Ayah 82:1(82:1) اذا : جب ، ناگہاں، جب، اس وقت۔ ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے۔ کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے واذا رأوا تجارۃ او لھوا ن انفضوا الیہا (62:11) اور بعض (لوگوں) نے جب دیکھا کسی تجارت یا تماشا کو تو بکھر گئے اس طرف، اگر قسم کے بعد واقع ہو تو پھر زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسے والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے
اذا اکثر و بیشتر شرط ہوتا ہے مگر مفاجات (کسی چیز کے اچانک پیش آجانے) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے یہاں اس آیت میں بمعنی جب (شرطیہ) مستعمل ہے۔ انفطرت : ماضی واحد مؤنث غائب انفطار (انفعال) مصدر سے ۔ وہ پھٹ گئی وہ چر گئی۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل آیا ہے۔ جب آسمان پھٹ جائے گا۔
Ayah 82:2(82:2) واذا الکواکب انتثرت : انتثرت انتثار (افتعال) مصدر سے واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے مادہ ن ث ر سے۔ بمعنی جھڑجانا۔ نکھر جانا۔ پراگندہ ہونا۔ نثر ضد ہے نظم کی۔ کواکب جمع ہے کو کب کی بمعنی ستارے۔ اور جب ستارے بکھر جائیں گے
Ayah 82:3(82:3) واذا البحار فجرت : البحار جمع بحر کی بمعنی دریا۔ سمندر، بحر اصل میں اس وسیع مقام کا نام ہے جہاں بہت کثرت سے پانی ہو اور اسی اعتبار سے سمندر کو بحر کہتے ہیں۔ سمندر میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک پانی کی کثرت وو سعت اور دوسرے نمکینی اور کھاراپن ۔ انہی دونوں مفہوموں کے لحاظ سے کبھی بحر کا استعمال کسی چیز کی زیادتی اور وسعت کے متعلق ہوتا ہے اور کبھی صلاحیت اور نمکینی کے سلسلہ میں
فجرت : ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب تفجیر (تفعیل) مصدر سے بمعنی پھاڑ دیئے جائیں یعنی ایک کا دہانہ دوسرے کی طرف کھول دیا جائے گا اور سب سمندر آپس میں مل جائیں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فتفجر الانھر خللہا تفجیرا (17:91) اور پھاڑ نکالے (بہا دیوے) تو اس کے بیچ میں نہریں با افراط۔
Ayah 82:4(82:4) واذا القبور بعثرت : بعثرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب بعثرۃ (فعلل۔ رباعی مجرد) مصدر سے۔ بمعنی الٹ پلٹ کرنا، بکھیرنا۔ سامان کو الٹنا پلٹنا۔ جن علما کی رائے ہے کہ رباعی و خماسی دو ثلاتی سے مل کر بنتی ہے ان کے خیال میں بعثر : بعث اور اثیر سے مل کر بنا ہے اور یہ بات کچھ بعید نہیں ہے کیونکہ بعثرۃ میں دونوں فعلوں کے معنی موجود ہیں پس جس طرح بسمل (اس نے بسم اللہ پڑھی) اور ہلل (اس نے لا الہ الا اللہ پڑجا) بنا ہے اسی طرح لفظ بعثرۃ بعث اور اثارۃ سے بن گیا ہے۔
جب قبریں زیر و زیر کردی جائیں گے یعنی مردوں کو ازسر نو زندہ کرکے قبروں سے اٹھایا جائے گا۔
Ayah 82:5(82:5) علمت نفس ما قدمت واخرت یہ جملہ بائے شرطیہ مذکورہ آیت نمبر 1 تا 4 کا جواب شرط ہے۔
ما موصولہ ہے قدمت ماضی صیغہ واحد مؤنث غائب تقدیم (تفعیل) مصدر سے جو اس نے آگے بھیجا۔
اخرت ماضی واحد مؤنث غائب تاخیر (تفعیل) مصدر سے (جو) اس نے پیچھے چھوڑا۔
