Al-Infitaar 82:8

Al-Infitaar · from ayah 8

82:8

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ ۟ؕفِىۡۤ اَىِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ

اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

In whatever form He willed has He assembled you.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Infitaar

All translations of 82:8

اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس صورت میں چاہا، اس نے تجھے جوڑ کر تیار کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس صورت میں بھی چاہا اس نے تجھے ترکیب دے دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس صورت میں بھی اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور) جس صورت میں بھی اس نے چاہا تمہیں جوڑ جاڑ کر تیار کردیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس شکل پر چاہا تجھے مشکل کردیا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس صورت میں چاہا اس نے تجھے جوڑ کر تیار کردیا

— مولانا اسحاق مدنی

(اور) جس صورت میں بھی چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جس شکل میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس صورت میں چاہا تمہیں جوڑ دیا

— محترمہ رفعت اعجاز

and set you in whatever form He pleased?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He composed you in whichever form He willed.

— Muhammad Taqi Usmani

He composed you in whichever form He willed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In whatever form He willed, He put you together.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Into whatsoever form He will, He casteth thee.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

In whatever form He willed has He assembled you.

— Saheeh International

in whatever composition He wanted.

— Muhammad Sarwar

Into whatever form He pleased He constituted you.

— Muhammad Habib Shakir

In whatsoever form He listed He constructed thee.

— Abdul Majid Daryabadi

In whatever Form He wills, does He put thee together.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 82:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–8

سورة الْاِنْفِطَار 4 یعنی اول تو اس محسن پروردگار کے احسان و کرم کا تقاضا یہ تھا کہ تو شکر گزار اور احسان مند ہو کر اس کا فرمانبردار بنتا اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم آتی، مگر اس دھوکے میں پڑگیا کہ تو جو کچھ بھی نا ہے خود ہی بن گیا ہے اور یہ خیال تجھے کبھی نہ آیا کہ اس وجود کے بخشنے والے کا احسان مانے۔ دوسرے، تیرے رب کا یہ کرم ہے کہ دنیا میں جو کچھ تو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ جونہی تجھ سے کوئی خطا سر زد ہو وہ تجھ پر فالج گرا دے یا تیری آنکھیں اندھی کر دے، یا تجھ پر بجلی گرا دے۔ لیکن تو نے اس کریمی کو کمزوری سمجھ لیا اور اس دھوکے میں پڑگیا کہ تیرے خدا کی خدائی میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–12

(آیت) فِيْٓ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَاۗءَ رَكَّبَكَ ، یعنی باوجود اس کے کہ تخلیق سب انسانوں کی ایک خاص وضع اور ہیت اور مزاج پر ہونے کی وجہ سے سب میں اشتراک ہے اس کا نتیجہ بظاہر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب ایک ہی شکل و صورت کے ہوتے باہمی امتیاز دشوار ہوجاتا، مگر حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ نے کروڑوں بلکہ اربوں پدموں انسانوں کی شکل و صورت میں ایسے امتیازات پیدا فرمادیئے جو ایک دوسرے سے مشتبہ نہیں ہوتے صاف اور نمایاں امتیاز رہتا ہے۔ انسان کی ابتدائی تخلیق کے یہ کمالات قدرت بیان فرما کر ارشاد فرمایا مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْم کہ اے غافل انسان جس پروردگار نے تیرے وجود میں ایسے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’فِیْ أَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ‘۔ یعنی ایک طرف تو اپنے رب کے اس اہتمام اور اس کی اس عنایت پر نظر کرو کہ اس نے ہر آدمی کے لیے الگ الگ شکل و صورت تجویز کی اور اپنے کمال قدرت سے جس کے لیے جو صورت پسند فرمائی اسی پر اس کو پیدا کر دیا۔ اس میں ذرا بھی اس کو مشکل پیش نہیں آئی۔ مجال نہیں کہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کے اندر سے بھی کوئی دو آدمی ایسے نکالے جا سکیں جو بالکل ایک ہی شکل و صورت کے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی قدرت و عنایت کا یہ حال ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک دن وہ تمہارے نیکوں اور بدوں میں امتیاز کرے اور اس کام کے لیے تمہیں وہ مرنے کے بعد اٹھائے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل کام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–14

