Explained with ayahs 1–12
اور قبریں پھوٹ پریں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
سورة الْاِنْفِطَار 4
یعنی اول تو اس محسن پروردگار کے احسان و کرم کا تقاضا یہ تھا کہ تو شکر گزار اور احسان مند ہو کر اس کا فرمانبردار بنتا اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم آتی، مگر اس دھوکے میں پڑگیا کہ تو جو کچھ بھی نا ہے خود ہی بن گیا ہے اور یہ خیال تجھے کبھی نہ آیا کہ اس وجود کے بخشنے والے کا احسان مانے۔ دوسرے، تیرے رب کا یہ کرم ہے کہ دنیا میں جو کچھ تو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ جونہی تجھ سے کوئی خطا سر زد ہو وہ تجھ پر فالج گرا دے یا تیری آنکھیں اندھی کر دے، یا تجھ پر بجلی گرا دے۔ لیکن تو نے اس کریمی کو کمزوری سمجھ لیا اور اس دھوکے میں پڑگیا کہ تیرے خدا کی خدائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(آیت) يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ ، اس سے پہلی آیات میں معاد اور انجام یعنی قیامت کے ہولناک معاملات کا ذکر فرمایا، اور اس آیت میں انسان کے مبدا یعنی تخلیق کے ابتدائی مراحل کا ذکر فرمایا، اس مجموعہ کا تقاضا یہ تھا کہ انسان کچھ بھی غور وفکر سے کام لیتا تو اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لانا اور انکے احکام کی سرموخلاف ورزی نہ کرتا مگر انسان غفلت اور بھول میں پڑگیا اس پر بطور زجر و تنبیہ کے یہ سوال فرمایا کہ اے انسان تیری ابتداء و انتہا کے یہ حالات سامنے ہونے کے باوجود تجھے کس چیز نے بھول اور دھوکے میں ڈالا کہ اللہ کی نافرمانی کرنے لگا۔
یہاں بیان مبدا یعنی تخلیق انسانی کے ابتدائی مراحل کے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا حوالہ جو جزا پر دلیل ہیں:
یہ رب کریم نے اپنی بعض ان صفات کا حوالہ دیا ہے جو خود انسان کی خِلقت کے اندر ظاہر ہیں اور جو دلیل ہیں کہ جس رب نے انسان کے پیدا کرنے میں اپنی کاریگری، حکمت، قدرت اور اہتمام خاص کی شانیں دکھائی ہیں اس نے اس کو عبث نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ شتر بے مہار کی طرح چھوٹا پھرے۔ بلکہ ایک دن وہ لازماً اس کو اپنے حضور میں بلائے گا، اس کا محاسبہ فرمائے گا، پھر جن کو وہ اپنا فرماں بردار پائے ان کو ابدی رحمتوں سے نوازے گا اور جو اس کے باغی ہوں گے ان کو جہنم میں جھونک دے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ سارا اہتمام بالکل بے معنی و بے مقصد ہو جاتا ہے جو انسان کے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
7۔ 1 یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اس کے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔
7۔ 2 یعنی تجھے ایک کامل انسان بنادیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل فہم رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
1: جو آگے بھیجا سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی شخص نے دنیا میں کرکے انہیں آخرت کے لئے آگے بھیج دیا، یعنی انہیں آخرت کا ذخیرہ بنالیا، اور جو پیچھے چھوڑا سے مراد وہ اعمال ہیں جو اسے کرنے چاہیں تھے، لیکن اس نے نہیں کئے اور دنیا میں چھوڑ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
الذی ........................ فعدلک (7:82) ” جس نے تمہیں پیدا کیا ، تمہیں نک سک سے درشت کیا اور متناسب بنایا “۔ اور یہ خطاب یایھا الانسان سے شروع کیا۔
مثلاً انسان کی قوت مدرکہ جو عقل میں ہے ، ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے ، اس قدر جانتے کہ یہ ادراک قوت عقلیہ کے ذریعے ہوتا ہے اور قوت عقلیہ ہی آلہ ادراک ہے۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے ، ہم نے اسے جانتے ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ اس قوت کا عمل ادراک کس طرح کام کرتا ہے۔
ہماری معلومات اور مدرکات کس طرح دماغ میں رہتی ہیں ، ہم بس اس قدر فرض کرلیتے ہیں کہ نہایت ہی لطیف دماغی اور اعصابی ریشوں کے ذریعہ یہ معلومات اور مدرکات ذہن اور عقل میں منتقل ہوتی ہیں۔…