صاحب تفہیم القرآن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ ان الفاظ کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں اور وہ سب ہی یہاں مراد ہیں۔
(1) جو اچھا یا برا عمل آدمی نے کرکے آگے بھیج دیا۔ وہ ما قدمت ہے اور جس کے کرنے سے وہ باز رہا وہ ما اخرت ہے۔
(2) جو کچھ پہلے کیا وہ ما قدمت ہے اور جو کچھ بعد میں کیا وہ ما اخرت ہے یعنی آدمی کا پورا نامہ اعمال ترتیب وار و تاریخ وار اس کے سامنے آجائے گا۔
(3) جو اچھے یا برے اعمال آدمی نے اپنی زندگی میں کئے وہ ماقدمت ہیں اور ان اعمال کے جو آثارہ و نتائج وہ انسانی معاشرے میں اپنے پیچھے چھوڑ گیا وہ ما اخرت ہیں۔
Ayah 82:6(82:6) یایھا الانسان یا حرف نداء بمعنی اے۔ ای بحالت نداء منادیٰ معرف باللام کو حرف نداء سے ملاتا ہے ھا حرف تنبیہ ہے جو ای اور اپنے بعد کے اسم معرف باللام کے درمیان فصل کے لئے استعمال ہوتا ہے (یہی عمل یایتھا میں ہے) ۔
الانسان منادی۔ اس سے کس کو خطاب ہے اس میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) انسان سے مراد کافر ہے کیونکہ وہی قیامت کا منکر ہے۔ قیل الخطاب لمنکری البعث۔ (مدارک التنزیل) خطاب منکرین بعث سے ہے۔
(2) عطا فرماتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں ہے۔
(3) کلبی اور مقاتل کہتے ہیں کہ یہ ابن الاسد بن کلدہ بن اسید کافر کے حق میں ہے کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کی گستاخی کی مگر اس پر خدا نے دنیا میں اس کو سزا نہ دی جس پر وہ اور بھی اترا گیا تب یہ آیت نازل ہوئی۔
(4) اور دیگر علماء فرماتے ہیں کہ یہ کافر اور گنہگار مومنوں سب کو شامل ہے۔ مومن ہی سہی لیکن جب وہ ایک گناہ کرتا ہے اور باز نہیں آتا تو گویا اس کا حال سزأ اور جزا کا برپا ہونا نہیں مانتا اور سزا کا اندیشہ دل میں نہیں۔ اور یہ اندیشہ نہ ہونا غرور اور عدالت آسمانی کا انکار ہے۔ (تفسیر حقانی) ۔
ما غرک : ما استفہامیہ ہے غر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب غرور (باب نصر) مصدر۔ بمعنی فریب دینا۔ بہکانا۔ غرور کرنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ کسی چیز نے تجھے بہکایا۔ غرور میں ڈالا۔ دھوکہ میں رکھا۔ غافل کیا۔
بربک الکریم : ب حرف جر بمعنی عن۔ ربک مضاف مضاف الیہ۔ الکریم صفت رب کی۔ بمعنی بزرگ۔ بڑی عزت والا۔ مخلوق پر احسان و کرم کرنے والا۔ مسلسل و لگاتار نعمتوں سے نوازنے والا۔ صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ اے انسان کسی چیز نے تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں غرور میں رکھا۔
Ayah 82:7(82:7) الذی خلقک : الذی اسم موصول خلق ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ اس کا صلہ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ جس نے تجھے پیدا کیا۔ یہ رب کی صفت ثانیہ ہے یا الکریم صفت ہے رب کی۔ اور الذی خلقک فسوک فعد لک فی ای صورۃ ماشاء رکبک اس کی کرم نوازیاں ہیں۔
فسوکعاطفہ ہے اور سوک کا عطف خلقک پر ہے پھر اس نے تجھ کو برابر کیا پورا پورا بنایا۔ سوی تسویۃ (تفعیل) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (س و ی مادہ) تسویہ کے معنی کسی چیز کے پستی یا بلندی میں برابر بنانے کے ہیں۔