7۔ 1 یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اس کے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔ 7۔ 2 یعنی تجھے ایک کامل انسان بنادیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل فہم رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–8

1: جو آگے بھیجا سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی شخص نے دنیا میں کرکے انہیں آخرت کے لئے آگے بھیج دیا، یعنی انہیں آخرت کا ذخیرہ بنالیا، اور جو پیچھے چھوڑا سے مراد وہ اعمال ہیں جو اسے کرنے چاہیں تھے، لیکن اس نے نہیں کئے اور دنیا میں چھوڑ آیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

الذی ........................ فعدلک (7:82) ” جس نے تمہیں پیدا کیا ، تمہیں نک سک سے درشت کیا اور متناسب بنایا “۔ اور یہ خطاب یایھا الانسان سے شروع کیا۔ مثلاً انسان کی قوت مدرکہ جو عقل میں ہے ، ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے ، اس قدر جانتے کہ یہ ادراک قوت عقلیہ کے ذریعے ہوتا ہے اور قوت عقلیہ ہی آلہ ادراک ہے۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے ، ہم نے اسے جانتے ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ اس قوت کا عمل ادراک کس طرح کام کرتا ہے۔ ہماری معلومات اور مدرکات کس طرح دماغ میں رہتی ہیں ، ہم بس اس قدر فرض کرلیتے ہیں کہ نہایت ہی لطیف دماغی اور اعصابی ریشوں کے ذریعہ یہ معلومات اور مدرکات ذہن اور عقل میں منتقل ہوتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی سب کی صورتوں میں تھوڑا بہت تفاوت رکھا۔ ہر ایک کو الگ صورت شکل اور رنگ روپ عنایت کیا اور بحیثیت مجموعی انسان کی صورت کو تمام جانداروں کی صورت سے بہتر بنایا۔ بعض سلف اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ وہ چاہتا تو تجھے گدھے، کتے، خنزیر کی شکل و صورت میں ڈال دیتا۔ باوجود اس قدرت کے محض اپنے فضل اور مشیت سے انسانی صورت میں رکھا۔ بہرحال جس خدا کی یہ قدرت ہو اور ایسے انعامات ہوں، کیا اس کے ساتھ آدمی کو یہ ہی معاملہ کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ رَکَّبَکَ۔ } ”پھر جس شکل میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔“ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی شکل اور اس کے مختلف اعضاء اپنی مرضی و مشیت کے مطابق بناتا ہے۔ ظاہر ہے اس معاملے میں کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں۔ اس موضوع کی مناسبت سے مجھے حضرت حسان بن ثابت رض کے نعتیہ اشعار یاد آگئے ہیں۔ آپ رض حضور ﷺ کی شان میں فرماتے ہیں : وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَائُ خُلِقْتَ مُبَرَّئً ‘ ا مِنْ کُلِّ عَیْبٍ کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَائُ ”آپ ﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ ﷺ سے بڑھ کر جمیل عورتوں نے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یعنی اس نے رحم مادر میں تجھے پیدا کیا تو یہ نہیں کیا کہ تمہاری ایک ٹانگ چھوٹی ہو اور دوسری بڑی۔ یا ناک کا ایک نتھنا لمبوترا ہو اور دوسرا چپٹا ہو۔ بلکہ تیرے سب اعضاء متوازن بنائے۔ اسی ایک بات سے ان لوگوں کے نظریہ کی تردید ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ انسان از خود بنا ہے اور یہ سب فطرت کے اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اندھی فطرت یا اتفاقات میں اتنا شعور ہے کہ انسان کے اعضاء کی تخلیق میں اس قدر یکسانیت اور موزونیت کا لحاظ رکھ سکے ؟ پھر اس نے اعضاء کی تخلیق کے بعد تم میں وہ قوتیں اور استعدادیں پیدا کیں جو تمہاری زندگی کے لیے ضروری تھیں۔ پھر ہر انسان کو الگ الگ شکل و صورت عطا کی اور وہ شکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–8

