Ayah 82:1اذا السماء انفطرت
. جب آسمان پھٹ جائے گا
Ayah 82:2واذا الکواب انتثرت
اور جب ستارے ٹوٹ کر
بکھر جائیں گے۔
Ayah 82:3واذا البہار فجرت . اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔ ایک کا راستہ دوسرے میں کھول دیا جائے گا ‘
شیریں سمندر ‘ شور سے مل کر ایک سمندر بن جائے گا
Ayah 82:4واذا القبور بعثرت . اور جب قبروں کی مٹی الٹ دی جائے گی اور مردوں کو ان کے اندر سے نکال لیا جائے گا۔
Ayah 82:5علمت نفس ما قدمت واخرت . اس وقت آدمی کو معلوم ہوجائے گا جو کچھ اس نے پہلے بھیجا اور پیچھے
چھوڑا۔ یہ اذا کا جواب ہے اور اذا چاروں آیات میں ویسا ہی ہے جیسے : اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ میں گزر چکا۔
بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ جو اچھا ‘ برا عمل اس نے پہلے کیا اور جو اچھا برا طریقہ (بنیاد ڈال کر) وہ پیچھے چھوڑ آیا وہ ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا۔ بعض علماء نے کہا کہ جو کام اس نے کیا اور جو کام اس نے چھوڑا وہ معلوم ہوجائے گا۔ بعض نے کہا : صدقات کو پہلے دینا اور زکوٰۃ بعد میں دینا مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ آخرت پر تقدیم یا تاخیر مراد ہے یعنی دنیا کو آخرت پر مقدم قرار دیا تھا یا مؤخر۔ آیت : یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یُوْمَءِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ اس کی نظیر ہے۔ (اس کی تحقیق پہلے گزر چکی ہے) ۔
Ayah 82:6یایھا الانسان ما غرک بربک الکریم . اے انسان ! تجھ کو کس نے فریب خوردہ بنایا اور ربِّ کریم کی نافرمانی اور اس کے حکم کی خلاف ورزی پر جرأت دلائی۔ الکریم۔ درگزر کرنے والا یایھا الانسان پورا جملہ معترضہ ہے۔ علمت نفس ما قدمت واخرت کے جملہ سے ہر بد اعمالی کا مفہوم سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر یایھا الانسان .... سے تنبیہ فرمائی ہے۔ بغوی کا بیان ہے کہ ولید بن مغیرہ کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ نزول آیت کا مورد ابی بن خلف تھا۔ کلبی نے اسید بن کلدہ کے متعلق آیت کا نزول قرار دیا ہے۔ اسید نے رسول اللہ ﷺ کو مارا تھا اور اللہ نے اس کو فوری سزا نہیں دی تھی اور یہ آیت نازل فرمائی یعنی ربِّ کریم کے متعلق تجھے کس چیز نے فریب خوردہ بنایا اور کس نے اس کی خلاف ورزی پر تجھے جرأت دلائی۔ کیا اس کی درگزر نے یا اس بات نے کہ اس نے تجھے فوری سزا نہیں دی۔ رب کی صفت کریم اس موقعہ پر ذکر کرنے کی یہ وجہ ہے کہ خدا کے وصف کریمی ہی کی وجہ سے اس نے فریب کھایا تھا اور شیطان یہی کہہ کر دھوکہ دیتا ہے کہ تیرا ربّ کریم ہے ‘ کسی کو فوری سزا نہیں دیتا۔ مقاتل نے جو کہا تھا کہ اللہ کی درگزر نے اس کو فریب دیا تھا کہ خدا نے اس کی حرکت کی فوری سزا نہیں دی ‘ اس قول کا بھی وہی مطلب ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ سدی نے کہا : اللہ کی نرمی کرنے نے اس کو فریب دیا۔