Read the full tafseer →3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ٹھیک کیا بدن میں برابر کیا خصلت میں " یا یہ مطلب ہے کہ تیرے اعضاء کے جوڑ بند درست کئے اور حکمت کے موافق ان میں تناسب رکھا۔ پھر مزاج و اخلاط میں اعتدال پیدا کیا۔
Read the full tafseer →آیت 7{ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰٹکَ فَعَدَلَکَ۔ } ”جس نے تمہیں تخلیق کیا ‘ پھر تمہارے نوک پلک سنوارے ‘ پھر تمہارے اندر اعتدال پیدا کیا۔“
اللہ تعالیٰ نے تمہارے قوائے جسمانی اور قوائے نفسیاتی میں ہر طرح سے اعتدال اور توازن پیدا کیا ہے۔ گویا تمہاری تخلیق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کی مظہر ہے۔ تمہاری تخلیق کے اندر توازن اور خوبصورتی کا یہ پہلو گویا اس حقیقت پر گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں عدل و اعتدال کو پسند فرماتا ہے اور یہ کہ وہ تم انسانوں کے ساتھ آخرت میں بھی عدل و انصاف کا معاملہ فرمائے گا ‘ تاکہ گناہگاروں کو قرار واقعی سزا مل سکے اور نیکوکار اپنی نیکیوں کا پورا پورا بدلہ پائیں۔ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7 یعنی تجھ پر مہربانیاں کرنے والے پروردگار کی مہربانیوں کا تقاضا یہ تھا کہ تو اس کا احسان مند ہوتا اور اس کا فرمانبردار بن کر رہتا مگر تو اس دھوکے میں پڑگیا کہ تو جو کچھ بنا ہے از خود ہی بن گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی تیرے رب کا کرم ہے کہ تو جو کچھ چاہے کرتا رہتا ہے اور وہ فوری طور پر تم پر کوئی عذاب نازل نہیں کردیتا۔ گویا تو نے اپنے رب کی مہربانیوں کو کمزوری پر محمول کیا اور اسی دھوکے میں پڑگیا کہ تیرے رب کی مملکت میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ حالانکہ وہ صرف کریم ہی نہیں بلکہ وہ عادل بھی ہے اور قہار اور جبار بھی ہے وہ پکڑتا دیر سے ہے مگر اس کی گرفت اتنی ہی شدید ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4۔ انسان کی خلقت و ترکیب، اور پھر اس کے مختلف ومتضاد قوی میں ترتیب وتناسب، صفات قدرت وصنعت و حکمت کا بہترین نمونہ ہے۔ اور قرآن مجید نے اس حیثیت سے انہیں بار بار پیش کیا ہے۔ (آیت) ” ماشآء “ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کی صورت و سیرت جو کچھ ہے، تمامتر اللہ کے اپنے ارادہ ومشیت کا نتیجہ ہے، باہر سے کوئی قوت اللہ کے ارادہ کو مجبور یا متاثر کرنے والی نہیں۔ (آیت) ” ای صورۃ ماشآء “۔ ای کے بعد ما تاکید کلام کے لیے ہے۔ مامزیدۃ للتوکید (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…
Read the full tafseer →الذی خلقک . جس نے تجھے اوّل مٹی سے بنایا ‘ پھر نطفہ سے جب کہ پہلے کچھ بھی نہ تھا (یعنی حضرت آدم کو مٹی سے اور ان کی نسل کو نطفہ سے بنایا) ۔
فسواک . پھر اس نے تجھ کو پورے درست اعضاء والا آدمی بنا دیا۔ تخلیقی درستی کا یہ معنی ہے کہ اعضاء کو درست بنایا اور اس قبل کردیا کہ وہ اپنے اپنے فرائض ادا کرسکیں۔
فعدلک . تجھے موڑا اور جس صورت کی طرف چاہا پھیر دیا یا دوسرے حیوانوں کی خلقی صورت و طبیعت سے پھیر دیا۔ یہاں تک کہ تو سب سے جدا اور ممتاز ہوگیا یا بعض اجزاء کی طبیعت کو بعض کی طرف موڑ کر اعتدال پیدا کردیا۔ صفراء کی حرارت اور خشکی کو بلغم کی سردی اور رطوبت سے توڑ دیا اور سوداء کی خشکی و برودت کو خون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
(5۔ 6) اے کافر ! مثلا کلاہ بن اسید تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ کفر کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے جس نے تجھ کو نطفہ سے پیدا کیا اور پھر تیری ماں کے پیٹ میں تیرے اعضاء کو درست کیا اور پھر معتدل القامت بنایا، پھر جس صورت میں چاہا تجھ کو پیدا کردیا یا یہ اچھی بری صورت میں بنا دیا اور اگر وہ چاہتا تو بندر اور سور کی شکل میں بنا دیتا مگر تم جزا و سزا کے دن ہی کو جھٹلاتے ہو اور ہم نے تمہارے اوپر تمہاری نگرانی اور تمہارے اعمال لکھنے کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں وہ اللہ کے ہاں معزز اور تمہارے تمام اقوال و افعال سے باخبر ہیں۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ (الخ)
ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →(الذی خلقک فسوئک…:) وہ تجھے بےڈھب بنا سکتا تھا، بندر، خنزیر یا کوئی اور جانور بھی بنا سکتا تھا۔ اتنی اچھی ترکیب سے جب پہلے بنادیا تو جزائے اعمال کے لئے دو بارہ کیوں نہیں بنا سکتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
الذی خلقک فسواک فعدلک۔ ایک نطفہ سے تیری خلقت کو مقدر کیا، تجھے تیری ماں کے پیٹ میں درست کیا، تیرے لیے دوہاتھ، دو پاؤں، دو آنکھیں اور باقی اعضاء بنائے، تجھے متعدل اور مناسب ڈھانچے والا بنایا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ھذا شی معدل یہ چیزموزوں ہے، یہی عام قراء کی قرات ہے، یہ ابوعبید اور ابوحاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے، فراء نے کہا، ابوعبید کہا کرتے تھے اس تعبیر پر اللہ تعالیٰ کا فرمان، لقدخلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ التین) دلالت کرتا ہے ہم نے انسان کو حسین پیکر میں بنایا، کوفہ کے قرائ، عاصم، حمزہ، اور کسائی نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی جس صورت میں چاہا اسے پھیر دیا خوبصورت، بدصورت، لمبا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
13۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت یا ایہا الانسان ما غرک بربک الکریم اے انسان تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے مغرور کردیا اور فرمایا اللہ کی قسم غرہ کا معنہ ہے کس نے اسے جاہل رکھا۔
14۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الانسان ماغرک سے ابی بن خلف مراد ہے۔
15۔ عبد بن حمید نے صالح بن مسمار (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ آیت یا ایہا الانسان ماغرک بربک الکریم تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ کس چیز نے انسان کو جاہل بنا رکھا ہے۔
16۔ ابن ابی شیبہ نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[الَّذِي خَلَقَكَ : وہ جس نے پیدا کیا تجھ کو ][ فَسَوّٰىكَ : پھر اس نے نوک پلک درست کی تیری ][ فَعَدَلَكَ : پھر اس نے متناسب کیا تجھ کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ان آیات میں انسان کو اس کا حال بتایا ہے اور اسے توجہ دلائی ہے کہ وہ خالق ومالک کی طرف متوجہ ہو۔ انسان کچھ بھی نہیں تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے اسے پیدا فرمایا، وجود بخشا اس کے جسم کو نہایت عمدہ ترتیب کے ساتھ ٹھیک بنایا اور اپنی حکمت کے مطابق جس صورت میں چاہا ڈھال دیا، انسان اپنے اختیار سے نہ پیدا ہوا نہ قد کی درازی میں اسے کوئی دخل ہے نہ موٹا پتلا ہونے میں نہ حسین و قبیح ہونے میں، وہ جس صورت اور حالت میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے ہر شخص اپنی اپنی صورت میں چلتا پھرتا ہے اسی کی طرف متوجہ رہنا اور اسی کا بھیجا ہوا دین قبول کرنا اور اسی کے احکام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے اب انسانوں میں بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
بسم اللہ الرحمن الرحیم :
سورة الانفطار :
حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت :
سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ،
سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3:۔ ” یا ایہا الانسان “ یہ زجر ہے۔ اے انسان تجھے اپنے رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے کہ تو اس کے احکام سے غافل ہو کر عصیان و طغیان پر کمر بستہ ہوچکا ہے وہ نہایت مہربان اور بخشش کرنے والا ہے۔ اس نے تجھے پیدا کیا، ہر عضو کو صحیح سالم بنایا اور تمام اعضاء کو متناسب بنا کر قد و قامت، نقش و نگار اور حسن و جمال کے جس مرتبہ میں چاہا تجھے ڈھالا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور اس کی شان کریمی پر تمہیں مغرور ہو کر اس کی اطاعت سے تجھے غافل نہیں ہوجانا چاہئے بلکہ اس کی نعمتوں کا شکر کرنا اور اس کی عبادت وطاعت کو اپنا شعار زندگی بنانا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(قیامت سب سے بڑا حادثہ ہوگا)
تخلیق کائنات کی ابتداء سے لے کر اب تک جتنے واقعات پیش آچکے ہیں یا آئند ہ پیش آنے والے ہیں۔ ان میں قیامت کا واقعہ سب سے بڑا ہوگا۔ اسی قیامت کو القارعۃ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک حادثہ ہوگا جو کھٹکا دینے والا ہوگا۔ قیامت کا ایک نام واقعہ بھی ہے۔ کہ ایک واقعہ پیش آنے والا ہے۔ جب کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ اس طرح اسے الطامۃ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ یعنی سب سے زوردار حادثہ یا ہنگامہ تو گویا ان سورتوں میں مختلف اشیاء پر قیامت کے اثرات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ ہر شخص محاسبے کے لیے تیار رہے۔
(قرآن کریم کے ساتھ ربط)
قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ 7
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
سوا ( مساوات برابر)
الْمُسَاوَاةُ : المعادلة المعتبرة بالذّرع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
ترکیب ¦ الکریم صفۃ اولی للرب الذی الخ صفۃ ثانیۃ مقررۃ للربوبیۃ مبنیۃ للکرم فسواک فعدلک عطف صلۃ الذی ای خلقک فی ای صورۃ الجار متعلق برکبک وما مزیدۃ وشاء صفۃ لصورۃ ای رکبک فی ای صورۃ شاء ھا وقیل یتعلق مجذوف علی انہ حال ای رکبک حاصلا فی ای صورۃ شاء ھا وانما لم یعطف الجملۃ ما قبلہا لانھا بیان لعدلک وان علیکم خبران لحافظین اسمھا کراما صفۃ للحافظین وکذا کاتبین وکذایعلمون وقیل ھذا حال من الکاتبین فان مع اسمھا و خبرہا وصفات الاسم جملۃ اسمیۃ فی محل النصب علی الحال من فاعل تکذبون ای تکذبون والحال ان علیکم من یردتکذیبکم وقیل مستانفۃ مسوقۃ لبیان ما یبطل تکذیبھم۔
تفسیر ¦ جب یہ حالت ہے کہ ایک روز قیامت آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰ کَ فَعَدَلَـکَ ۔ فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّاشَآئَ رَکَّبَکَ ۔ (الانفطار : 7، 8)
(جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے، پھر تجھے متناسب بنایا۔ پھر جس شکل میں چاہا تجھے جوڑ کر یتار کردیا۔ )
اللہ تعالیٰ کا اپنی بعض صفات سے استدلال
اللہ تعالیٰ نے اس غلط فہمی کے تدارک کے لیے اپنی چند صفات کا ذکر فرمایا ہے جس کا تعلق انسان کی خلقت سے ہے۔ کہنا یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی شان کریمی سے جو دھوکا ہوا ہے اور تم نے اسے کمزوری پر محمول کیا ہے۔ اگر تم اپنی خلقت پر غور کرتے اور اپنے وجود کا تجزیہ کرتے تو تمہیں یہ غلط فہمی کبھی نہ ہوتی۔ تمہارا وجود خود بتارہا ہے کہ یہ نہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں تک ان کے اعمال نامے پہنچنے کے بعد ہر شخص کو رب کریم کا خطاب۔
جب تمام لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں اعمال نامے تھما دیئے جائیں گے تو پھر ایک مرحلہ ایسا آئے گا۔ جب رب کریم پورے جلال کے ساتھ ان لوگوں کو مخاطب فرمائیں گے۔ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اس کے فرامین سے روگردانی کی ہوگی۔ ہر مجرم یہی سمجھے گا کہ رب ذوالجلال صرف مجھے ہی مخاطب کر رہا ہے اس لیے خطاب ہوگا کہ اے مجرم انسان ! تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ نہ تو نے اپنے رب کی کرم نوازیوں کا شکر ادا کیا اور نہ ہی اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کی…
Read the full tafseer →منکرین کو خطاب :