4۔ انسان کی خلقت و ترکیب، اور پھر اس کے مختلف ومتضاد قوی میں ترتیب وتناسب، صفات قدرت وصنعت و حکمت کا بہترین نمونہ ہے۔ اور قرآن مجید نے اس حیثیت سے انہیں بار بار پیش کیا ہے۔ (آیت) ” ماشآء “ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کی صورت و سیرت جو کچھ ہے، تمامتر اللہ کے اپنے ارادہ ومشیت کا نتیجہ ہے، باہر سے کوئی قوت اللہ کے ارادہ کو مجبور یا متاثر کرنے والی نہیں۔ (آیت) ” ای صورۃ ماشآء “۔ ای کے بعد ما تاکید کلام کے لیے ہے۔ مامزیدۃ للتوکید (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–19

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فی ای صوررۃ ما شاء رکبک . صورۃٍ میں تنوین تنکیر ہے اور تنکیر کی تاکید کے لیے مَا : کو لایا گیا ہے اور تنکیر اس جگہ مفید تکثیر ہے یعنی جس جس صورت میں چاہا تم کو جوڑ دیا۔ مجاہد ‘ کلبی اور مقاتل نے کہا : باپ ‘ یا ماں ‘ یا ماموں ‘ یا چچا کی۔ غرض جس کی شکل چاہی دے دی۔ حدیث میں آیا ہے جب نطفہ رحم میں ٹھہرتا ہے تو اس سے لے کر آدم تک سب (صورتوں) کو سامنے لایا جاتا ہے ‘ پھر حضور ﷺ نے آیت : فی ای صورۃٍ ماشاء رکبک تلاوت فرمائی۔ اس حدیث کو ابن جریر اور طبرانی نے موسیٰ بن علی بن رباح کے سلسلہ سے ضعیف سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔ عدلک کا بیان ہے اسی لیے دونوں جملوں کے درمیان حرف عاطف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–12

(5۔ 6) اے کافر ! مثلا کلاہ بن اسید تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ کفر کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے جس نے تجھ کو نطفہ سے پیدا کیا اور پھر تیری ماں کے پیٹ میں تیرے اعضاء کو درست کیا اور پھر معتدل القامت بنایا، پھر جس صورت میں چاہا تجھ کو پیدا کردیا یا یہ اچھی بری صورت میں بنا دیا اور اگر وہ چاہتا تو بندر اور سور کی شکل میں بنا دیتا مگر تم جزا و سزا کے دن ہی کو جھٹلاتے ہو اور ہم نے تمہارے اوپر تمہاری نگرانی اور تمہارے اعمال لکھنے کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں وہ اللہ کے ہاں معزز اور تمہارے تمام اقوال و افعال سے باخبر ہیں۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ (الخ) ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

(کلا بل تکذبون بالدین : یعنی دھوکا کھانے کا سبب یہ نہیں کہ تمہیں رب کریم کی مہربانیوں پر بہت اعتماد ہے، بلکہ یہ باطل خیال ہے کہ ہمیں نہ دوبارہ زندہ ہونا ہے اور نہ اعمال کا بدلا ملنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام بد اعمالیوں کا اصل سبب روز جزا کو جھٹلانا ہے اور اسی کو تم جھٹلا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

الذی خلقک فسواک فعدلک۔ ایک نطفہ سے تیری خلقت کو مقدر کیا، تجھے تیری ماں کے پیٹ میں درست کیا، تیرے لیے دوہاتھ، دو پاؤں، دو آنکھیں اور باقی اعضاء بنائے، تجھے متعدل اور مناسب ڈھانچے والا بنایا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ھذا شی معدل یہ چیزموزوں ہے، یہی عام قراء کی قرات ہے، یہ ابوعبید اور ابوحاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے، فراء نے کہا، ابوعبید کہا کرتے تھے اس تعبیر پر اللہ تعالیٰ کا فرمان، لقدخلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ التین) دلالت کرتا ہے ہم نے انسان کو حسین پیکر میں بنایا، کوفہ کے قرائ، عاصم، حمزہ، اور کسائی نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی جس صورت میں چاہا اسے پھیر دیا خوبصورت، بدصورت، لمبا،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

