Explained with ayahs 1–12
اور قبریں پھوٹ پریں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
سورة الْاِنْفِطَار 4
یعنی اول تو اس محسن پروردگار کے احسان و کرم کا تقاضا یہ تھا کہ تو شکر گزار اور احسان مند ہو کر اس کا فرمانبردار بنتا اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم آتی، مگر اس دھوکے میں پڑگیا کہ تو جو کچھ بھی نا ہے خود ہی بن گیا ہے اور یہ خیال تجھے کبھی نہ آیا کہ اس وجود کے بخشنے والے کا احسان مانے۔ دوسرے، تیرے رب کا یہ کرم ہے کہ دنیا میں جو کچھ تو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ جونہی تجھ سے کوئی خطا سر زد ہو وہ تجھ پر فالج گرا دے یا تیری آنکھیں اندھی کر دے، یا تجھ پر بجلی گرا دے۔ لیکن تو نے اس کریمی کو کمزوری سمجھ لیا اور اس دھوکے میں پڑگیا کہ تیرے خدا کی خدائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(آیت) يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ ، اس سے پہلی آیات میں معاد اور انجام یعنی قیامت کے ہولناک معاملات کا ذکر فرمایا، اور اس آیت میں انسان کے مبدا یعنی تخلیق کے ابتدائی مراحل کا ذکر فرمایا، اس مجموعہ کا تقاضا یہ تھا کہ انسان کچھ بھی غور وفکر سے کام لیتا تو اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لانا اور انکے احکام کی سرموخلاف ورزی نہ کرتا مگر انسان غفلت اور بھول میں پڑگیا اس پر بطور زجر و تنبیہ کے یہ سوال فرمایا کہ اے انسان تیری ابتداء و انتہا کے یہ حالات سامنے ہونے کے باوجود تجھے کس چیز نے بھول اور دھوکے میں ڈالا کہ اللہ کی نافرمانی کرنے لگا۔
یہاں بیان مبدا یعنی تخلیق انسانی کے ابتدائی مراحل کے…
Read the full tafseer →خدا کی کریمی سے مہلک مغالطہ:
’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں روئے سخن انہی مکذبین قیامت کی طرف ہے جن کو اس سورہ میں انذار کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ آگے والی آیت میں ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا ہے:
’کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیْنِ‘
(ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ جزا و سزا کو جھٹلا رہے ہو)۔
خاص مخاطب کو عام لفظ سے خطاب کرنے میں جو بلاغت ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں۔
’مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ میں استفہامیہ اسلوب اظہار تعجب کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے رب کی اس کریمی نے تم کو جزاو سزا سے نچنت کیا کہ وہ تمہاری سرکشیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا اور برابر ڈھیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 1 یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر نکل آئیں گے یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
1: جو آگے بھیجا سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی شخص نے دنیا میں کرکے انہیں آخرت کے لئے آگے بھیج دیا، یعنی انہیں آخرت کا ذخیرہ بنالیا، اور جو پیچھے چھوڑا سے مراد وہ اعمال ہیں جو اسے کرنے چاہیں تھے، لیکن اس نے نہیں کئے اور دنیا میں چھوڑ آیا۔
Read the full tafseer →یہاں انسان کو خطاب اس کی انسانیت کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ انسان میں صف انسانیت ہی وہ صفت ہے جو اسے ممتاز اور مکرم بناتی ہے۔ اور اپنی اس صفت کی وجہ سے انسان کو تمام دوسرے حیوانات اور زندہ مخلوقات پر برتری اور فضیلت حاصل ہے۔ اور جس کی وجہ سے انسان مقام بلند تک پہنچا ہے۔ اور اس پر اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے۔
اس کے بعد نہایت ہی ہمدردانہ اور خوبصورت تنبیہہ اور عتاب آتا ہے۔ ذرا الفاظ دیکھئے :۔
ماغرک .................... الکریم (6:82) ” کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا ہے “۔ اے انسان ، ذرا غور کر ، تمہارا مربی ، تمہارا نگہباں تمہاری کس قدر عزت افزائی کرتا ہے۔ جس نے تمہیں…
