گا۔ 31۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ ظن ان لن یحور بیشک اس نے سمجھ لیا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 32 عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 33۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان لن یحور یعنی وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 34 عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–12

﴿يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ ﴾ اس میں انسان کی زندگی کا حاصل اور خلاصہ بیان فرمایا دنیا میں رہتے بستے ہیں کچھ نہ کچھ محنت اور عمل کرتے ہی ہیں جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں فرشتے اسے لکھتے ہیں زندگی سب کی گزر رہی ہے اعمال بھی ہو رہے ہیں دنیا بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے قیامت قریب آتی جا رہی ہے مرنے والے مر رہے ہیں اپنے اعمال ساتھ لے جا رہے ہیں اسی طرح دنیا رواں دواں ہے حتیٰ کہ اچانک قیامت آجائے گی، پہلا صور پھونکا جائے گا، تو اس سے لوگ بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے۔ پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے میدان حشر میں جمع ہوں گے حساب ہوگا اعمال نامے دیئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–12

5:۔ ” فاما من اوتی “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ دنیا میں ایمان لائے اور نیک کام کیے قیامت کے دن ان کے اعمالنامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور ان کا حساب نہایت آسان ہوگا اور وہ خوش و خرم اور شاداں وفرحان جنت میں اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔ ” و اما من اوتی کتبہ وراء ظہرہ “ کفار و مشرکین کو ان کے اعمالنامے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور وہ ہلاکت و موت کی تمنا کریں گے تاکہ ان کو عذاب نہ ہو، لیکن ان کی یہ آرزو کبھی پوری نہیں ہوگی اور ان کو جہنم میں داخل کردیا جائیگا۔ ” وراء ظہرہ “ سے مراد یہ ہے کہ اس کا سینہ چیر کر اس کا بایاں ہاتھ پیٹ سے باہر نکال دیا جائے گا اور اس طرح بائیں ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–15

(آسمان پھٹ جائے گا) ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًا۝ 11 ۙ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–15

ترکیب ¦ انک الخ الجملۃ نداء الکدح السعی فی الشیء بحھدہ کدح ورزیدن وکار کردن و کوشش نمودن۔ دردی خراشیدن یقال بہ کدح وکدوح ای خدوش وفی الحدیث فی وجھہ کدوح وھو یکدح بعیالہ ای یکسب لھم از صراح فامامن فیہ معنی الشرط فسوف جو ابہ وینقلب معطوف علی یحاسب مسرورا حال وراء ظہرہ ظرف لاوتی لن یحور قال الراغب الاصفہانی الحور الترد فی الامرو محاورۃ الکلام مراجعۃ والمحارالمرجع۔ الحور الرجوع یقال حاریحورا اذا رجع ومنہ قولہ (علیہ السلام) اللھم انی اعوذبک من الحور بعد الکور یعنی من الرجوع الی انقصان بعد الزیادۃ بلٰی ایجاب للمنفی بلن اے بلی یحور۔ ان ربہ جواب قسم مقدر فالجملۃ تعلیل لما افادتہ بلی۔ تفسیر ¦ فقال یا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–12

وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰـبَہٗ وَرَآئَ ظَہْرِہٖ ۔ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُـبُوْرًا۔ وَّیَصْلٰے سَعِیْرًا۔ (الانشقاق : 10 تا 12) (رہا وہ شخص جس کا اعمال نامہ اس کے پیچھے ہی سے پکڑا دیا جائے گا۔ تو وہ موت کو پکارے گا۔ اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا۔ ) آخرت سے بےنیاز لوگوں کا انجام اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونے والے انسانوں میں دوسری قسم کے لوگ وہ ہوں گے جنھوں نے آخرت سے بالکل بےنیاز رہ کر زندگی گزاری۔ ان کی بدنصیبی کی علامت کے طور پر اور ان کے انجام کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے نامہ اعمال انھیں پیچھے سے پکڑا دیئے جائیں گے۔ اگرچہ اس آیت میں صراحۃً مذکور نہیں کہ پیچھے سے کس ہاتھ میں دیئے جائیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–12