صورت گری کی کیفیت 18۔ البخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر وابن شاہین وابن قانع الطبرانی وابن مردویہ نے موسیٰ بن علی بن رباح (رح) کے طریق سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا تیری اولاد نہیں ؟ عرض کیا یارسول اللہ ! قریب ہے کہ میرے ہاں اولاد پیدا ہوجائے وہ لڑکا یا لڑکی فرمایا وہ کس کے مشابہ ہوگا۔ عرض کیا یارسول اللہ ! قریب ہے کہ وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے مشابہ ہوگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس کی موت کے وقت تو اس بات کو نہیں کہے گا۔ کیونکہ نطفہ جب رحم میں قرار پذیر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ تعالیٰ اس کے ہر نسب کو اس کے اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان حاضر کردیتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فِيْٓ اَيِّ صُوْرَةٍ : جس صورت میں ][ مَا : جو (جیسا)][ شَاۗءَ : اس نے چاہا ][ رَكَّبَكَ : اس نے ترتیب دیا تجھ کو ] نوٹ۔ 5: آیت۔ 8 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ تخلیق سب انسانوں کی ایک خاص وضع اور ہیئت پر ہونے کی وجہ سے سب میں اشتراک ہے، اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ سب ایک ہی شکل و صورت کے ہوتے، مگر حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ نے کروڑوں بلکہ اربوں انسانوں کی شکل و صورت میں ایسے امتیازات پیدا فرما دئیے جو ایک دوسرے کے مشابہ نہیں ہوتے بلکہ صاف اور نمایاں امتیاز رہتا ہے۔ (معارف القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–8

ان آیات میں انسان کو اس کا حال بتایا ہے اور اسے توجہ دلائی ہے کہ وہ خالق ومالک کی طرف متوجہ ہو۔ انسان کچھ بھی نہیں تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے اسے پیدا فرمایا، وجود بخشا اس کے جسم کو نہایت عمدہ ترتیب کے ساتھ ٹھیک بنایا اور اپنی حکمت کے مطابق جس صورت میں چاہا ڈھال دیا، انسان اپنے اختیار سے نہ پیدا ہوا نہ قد کی درازی میں اسے کوئی دخل ہے نہ موٹا پتلا ہونے میں نہ حسین و قبیح ہونے میں، وہ جس صورت اور حالت میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے ہر شخص اپنی اپنی صورت میں چلتا پھرتا ہے اسی کی طرف متوجہ رہنا اور اسی کا بھیجا ہوا دین قبول کرنا اور اسی کے احکام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے اب انسانوں میں بہت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

3:۔ ” یا ایہا الانسان “ یہ زجر ہے۔ اے انسان تجھے اپنے رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے کہ تو اس کے احکام سے غافل ہو کر عصیان و طغیان پر کمر بستہ ہوچکا ہے وہ نہایت مہربان اور بخشش کرنے والا ہے۔ اس نے تجھے پیدا کیا، ہر عضو کو صحیح سالم بنایا اور تمام اعضاء کو متناسب بنا کر قد و قامت، نقش و نگار اور حسن و جمال کے جس مرتبہ میں چاہا تجھے ڈھالا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور اس کی شان کریمی پر تمہیں مغرور ہو کر اس کی اطاعت سے تجھے غافل نہیں ہوجانا چاہئے بلکہ اس کی نعمتوں کا شکر کرنا اور اس کی عبادت وطاعت کو اپنا شعار زندگی بنانا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