Read the full tafseer →2 یعنی وہ رب کریم کیا اس کا حقدار تھا کہ تو اپنے جہل و حماقت سے اس کے حلم پر مغرور ہو کر نافرمانیاں کرتا رہے ؟ اور اس کے لطف وکرم کا جواب کفران و طغیان سے دے ؟ اس کا کرم دیکھ کر تو اور زیادہ شرمانا اور حلیم کے غصہ سے بہت زیادہ ڈرنا چاہیے تھا۔ بیشک وہ کریم ہے لیکن منتقم اور حکیم بھی ہے۔ پھر یہ غرور اور دھوکا نہیں تو اور کیا ہوگا کہ اس کی ایک صفت کو لے کر دوسری صفات سے آنکھیں بند کرلی جائیں۔
Read the full tafseer →آیت 6{ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ۔ } ”اے انسان ! تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اپنے ربّ کریم کے بارے میں۔“
ظاہر ہے یہ کام شیطان لعین ہی کرتا ہے۔ وہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکے میں ڈالتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بنی نوع انسان کو باربار خبردار کیا گیا ہے ‘ مثلاً سورة لقمان میں فرمایا : { وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَـرُوْرُ۔ } کہ وہ بڑا دھوکے باز تم لوگوں کو اللہ کے بارے میں کہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے ! لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام تر تنبیہات کے باوجود اکثر انسان شیطان کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شیطان مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7 یعنی تجھ پر مہربانیاں کرنے والے پروردگار کی مہربانیوں کا تقاضا یہ تھا کہ تو اس کا احسان مند ہوتا اور اس کا فرمانبردار بن کر رہتا مگر تو اس دھوکے میں پڑگیا کہ تو جو کچھ بنا ہے از خود ہی بن گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی تیرے رب کا کرم ہے کہ تو جو کچھ چاہے کرتا رہتا ہے اور وہ فوری طور پر تم پر کوئی عذاب نازل نہیں کردیتا۔ گویا تو نے اپنے رب کی مہربانیوں کو کمزوری پر محمول کیا اور اسی دھوکے میں پڑگیا کہ تیرے رب کی مملکت میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ حالانکہ وہ صرف کریم ہی نہیں بلکہ وہ عادل بھی ہے اور قہار اور جبار بھی ہے وہ پکڑتا دیر سے ہے مگر اس کی گرفت اتنی ہی شدید ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3۔ (جو تو اس کے ادائے حقوق کی ذرا فکر نہیں کرتا) سوال سے مقصود غیرت دلانا ہے کہ ان نعمتوں کا مقتضا تو یہ تھا کہ تو ادائے شکر کرتا، چہ جائیکہ تو اس ناشکری پر آمادہ ہوگیا۔ (آیت) ” ربک الکریم “۔ ایک تو رب خود، اور پھر اس پر کریم کا اضافہ اسی غیرت کی کیفیت میں اور اضافہ کرنے کے لیے ہے۔ جو مالک ومولی ساتھ ساتھ رحیم وشفیق بھی ہو، اس کے بار احسان سے تو سر اور بھی ہرگز ہرگز نہ اٹھنا چاہیے۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے مرا اس سیاق میں کافر انسان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…
Read the full tafseer →یایھا الانسان ما غرک بربک الکریم . اے انسان ! تجھ کو کس نے فریب خوردہ بنایا اور ربِّ کریم کی نافرمانی اور اس کے حکم کی خلاف ورزی پر جرأت دلائی۔ الکریم۔ درگزر کرنے والا یایھا الانسان پورا جملہ معترضہ ہے۔ علمت نفس ما قدمت واخرت کے جملہ سے ہر بد اعمالی کا مفہوم سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر یایھا الانسان .... سے تنبیہ فرمائی ہے۔ بغوی کا بیان ہے کہ ولید بن مغیرہ کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ نزول آیت کا مورد ابی بن خلف تھا۔ کلبی نے اسید بن کلدہ کے متعلق آیت کا نزول قرار دیا ہے۔ اسید نے رسول اللہ ﷺ کو مارا تھا اور اللہ نے اس کو فوری سزا نہیں دی تھی اور یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
(5۔ 6) اے کافر ! مثلا کلاہ بن اسید تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ کفر کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے جس نے تجھ کو نطفہ سے پیدا کیا اور پھر تیری ماں کے پیٹ میں تیرے اعضاء کو درست کیا اور پھر معتدل القامت بنایا، پھر جس صورت میں چاہا تجھ کو پیدا کردیا یا یہ اچھی بری صورت میں بنا دیا اور اگر وہ چاہتا تو بندر اور سور کی شکل میں بنا دیتا مگر تم جزا و سزا کے دن ہی کو جھٹلاتے ہو اور ہم نے تمہارے اوپر تمہاری نگرانی اور تمہارے اعمال لکھنے کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں وہ اللہ کے ہاں معزز اور تمہارے تمام اقوال و افعال سے باخبر ہیں۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ (الخ)
ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →(یایھا الانسان ما غرک بربک الکریم : اتنی مہربانیوں والے رب کے متعلق دھوکا کھانے اور کفر کرنے کی تو کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔
Read the full tafseer →یا ایھا الانسان ماغرک بربک الکریم۔۔ تا۔۔۔ بالدین۔
یا ایھا الانسان ماغرک بربک الکریم۔ دوبارہ اٹھائے جانے کا جس نے انکار کیا انہیں خطاب فرمایا، حضرت ابن عباس نے فرمایا، انسان سے یہ ان مراد ولید بن مغیرہ ہے عکرمہ نے کہا اس سے مراد ابی بن خلف ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ابوالاشد بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی، حضرت ابن عباس سے مروی ہے، کہ ماغرک بربک الکریم سے مراد ہے کس چیز نے تجھے دھوکے میں ڈالا یہاں تک کہ تو نے کفر کیا اس ذآت کے ساتھ جو تجھ سے درگزر فرمانے والی ہے، قتادہ نے کہا، وہ شیطان جو انسان پر مسلط ہوتا ہے اس نے اسے دھوکے میں ڈالا۔ حضرت حسن بصری نے کہا، خبیث شیطان نے اسے دھوکے میں ڈالا۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
13۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت یا ایہا الانسان ما غرک بربک الکریم اے انسان تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے مغرور کردیا اور فرمایا اللہ کی قسم غرہ کا معنہ ہے کس نے اسے جاہل رکھا۔
14۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الانسان ماغرک سے ابی بن خلف مراد ہے۔
15۔ عبد بن حمید نے صالح بن مسمار (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ آیت یا ایہا الانسان ماغرک بربک الکریم تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ کس چیز نے انسان کو جاہل بنا رکھا ہے۔
16۔ ابن ابی شیبہ نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الْانسَان مَا غَرَّكَ : اے انسان کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھ کو ][ بِرَبِكَ الْكَرِيْمِ؛تیرے کریم رب کے بارے میں ]
نوٹ۔ 4: آیت۔ 6 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ رب کریم کیا اس کا حقدار تھا کہ اس کے حلم پر مغرور ہو کر تو نافرمانیاں کرتا رہے اور اس کے لطف و کرم کا جواب کفرو طغیان سے دے۔ اس کا کرم دیکھ کر تو اور زیادہ شرمانا اور حلیم کے غصے سے بہت زیادہ ڈرنا چاہے تھا۔ بیشک وہ کریم ہے لیکن منتقم اور حکیم بھی ہے۔ پھر یہ دھوکا نہیں تو اور کیا ہے کہ اس کی ایک صفت کو لے کر دوسری صفات سے آنکھیں بند کرلی جائیں۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
اس دھوکے میں پڑنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ تیرا وجود خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ان آیات میں انسان کو اس کا حال بتایا ہے اور اسے توجہ دلائی ہے کہ وہ خالق ومالک کی طرف متوجہ ہو۔ انسان کچھ بھی نہیں تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے اسے پیدا فرمایا، وجود بخشا اس کے جسم کو نہایت عمدہ ترتیب کے ساتھ ٹھیک بنایا اور اپنی حکمت کے مطابق جس صورت میں چاہا ڈھال دیا، انسان اپنے اختیار سے نہ پیدا ہوا نہ قد کی درازی میں اسے کوئی دخل ہے نہ موٹا پتلا ہونے میں نہ حسین و قبیح ہونے میں، وہ جس صورت اور حالت میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے ہر شخص اپنی اپنی صورت میں چلتا پھرتا ہے اسی کی طرف متوجہ رہنا اور اسی کا بھیجا ہوا دین قبول کرنا اور اسی کے احکام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے اب انسانوں میں بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
بسم اللہ الرحمن الرحیم :
سورة الانفطار :
حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت :
سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ،
سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3:۔ ” یا ایہا الانسان “ یہ زجر ہے۔ اے انسان تجھے اپنے رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے کہ تو اس کے احکام سے غافل ہو کر عصیان و طغیان پر کمر بستہ ہوچکا ہے وہ نہایت مہربان اور بخشش کرنے والا ہے۔ اس نے تجھے پیدا کیا، ہر عضو کو صحیح سالم بنایا اور تمام اعضاء کو متناسب بنا کر قد و قامت، نقش و نگار اور حسن و جمال کے جس مرتبہ میں چاہا تجھے ڈھالا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور اس کی شان کریمی پر تمہیں مغرور ہو کر اس کی اطاعت سے تجھے غافل نہیں ہوجانا چاہئے بلکہ اس کی نعمتوں کا شکر کرنا اور اس کی عبادت وطاعت کو اپنا شعار زندگی بنانا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(قیامت سب سے بڑا حادثہ ہوگا)
تخلیق کائنات کی ابتداء سے لے کر اب تک جتنے واقعات پیش آچکے ہیں یا آئند ہ پیش آنے والے ہیں۔ ان میں قیامت کا واقعہ سب سے بڑا ہوگا۔ اسی قیامت کو القارعۃ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک حادثہ ہوگا جو کھٹکا دینے والا ہوگا۔ قیامت کا ایک نام واقعہ بھی ہے۔ کہ ایک واقعہ پیش آنے والا ہے۔ جب کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ اس طرح اسے الطامۃ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ یعنی سب سے زوردار حادثہ یا ہنگامہ تو گویا ان سورتوں میں مختلف اشیاء پر قیامت کے اثرات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ ہر شخص محاسبے کے لیے تیار رہے۔
(قرآن کریم کے ساتھ ربط)
قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ 6 ۙ
إنس
الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
ترکیب ¦ الکریم صفۃ اولی للرب الذی الخ صفۃ ثانیۃ مقررۃ للربوبیۃ مبنیۃ للکرم فسواک فعدلک عطف صلۃ الذی ای خلقک فی ای صورۃ الجار متعلق برکبک وما مزیدۃ وشاء صفۃ لصورۃ ای رکبک فی ای صورۃ شاء ھا وقیل یتعلق مجذوف علی انہ حال ای رکبک حاصلا فی ای صورۃ شاء ھا وانما لم یعطف الجملۃ ما قبلہا لانھا بیان لعدلک وان علیکم خبران لحافظین اسمھا کراما صفۃ للحافظین وکذا کاتبین وکذایعلمون وقیل ھذا حال من الکاتبین فان مع اسمھا و خبرہا وصفات الاسم جملۃ اسمیۃ فی محل النصب علی الحال من فاعل تکذبون ای تکذبون والحال ان علیکم من یردتکذیبکم وقیل مستانفۃ مسوقۃ لبیان ما یبطل تکذیبھم۔
تفسیر ¦ جب یہ حالت ہے کہ ایک روز قیامت آنے…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَا الْاِنْسَانُ مَاغَرَّ کَ بِرَبِّکَ الْـکَرِیْمُ ۔ (الانفطار : 6)
(اے انسان ! کس چیز نے تجھے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا۔ )
انسان کے بگاڑ کا اصل سبب جواب دہی سے بےنیازی ہے
روئے سخن اگرچہ انھیں کفار و مشرکین کی طرف ہے جو بڑے تکبر سے قیامت کا انکار کرتے تھے۔ لیکن خطاب میں انسان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک دنیا میں نوع انسانی کا وجود ہے اس کے بگاڑ کا سبب ہمیشہ آخرت اور قیامت کا انکار اور جوابدہی سے بےنیازی ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف اہل مکہ کا نہیں بلکہ تمام نوع انسانی کا ہے۔ اور خطاب میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تم نے اپنے رب کو نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں تک ان کے اعمال نامے پہنچنے کے بعد ہر شخص کو رب کریم کا خطاب۔
جب تمام لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں اعمال نامے تھما دیئے جائیں گے تو پھر ایک مرحلہ ایسا آئے گا۔ جب رب کریم پورے جلال کے ساتھ ان لوگوں کو مخاطب فرمائیں گے۔ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اس کے فرامین سے روگردانی کی ہوگی۔ ہر مجرم یہی سمجھے گا کہ رب ذوالجلال صرف مجھے ہی مخاطب کر رہا ہے اس لیے خطاب ہوگا کہ اے مجرم انسان ! تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ نہ تو نے اپنے رب کی کرم نوازیوں کا شکر ادا کیا اور نہ ہی اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کی…
