82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsسراج البیان

Ayahs 82:1–9

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جب ستارے جھڑ پڑیں

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جب دریا بہہ چلیں

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جب قبریں اٹھائی جائیں

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

اس وقت ہر نفس معلوم کرلے گا جو آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا ہے

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان کس چیز نے تجھ کو تیرے رب کریم کی نسبت فریب دیا ؟

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

جس نے تجھے پیدا کیا پھر تجھے درست کیا پھر برابر کیا

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

ہرگز نہیں بلکہ تم انصاف کے دن کو جھٹلاتے (ف 1) ہو

تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟ 1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ کیا وہ لوگ جنہوں نے اپنی جان تک اللہ کی راہ میں دے دی ، جنہوں نے اپنے خون سے اپنے اعمال نامہ کو لکھا ، جنہوں نے اس دنیائے دوں کو آخرت کے مقابلہ میں ہمیشہ حقیر سمجھا ، وہ کیوں اس کی رحمت و بخشش کے مستحق نہیں ؟ کیا وہ خدا جس نے تجھ کو کتم عدم سے وجود کی نعمت بخشی ۔ جس نے جوڑ بند درست کئے ۔ جس نے اعشاء اور اعضاء میں توازن و اعتدال پیدا کیا اور جس نے حسب پسند تیری صورت بنائی ، اس کے کرم اور بخشش کا تقاضا یہ نہ تھا کہ تو اس کے سامنے جھکتا ۔ سرکشی کو چھوڑ کر رضا کا شیوہ اختیار کرتا اور کی تاریکیوں میں سے نکلتا اور ایمان ویقین کی روشنی میں داخل ہوتا ۔ مگر تونے جب اس کی بخششوں اور ان نوازشوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تو اب اس کے کرم اور نوازشوں کا کیوں متوقع ہے ۔ حل لغات :۔ ماغرک ۔ تجھ کو کس چیز نے بھول میں رکھا ۔ کراما کاتبین ۔ وہ فرشتے جو انسانوں کے عمل لکھتے ہیں ۔
Ayahs 82:10–19

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

یعنی بزرگ لکھنے والے

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

جو کچھ تم کرتے ہو ان کو معلوم رہتا ہے

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ نعمت میں ہوں گے

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور بیشک بدکار دوزخ میں ہوں گے

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

انصاف کے دن اس میں داخل ہوں گے

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور کبھی اس دوزخ میں غائب نہ ہوں گے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور تو کیا جانے انصاف کا دن کیا ہے ؟

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

پھر تو کیا جانے انصاف کا دن کیا ہے ؟

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

جس دن کوئی (منکر مجرم) کسی کے لئے کچھ (ف 1) نہ کرسکے گا اور اس دن حکم اللہ ہی کا ہوگا

ف 1: اس میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے جو سرکشی اور عناد کا وتیرہ اختیار کررکھا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رشدوہدایت کے استفادہ کے مواقع عنایت نہیں فرمائے ہیں یا عقل و دانش اس راہ میں حائل ہے اور نیک نیتی کے ساتھ اسلام کے حقائق کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے ۔ بلکہ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ اصول مکافات ععمل کے قائل نہیں ہیں ۔ قیامت اور جزاوسزا کو نہیں تسلیم کرتے ۔ اس لئے دین کی قدر و قیمت ہی ان کے دلوں سے اٹھ گئی ہے اور اب یہ اس قابل نہیں رہے کہ ان معارف پر غور کرسکیں ۔