Al-Infitaar 82:5

Al-Infitaar · from ayah 5

82:5

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ ۟ؕعَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ وَاَخَّرَتۡؕ‏

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

A soul will [then] know what it has put forth and kept back.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Infitaar

All translations of 82:5

اُس وقت ہر شخص کو اُس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(اس وقت) ہر شخص اپنے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے (یعنی اگلے پچھلے اعمال) کو معلوم کر لے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس وقت ہر شخص کو پتہ چل جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہر جان، جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو ہر شخص جان لے گا کہ کیا عمل اس نے آگے بھیجا اور (کیا) پیچھے چھوڑ آیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہر شخص جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اس دن) ہر شخص جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ اس کے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو اس وقت ہر شخص جان لے گا وہ سب کچھ جو کہ اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا

— مولانا اسحاق مدنی

(تو اس وقت) ہر شخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال کو جان لے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اُس وقت) ہر جان جان لے گی کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تب ہر شخص معلوم کرے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا

— محترمہ رفعت اعجاز

everyone shall know all his deeds, both the earlier and the later.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then one will know what he sent ahead and what he left behind.

— Muhammad Taqi Usmani

then one will know what he sent ahead and what he left behind.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A person will know what he has sent forward and left behind.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A soul will know what it hath sent before (it) and what left behind.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

A soul will [then] know what it has put forth and kept back.

— Saheeh International

every soul will see the result of its deeds - those recorded before his death and those which will produce either virtue or evil after his death.

— Muhammad Sarwar

Every soul shall know what it has sent before and held back.

— Muhammad Habib Shakir

Each soul shall know that which it sent afore and that which it left behind.

— Abdul Majid Daryabadi

(Then) shall each soul know what it hath sent forward and (what it hath) kept back.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 82:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاِنْفِطَار 3 اصل الفاظ ہیں ما قدمت و اخرت۔ ان الفاظ کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں اور وہ سب ہی یہاں مراد ہے (1) جو اچھا یا برا عمل آدمی نے کر کے آگے بھیج دیا وہ ما قدمت ہے اور جس کے کرنے سے وہ باز رہا وہ ما اخرت۔ اس لحاظ سے یہ الفاظ تقریباً انگریزی زبان کے الفاظ Commission اور Omission کے ہم معنی ہیں۔ (2) جو کچھ پہلے کیا وہ ما قدمت ہے اور جو کچھ بعد میں کیا وہ ما اخرت، یعنی آدمی کا پورا نامہ اعمال ترتیب وار اور تاریخ وار اس کے سامنے آجائے گا۔ (3) جو اچھے اور برے اعمال آدمی نے اپنی زندگی میں کیے وہ ما قدمت ہیں اور ان اعمال کے جو آثار و نتائج وہ انسانی معاشرے میں اپنے پیچھے چھوڑ گیا وہ ما…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ ، یعنی جب قیامت کے وہ حالات پیش آچکیں گے جن کا ذکر شروع سورت میں کیا گیا ہے، آسمان کا پھٹنا، ستاروں کا جھڑجانا، سب شوروشیریں دریاؤں کا ایک ہوجانا، قبروں سے مردوں کا اٹھنا اس وقت ہر انسان جان لیگا کہ اسنے کیا آگے بھیجا، کیا پیچھے چھوڑا، آگے بھیجنے سے مراد اس پر عمل کرلینا ہے اور پیچھے چھوڑنے سے مراد ترک عمل ہے تو قیامت کے دن ہر شخص جان لیگا کہ اسنے نیک وبد کیا کیا عمل کرلئے اور نیکی یا بدی میں سے کیا چھوڑ دی تھی اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ آگے بھیجے ہوئے اعمال سے مراد وہ معمل ہوں جو اسنے خود کئے، خواہ نیک ہوں یا بد اور پیچھے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ وہ اصل بات بیان ہوئی ہے جو اس دن سب کے سامنے آئے گی۔ یعنی جب اس کائنات میں یہ عظیم ہلچل برپا ہو گی جس کے بعض آثار مذکور ہوئے تب ہر شخص کو پتہ چلے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ پیغمبر کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ یہی دن ہمیشہ رہیں گے بلکہ اس دن کی عظیم ہلچل کو سامنے رکھ کر اپنے انجام پر غور کریں جس سے سابقہ پیش آنے والا ہے اور جس سے کسی کو بھی پناہ نہیں ملنی ہے، نہ کسی چھوٹے کو نہ کسی بڑے کو۔ ’قدّم‘ اور ’اخَّر‘ کی تاویل: ’مَا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ‘ کی تاویل اگر ان مستکبرین کو سامنے رکھ کر کی جائے جو سورہ کے اول مخاطب ہیں تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–6