Read the full tafseer →6 : یٰٓـاَیُّھَا الْاِنْسَانُ مَاغَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ (اے انسان تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ بھول میں ڈال رکھا ہے۔ ) یا یھا الانسانؔ نمبر 1۔ اس سے خطاب منکرین بعث کو کیا گیا۔ ماغرک بربک الکریم یعنی کس چیز نے تجھے دھوکا دیا یہاں تک کہ تو نے اپنے فرائض کو بھی ضائع کردیا۔ حالانکہ تیرا رب کرم والا ہے۔
Read the full tafseer →5 ۔” علمت نفس ماقدمت واخرت “ کہا گیا ہے جو نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو اچھا یا برا طریقہ پیچھے چھوڑا اور کہا گیا ہے جو صدقات میں سے آگے بھیجا اور ترکہ میں سے پیچھے چھوڑا۔ اس تفصیل پر جو ہم نے اللہ تعالیٰ کے قول ” ینبوا الانسان یومئذ بما قدم واخر “ میں ذکر کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اللہ تبارک وتعالی اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ (يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ ) اے انسان، تجھے اپنے رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکا دیا ؟ کیا تمہاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یاس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یاس کی جزا وسزا پر تمہاری عدم ایمان کی بنا پر ؟ کیا وہ ہستی (الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ ) جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا (فعدلک) اس نے تجھے درست اور متعدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیت میں ُ یدا کیا تب کیا تمہارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور…
Read the full tafseer →(4) انسان سے اس کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ایک سوال : سو ارشاد فرمایا گیا " اے انسان تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا اپنے رب کریم کے بارے میں ؟ " جس کے کرم و احسان کے عظیم الشان مظاہر ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں، اور جس کی رحمتوں اور عنایتوں میں تو سر تا پا ڈوبا ہوا ہے، اور جس کا تقاضا یہ تھا کہ تو ہر وقت اور طرح سے اس کے آگے اور صرف اسی کے آگے جھک جاتا اور جھکا ہی رہتا۔ اور دل و جان سے اس کی اطاعت و بندگی میں ہمیشہ مشغول و منہمک رہتا، مگر تو ہے کہ تو اسی کا باغی اور سرکش بن گیا، اور حق عبادت و بندگی ادا کرنے کی بجائے تو اس کو بھلا بیٹحا۔ اور تکبر و غرور میں مبتلا ہوگیا، آخر تجھے کس چیز نے اپنے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کا نقشہ
تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الانفطار۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی کس چیز نے تجھے اس سے غافل اور اس کی نافرمانی کی طرف مائل کردیا ؟
Read the full tafseer →(82:6) یایھا الانسان یا حرف نداء بمعنی اے۔ ای بحالت نداء منادیٰ معرف باللام کو حرف نداء سے ملاتا ہے ھا حرف تنبیہ ہے جو ای اور اپنے بعد کے اسم معرف باللام کے درمیان فصل کے لئے استعمال ہوتا ہے (یہی عمل یایتھا میں ہے) ۔
الانسان منادی۔ اس سے کس کو خطاب ہے اس میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) انسان سے مراد کافر ہے کیونکہ وہی قیامت کا منکر ہے۔ قیل الخطاب لمنکری البعث۔ (مدارک التنزیل) خطاب منکرین بعث سے ہے۔
(2) عطا فرماتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کے حق میں ہے۔
(3) کلبی اور مقاتل کہتے ہیں کہ یہ ابن الاسد بن کلدہ بن اسید کافر کے حق میں ہے کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کی گستاخی کی مگر اس پر خدا نے دنیا میں اس کو سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم
تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
انسان کی پیدائش اور حشر کا ذکر۔