(قیامت سب سے بڑا حادثہ ہوگا) تخلیق کائنات کی ابتداء سے لے کر اب تک جتنے واقعات پیش آچکے ہیں یا آئند ہ پیش آنے والے ہیں۔ ان میں قیامت کا واقعہ سب سے بڑا ہوگا۔ اسی قیامت کو القارعۃ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک حادثہ ہوگا جو کھٹکا دینے والا ہوگا۔ قیامت کا ایک نام واقعہ بھی ہے۔ کہ ایک واقعہ پیش آنے والا ہے۔ جب کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ اس طرح اسے الطامۃ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ یعنی سب سے زوردار حادثہ یا ہنگامہ تو گویا ان سورتوں میں مختلف اشیاء پر قیامت کے اثرات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ ہر شخص محاسبے کے لیے تیار رہے۔ (قرآن کریم کے ساتھ ربط) قرآن کریم کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فِيْٓ اَيِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَاۗءَ رَكَّبَكَ۝ 8 ۭ أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–12

ترکیب ¦ الکریم صفۃ اولی للرب الذی الخ صفۃ ثانیۃ مقررۃ للربوبیۃ مبنیۃ للکرم فسواک فعدلک عطف صلۃ الذی ای خلقک فی ای صورۃ الجار متعلق برکبک وما مزیدۃ وشاء صفۃ لصورۃ ای رکبک فی ای صورۃ شاء ھا وقیل یتعلق مجذوف علی انہ حال ای رکبک حاصلا فی ای صورۃ شاء ھا وانما لم یعطف الجملۃ ما قبلہا لانھا بیان لعدلک وان علیکم خبران لحافظین اسمھا کراما صفۃ للحافظین وکذا کاتبین وکذایعلمون وقیل ھذا حال من الکاتبین فان مع اسمھا و خبرہا وصفات الاسم جملۃ اسمیۃ فی محل النصب علی الحال من فاعل تکذبون ای تکذبون والحال ان علیکم من یردتکذیبکم وقیل مستانفۃ مسوقۃ لبیان ما یبطل تکذیبھم۔ تفسیر ¦ جب یہ حالت ہے کہ ایک روز قیامت آنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰ کَ فَعَدَلَـکَ ۔ فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّاشَآئَ رَکَّبَکَ ۔ (الانفطار : 7، 8) (جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے، پھر تجھے متناسب بنایا۔ پھر جس شکل میں چاہا تجھے جوڑ کر یتار کردیا۔ ) اللہ تعالیٰ کا اپنی بعض صفات سے استدلال اللہ تعالیٰ نے اس غلط فہمی کے تدارک کے لیے اپنی چند صفات کا ذکر فرمایا ہے جس کا تعلق انسان کی خلقت سے ہے۔ کہنا یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی شان کریمی سے جو دھوکا ہوا ہے اور تم نے اسے کمزوری پر محمول کیا ہے۔ اگر تم اپنی خلقت پر غور کرتے اور اپنے وجود کا تجزیہ کرتے تو تمہیں یہ غلط فہمی کبھی نہ ہوتی۔ تمہارا وجود خود بتارہا ہے کہ یہ نہ آپ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–12