4۔ 1 یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر نکل آئیں گے یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–8

1: جو آگے بھیجا سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی شخص نے دنیا میں کرکے انہیں آخرت کے لئے آگے بھیج دیا، یعنی انہیں آخرت کا ذخیرہ بنالیا، اور جو پیچھے چھوڑا سے مراد وہ اعمال ہیں جو اسے کرنے چاہیں تھے، لیکن اس نے نہیں کئے اور دنیا میں چھوڑ آیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

علمت .................... واخرت (5:82) ” اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہوجائے گا “۔ یعنی جو پہلے کیا اور جو بعد میں کیا ، یا یہ کہ جو اس نے دنیا میں کیا اور جو اچھے اور برے آثار دنیا میں چھوڑے یا جو دنیا میں عیش کیا اور جو آخرت کے لئے ذخیرہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان عظیم حادثات اور انقلابات کے بعد ہر شخص اگلا پچھلا جان لے گا۔ یہ حادثات میں ہر حادثہ ہی خوفناک ہوگا۔ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ملاحظہ کیجئے۔ کہا جاتا ہے۔ علمت نفس ” نفس یہ جان لے گا “۔ نفس سے یہاں مراد ہر نفس ہے لیکن ” ہر “ کو حذف کرنا بات کو نہایت نفیس اور خوبصورت بنا دیتا ہے۔ بات یہاں آکر ختم نہیں ہوجاتی کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جو بھلے برے کام کئے یا نہیں کئے شروع عمر میں کئے یا اخیر میں۔ ان کا اثر اپنے پیچھے چھوڑا یا نہیں چھوڑا۔ سب اس وقت سامنے آجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

آیت 5{ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ۔ } ”اُس وقت ہر جان ‘ جان لے گی کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔“ اس دن ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا کیا اچھے یا برے اعمال آگے بھیجے تھے اور ان کے آثار و نتائج کی شکل میں کیا کچھ وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة القیامہ کی آیت 13 کے تحت بھی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو بتادیا جائے گا کہ اس نے کس شے کو آگے کیا تھا اور کس شے کو پیچھے رکھا تھا۔ یعنی دنیا اور آخرت میں سے اس نے کس کو مقدم رکھا تھا اور کس کو موخر کیا تھا۔ آیت کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ دنیا میں اس نے پہلی عمر میں کون کون سے کام کیے تھے۔ اور بعد میں کون کون سے اور اعمالناموں میں یہ سب باتیں ترتیب وار درج ہوں گی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان کے وہ کون کون سے کام تھے جو اس نے اپنی زندگی میں سرانجام دیئے تھے۔ یہ ماقدّمت ہے اور ایسے کون کون سے کام تھے جن کا ثواب یا عذاب اس کی موت کے بعد بھی اس کے اعمال نامہ میں درج ہوتا رہا۔ یہ ما اخّرت ہے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے اسلام میں کسی نیک کام کی طرح ڈالی اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا ثواب کچھ کم ہو اور جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

3۔ (جو تو اس کے ادائے حقوق کی ذرا فکر نہیں کرتا) سوال سے مقصود غیرت دلانا ہے کہ ان نعمتوں کا مقتضا تو یہ تھا کہ تو ادائے شکر کرتا، چہ جائیکہ تو اس ناشکری پر آمادہ ہوگیا۔ (آیت) ” ربک الکریم “۔ ایک تو رب خود، اور پھر اس پر کریم کا اضافہ اسی غیرت کی کیفیت میں اور اضافہ کرنے کے لیے ہے۔ جو مالک ومولی ساتھ ساتھ رحیم وشفیق بھی ہو، اس کے بار احسان سے تو سر اور بھی ہرگز ہرگز نہ اٹھنا چاہیے۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے مرا اس سیاق میں کافر انسان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–19