فہم القرآن ربط کلام : انسان جب اپنے رب کے حضور پیش کیا جائے گا تو اس وقت اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ہر انسان اپنے اعمال نامے کے مطابق اپنے رد عمل کا اظہار کرے گا۔ جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے اہل خانہ کے پاس خوش وخرم جا کر کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ ہے اس کے بارے میں مجھے پہلے سے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ملنے والا ہے وہ بڑی عیش کی زندگی میں ہوگا اور اسے جنت عالیہ میں داخل کیا جائے گا۔ (الحاقہ : 19 تا 22) اور جس کو اس کے پیچھے سے اعمال نامہ دیا گیا وہ اپنی موت کو آواز دے گا لیکن اسے موت نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنت بڑی کامیابی : 1 1 : فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا (اور وہ موت کو پکارے گا) وہ کہے گا واثبو راہ ہائے میری ہلاکت ہائے میری ہلاکت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” فسوف یدعو ا ثبورا “ ویل اور ہلاکت کی آواز لاگئے گا جب اپنا نامہ اعمال پڑھے گا کہے گا اے ہلاکت اے بربادی ! اللہ تعالیٰ کے فرمان ” دعوا ھنالک ثبورا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًا) یعنی جب وہ اپنے اعمال بد جو اس نے دنیا میں آخرت کے لیے آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–12

(8) ناکام و نامراد لوگوں کا ذکرو بیان۔ والعیاذ باللہ : سو ناکام و نامراد لوگوں کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا تو وہ رہ رہ کر موت کو پکارے گا۔ اور اس کو دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، اور بہرحال داخل ہونا ہوگا اپنے کرتوتوں کی بنا پر، ایسے شخص کو چونکہ یہ اندازہ ہوچکا ہوگا کہ میرا نامہ اعمال مجھے دائیں ہاتھ میں ملے گا نہیں اس لیے وہ اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے کرلے گا تاکہ اس کو اس کا نامہ اعمال ملے ہی نہ، لیکن اس کی یہ تدبیر اس کو کچھ کام نہ آئے گی، بلکہ اس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے ہی اس کو تھما دیا جائے گا اس لیے ’ ’…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی عذاب کے ڈر سے ” ہائے موت ! ہائے موت ! “ پکارے گا تاکہ موت آئے اور وہ عذاب سے نجات پائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:11) فسوف یدعوا ثبورا۔ جواب شرط ہے۔جواب شرط کے لئے ہے سوف (ملاحظہ ہو 84:8 مذکورہ بالا) یدعوا مضارع واحد مذکر غائب باب نصر۔ مصدر سے۔ وہ پکارے گا۔ وہ بلائے گا۔ ثبورا۔ مفعول یدعوا کا۔ باب نصر۔ ثبر یثبر کا مصدر ہے بمعنی ہلاکت، بربادی، موت ، تو وہ موت کو پڑا پکارے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–14

آسان حساب کیسے ہوگا ؟ (ف 3) آسان حساب کی بابت مسند امام احمد، مستدرک حاکم، عبد بن حمید، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ عنہافرماتی ہیں میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ حضور آسانی سے حساب ہوجانے کی قیامت کے دن کیا صورت ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا آسانی سے حساب ہوجانے کی صورت یہ ہوگی کہ اللہ اپنے بندوں کے نامہ اعمال پر فقط نظر ڈالے گا اور درگذر فرماکرحساب میں زیادہ کریدنہ فرمائے گا، کیونکہ جس شخص کے حساب میں کریدنکالی جائے گی وہ ضرور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا، نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص میں یہ تین خصلتیں ہوں گی قیامت کے دن اس کا حساب آسانی سے ہوگا۔ ایک بدمزاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[3] یعنی پیٹھ کے پیچھے سے اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تاکہ اس کی اور اس کے اعمال کی نامبارکی اس برتاؤ ہی سے واضح ہوجائے۔ اگرچہ یہاں بائیں ہاتھ کا ذکر نہیں ہے لیکن قرینہ اس پر دلیل ہے کیونکہ نیک لوگوں کے نامہ اعمال کا ان کے داہنے ہاتھ میں دئیے جانے کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ نیز سورة الحاقہ میں واضح الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ مجرموں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے (آیت 52 صفحہ 4241) ۔ پیٹھ کے پیچھے سے دئیے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مجرموں کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–14