7 : الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰکَ فَعَدَ لَکَ (جس نے تجھ کو بنایا پھر تیرے اعضاء کو درست کیا۔ پھر تجھے اعتدال پر بنایا) اس کا کرم تو دیکھ کہ اس نے تجھ پر بنانے کا احسان فرمایا اور تسویہ و تعدیل جیسے احسان عظیم فرمائے۔ آپ ﷺ سے مروی ہے کہ جب آپ نے اس آیت کو پڑھا فرمایا۔ غرہ جھلہ (رواہ ابو عبید فی فضائل القرآن حاشیہ کشاف) اس کی جہالت نے اسے دھوکا میں رکھا۔
قو لِ عمر۔ :
غرہ حمقہ یعنی اس کی حماقت نے اسے دھوکہ میں رکھا۔ نمبر 2۔
قول حسن۔ :
غرہ شیطانہ یعنی اس کے شیطان نے اسے دھوکہ میں ڈالا۔ نمبر 3۔ قول فضیل (رح) ۔ اگر مجھے خطاب کیا جاتا تو میں کہتا تیری ستاری کے لٹکتے ہوئے پردوں نے۔…
Read the full tafseer →آیت یایھا الانسان ماغرک بربک الکریم کا شان نزول
6 ۔” یایھا الانسان ما غرک بربک الکریم “ جو دھوکہ دیا اور تیرے لئے باطل کو مزین کیا حتیٰ کہ تو نے وہ رکھ دیا جو تجھ پر واجب تھا اور معنی یہ ہے کہ کون سی چیز تجھے اس کے عقاب سے امن دے گی ؟ عطائؒ فرماتے ہیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں الوالشریق کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس نے نبی کریم ﷺ کو مارا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر عقاب نہیں کیا تو یہ آیت نازل کی۔ فرمایا کس چیز نے تجھے تیرے کریم رب سے دھوکہ میں ڈال دیا جب اس نے تجھے جلدی تیرے کفر کی وجہ سے عتاب نہیں کیا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کو اس کے دشمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اللہ تبارک وتعالی اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ (يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ ) اے انسان، تجھے اپنے رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکا دیا ؟ کیا تمہاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یاس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یاس کی جزا وسزا پر تمہاری عدم ایمان کی بنا پر ؟ کیا وہ ہستی (الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ ) جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا (فعدلک) اس نے تجھے درست اور متعدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیت میں ُ یدا کیا تب کیا تمہارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور…
Read the full tafseer →(5) اللہ تعالیٰ نعمت تخلیق کا حوالہ و ذکر : سو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے حوالہ و ذکر کے سلسلے میں سب سے پہلے نعمت خلق و ایجاد کی تزکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے تجھے پیدا کیا، اور تجھے نیست سے ہست کیا "۔ اور تجھے وجود کی اس نعمت سے سرفراز فرمایا جو کہ دوسری تمام نعمتوں کے لیے اصل اور اساس کی حیثیت رکھتی ہے، اس طرح یہ اس کا تجھ پر ایک بےپایاں کرم و احسان ہے، جس سے اس نے تجھے نوازا، اور محض اپنے فضل وکرم سے نوازا ہے، ورنہ اس کے لیے نہ تیرا کوئی استحقاق تھا اور نہ ہی تیری طرف سے اس کے لیے کسی طرح کی کوئی اپیل و درخواست تھی۔ بلکہ یہ سب کچھ اس کے فضل و کرم اور انعام و احسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کا نقشہ
تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الانفطار۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی متناسب اعضاء دیئے یہ نہیں کہ ایک ٹانگ لمبی دی اور دوسری چھوٹی یا ایک آنکھ بڑی دی اور دوسری چھوٹی شاہ صاحب فرماتے ہیں : ” یعنی ٹھیک کیا بدن میں برابر کیا (خوبصورتی کے ساتھ بنایا) خصلت میں “ موضح)
Read the full tafseer →(82:7) الذی خلقک : الذی اسم موصول خلق ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ اس کا صلہ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ جس نے تجھے پیدا کیا۔ یہ رب کی صفت ثانیہ ہے یا الکریم صفت ہے رب کی۔ اور الذی خلقک فسوک فعد لک فی ای صورۃ ماشاء رکبک اس کی کرم نوازیاں ہیں۔
