82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 82:1

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

اذالسماء انفطرت۔۔ تا۔۔۔۔ واخرت۔ اذالسماء انفطرت۔ جب آسمان اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھٹ جائے گا تاکہ فرشتے اتریں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے، ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزیلا۔ الفرقان) جس روز آسمان بادل کی صورت میں پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل ہوں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے پھٹ جائے گا فطر کا معنی پھاڑنا ہے یوں جملہ بولا جاتا ہے، فطرتہ فانفطر میں نے اسے پھاڑا تو وہ پھٹ گیا۔ اس معنی میں فطرنا البعیر ہے ھو بعیر فاطر۔ ایسا اونٹ جس کی ناب نکل آئی ہے تفطر الشئی پھٹ گئی، سیف فطار جس میں پھٹنیں ہوں۔ عشرہ نے کہا : وسیفی کالعقیقۃ وھو کمعی، سلاحی لا افل ولافطارا۔ میری تلوار چمکدار ہے وہ میری ساتھی ہے میرے اسلحہ میں نہ داندانے ہیں نہ پھینٹیں۔ یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔
Ayah 82:2

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جب تارے جھڑ پڑیں گے

واذالکواکب انتثرت۔ ٹوٹ گریں گے یوں جملہ بولا جاتا ہے، نثرت الشی انثرہ نثر فانتثر، میں نے اسے گریا تو وہ گرگیا اس کا اسم نثار اسے کہتے ہیں جو کسی شی سے گرے درمنثر کثرت کی وجہ سے اسے مشدد پڑھا۔
Ayah 82:3

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جب دریا بہہ (کر ایک دوسرے سے مل) جائیں گے

واذالبحار فجرت۔ سمندروں کو ایک دوسرے کی طرف کھول دیا جائے گا تو وہ ایک سمندر بن جائے گا، حضرت حسن بصری نے کہا، ان کا پانی جاتا رہے گا وہ خشک ہوجائیں گے اس کی وجہ یہ ہے پہلے وہ ایک جگہ کھڑا اور مجتمع ہوگا جب انہیں کھولاجائے گا تو وہ بکھر جائے گا اور اس کا پانی ختم ہوجائے گا یہ تمام امور قیامت سے پہلے ہوں گے۔
Ayah 82:4

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی

واذالقبور بعثرت۔ جب قبروں کو الٹ دیا جائے گا اور اس میں جو مردے ہیں انہی زندہ کرکے نکالاجائے گا یہ جملہ بولا جاتا ہے، بعثرت المتاع میں نے سامان کو الٹ پلٹ کردیا۔ بعثرت الحوض وبعثرتہ جب تو اسے گرادے اور اس کے نیچے والاحصہ اوپر کردے ایک قوم نے کہا، جن میں سے فراء بھی ہے معنی ہے زمین میں جو سونا اور چاندی ہوگی اسے نکال دے گی یہ قیامت کے نشانیوں میں سے ہے کہ زمین اپنا سونا اور چاندی باہر نکال دی گی۔
Ayah 82:5

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا

علمت نفس ماقدمت واخرت۔ اس روز انسان کو وہ کچھ بتایاجائے گا جو اس نے آگے بھیجا یا پیچھے چھوڑا۔ یہ السماء انفطرت۔ کا جواب ہے کیونکہ یہ حضرت بصری کے قول کے مطابق قسم ہے، جو علمت نفس پر واقع ہورہی ہے یعنی جب قیامت کی نشانیوں میں سے یہ امور ظاہر ہوں گے توہرنفس نے جو کچھ کیا ہوگا اس کو جان لے گا کیونکہ اس کے بعد کا عمل اسے کوئی نفع نہیں دے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے جب یہ اشیاء محقق ہوجائیں گی تو قیامت برپا ہوجائے گی تو ہر نفس نے جو کچھ کیا ہوگا اس پر اس کا محاسبہ ہوگا، اور اس کی کتاب اس کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دی جائے گی تو اسکے پڑھنے کے موقع پر اسے اپنے تمام اعمال یاد آجائیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ خبر ہے قسم نہیں، یہی صحیح ہے، انشاء اللہ تعالی۔
Ayah 82:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان ! تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے بارے میں کس چیز نے دھوکا دیا ؟