یہاں مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہارے اعضاء کو درست بنایا اور اس قابل کردیا کہ وہ اپنے اپنے فرائض بخوبی ادا کرسکیں ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر) ۔ فعدلک :عاطفہ ہے اس کا عطف خلقک پر ہے عدل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ عدل (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی ہیں برابر کرنا۔ لوٹنا۔ پھرنا۔
ابو علی فارسی کہتے ہیں کہ عدلک کے معنی ہیں کہ تیرے بعض اعضاء کو بعض اعضاء کے ساتھ اس طرح برابر کردیا کہ سب میں اعتدال آگیا۔
Ayah 82:8(82:8) فی ای صورۃ ما شاء رکبک۔ یہ کلام عدلک کا بیان ہے اس لئے اس کو کسی کی طرف معطوف نہیں کیا گیا اور دونوں جملوں کے درمیان حرف عطف نہیں لایا گیا۔ صورۃ میں تنوین تنکیر ہے اور تنکیر کی تاکید میں ما کو لایا گیا ہے اور اس جگہ تنکیر مفید تکثیر ہے یعنی جس جس صورت میں چاہا تمہیں جوڑ دیا۔
الذی سے لے کر رکبک تک پورا کلام ربک کی دوسری صفت ہے جس سے رب کی ربوبیت کا ثبوت اور کریم کے کرم کی وضاحت ہو رہی ہے اور اس بات پر تنبیہ بھی ہے کہ جو خدا اول تخلیق میں ایسے ایسے کام کرسکتا ہے وہ دوسری تخلیق پر بھی قادر ہے اس سے مخالفت کفران کی تاکید اور غرور و کفران پر زجر کرنی بھی مقصود ہے کیونکہ جس کی شان ایسی ہو اس کی ناشکری جائز نہیں ۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 82:9(82ـ:9) کلا۔ یہ اللہ کے کرم سے فریب خوردہ ہونے سے باز داشت ہے (تفسیر مظہری) یعنی اگر اللہ تعالیٰ اپنی کرم نوازی سے ہماری لغزشوں کی سزا فوری نہیں دیتا اور اپنی نعمتیں باوجود ہماری ناشکری کے اور غرور کے پیہم جاری و ساری رکھتا ہے تو ہمیں کسی قسم کے غرور یا دھوکہ میں مبتلاء نہیں ہونا چاہیے۔
صاحب تفسیر حقانی اس کی تشریح کچھ یوں فرماتے ہیں :۔ کہ کیا جس انسان کو رب کریم نے یہ کچھ دیا یہ اس کے مقابلہ میں شکر گزاری کرتا ہے ؟ کلا ہرگز نہیں۔ (مزید ملاحظہ ہو 74:32)
بل تکذبون بالدین، بل حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لیے آیا ہے۔ یعنی رب کریم کی کرم نوازیوں کا شکر بجالانا تو کجا بلکہ تم لوگ تو (اے انسان) دین کی تکذیب کرتے ہو۔
الدین سے مراد ہے اسلام یا جزا و سزائ۔ دین ۔ دان یدین (باب ضرب) کا مصدر ہے۔
Ayah 82:10(82:10) وان علیکم لحفظین واؤ حالیہ ان حرف تحقیق بمعنی بیشک ، یقینا۔
لحفظین میں لام تاکید کا ہے۔ حافظین، حفظ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت ، حفاظت کرنے والے۔ نگہبان یہ جملہ حالیہ ہے اور تکذیون کے فاعل سے حال ہے۔
کراما : کاتبین ، یعلمون ما تفعلون : صفات ہیں۔ حفظین کی۔
Ayah 82:11(82:11) کراما بزرگ، عزت والے۔ باوقار لوگ۔ کریم واحد۔
کاتبین کتابۃ (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، بزرگ اور معزز لکھنے والے اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کی حفاظت اور اس کے اعمال و اقوال کی کتابت پر مامور ہیں۔