آیت میں استفہام انکاری ہے اگر اللہ میں صرف وصف کرم ہو تب بھی اسکے کرم اور فی الفور عذاب نہ دینے سے فریب کھانا جائز نہیں۔ ظالم کو بالکل مطلق العنان ہمیشہ کیلئے چھوڑ دینا اور دشمن و دوست کو برابر کردینا کرم کا تقاضا نہیں اور جب کرم کے ساتھ (اسکے مخالف) اور صاف قہر و انتقام وغیرہ کا بھی خدا کو جامع مانا جائے تب تو کرم پر مغرور ہوجانا (اور انتقام کی طرف سے غافل ہوجانا) جائز ہوسکتا ہی نہیں۔
لفظ الکریم ناشکری کی کامل تردید کر رہا ہے۔ کثرت کرم کا تو تقاضا یہ ہے کہ کریم کا شکر کیا جائے ‘ کفران نعمت نہ کیا جائے ‘ طاعت میں کوشش کی جائے ‘ کرم پر اعتماد کر کے گناہوں میں انہماک نہ کیا جائے۔
بعض اہل بشارت کا قول ہے کہ دوسرے اسماء وصفات کو چھوڑ کر بربک الکریم کہنے سے گناہگار کو یہ جواب دینے کا موقع مل گیا کہ جب اس سے گناہ کی باز پرس ہو تو وہ کہہ دے کہ مجھے کریم کے کرم نے دھوکہ دیا۔ یحییٰ بن معاذ نے کہا اگر خدا نے مجھے سامنے کھڑا کر کے پوچھا کہ یحییٰ تجھے میرے متعلق کس نے فریب خوردہ کردیا اور مجھ پر کس نے جرأت دلائی تو کہہ دوں گا کہ تیرے گزشتہ اور حالیہ کرم نے مجھے دھوکہ دیا۔ ابوبکر ورراق نے کہا اگر مجھ سے فرمایا : مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْم تو کہہ دوں گا : غَرَّنِیْ کَرَمُ الْکَرِیْمِ ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ قیامت کے دن اللہ اس سے باز پرس نہ کرے۔ وہ ضرور کہے گا کہ اے ابن آدم تجھے مجھ پر کس چیز نے جری بنا دیا ؟ اے ابن آدم تو نے اپنے علم کے موافق کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم تو نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا ؟ عطاء نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں کہا کہ تجھے کس چیز نے خدا سے کاٹ دیا ‘ کس نے خدا سے روک کر نفس میں پھنسایا یا بِءْسَ للظَّالِمِیْنَ بَدَلاً ۔
نقل ہے کہ ایک عورت نے قاضی سے استغاثہ کیا کہ میرے شوہر نے میرے اوپر ایک اور عورت سے نکاح کرلیا ہے۔ قاضی نے کہا : تجھ کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ‘ اللہ نے مردوں کیلئے حسب مرضی دو دو ‘ تین تین اور چار چار عورتیں مباح کردی ہیں۔ عورت بولی : قاضی جی ! اگر حجاب و حیاء مانع نہ ہوتی تو میں اپنا حسن تم کو دکھاتی اور پھر پوچھتی کہ جس کا حسن و جمال ایسا ہو جیسا میرا ‘ کیا اس سے رخ موڑ کر دوسرے سے مشغلہ کرنا جائز ہے۔ عورت کا یہ قول ایک اہل دل نے سن پایا اور سنتے ہی چیخ مار کر بےہوش ہو کر گرپڑا کچھ دیر کے بعد ہوش میں آیا تو کہنے لگا : میں نے ایک ہاتف کو یہ ندا دیتے سنا کہ کیا اس عورت کی بات تو نے نہیں سنی۔ اگر عظمت و کبریا کا حجاب نہ ہوتا تو میں تجھ کو اپنا جمال و جلال دکھاتا جس کی سمائی کسی مقابل میں نہیں اور تجھ سے پوچھتا کہ جو مجھ سے مشغلہ رکھ سکتا ہے کیا اس کیلئے دوسرے سے مشغلہ رکھنا درست ہے ‘ مجھ جیسا کہاں ہے ‘ میری مثل کون ہے ‘ کوئی میری مثل ہو ہی نہیں سکتا۔ میری ہی طلب کر ‘ طلب کریگا تو مجھے پا لیگا۔