یا ایھا الانسان ماغرک بربک الکریم۔۔ تا۔۔۔ بالدین۔ یا ایھا الانسان ماغرک بربک الکریم۔ دوبارہ اٹھائے جانے کا جس نے انکار کیا انہیں خطاب فرمایا، حضرت ابن عباس نے فرمایا، انسان سے یہ ان مراد ولید بن مغیرہ ہے عکرمہ نے کہا اس سے مراد ابی بن خلف ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ابوالاشد بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی، حضرت ابن عباس سے مروی ہے، کہ ماغرک بربک الکریم سے مراد ہے کس چیز نے تجھے دھوکے میں ڈالا یہاں تک کہ تو نے کفر کیا اس ذآت کے ساتھ جو تجھ سے درگزر فرمانے والی ہے، قتادہ نے کہا، وہ شیطان جو انسان پر مسلط ہوتا ہے اس نے اسے دھوکے میں ڈالا۔ حضرت حسن بصری نے کہا، خبیث شیطان نے اسے دھوکے میں ڈالا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اسے بیوقوف اور جاہل بنایا۔ حضرت حسن بصری نے حضرت عمر سے یہی روایت نقل کی ہے غالب حنفی نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے اس آیت کو تلاوت فرمایا، اسے جہالت نے دھوکے میں ڈالا، صالح بن مسمار نے کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو فرمایا، اس کی جہالت نے اسے دھوکے میں ڈالا، حضرت عمر نے کہا، یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا، انہ کان ظلوماجھولا۔ الاحزاب) ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی معافی نے اسے دھوکے میں ڈالا کیونکہ پہلے جرم پر ہی اس سزا نہ دی۔ ابراہیم بن اشعث نے کہا، فضیل بن عیاض سے کہا گیا، اگر اللہ تعالیٰ تجھے قیامت کے روز اپنے سامنے کھڑا کرے اور تجھ سے فرمائے، تیرے کریم رب کے بارے میں تجھے کس نے دھوکہ میں ڈالا، تو آپ کیا جواب دیں گے جواب دیا میں کہوں گا تیرے حجابات نے مجھے دھوکہ میں ڈالا کیونکہ یہی ستار ہے، ابن سماک نے اسے یوں نظم کیا ہے فرمایا، یاکاتم الذنب اماتستحی، واللہ فی الخلوۃ ثانیک۔ غرک من ربک امھالہ، وسترہ طول مساویک۔ اے گناہوں کو چھپانے والے کیا توحیاء نہیں کرتا جبکہ خلوقت میں اللہ تعالیٰ تیرا ثانی ہے، اللہ تعالیٰ کی ڈھیل اور اس کی پردہ پوشی نے تجھے تیرے گناہوں کے بارے میں دھوکہ میں ڈالے رکھا۔ حضرت ذوالنون مصری نے کہا، پردہ کے نیچے کتنے ہی مغرور ہیں جبکہ انہیں شعور نہیں۔ حضرت علی کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے ایک غلام کو کئی بار بلایا، اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا دیکھاتوہ دروازے کے پاس کھڑا تھا پوچھا کیا وجہ ہے تو نے مجھے جواب نہیں دیا اس نے عرض کی مجھے آپ کے حلم پر اعتماد تھا اور آپ کی سزا سے میں امن میں تھا، حضر تعلی نے اس کے جواب کو پسند فرمایا اور اسے آزاد کردیا، لوگ کہتے ہیں، اس کا معنی ہے کس چیز نے تجھے دھوکہ میں ڈالا یہاں تک کہ جو چیز تم پر واجب تھی اس کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ حضرت ابن مسعود نے کہا تم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ تنہائی میں ملے گا اور پوچھے گا اے ابن آدم کس چیز نے تجھے میرے بارے میں دھوک ہمیں ڈال دیا، اے ابن آدم جو تجھے علم تھا اس کے بارے میں تو نے کیا عمل کیا ؟ اے انسان تو نے رسولوں کو کیا جواب دیا۔
Ayahs 82:7–8

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

(وہی تو ہے) جس نے تجھے بنایا اور (تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا اور (تیرے قامت کو) معتدل رکھا