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

علمت نفس ما قدمت واخرت . اس وقت آدمی کو معلوم ہوجائے گا جو کچھ اس نے پہلے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔ یہ اذا کا جواب ہے اور اذا چاروں آیات میں ویسا ہی ہے جیسے : اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ میں گزر چکا۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ جو اچھا ‘ برا عمل اس نے پہلے کیا اور جو اچھا برا طریقہ (بنیاد ڈال کر) وہ پیچھے چھوڑ آیا وہ ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا۔ بعض علماء نے کہا کہ جو کام اس نے کیا اور جو کام اس نے چھوڑا وہ معلوم ہوجائے گا۔ بعض نے کہا : صدقات کو پہلے دینا اور زکوٰۃ بعد میں دینا مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ آخرت پر تقدیم یا تاخیر مراد ہے یعنی دنیا کو آخرت پر مقدم قرار دیا تھا یا مؤخر۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–12

(5۔ 6) اے کافر ! مثلا کلاہ بن اسید تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ کفر کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے جس نے تجھ کو نطفہ سے پیدا کیا اور پھر تیری ماں کے پیٹ میں تیرے اعضاء کو درست کیا اور پھر معتدل القامت بنایا، پھر جس صورت میں چاہا تجھ کو پیدا کردیا یا یہ اچھی بری صورت میں بنا دیا اور اگر وہ چاہتا تو بندر اور سور کی شکل میں بنا دیتا مگر تم جزا و سزا کے دن ہی کو جھٹلاتے ہو اور ہم نے تمہارے اوپر تمہاری نگرانی اور تمہارے اعمال لکھنے کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں وہ اللہ کے ہاں معزز اور تمہارے تمام اقوال و افعال سے باخبر ہیں۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ (الخ) ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(علمت نفس ما قدمت و اخرت :) جو اچھے یا برے اعمال موت سے پہلے کئے، یا جو اچھے یا برے طریقے پیچھے چھوڑ گیا، جن کے ثواب و عذاب کا سلسلہ اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا، وہ سب سامنے آجائیں گے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو عمل شروع عمر میں کئے اور جو آخر عمر میں کئے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

علمت نفس ماقدمت واخرت۔ اس روز انسان کو وہ کچھ بتایاجائے گا جو اس نے آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا۔ یہ السماء انفطرت۔ کا جواب ہے کیونکہ یہ حضرت بصری کے قول کے مطابق قسم ہے، جو علمت نفس پر واقع ہورہی ہے یعنی جب قیامت کی نشانیوں میں سے یہ امور ظاہر ہوں گے توہرنفس نے جو کچھ کیا ہوگا اس کو جان لے گا کیونکہ اس کے بعد کا عمل اسے کوئی نفع نہیں دے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے جب یہ اشیاء محقق ہوجائیں گی تو قیامت برپا ہوجائے گی تو ہر نفس نے جو کچھ کیا ہوگا اس پر اس کا محاسبہ ہوگا، اور اس کی کتاب اس کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دی جائے گی تو اسکے پڑھنے کے موقع پر اسے اپنے تمام اعمال یاد آجائیں گے ایک قول یہ کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

5۔ ابن المبارک فی الزہد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت علمت نفس ما قدمت واخرت۔ تب ہر شخص جان لے گا کہ کیا اس نے آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑ آیا یعنی جو اس خیر اور نیکی کے اعمال آگے بھیجے تھے اور جو اچھا طریقہ اس نے پیچھے چھوڑا کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا ہے و اس کے لیے اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر ہوگا اور ان کے اور ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی یا کوئی برا طریقہ پیچھے چھوڑ آیا کہ جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا ہے تو عمل کرنے والے کے برابر اس کے لیے گناہ ہوگا۔ اور ان کے گناہوں میں ذرا بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ 6۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عَلِمَتْ نَفْسٌ: تو جان لے گی ہر ایک جان اس کو ][ مَا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ : اس نے جو آگے کیا اور جو پیچھے کیا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

