82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 82:1–12

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جب تارے جھڑ پڑیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جب دریا بہہ (کر ایک دوسرے سے مل) جائیں گے

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان ! تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے بارے میں کس چیز نے دھوکا دیا ؟

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

(وہی تو ہے) جس نے تجھے بنایا اور (تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا اور (تیرے قامت کو) معتدل رکھا

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

(اور) جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں

1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا وہ اس کا مقدم عمل ہے اور موت کے بعد کوئی صدقہ جاریہ یا کوئی بد رسم جو کچھ چھوڑا وہ اس کا موخر عمل ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائے گا اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست و نابود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا برا بھلا دیکھنے کے لئے آنکھیں دیں ہر طرح کی بات سننے کے لئے کان دیئے۔ ہر طرح کی بات سمجھنے کے لئے عقل دی۔ ان سب چیزوں سے انسان نے کام لیا تو یہ لیا کہ شیطان کے فریب میں آ کر بعض لوگ تو بالکل خدا کو بھول ہی گئے اور اپنے پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر کوئی بتوں کی پرستش میں لگ گیا اور کوئی اور چیزوں کی۔ بعض لوگوں نے یہ فریب کھایا کہ خدا کی عبادت میں دنیا کے دکھاوے اور ریا کاری کو دخل دیا۔ بعض اس فریب میں ہیں کہ جن باتوں سے خدا تعالیٰ نے منع کیا ہے ان باتوں کے کرنے پر دلیر ہیں اور رات دن طرح طرح کے گناہوں میں ان کی عمر گزرتی ہے اس لئے فرمایا کہ ان فریبوں کا سبب یہ ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد پھر جینے کا اور جزا و سزا کے ہونے کا یقین نہیں ہے ورنہ کوئی انسان جان بوجھ کر اپنا برا نہیں چاہتا۔ اگر یہ یقین آدمی کے دل میں جم جائے کہ برائی کی سزا ایک دن ضرور پیش آنے والی ہے تو شیطان کے فریبوں میں پھر آدمی بہت کم آئے گا جس طرح حاکم وقت لوگوں نے قانون بنا دیا ہے مثلاً چوری ڈاکہ یہ جرم ہے جو کوئی یہ جرم کرے گا تو ثبوت کے بعد اس کو اس قدر سزا ملے گی اب جن لوگوں کو قانون کے مطلب اور منشا کا پورا یقین ہے ان کو چوری اور ڈاکہ کی ہزار طرح کی رغبت دلایئے لیکن وہ لوگ جہاں تک ہوسکتا ہے اپنے آپ کو خلاف ورزی قانون حاکم وقت سے بچاتے ہیں اسی طرح حاکم حقیقی نے دفعہ وار ہر جرم کی سزا مقرر کردی ہے ثبوت جرم کے لئے روداد جمع کرنے کو دور روز نامچہ نویس ہر شخص کے ساتھ ہر وقت مرتے دم تک لگے ہوئے ہیں تجویز سزا کے لئے ایک تاریخ پیشی جس کا نام قیامت کا دن ہے قرار پا چکی ہے پھر کیا سبب ہے کہ حاکم وقت کے قانون کا جس قدر عمل دنیا میں نظر آتا ہے قانون الٰہی کا اس قدر عمل بھی نظر نہیں آتا ہے یہی سبب ہے کہ منہ سے مرنا ہے مرنا ہے سب کہتے ہیں لیکن مرنے کے بعد جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کو ایک قصہ کہانی جانتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ اپنی نادانی اور شیطان کے قریب سے آخرت کی یقینی باتوں کو قصہ کہانی سمجھتے ہیں انظام الٰہی میں تو آخرت کی سزا و جزا ایسا ایک ضروری امر ہے جس کے سر انجام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے متعین کر رکھے ہیں ہر وقت کا قول و فعل ہر ایک انسان کا وہ اللہ کے فرشتے لکھتے ہیں جس دن یہ تمام عمر کا نامہ اعمال ہر ایک انسان کے سامنے آئے گا اس دن آخرت کی ان یقینی باتوں کا سب کو پورا یقین ہوجائے گا لیکن کام آنے والا یقین یہی دینا کا یقین ہے اس دن کا یقین کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ ابو سعد خدری سے مسند امام 1 ؎ احمد اور مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نے آسمان سے نکالے جانے کے وقت اللہ تعالیٰ سے قسم کھا کر یہ کہا کہ جب تک انسان کے جسم میں جان ہے میں اس کے بہکانے میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں قسم کھا کر فرمایا کہ انسان جب تک گناہ کرکے توبہ استغفار کرتا رہے گا میں بھی اس کے گناہ بخش دینے میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا۔ اکم نے اس حدیث کو صحیح کہا 2 ؎ ہے اسی طرح معتبر سند سے ابن ماجہ 3 ؎ اور بیہقی میں عبد اللہ بن بسر اور زبیر سے جو روایات ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ وہ اپنا اعمال نامہ پڑھ کر خوش ہو تو وہ اپنے گناہوں سے توبہ استغفار کیا کرے۔ حاصل یہ ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ دنیا کے پیچھے عقبیٰ کو نہ بھولے اوراقتضائے بشریت سے جب کبھی کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً سچے دل سے توبہ استغفار کرے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا دل میں مضبوط ارادہ رکھے اور خوب جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو روز نامچہ نویس ہر وقت لگے ہوئے ہیں اسی طرح جب تک انسان کے دم میں دم ہے اس کے دم کے پیچھے ایک ایسا قوی بہکانے والا ہر دم لگا ہوا ہے جو آدمی کے تمام جسم میں خون کے دورہ کی طرح دورہ کرتا ہے اور جو اپنا کام پورا کرنے پر خدا تعالیٰ کے رو برو حلف اٹھا چکا ہے انسان کے لئے اس مخمصے سے چھٹکارا تو وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کے جواب میں فرمایا ہے۔ (1 ؎ الترغیب و الترہیب باب فی الاستغفار ص 800 ج 2) (2 ؎ ایضاً ) (3 ؎ الترغیب والترہیب باب فی الاستغفار ص 801)
Ayahs 82:13–19

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

بیشک نیکوکار نعمتوں (کی بہشت) میں ہوں گے

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور بدکردار دوزخ میں

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

(یعنی) جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ؟

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ؟

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

جس روز کوئی کسی کا کچھ بھلا نہ کرسکے گا اور حکم اس روز صرف خدا ہی کا ہوگا

13۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کو نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دو دفعہ ذکر فرما کر یہ جتلا دیا کہ اس دن کے عذاب سے بغیر مرضی الٰہی کوئی کسی کو چھوڑا نہیں سکتا کیونکہ دنیا کی طرح اس دن اللہ تعالیٰ کے رو برو بیجا سفارش کرنے کا کسی کا مقدور نہیں اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لئے کہ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان گناہ گاروں میں سے جس شخص کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا اس کی بھی شفاعت قبول ہوگی اور وہ اخیر کو جنت میں جائے گا۔