Ayah 82:12(82:12) یعلمون ما تفعلون : ما موصولہ ہے وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔ صاحب تفسیر ضیاء القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔
ان کا علم ادھورا اور ان کی معلمات ناقص نہیں تمہاری ہر بات تمہارا ہر کام بلکہ اس کے پس پردہ تمہارے جو جذبات اور نیتیں ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہیں۔ تم غور کرو کہ ایسے غیر جانبدار، دیانت دار اور ہر بات سے خبردار تمہارے اعمال کا جو ریکارڈ تیار کریں گے اس کو تم کس طرح جھٹلاؤ گے۔
Ayah 82:13(82:13) ان الابرار لفی نعیم ان حرف مشبہ بالفعل، بمعنی تحقیق، الابرار اس کا اسم فی نعیم اسکی خبر۔ الابرار برو بار کی جمع۔ نیک آدمی۔ نیک لوگ۔
البر یہ بحر کی ضد ہے (اور اس کے معنی خشکی کے ہیں) پھر معنی وسعت کے اعتبار سے البر کا لفظ مشتق کیا گیا ۔ جس کے معنی وسیع پیمانے پر نیکی کرنے کے ہیں۔ پھر اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے انہ ھو البر الرحیم (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہ : بندہ نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی۔
البر نیکی دو قسم پر ہے : اعتقادی، عملی، آیت کریمہ لیس البر ان تولوا وجوکہم ۔۔ (2:177) دونوں قسم کی نیکیوں کے بیان پر مشتمل ہے۔
بزالو الدین کے معنی ماں باپ کے ساتھ نہایت اچھا برتاؤ اور احسان کرنا جیسے و (جعلنی) برا بوالدتی ولم یجعلی جبارا شقیا (19:32) اور مجھے اپنی ماں کے ساتھ ایک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔
نعیم اسم نکرہ مجرور۔ نعمت۔ راحت ، عیش۔ ترجمہ :۔ بیشک نیک لوگ عیش و آرام میں ہوں گے۔
Ayah 82:14(82:14) وان الفجار لفی جحیم : جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور دونوں جملے الحفظ، الکتاب من الثواب والعذاب کے نتیجے کا بیان ہے ان حرف مشبہ بالفعل الفجار اسم ان لفی جحیم۔ خبر ان ، اور بدکار لوگ دوزخ میں ہوں گے۔
الفجار۔ فاجر کی جمع فجور (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، فاجر دین کا پردہ پھاڑنے والا۔ علی الاعلان گناہ کرنے والا۔ حق سے انحراف کرنے والا۔
الفجر کے معنی ہیں کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا۔ اور شق کردینا۔ صبح کو فجر اس واسطے کہا جاتا ہے کہ صبح کی روشنی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے (نیز ملاحظہ ہو 82:3) ۔ جحیم دوزخ، سخت بھڑکتی ہوئی آگ۔
Ayah 82:15(82:15) یصلونھا یوم الدین : یہ جملہ یا تو الجحیم کی صفت ہے یا جملہ مستانفہ ہے۔ سوال مقدر کا جواب ہے جیسے کہا جائے ما حالہم (ان کا کیا حال ہوگا) جواب ہوگا : یصلونھا یوم الدین (روز جزاء کو وہ اس میں داخل ہونگے) تفسیر حقانی۔
یصلون مضارع جمع کا صیغہ جمع مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع الفجار ہے صلی (باب ضرب) مصدر بمعنی بھوننا۔ آگ میں پھینکنا، بوخواہی کرنا۔ ہلاکت میں ڈالنا۔ دھوکہ دینا خوشامد کرنا۔ داخل کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الجحیم ہے۔
فجار دوزخ میں داخل ہوں گے۔ یوم مفعول فیہ اور مضاف ہے الدین مضاف الیہ۔ روز جزاء کو ۔ قیامت کے دن ۔