حضرت جابر ؓ کی روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اللہ بھی اپنا رخ اس کی طرف کرلیتا ہے پھر جب آدمی رخ پھیر لیتا ہے تو اللہ فرماتا ہے : اے ابن آدمِ ! کس کی طرف تو رخ پھیرتا ہے ‘ مجھ سے بہتر کون ہے ؟ میری طرف رخ کر۔ جب آدمی دوبارہ روگردانی کرتا ہے تو اللہ وہی پہلی بات فرماتا ہے جب تیسری بار آدمی منہ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف سے رخ پھیر لیتا ہے۔ (رواہ البزار)
Ayah 82:7الذی خلقک . جس نے تجھے اوّل مٹی سے بنایا ‘ پھر نطفہ سے جب کہ پہلے کچھ بھی نہ تھا (یعنی حضرت آدم کو مٹی سے اور ان کی نسل کو نطفہ سے بنایا) ۔
فسواک . پھر اس نے تجھ کو پورے درست اعضاء والا آدمی بنا دیا۔ تخلیقی درستی کا یہ معنی ہے کہ اعضاء کو درست بنایا اور اس قبل کردیا کہ وہ اپنے اپنے فرائض ادا کرسکیں۔
فعدلک . تجھے موڑا اور جس صورت کی طرف چاہا پھیر دیا یا دوسرے حیوانوں کی خلقی صورت و طبیعت سے پھیر دیا۔ یہاں تک کہ تو سب سے جدا اور ممتاز ہوگیا یا بعض اجزاء کی طبیعت کو بعض کی طرف موڑ کر اعتدال پیدا کردیا۔ صفراء کی حرارت اور خشکی کو بلغم کی سردی اور رطوبت سے توڑ دیا اور سوداء کی خشکی و برودت کو خون کی رطوبت و حرارت سے شکستہ کردیا اور بلغم کی برودت و رطوبت کو صفراء کی حرارت و یبوست سے اور خون کی حرارت و ررطوبت کو سودا کی خشکی و برودت سے توڑ دیا۔ اس طرح تمام حیوانات سے زیادہ تیرے مزاج میں اعتدال پیدا ہوگیا (کوفیوں کی قراءت میں عَدَلَکَ ہے جس کی توضیح ہم نے کردی) دوسرے قاریوں کی قراءت میں فَعَدَّلَکَ آیا ہے یعنی اللہ نے تیری جسمانی ساخت کو متوازن بنایا اور اعضاء جسم متناسب بنائے ‘ جن کے اندر اپنے اپنے فرائض کو ادا کرنے کی قوّ توں کی قابلیت بنائی۔
Ayah 82:8فی ای صوررۃ ما شاء رکبک . صورۃٍ میں تنوین تنکیر ہے اور تنکیر کی تاکید کے لیے مَا : کو لایا گیا ہے اور تنکیر اس جگہ مفید تکثیر ہے یعنی جس جس صورت میں چاہا تم کو جوڑ دیا۔ مجاہد ‘ کلبی اور مقاتل نے کہا : باپ ‘ یا ماں ‘ یا ماموں ‘ یا چچا کی۔ غرض جس کی شکل چاہی دے دی۔ حدیث میں آیا ہے جب نطفہ رحم میں ٹھہرتا ہے تو اس سے لے کر آدم تک سب (صورتوں) کو سامنے لایا جاتا ہے ‘ پھر حضور ﷺ نے آیت : فی ای صورۃٍ ماشاء رکبک تلاوت فرمائی۔ اس حدیث کو ابن جریر اور طبرانی نے موسیٰ بن علی بن رباح کے سلسلہ سے ضعیف سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔ عدلک کا بیان ہے اسی لیے دونوں جملوں کے درمیان حرف عاطف نہیں لایا گیا۔
الذی سے رکبک تک پورا کلام ربک کی دوسری صفت ہے ‘ جس سے رب کی ربوبیت کا ثبوت اور کریم کے کرم کی وضاحت ہو رہی ہے اور اس بات پر تنبیہ بھی ہے کہ جو خدا اوّل تخلیق میں ایسے ایسے کام کرسکتا ہے وہ دوسری تخلیق پر بھی قادر ہے۔ اس سے ممانعت کفران کی تاکید اور غرور و کفران پر زجر کرنی بھی مقصود ہے کیونکہ جس کی شان ایسی ہو اس کی ناشکری جائز نہیں۔