ان آیات میں بھی وقوع قیامت کے بعض احوال کا ذکر ہے، ارشاد فرمایا جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے جھڑ پڑیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے، یعنی دریائے شوروشیریں بہہ کر آپس میں ایک دوسرے سے مل جل جائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دیں جائیں گی یعنی ان میں سے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر شخص اپنے اعمال کو جان لے گا جو اس نے پہلے بھیجے اور بعد میں بھیجے (ان میں سے اول کے تین واقعات نفخہ اولیٰ سے اور چوتھا واقعہ نفخہ ثانیہ سے متعلق ہے) ۔ روح المعانی میں ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ003﴾ کے بارے میں لکھا ہے کہ جب سارے دریا میٹھے اور نمکین اکٹھے ہوجائیں گے تو زمین اس سارے پانی کو چوس لے گی اور زمین پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–5

2:۔ ” اذا السماء انفطرت “ تخویف اخروی۔ حالات قیامت کا بیان سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی۔ آسمان پھٹ جائیگا یعنی چھیلا جانے کے بعد۔ ” واذا الکواکب انتثرت “ اور بےنور ہوجانے کے بعد تارے جھڑ جائیں گے۔ ” واذا البحار فجرت “ اور دریا بھر جانے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ ” واذا القبور بعثرت “ اور اہل قبور کو اٹھایا جائے گا۔ ” علمت نفس الخ “ جواب قسم ہے۔ جب قیامت قائم ہوجائیگی تو ہر نفس کو اپنے تمام اعمال خیر و شرکا علم ہوجائیگا، کیونکہ ہر شخص کو اس کا اعمالنامہ دیدیا جائے گا جسے پڑھ کر وہ سب کچھ معلوم کرلے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