(ف 1) یعنی زمین پر کے سب سمندر شریں وشور مل کر ایک ہوجائیں اور قبریں پھٹ جائیں گی اور ان میں سے مردے زندہ کر کے نکالے جائیں گے اس وقت ہر نفس اپنے اعمال خیر وشر جان لے گا جو اس نے زندگی میں کیے ہوں گے کہ میں نے نیک عمل و بدعمل کیا بھیجا اور کیا چھوڑا اور توبہ اور نیک عمل کو پست پشت ڈالنے کا ثمرہ بھی معلوم ہوجائے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائیں گے اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست ونابود تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا، برابھلا دیکھنے…
Read the full tafseer →[3] یعنی وہ رب کریم کیا اس کا حقدار ہے کہ تو اپنے جہل و حماقت سے اس کی نافرمانیاں کرتا رہے ؟ اگر وہ تیری سرکشیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا اور ڈھیل پر ڈھیل دئیے جاتا ہے تو تو اس کی کریمی سے سخت دھوکے میں پڑگیا اور خیال کرنے لگا کہ اللہ کے ہاں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟
1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں…
Read the full tafseer →(6) اے آدمی تجھ کو تیرے پروردگار کے متعلق جو کریم اور صاحب کرم ہے کسی چیز نے فریب میں ڈال رکھا ہے - یعنی کسی چیز نے تجھ کو اپنے پروردگار سے بھول میں اور دھوکے میں ڈال دیا اور کس چیز نے تجھ کو اس کے عتاب اور اس کی گرفت سے بےخوف اور مامون کردیا۔ جس نے تجھ پر کس قدر احسان کئے اس سے غافل ہوگیا اور باوجود غیر مامون ہونے کے اپنے آپ کو مامون اور حفاظت میں سمجھنے لگا آگے احسانات کا بیان ہے بعض اہل اشارات کا قول ہے کہ اور تمام اوصاف کو چھوڑ کر اپنا وصف کریم بیان فرمایا تویہاں تلقین حجت کا اظہار ہے۔
اسی بنا پر حضرت ابوبکر واراق کا قول ہے کہ اگر مجھ سے دریافت کیا گیا تو میں عرض کروں گا۔
غرنی کرم الکریم…
Read the full tafseer →اے انسان تجھ کو کس چیز نے اپنے رب کریم کے متعلق دھوکا میں رکھا ؟
6 ؎ ( غرک) غر واحد مذکر غائب ، ماضی معروف غرور مصدر ، دھوکہ دیا ، فریب میں رکھا۔ ضمیر تجھ کو ۔ انسان کی غفلت کی بھی کوئی حد نہیں لیکن رب ذوالجلال والاکرام کو جو انسان سے پیار ہے اس کا اندازہ بھی بڑا انوکھا ہے ۔ انسان جتنا زیادہ غفلت میں ہوگا اتنے ہی زیادہ زور دار طریقہ سے اس کو بیدار کرنے کی سعی ہوگی کہ اٹھو کیوں اتنی گہری نیند سو گئے ہو کس نے تم کو غافل کردیا ہے کیوں غفلت میں پڑے ہو اس طرح کی لوری اس کو دی گئی ہے کہ قم قم یا حببی کم تنام زیر نظر آیت میں غافل انسان کو کس طرح جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ اے انسان تیرا پروردگار جو سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ (0 man! at has deceived you about your Gracious Lord...82:6) The opening of the Surah mentions the violent events that will take place at the end of this worldly life, and the current set of verses reminds us of the inceptive stages of our creation. The sum total of the verses purport to say that if man had considered carefully, he would have believed in Allah and His Messenger ﷺ ، and he would not have deviated a hair's breadth from Divine injunctions, but he slumped into heedlessness and forgetfulness. In the present verse, he is reprimanded by a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
4 That is, "In the first place, the bounty and favour of your Beneficent Sustainer required that you should have acknowledged his bounties and become an obedient servant and should have felt shy of disobeying Him, but you were deluded into thinking that you have become whatever you are by your own effort, and you never thought that you should acknowledge that favour of Him Who gave you life. Secondly, it is your Lord's bounty and kindness that you can freely do whatever you like in the world and it never so happens that whenever you happen to commit an error, He should punish you with…
Read the full tafseer →