82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الانفطار سورة نمبر 82 کل رکوع 1 آیات 19 الفاظ و کلمات 80 حروف 344 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : اس سورة میں فرمایا گیا ہے کہ جب قیامت آئے گی جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے تو انسان نے دنیا میں جو کچھ اعمال کیے ہیں وہ سب کے سب اس کے سامنے آجائیں گے اور پھر ہر شخص کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا۔ ہر ایک کا نامہ اعمال تیار ہے جو لوگ نیکی اور تقویٰ کی زندگی گزار کر آئیں گے ان کے لئے جنت کی ہر طرح کی راحتین اور نعمتیں موجود ہوں گی اور جو لوگ کفر و شرک اور گناہوں میں مبتلا رہے ہوں گے ان کو جہنم کا عذاب نصیب ہوگا۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے ۔ فرمایا جب آسمان پھٹ جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے، جب سمندر پھاڑ دئیے جائیں گے اور تمام قبریں کھول دی جائیں گے اس وقت ہر شخص کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا ہے اور پیچھے کیا چھوڑا ہے۔ فرمایا اے انسان ! تجھے اس رب کریم کی طرف سے کس نے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کیا، جس نے تیرے اعضاء میں ہم آہنگی اور تجھے ہر طرح درست بنایا اور جسمانی اعتدال عطا کیا۔ اور جس طرح چاہا تجھے ترتیب دے کر جوڑ دیا۔ فرمایا کہ اے انسان تو پھر بھی جزا اور سزا کے دن یعنی قیامت کو جھٹلاتا ہے حالانکہ تیرے اوپر ایسے یادر رکھنے والے اور لکھنے والے معزز فرشتے مقرر ہیں جو تیرے ہر فعل کو لکھ رہے ہیں۔ یقینا وہی لوگ اس دن عیش و آرام میں ہوں گے جو نیک اور پرہیز گار ہوں گے اور جو لوگ بدکار ہیں ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور اس کی نظروں سے نہ تو کوئی غائب ہوسکے گا اور نہ چھپ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قیامت کے دن کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے سوالیہ انداز سے پوچھا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ جزا کا دن کیسا ہوگا ؟ پھر پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ جزا کا دن کیا ہوگا ؟ فرمایا وہ دن ہوگا جب کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ اور اس دن فیصلے کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کے پاس ہوگا۔

Ayahs 82:1–19

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جب ستارے بکھر جائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جب سمندر بہا دئیے جائیں گے

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جب قبریں کھول دی جائیں گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

تو ہر شخص جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑا۔

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان ! تجھے رب کریم سے کس نے دھوکے میں ڈال دیا ؟

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

جس نے تجھے پیدا کیا۔ پھر تجھے ہر طرح درست کیا۔ پھر (تمام اعضاء میں) ایک کا خاص اعتدال و تو ازن رکھا۔

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

تجھے جس صورت میں چاہا ڈھال دیا۔

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ بلکہ تم انصاف کے دن (قیامت) کو جھٹلانے والے ہو

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ بیشک تمہارے اوپر نگہبان مقرر ہیں۔

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

جو معزز اور کاتب (اعمال) ہیں۔

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

وہ جانتے ہیں تم جو کچھ کرتے ہو۔

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

بیشک جو نیک لوگ ہیں وہ جنت میں آرام سے رہیں گے۔

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور بیشک بدکار جہنم میں ہوں گے۔

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

وہ انصاف کے دن اس میں داخل ہوں گے

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور وہ اس جہنم سے کہیں غائب نہ ہوسکیں گے ( بھاگ نہ سکیں گے) ۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ انصاف کا دن کیا ہے ؟

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

پھر کیا آپ کو خبر ہے کہ وہ انصاف کا دن کیا ہے ؟

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

وہ ایسا دن ہے جس میں کوئی شخص کسی شخص کو کچھ بھی نفع نہ دے سکے گا۔ اور اس دن تمام تر اختیار اللہ ہی کا ہوگا۔

لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے اور بےوزنی کی کیفیت کے ساتھ فضاؤں میں بکھر جائیں گے۔ سمندر کا پانی جو دنیا سے تین گناہ زیادہ ہے وہ جوش مار کر ابل پڑے گا اور زمین پر پھیل جائے گا۔ قبریں کھول دی جائیں گی اور زمین میں جو کچھ ہوگا وہ باہر آجائے گا اس دن ہر شخص اس بات کا اچھی طرح جان لے گا کہ اس نے اپنے نیک اعمال میں سے آگے کیا بھیجا تھا اور وہ اپنے پیچھے کیا چھوڑا کر آگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے انسان ! تجھے اس رب کریم کی طرف سے کس نے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کرکے ہر طرح اعتدال اور تو ازن عطا فرمایا ہے۔ کیا تجھے اس کے کر پر اعتماد نہیں ہے ؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ وہ رب صرف کریم ہے تو وہ قیامت کے دن انصاف سے کام نہ لے گا ؟ یقینا وہ اللہ اس دن ہر شخص کے ساتھ انصاف کرے گا یہی اس کا سب سے بڑا کرم ہے۔ فرمایا کہ اے انسان تو اپنے پروردگار کو بھول گیا حالانکہ اسی نے تجھے وجود بخشا۔ اس کے فضل و کرم سے ایسا وجود جو ساری مخلوق سے افضل و اشرف ہے۔ اس نے انسان کی شکل و صورت کو جس طرح چاہا بنا دیا۔ اربوں، کھربوں انسانوں کو ایک ہی جیسا جسم عطا کیا ہے لیکن وہ ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ ایک کی شکل دوسرے سے نہیں ملتی۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ ان احسانات کے سامنے تیرا سر جھک جاتا اور تو اس کی نافرمانی نہ کرتا۔ غلط بنیادوں اور عقیدوں کی غلطیوں نے تجھے رب کریم سے غافل کردیا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ تو دنیا میں جو کچھ کرتا ہے اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ تیرا سارا اعمال نامہ تیار کیا جا رہا ہے۔ نہایت معتبر کاتب فرشتے (کراماً کاتبین) تیری ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں جسے وہ قیامت کے دن تیرے رب کے سامنے پیش کریں گے۔ ان اعمال کے مطابق جو نیک اور حسن عمل رکھنے والے ہوں گے وہ جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور بدکار اس انصاف کے دن جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ وہ وہاں سے کہیں بھاگ نہ سکیں گے اور اپنے برے انجام سے بچ نہ سکیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ انصاف کا دن کیا ہوگا ؟ اور کیسا ہوگا ؟ فرمایا کہ یہ وہ دن ہوگا جب کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ کوئی کسی کو نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس دن سارا اختیار صرف اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہوگا۔ وہ جس طرح چاہے گا فیصلے فرمائے گا۔