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں تک ان کے اعمال نامے پہنچنے کے بعد ہر شخص کو رب کریم کا خطاب۔ جب تمام لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں اعمال نامے تھما دیئے جائیں گے تو پھر ایک مرحلہ ایسا آئے گا۔ جب رب کریم پورے جلال کے ساتھ ان لوگوں کو مخاطب فرمائیں گے۔ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اس کے فرامین سے روگردانی کی ہوگی۔ ہر مجرم یہی سمجھے گا کہ رب ذوالجلال صرف مجھے ہی مخاطب کر رہا ہے اس لیے خطاب ہوگا کہ اے مجرم انسان ! تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ نہ تو نے اپنے رب کی کرم نوازیوں کا شکر ادا کیا اور نہ ہی اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : فِیْ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآ ئَ رَکَّبَکَ (جس صورت میں چاہا تجھ کو ترتیب دے دیا) نحو : ماؔ تاکید کیلئے زائد ہے۔ یعنی جس صورت میں اس کی مشیت نے چاہا تمہیں حسن، قبح، طول و قصر کی مختلف صورتوں میں جوڑ دیا۔ یہ جملہ ماقبل پر معطوف نہیں جیسا کہ ماقبل کا جملہ معطوف تھا۔ کیونکہ یہ عدلکؔ کا بیان ہے اور جار مجرور کا تعلق رکبکؔ سے ہے اس معنی میں کہ تمہیں بعض صورتوں میں رکھ کر اختیار دے دیا۔ یا محذوف سے متعلق ہے ای رکبک حاصلافی بعض الصور۔ تمہیں جوڑا اس حالت میں کہ اس سے کئی شکلیں بن گئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” فی ای صورۃ ماشاء رکبک “ مجاہد ، کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں باپ یا ماں یا ماموں یا چچا میں سے جس کی مشابہت میں اور حدیث میں آیا ہے نطفہ جب رحم میں قرار حاصل کرتا ہے تو اس کے اور ابن آدم کے درمیان ہر رگ حاضر جاتی ہے۔ پھر پڑھا ” فی ای صورۃ ماشاء رکبک “ اور فراء اور زجاج رحمہما اللہ نے ایک دوسرا قول ذکر کیا ہے ” فی ای صورۃ ماشاء رکبک “ یا لمبا یا چھوٹا یا حسین یا اس کے علاوہ۔ عکرمہ اور ابو صالح رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” فی ای صورۃ ماشاء رکبک “ اگر چاہا تو انسان کی صورت میں اور اگر چاہا تو جانور کی صورت میں یا کسی دوسرے حیوان کی صورت میں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس لیے فرمایا (فِيْٓ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَاۗءَ رَكَّبَكَ ) جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(7) صورت گری کی رحمت و عنایت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے جس صورت میں چاہا تجھے بنادیا "۔ جس میں اس کی بےپایاں قدرت اور بےنہایت رحمت و حکمت کے مظاہر با بجا چمکتے اور جھلکتے نظر آتے ہیں، اور اتنے اور اس قدر کہ انسان ضعیف البنیان اس کے احاطہ وبیان سے عاجزو قاصر ہے۔ اور پھر لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں کی تعداد میں پیدا ہونے والے انسانوں کے درمیان صورت و سیرت اور ظاہر و باطن کے اعتبار سے ایسے ایسے امتیازات رکھ دیئے کہ پوری دنیا میں کوئی بھی دو انسان ایسے نہیں مل سکیں گے جو اپنے ظاہر و باطن ہر لحاظ سے ایک برابر اور یکساں ہوں، سو یہ قدرت کا وہ عظیم الشان کرشمہ ہے کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

قیامت کا نقشہ تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(82:8) فی ای صورۃ ما شاء رکبک۔ یہ کلام عدلک کا بیان ہے اس لئے اس کو کسی کی طرف معطوف نہیں کیا گیا اور دونوں جملوں کے درمیان حرف عطف نہیں لایا گیا۔ صورۃ میں تنوین تنکیر ہے اور تنکیر کی تاکید میں ما کو لایا گیا ہے اور اس جگہ تنکیر مفید تکثیر ہے یعنی جس جس صورت میں چاہا تمہیں جوڑ دیا۔ الذی سے لے کر رکبک تک پورا کلام ربک کی دوسری صفت ہے جس سے رب کی ربوبیت کا ثبوت اور کریم کے کرم کی وضاحت ہو رہی ہے اور اس بات پر تنبیہ بھی ہے کہ جو خدا اول تخلیق میں ایسے ایسے کام کرسکتا ہے وہ دوسری تخلیق پر بھی قادر ہے اس سے مخالفت کفران کی تاکید اور غرور و کفران پر زجر کرنی بھی مقصود ہے کیونکہ جس کی شان ایسی ہو اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–12