یعنی ساری زندگی میں انسان اس جدوجہد میں مبتلارہتا ہے کہ کسی خواہش و آرزو کے حصول میں کامیابی ہو اور کسی نہ کسی طریق سے اس کی محبتیں ٹھکانے لگیں ۔ دن رات دوڑ دھوپ کرتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمحہ بھی وہ فارغ نہیں ہے ۔ سو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن اس نصب العین تک رسائی ہونے کو ہے ۔ جس کے لئے اس عمر بھر سعی کی اور تگ ودو جاری رکھی ۔ مگر شرط کامرانی یہ ہے کہ یہ عمل پیہم ، یہ شوق وصال اور یہ تگ ودو واللہ کو پسند آجائے اور وہ ازراہ تکریم و اعزاز اعمالنامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیں ۔ ورنہ ہلاکت ہے ۔ اور جہنم کی آگ ہے اور یہ سارے اعمال بےکار اور اکارت ہیں ۔ حل لغات :۔ وحقت ۔ اور اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–16

ف 3۔ مراد اس سے کفار ہیں اور پشت کی طرف سے ملنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں گی تو بایاں ہاتھ بھی پشت کی طرف ہوگا۔ دوسری صورت مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ہاتھ پشت کی طرف نکال دیا جائے گا۔ کذا فی الدر المنثور۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس وہ موت کو خود اپنے منہ سے پکارے گا ۔ 11 ؎ (ثبورا) ہلاکت اور موت کو کہتے ہیں اور یہ ثبر یثثبر کا مصدر ہے۔ اس کا مادہ ث ب رہے۔ ( ثبورا) کا لفظ قرآن کریم میں 4 بار آیا ہے تین بار سورة الفرقان کی آیت 13 ، 14 میں اور ایک بار اس جگہ زیر نظ آیت میں اور اس مادہ کا ایک لفظ (مثبورا) کا استعمال سورة الاسراء کی آیت 102 میں ہوا ہے۔ فرمایا وہ لوگ جن کی پشت کے پیچھے سے ان کو اعمال نامہ پیش کیا جائے گا اور ان کے بائیں ہاتھ میں وہ تھما یا جائے گا وہ موت کو پکاریں گے اور واویلا کریں گے ، گال نوچیں گے اور بال کھوئیں گے اور اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی اور وہ موت کو پکاریں گے کہ کاش ہم کو موت آجائے لیکن موت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–12

فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ﴿7﴾ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ﴿8﴾ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا ﴿9﴾ (So, as for him whose book [ of deeds ] will be given to him in his right hand, he will be called to account in an easy manner, and he will go back to his people joyfully....7-9) This verse describes the condition of the believers. Their books of deeds will be given to them in their right hands. An easy reckoning will be taken from them and the welcome news of Paradise will be given to them. They will return to their families joyfully. It is reported in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

8 In Surah Al Haaqqah: 25, it was said that his record will be given him in his left hand but here "behind his back. ! This will probably be for the reason that he would already have lost aII hope that he would be given his record in his right hand, for he would be well aware of his misdeeds and sure to receive his record in his left hand. However, in order to avoid the humiliation of receiving it iu the left hand, in front of all mankind, he will withdraw his hand behind and so would receive it 'behind his back."

Read the full tafseer →