(قیامت سب سے بڑا حادثہ ہوگا) تخلیق کائنات کی ابتداء سے لے کر اب تک جتنے واقعات پیش آچکے ہیں یا آئند ہ پیش آنے والے ہیں۔ ان میں قیامت کا واقعہ سب سے بڑا ہوگا۔ اسی قیامت کو القارعۃ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک حادثہ ہوگا جو کھٹکا دینے والا ہوگا۔ قیامت کا ایک نام واقعہ بھی ہے۔ کہ ایک واقعہ پیش آنے والا ہے۔ جب کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ اس طرح اسے الطامۃ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ یعنی سب سے زوردار حادثہ یا ہنگامہ تو گویا ان سورتوں میں مختلف اشیاء پر قیامت کے اثرات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ ہر شخص محاسبے کے لیے تیار رہے۔ (قرآن کریم کے ساتھ ربط) قرآن کریم کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ۝ 5 ۭ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ اذا شرطیۃ السماء فاعل فعل محذوف یدل علیہ انفطرت و الجملۃ معطوفۃ علیھا واذا الکواکب الخ عطف علیھا وکذاما بعدھامن الجملتین علمت الجملۃ جواب الشرط نفس فاعل علمت ‘ ما قدمت و اخرت مفعول یقال بعثر 1 ؎ یبعثر بعثرۃ اذا قلب التراب وقال الفر 1 اء اخرجت مافیھا من الدفائن وذلک من اشراط القیامۃ ان تخرج الارض ذھبا وفض تھا۔ ؎ وبعثرو بحثر بمعنی واحد وھما مرکبان من البعث والبحث مع راء مضمومۃ الھما والمعنٰی ایثرت وقلب اسفلھا اعلاہا وباطنھا ظاہر ھاکبیر۔ 12 تفسیر ¦ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ نسائی نے روایت کی ہے کہ معاذ ؓ نے جب عشاء کی نماز میں بڑی سورة پڑھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاقَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ ۔ (الانفطار : 5) (اس وقت ہر شخص کو پتہ چل جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا ہے اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔ ) قیامت کے اصل مقصد کا ظہور قیامت کے برپا کرنے سے جو چیز مقصود ہے وہ اس آیت میں بیان فرما دی گئی ہے۔ یعنی آج جو لوگ قیامت کے وقوع کا انکار کرتے ہیں اور بعض ایسے سرپھرے ہیں جو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ قیامت کی ہولناکی شکست و ریخت اور ہلچل کو دیکھتے ہوئے انھیں اندازہ ہوگا کہ ہم جس چیز کا انکار کرتے رہے ہیں وہ تو اب ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ تب انھیں زندگی کے معمولات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ آج کا دن اگر واقعی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة التکویر میں قیامت سے پہلے دوسرے مرحلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن جنت اور جہنم لوگوں کے سامنے لائی جائیں گی اور ہر انسان جان لے گا کہ اس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ الانفطار کی ابتدا بھی قیامت کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی نشاندہی سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی اس وقت ہر انسان کو اپنا اگلا پچھلا کیا ہوا سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ اس وقت انسان کو یاد آئے گا کہ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ (ہرشخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال کو جان لے گا) یہ اذا کا جواب ہے یعنی ہر نیک و بد جان لے گا جو اس نے اطاعت کی ہوگی۔ واخرت ؔ اور جو کام اس نے چھوڑے ہونگے اور عمل نہ کیا ہوگا۔ نمبر 2۔ ماقدمتؔ سے صدقات اور ما اخرت سے میراث مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” واذا القبور بعثرت “ اور جب قبریں کھول دی جائیں گی اور ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں جو مردے ہیں ان کو زندہ کرکے اٹھادیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے ” بعثرت الحوض وبحشرتہ “ جب تو اس کو پلٹ دے پھر اس کے نچلے حصے کو اس کا اوپر والا حصہ بنادے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہوجائے گا۔ ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہوجائے گا جب سمندر بہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے قبریں شق کرکے اکھاڑ دی جائیں گی اور ان میں سے مردے نکال لیے جائیں گے اور ان اعمال کی جزا وسزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا پس اس وقت پر دہہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہوجائے گا جو چھپا ہوا تھا اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہوجائے گا تو وہ حسرت اور پیشمانی سے اپنے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(3) انسان کا زندگی بھر کا کیا کرایا سب اس کے سامنے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز انسان جان لے گا جو کچھ کہ اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا "۔ ان کلمات کریمہ کے عموم میں کئی صورتیں داخل ہیں۔ ایک یہ کہ اس روز ہر انسان کے تمام اعمال اس کے سامنے آجائیں گے جو اس نے پہلے کیے تھے وہ بھی اور جو بعد میں کیے تھے وہ بھی۔ سو وہ سب کے سب اس کے سامنے ہوں گے، اور یہ ان سب کو اچھی طرح دیکھ اور جان لے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حاضِراً وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ أَحَداً (الکہف 49 پ 15) اور دوسری صورت اور دوسرا مطلب اس ارشاد کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

قیامت کا نقشہ تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–5

ف 3 یعنی جس کے ثواب یا عذاب کا سلسلہ اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا دوسرا مطل بیہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس کام کو بھی جان لیگا جو اس نے پہلے شروع عمر میں کیا اور اس کام کو بھی جان لیگا جو اس نے بعد میں آخری عمر میں کیا تیسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ اس فریضہ کو بھی جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا (یعنی اسے توشہ آخرت بنایا) اور اس فریضہ کو بھی جان لیگا جو اس نے موخر کیا (یعنی اسے بچا نہ لایا) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(82:5) علمت نفس ما قدمت واخرت یہ جملہ بائے شرطیہ مذکورہ آیت نمبر 1 تا 4 کا جواب شرط ہے۔ ما موصولہ ہے قدمت ماضی صیغہ واحد مؤنث غائب تقدیم (تفعیل) مصدر سے جو اس نے آگے بھیجا۔ اخرت ماضی واحد مؤنث غائب تاخیر (تفعیل) مصدر سے (جو) اس نے پیچھے چھوڑا۔ صاحب تفہیم القرآن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ ان الفاظ کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں اور وہ سب ہی یہاں مراد ہیں۔ (1) جو اچھا یا برا عمل آدمی نے کرکے آگے بھیج دیا۔ وہ ما قدمت ہے اور جس کے کرنے سے وہ باز رہا وہ ما اخرت ہے۔ (2) جو کچھ پہلے کیا وہ ما قدمت ہے اور جو کچھ بعد میں کیا وہ ما اخرت ہے یعنی آدمی کا پورا نامہ اعمال ترتیب وار و تاریخ وار اس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–12