Ayah 82:9کلا . یہ اللہ کے کرم سے فریب خوردہ ہونے سے بازداشت ہے۔
بل تکذبون بالدین . الدّین سے مراد ہے اسلام یا جزاء و سزا۔ کریم کے کرم پر اعتماد کر بیٹھنے سے اس کلام میں اعراض کیا ہے (یعنی ادنیٰ سے رخ موڑ کر اعلیٰ کی طرف توجہ کی ہے) مطلب یہ ہے کہ مذکورۂ بالا فریب خوردگی ہی پر تم بس نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ اسلام یا عقیدۂ جزا و سزا کی تکذیب کرتے ہو۔
یہ بھی احتمال ہے کہ جملہ علمت نفس ما قدمت واخرت کے مفہوم سے اعراض ہو یعنی ہر انسان نے جو پہلے معصیت اور پیچھے طاعت کی ہوگی اس کو جان لے گا اور تم عصیان کرتے ہو (لہٰذا تم اپنے گناہوں کو جان لو گے) اور فقط معصیت ہی نہیں کرتے بلکہ جزا و سزا کو ہی نہیں مانتے۔
Ayah 82:10وان علیکم لحافظین . حالانکہ تمہاری رفتار ‘ گفتار اور اطوار کی نگہداشت کرنے والے فرشتے تم پر مقرر ہیں۔
Ayah 82:11کراما کاتبین . جو اللہ کے ہاں معزز اور سزا و جزا کیلئے تمہارے اعمالناموں میں تمہارے ہر عمل کو لکھنے والے ہیں۔
Ayah 82:12یعلمون ما تفعلون . تم جو کچھ اچھی ‘ بری بات یا عمل کرتے ہو اس کو وہ جانتے ہیں۔ کرامًا اور کاتبین اور
یعلمون تینوں اوصاف حافظین اعمال کی عظمت کو ظاہر کرنے اور اس امر پر تنبیہ کرنے کے لیے لائے گئے ہیں کہ حافظین کے علم سے کوئی عمل چھپا نہیں رہتا۔ اس سے تکذیب سزا و جزا کرنے والوں کو زجر اور سزا و جزا کی حقانیت کا ثبوت ظاہر ہو رہا ہے۔
Ayah 82:13ان الابرار لفی نعیم . بلاشبہ ابرار راحت میں ہوں گے۔ ابرار وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں ‘ غلط عقائد ‘
برے اخلاق اور قبیح کردار غرض ہر ممنوع سے پرہیز کرتے اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے انکو ابرار اسلئے فرمایا کہ انہوں نے باپ اور بیٹوں کے ساتھ نیک سلوک کیا۔
Ayah 82:14وان الفجار لفی جحیم . فجور کا معنی ہے پھاڑّنا ‘ جن لوگوں نے کفر و معصیت کے ہاتھ سے دین اور
دیانت کا پردہ پھاڑ دیا وہ فجار ہیں۔ ان الابرار سے لفی جحیم تک علمت نفس کا بیان ہے کیونکہ ہر شخص اپنے کیے ہوئے اچھے برے عمل کو سزا و جزا سے پہچان لے گا۔ سلیمان بن عبدالملک نے ابو حازم مدنی سے کہا : کاش ہم کو علم ہوجاتا کہ اللہ کے پاس ہمارے لیے کیا ہے (ثواب یا عذاب) ۔ ابو حازم ؓ نے کہا : اپنے اعمال کو کتاب اللہ کے سامنے لاؤ ‘ تم کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا کے پاس تمہارے لیے کیا ہے۔ سلیمان نے کہا : کتاب اللہ میں مجھے کس جگہ ملے گا۔ ابو حازم نے کہا ‘ آیت : ان الابرار لفی نعیم وان الفجار لفی جحیم میں سلیمان نے کہا پھر اللہ کی رحمت کہاں ہے۔ ابوحازم نے کہا : نیک کام کرنے والوں کے قریب۔
Ayah 82:15یصلونھا یوم الدین . جزاء کے دن وہ جحیم میں داخل ہوں گے
Ayah 82:16وما ھم عنھا بغائبین اور اس سے
غائب نہیں ہوں گے۔