انسان کی پیدائش اور حشر کا ذکر۔ (ف 1) یعنی زمین پر کے سب سمندر شریں وشور مل کر ایک ہوجائیں اور قبریں پھٹ جائیں گی اور ان میں سے مردے زندہ کر کے نکالے جائیں گے اس وقت ہر نفس اپنے اعمال خیر وشر جان لے گا جو اس نے زندگی میں کیے ہوں گے کہ میں نے نیک عمل و بدعمل کیا بھیجا اور کیا چھوڑا اور توبہ اور نیک عمل کو پست پشت ڈالنے کا ثمرہ بھی معلوم ہوجائے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائیں گے اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست ونابود تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا، برابھلا دیکھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[4] یعنی اس نے ہر آدمی کے لئے الگ الگ شکل وصورت تجویز کی۔ مجال نہیں کہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کے اندر سے کوئی دو آدمی ایسے نکالے جائیں جو بالکل ایک ہی شکل و صورت کے ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–9

تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟ 1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) نیز جس صورت میں چاہا تجھ کو ترکیب دے دیا۔ یعنی ایسا کریمجس نے تجھ کو نیستی سے وجود بخشا نیست سے ہست کیا پھر تیری ساخت اور بناوٹ میں دوسرے حیوانات سے خاص امتیاز رکھا کائنات میں تیرا نقشہ تمام مخلوق سے بہتر بنایا تیرے اعضا کو درست کیا ہرچیز کو ایک ایسے موقع سے رکھاجس موقع کے وہ چیز قابل تھی پھر تیری ہرچیز میں اعتدال رکھا۔ جیسا حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ٹھیک کیا بدن میں برابر کیا خصلت میں۔ یعنی تمام اخلاط میں اعتدال رکھا جمے ہوئے خون سے جو لوتھڑا بنایا اس لوتھڑے کو جو ایک گلی کی شکل میں تھا اس گلی کو درست کیا پھر اس سے جو اعضا پھوٹے اور نکلے وہ نہایت تناست سے نکلے پھر جس صورت میں چاہا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–19

ف 1۔ یعنی باوجود اشتراک خلق و تسویہ و تعدیل کے پھر الگ الگ طور پر پیدا کیا، ماغرک سے پہلے معاد کا اور اس کے بعد مبدا کا ذکر اشارہ ہے کہ گو امر مانع اغترار ہو پھر بھی غرور سے باز نہیں آتا اور کریم کی صفت میں تلقین حجت نہیں، بلکہ تقویت ہے مانع کی یعنی کریم ہونا مقتضی ہے کہ اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا 8 ؎ وہ صورت جو انفرادی طور پر ہر ایک فرد کو دی گئی یا وہ شکل و صورت جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو بخشی جیسے دوسری مخلوق کو جسا چاہا ان کی شکل و صورت بنا دی لیکن جو بنایا بلاشبہ خوب بنایا ۔ انسان کے لے دونوں طرح سے جو صورت فی نفسہٖ انسان کو بخشی خوب بخشی اور اسی طرح ہر انسان کی انفرادی طور پر جو شکل و صورت بنائی وہ بھی خوب بنائی کہ آج تک کس شخص کو اس میں کسی کمی بیشی کا احساس تک نہ ہوا کہ اگر انسان کی شکل و صورت اس طرح ہوتی تو زیادہ بہتر اور زیادہ اچھا لگتا اور اس طرح انسان کے سوا جو مخلوق بنائی سب کے متعلق یہی حقیقت ہے کہ کسی ایک مخلوق کی ترکیب و ہیئت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–12

فِي أَيِّ صُورَ‌ةٍ مَّا شَاءَ رَ‌كَّبَكَ (He composed you in whichever form He willed....82:8). This is to indicate that since the basic structure of all human beings is the same, it was expected that the zillions of members of the human society would have shared the same shape, size and features, but the perfect mastery and the wonderful acumen of the Supreme Creator has created them so differently that each one of them has its own unique features that make him clearly distinct from all others, and no one is confused with another. Having stated the creative acumen of the Great Creator, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–8

4 That is, "In the first place, the bounty and favour of your Beneficent Sustainer required that you should have acknowledged his bounties and become an obedient servant and should have felt shy of disobeying Him, but you were deluded into thinking that you have become whatever you are by your own effort, and you never thought that you should acknowledge that favour of Him Who gave you life. Secondly, it is your Lord's bounty and kindness that you can freely do whatever you like in the world and it never so happens that whenever you happen to commit an error, He should punish you with…

Read the full tafseer →