انسان کی پیدائش اور حشر کا ذکر۔ (ف 1) یعنی زمین پر کے سب سمندر شریں وشور مل کر ایک ہوجائیں اور قبریں پھٹ جائیں گی اور ان میں سے مردے زندہ کر کے نکالے جائیں گے اس وقت ہر نفس اپنے اعمال خیر وشر جان لے گا جو اس نے زندگی میں کیے ہوں گے کہ میں نے نیک عمل و بدعمل کیا بھیجا اور کیا چھوڑا اور توبہ اور نیک عمل کو پست پشت ڈالنے کا ثمرہ بھی معلوم ہوجائے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائیں گے اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست ونابود تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا، برابھلا دیکھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] یعنی جو اچھے یا برے اعمال اس نے زاد آخرت بنا کر بھیجے اور ان کے جو آثار و نتائج وہ دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–9

تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟ 1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اس وقت ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے - یعنی جو بھلے اور برے کام کئے یا نہیں کئے شروع میں کئے یا آخر عمر میں کئے کوئی اچھی رسم جاری کرگیا یا کوئی بری رسم قائم کر گیا یا وہ مال جو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کر گیا اور وہ مال جو پیچھے چھوڑ گیا۔ بہرحال علماء کے کئی اقوال ہیں اور اس آیت کے معنی کئی طرح بیان کئے گئے ہیں۔ وہ اولاد بھی مراد ہوسکتی ہے جو ماں باپ کے سامنے مرگئی اور وہ اولاد بھی جو پیچھے چھوڑ گئے قبروں سے نکلتے ہی اجمالی طور پر ہر شخص کو اپنا حال معلوم ہوجائے گا البتہ تفصیلی حال اس وقت معلوم ہوگا جب نامہ اعمال ہاتھ میں دیئے جائیں گے آگے انسان کو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر شخص جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چوڑا 5 ؎ اس دنیا کی زندگی میں ہر ایک شخص کو جو بھیجا گیا ہے کیوں بھیجا گیا ہے ؟ محض اس لیے کہ اس کو اس امتحان گاہ میں بھیجا گیا تاکہ اس کا جائزہ لیا جائے کہ وہ اچھے اعمال کرتا ہے با برے ۔ جو کچھ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کا سب اس آزمائش کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اس روز جونہی وہ اٹھایا جائے گا تو اس کو اس کے اعمال کے نتائج سے دو چار کردیا جائے گا اور کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ جائے گی یعنی جو جو اعمال اس نے کیے اور جن جن عبادات اور صدقات کو اس نے ادا کیا اور جو اس نے بالکل ترک کردیئے اور ان کے قریب بھی نہ گا اس کو سب باتوں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَ‌تْ (...then one will know what he sent ahead and what he left behind....82:5) In the preceding verses [ 1-4] of the Surah, Allah depicts the scene of the Day of Judgment that when the sky splits, the stars fall, the seas are poured forth [ i.e. the fresh and salt water bodies will merge to form one mass of water ] and the graves are overturned [ i.e. corpses will emerge from their graves ], every soul shall come to know what it had sent ahead and what it had left behind. The phrase 'what he sent ahead' means the good or evil act which he has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 The words ma qaddamat wa akhkharat can have several meanings and all are implied here: (1) Ma qaddamat is the good or evil act which man has sent forward, and ma akhkharat is what he refrained from doing. Thus, these Arabic words correspond to the acts of commission and omission in one's life. (2) Ma qaddainat is what one did earlier and ma akhkharat what one did later; i.e. the whole life-work of man will appear before him date-wise and in proper sequence (3) Whatever good and evil deeds a man did in his life is ma qaddamat and whatever effects and influences of his acts he left behind for…

Read the full tafseer →