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

(اور) جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا

الذی خلقک فسواک فعدلک۔ ایک نطفہ سے تیری خلقت کو مقدر کیا، تجھے تیری ماں کے پیٹ میں درست کیا، تیرے لیے دوہاتھ، دو پاؤں، دو آنکھیں اور باقی اعضاء بنائے، تجھے متعدل اور مناسب ڈھانچے والا بنایا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ھذا شی معدل یہ چیزموزوں ہے، یہی عام قراء کی قرات ہے، یہ ابوعبید اور ابوحاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے، فراء نے کہا، ابوعبید کہا کرتے تھے اس تعبیر پر اللہ تعالیٰ کا فرمان، لقدخلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ التین) دلالت کرتا ہے ہم نے انسان کو حسین پیکر میں بنایا، کوفہ کے قرائ، عاصم، حمزہ، اور کسائی نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی جس صورت میں چاہا اسے پھیر دیا خوبصورت، بدصورت، لمبا، چھوٹا۔ موسیٰ بن علی ابن رباح نے اپنے باپ سے وہ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم نے ارشاد فرمایا، جب نطفہ رحم میں قرار پکڑلیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس نطفہ کے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان جو جونسبت ہوتا ہے، اسے حاضر کرتا ہے، کیا تو نے اس آیت کو نہیں پڑھا، فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔ یعنی تیرے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان جو صورتیں تھیں ان میں سے جس صورت میں چاہاتجھے ترکیب دیا۔ عکرمہ اور ابوصالح نے کہا، اگر انسان کی صورت میں چاہا اگر گدھے کی صورت میں چاہا، اگر بندر کی صورت میں چاہا، اور اگر خنزیر کی صورت میں چاہا مکحول نے کہا، اگر مذکر چاہاتومذکر اگر مونث چاہا تومونث۔ مجاہد نے کہا، باپ یا ماں یا چچا یا ماموں یا کسی اور میں سے جس صورت میں چاہا تجھے بنایا، فی حرف جار رکبک کے متعلق ہے عدلت کے متعلق نہیں یہ اس کی قرات میں ہے جس نے اس میں تخفیف کے ساتھ قرات کی کیونکہ تو کہتا ہے، عدلت الی کذا، تو یہ نہیں کہتا، عدلت فی کذا، اسی وجہ سے فراء نے تخفیف سے منع کیا ہے کیونکہ انہوں نے فی حرف جار کو عدل تکے متعلق کیا ہے ما کے بارے میں جائز ہے کہ یہ تاکید کے لیے ہو کلام یوں ہوفی ای صورت شاء رکبک۔ یہ بھی جائز ہے کہ فاء شرطیہ ہو کلام یوں ہوگی، ان شاء رکبک۔ اگر چاہے تو تجھے انسان کی صورت کے علاوہ کسی اور صورت میں جیسے، بندر، گدھے اور خنزیر کی صورت میں بنادے پس فاء شرط وجزا کے معنی میں ہوگا یعنی جس صورت میں ترکیب دینا چاہے گا ترکیب دے گا۔
Ayah 82:9

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو

کلابل تکذبون بالدین۔ یہ بھی جائز ہے کہ کلا حق کے معنی میں ہو تو اس سے کلام کا آغاز ہوگا، یہ بھی جائز ہے کہ یہ لا کے معنی میں ہو پھر معنی بنے گا معاملہ اس طرح نہیں کہ جس طرح تم کہتے ہو کہ تم غیر اللہ کی عبادت میں حق پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، ماغرک بربک الکریم، دلالت کرتا ہے فراء بھی یہی کہتا ہے معنی یہ ہوگا کہ باس اس طرح نہیں جس طرح تجھے دھوکے میں رکھا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو کہ دوبارہ اٹھانا نہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جھڑکنے کے معنی میں ہے یعنی تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور کرم سے دھوکہ میں مبتلا نہ ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی آیات میں تفکر چھوڑ دو ، ابن انباری نے کہا، الدین اور رکبک پر وقف عمدہ ہے اور کلا پر عطف قبیح ہے۔ بل تکذبون بالدین۔ اے اہل مکہ تم حساب کو جھٹلاتے ہو، بل ماقبل شی کی نفی اور دوسری چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہوتی ہے ان کا دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار یہ تو معلوم تھا اگرچہ اس سورت میں اس کا ذکر نہیں ہوا۔
Ayahs 82:10–12