فسوکعاطفہ ہے اور سوک کا عطف خلقک پر ہے پھر اس نے تجھ کو برابر کیا پورا پورا بنایا۔ سوی تسویۃ (تفعیل) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (س و ی مادہ) تسویہ کے معنی کسی چیز کے پستی یا بلندی میں برابر بنانے کے ہیں۔
یہاں مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہارے اعضاء کو درست بنایا اور اس قابل کردیا کہ وہ اپنے اپنے فرائض بخوبی ادا کرسکیں ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم
تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
انسان کی پیدائش اور حشر کا ذکر۔
(ف 1) یعنی زمین پر کے سب سمندر شریں وشور مل کر ایک ہوجائیں اور قبریں پھٹ جائیں گی اور ان میں سے مردے زندہ کر کے نکالے جائیں گے اس وقت ہر نفس اپنے اعمال خیر وشر جان لے گا جو اس نے زندگی میں کیے ہوں گے کہ میں نے نیک عمل و بدعمل کیا بھیجا اور کیا چھوڑا اور توبہ اور نیک عمل کو پست پشت ڈالنے کا ثمرہ بھی معلوم ہوجائے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائیں گے اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست ونابود تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا، برابھلا دیکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[4] یعنی اس نے ہر آدمی کے لئے الگ الگ شکل وصورت تجویز کی۔ مجال نہیں کہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کے اندر سے کوئی دو آدمی ایسے نکالے جائیں جو بالکل ایک ہی شکل و صورت کے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟
1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں…
Read the full tafseer →(7) وہ پروردگار جس نے تجھ کو بنایا پھر تجھ کو درست کیا اور تیری بناوٹ میں ایک خاص تناسب و اعتدال رکھا۔
Read the full tafseer →جس ذات نے تجھے پیدا کیا پھر درست کیا پھر مناسب قوتیں بخشیں
7 ؎ کیا تو نہیں جانتا کہ تریا پیدا کرنے والا ، تجھے درست کرنے والا اور تھے معتدل غافر بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں سے تجھے اپنا شاہکار قرار دیا ہے اور تیری خاطر اس پوری دنیا کا نظام بنایا اور پھر چلایا اور چلائے ہی چلا جا رہا ہے۔ اگر وہ تجھے اشرف المخلوقات نہ بناتا بلکہ اونٹ ، گھوڑا اور گدھا بنا دیتا تو آخر تو اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ جن عناصر سے اللہ نے تجھے بنایا کس طرح ان میں عدل رکھ دیا اور پھر سارے عناصر اپنا اپنا کام کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ تو ہی تو وہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ (0 man! at has deceived you about your Gracious Lord...82:6) The opening of the Surah mentions the violent events that will take place at the end of this worldly life, and the current set of verses reminds us of the inceptive stages of our creation. The sum total of the verses purport to say that if man had considered carefully, he would have believed in Allah and His Messenger ﷺ ، and he would not have deviated a hair's breadth from Divine injunctions, but he slumped into heedlessness and forgetfulness. In the present verse, he is reprimanded by a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
4 That is, "In the first place, the bounty and favour of your Beneficent Sustainer required that you should have acknowledged his bounties and become an obedient servant and should have felt shy of disobeying Him, but you were deluded into thinking that you have become whatever you are by your own effort, and you never thought that you should acknowledge that favour of Him Who gave you life. Secondly, it is your Lord's bounty and kindness that you can freely do whatever you like in the world and it never so happens that whenever you happen to commit an error, He should punish you with…
Read the full tafseer →