ھم کی ضمیر بعض فجار کی طرف راجع ہے اور بعض الفجار سے کافر مراد ہیں ‘ یا آیت مذکورہ بالا میں الفجار کا لفظ ہے ‘ اس سے مراد ہی کافر ہیں (کیونکہ الفجار میں لام عہدی ہوگا اور سعہود وہی فجار ہوں گے جو یوم دین کی تکذیب کرتے ہیں یعنی کافر) ۔
جحیم سے غائب نہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے یا یہ معنی ہے کہ وہ پہلے ہی اس سے غائب نہ تھے یا یہ مطلب ہے کہ قبروں میں بھی دوزخ کی گرم ہوا ان کو پہنچتی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی مرجاتا ہے تو صبح و شام اسکی جگہ اسکے سامنے لائی جاتی ہے ‘ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں کی جگہ اور دوزخی ہے تو دوزخ والوں کی جگہ پیش ہوتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے ‘ یہ تیری جگہ ہے ‘ یہاں تک کہ اللہ تجھے اٹھا کر قیامت کے دن وہاں لے جائیگا۔ (بخاری و مسلم)
حضرت براء بن عازب کی روایت سے حسب فرمان رسول ﷺ قبر میں کافر کے حال کے ذکر میں آیا ہے کہ اس سے اس کے دین کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے : ہا ‘ ہا ! مجھے نہیں معلوم اس پر آسمان کی طرف سے ایک نداء آتی ہے ‘ اس نے جھوٹ کہا اس کے لیے آگ کا فرش کر دو اور آ گ کے کپڑے اس کو پہنا دو اور آگ کی طرف اس کے لیے دروازہ کھول دو ۔
Ayah 82:17وما ادراک ما یوم الدین . اس کلام سے یوم الدّین کی عظمت کا اظہار فرمایا ہے۔ استفہام موجب تعجب
و توبیخ ہے یعنی وہ دن سخت مصیبت اور شدت کا ہوگا ‘ اس کی شدت و مصیبت کی حقیقت کو کسی دانشمند کا فہم نہیں پاسکتا۔
Ayah 82:18ثم ما ادراک ما یوم الدین . یوم الدین کی عظمت شان کو مؤکد کرنے کے لیے جملہ کی تکرار کی گئی۔
Ayah 82:19یوم لا تملک نفس لنفس شیئا . جس روز کہ کوئی کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ یَوْمَ ۔ بر قراءت ابن
کثیر و ابوعمرو ما یوم الدین سے بدل ہے یا ھو (وُہ) محذوف کی خبر ہے۔ یوم بر قراءت ِ جمہور یصلونھا یوم الدّین میں جو یوم الدّین ہے اس سے بدل ہے یا فعل محذوف کا ظرف ہے یعنی دونوں فریقوں کو اس روز بدلہ ملے گا جبکہ کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا یا اذکر فعل محذوف ہے یعنی اس روز کو یاد کرو جبکہ ‘ الخ
یہ لفظ محل رفع میں ہے لیکن چونکہ اس کی اضافت غیر متمکن کی طرف ہو رہی ہے اس لیے منصوب پڑھا جاتا ہے۔ لِنَفْسٍ میں نفس سے مراد ہے ‘ کافر۔ کذا قال مقاتل۔
والامر یومئذ اللہ . اس روز حکم محض اللہ واحد کا ہوگا۔ وہ دنیا کی طرح اس روز کسی کو کسی چیز کا مالک نہیں بنائے
گا۔ مؤمنوں کے لیے شفاعت کی اجازت (ضرور ہوگی مگر اذن شفاعت) تملیک نہیں (اذان سے ماذون مالک نہیں ہوجائے گا) یا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت دنیا میں بھی اہل بصیرت کی نظر میں ہر امر اللہ ہی کا ہے (اگرچہ ظاہر میں لوگوں کو زید و عمرو کا امر نظر آتا ہے) مگر اس روز ہر شخص کے سامنے اور ہر شخص کے گمان میں بھی اللہ ہی کا حکم ہوگا (کسی دوسرے کا نہ ہوگا) واللہ اعلم بالصواب۔
سورۃ الانفطار ختم ہوئی ‘ بعونہ تعالیٰ