Ayah 82:16(82:16) وما ہم عنھا بغائبین یہ جملہ بھی جحیم کی صفت ہے (تفسیر حقانی) ایسا دوزخ جس سے وہ کبھی باہ رنہ نکلیں گے۔
ما نافیہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع الجحیم ہے۔ غائبین غیاث (باب ضرب) مصدر ضمیر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ غائب ہونے والے۔ چھپ جانے والا۔ پوشیدہ ہونے والے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ فجار کے لئے ہے۔ اور وہ فاجر لوگ کبھی دوزخ سے غائب نہ ہوں گے۔ یعنی ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ہم ضمیر الفجار کی طرف راجع ہے۔ اس میں الف لام عہد کا ہے اور معبود وہی تھا جو یوم دین کی تکذین کرتے ہیں یعنی کافر۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 82:17(82:17) وما ادرک ما یوم الدین اور تجھے کیا پتہ کہ یوم الدین کیا ہے (اور تجھے کیا معلوم کہ روز جزا کیا ہے) ما استفہامیہ ہے ادری ماضی واحد مذکر غائب۔ اور اء (افعال) مصدر سے بمعنی خبردار کرنا۔ بتانا۔ واقف کرنا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر ۔
یوم الدین مضاف مضاف الیہ۔ جزاء کا دن۔ روز جزائ۔
Ayah 82:18(82:18) ثم ما ادرک ما یوم الدین پھر تجھے کیا معلوم کہ روز جزاء کیا ہے۔ ثم حرف عطف بمعنی پھر۔ دوہرے دوہرے سوالات عربی اسلوب بلاغت و خطابت کے مطابق اہمیت خصوصی کے اظہار کے لئے ہیں۔ (تفسیر ماجدی)
یوم الدین کی عظمت شان کو مؤکد کرنے کے لئے جملہ کی تکرار کی گئی ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 82:19(82:19) یوم لا تملک نفس لنفس شیئا : یوم بر قرأت ابن کثیر و ابو عمرو ۔ ما یوم الدین سے بدل ہے یا ھو مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ اور برقرأت جمہور یصلونھا یوم الدین من یوم الدین سے بدل ہے یا فعل محذوف کا ظرف ہے۔ یعنی دونوں فریقوں کو اس روز بدلہ ملے گا جبکہ کوئی کسی کے کام کچھ بھی نہ آئے گا۔ یا اذکر فعل محذوف ہے یعنی اس روز کو یاد کر جبکہ کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔
یہ لفظ محل رفع میں ہے۔ لیکن چونکہ اس کی اضافت غیر متمکن کی طرف ہو رہی ہے۔ اس لئے منصوب پڑھا جاتا ہے لنفس میں نفس سے مراد کافر ہے۔ (کذا قال مقاتل) (تفسیر مظہری)
والامر یومئذ للہ۔ واؤ عاطفہ الامر مبتداء للہ خبر۔ یومئذ یوم اسم ظرف منصوب اذ مضاف الیہ متعلق خبر۔
امر کام۔ معاملہ، حالت، حکم ، امر کا لفظ نام اقوال و افعال کے لئے عام ہے جیسے والیہ یرجع الامر کلہ (11:123) اور تمام امور امر جمع اسی کی طرف ہے۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔
(1) لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار (40: 16) آج کس کی بادشاہی ہے ؟ خدا کی جو اکیلا (اور ) غالب ہے۔
(2) الملک یوم الدین (1:3) انصاف کے دن کا حاکم۔ وغیرہ ذلک۔
مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف خدائے واحد وقہار و رحمن ہی کی ہوگی گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر اس دن وہاں تو کوئی ظاہر داری حکومت اور ملیکت اور امروالا بھی نہ ہوگا۔