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں

وان علیکم لحفظین، کراما کاتبین، یعلمون ماتفعلون۔ یعنی فرشتوں میں نگہبان ہیں وہ بڑے معزز ہیں یہ اسی طرح ہے جس طرح یہ فرمایا، کرام بررہ۔ عبس) معزز نیک ہیں۔ یہاں تین مسائل ہیں : کراما کاتبین کس حالت میں بندے سے جدا ہوتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے، کراما کاتبین کی عزت کیا کرو وہ دو حالتوں کے سوا تم سے الگ نہیں ہوتے، قضائے حاجت، حقوق زوجیت جب تم میں سے کوئی ایک غسل کرے تو وہ دویار یا کسی چیز سے پردہ کرے یا اس کا بھائی اس کا پردہ کرے۔ حضرت علی سے مروی ہے فرشتہ بندہ سے رخ پھیرے رہتا ہے جب تک اس کی شرمگاہ ننگی ہو، روایت بیان کی ہے بندہ جب حمام میں بغیر چادر کے داخل ہوتا ہے تو دو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ کیا کافروں پر بھی فرشتے مقرر ہیں ؟ مسئلہ نمبر 2۔ علماء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ کافروں پر بھی فرشتے ہوتے ہیں یا نہیں، بعض نے کہا، نہیں ہوتے کیونکہ ان کا امرظاہر ہوتا ہے اور عمل بھی ایک ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یعرف المجرمون بسیمھم، الرحمن) مجرموں خوان کے چہروں سے پہچان لیاجائے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ان پر حفظہ ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، کلا بل تکذبون بالدین، وان علیکم لحفظین، کراما کاتبین، یعلمون ماتفعلون۔ اور ایک جگہ فرمایا، واما من اوتی کتابہ بشمالہ، حاقہ، 25) رہا وہ شخص جس کو نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا، فرمایا، واما من اوئی کتبہ ورآء ظہرہ۔ الانشقاق) رہاوہ شخص جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے پشت کے پیچھے سے دیا گیا اس کی خبر دی ہے کہ کفار کے لیے بھی کاتب ہوں گے اور ان پر نگہبان ہوں گے اگر یہ سوال کیا جائے، جو فرشتہ اس کے دائیں کندھے پر ہے وہ کیا چیز لکھے گا جبکہ اس کی تو کوئی نیکی نہیں ؟ اسے جواب دیا جائے گا، جو بائیں کندھے پر فرشتہ ہے وہ اپنے ساتھی کی اجازت سے لکھے گا جبکہ اس کی تو کوئی نیکی نہیں ؟ اس کو جواب دیا جائے گا جو بائیں کندھے پر فرشتہ ہے وہ اپنے ساتھی کی اجازت سے لکھے گا پس وہ اس پر گواہ ہوگا اگرچہ وہ خود نہیں لکھے گا۔ فرشتے کو انسان کی نیکی اور برائی کے ارادے کا کیسے پتا چلتا ہے ؟۔ مسئلہ نمبر 3۔ سفیان سے پوچھا گیا فرشتوں کو کیسے علم ہوتا ہے کہ بندے نے نیکی یا برائی کا ارادہ کیا ہے ؟ کہا جب بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس سے کستوری کی خوشبوپاتے ہیں جب وہ کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے توہ اس سے بدبو پاتے ہیں سورة ق میں، مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید۔ ق) کے ضمن میں مفصل بحث گزرچکی ہے علماء نے قضائے حاجت اور حقوق زوجیت کے وقت گفتگو کو مکروہ جانا ہے کیونکہ اس وقت فرشتے بندے سے الگ ہوتے ہیں اس بارے میں گفتگو سورة آل عمران میں گزرچکی ہے۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز ان پر مخفی نہیں ہوتی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، تمہارے ظاہراعمال کو جانتے ہیں جو تمہارے دلوں کی باتیں انہیں نہیں جانتے، واللہ اعلم۔
Ayahs 82:13–18

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

بیشک نیکوکار نعمتوں (کی بہشت) میں ہوں گے

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور بدکردار دوزخ میں

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

(یعنی) جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ؟

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ؟

ان الابرار لفی نعیم۔۔۔ تا۔۔۔ یومئذللہ۔ ان الابرارلفی نعیم، وان الفجار لفی جحیم۔ یہ اسی طرح تقسیم ہے جس طرح یہ تقسیم ہے، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ الشوری) ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک جماعت جہنم میں ہوگی اسی طرح ارشاد فرمایا، یومئذ یصدعون، الروم، فامالذین امنو، البقرہ 26 ) یصلونھا یوم الدین۔ انہیں جہنم کی لپک اور گرمی پہنچے گی، یوم الدین سے مراد یوم جزا ہے اس کا ذکر مکرر کیا تاکہ اس کی عظمت شان کا اظہار ہو جس طرح اس ارشاد میں ہے، القارعۃ ما القارعہ، وما ادراک ما القارعہ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں وما ادراک کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے ان امور سے نبی کریم کو آگاہ کردیا اور قرآن حکیم میں جہاں بھی ومایدریک کے الفاظ ہیں تو وہ امور آپ سے مخفی رکھے گئے۔
Ayah 82:19

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

جس روز کوئی کسی کا کچھ بھلا نہ کرسکے گا اور حکم اس روز صرف خدا ہی کا ہوگا

یوم لاتملک نفس، ابن کثیر اور ابوعمرو نے یوم کو مرفوع پڑھا ہے، کیونکہ یہ یوم الدین سے بدل ہے یا اسے پہلے یوم کی طرف لوٹادیا گیا ہے تو اس صورت میں یہ یوم الدین کی صفت ہوگی، یہ بھی جائز ہے کہ ھوضمیر کی وجہ سے مرفوع ہو یعنی مبتدا اور خبر ہو باقی قراء نے اسے منصوب پڑھا ہے کیونکہ یہ ہے تورفع کے محل میں مگر نصب اس لیے دی گئی ہے کہ کیونکہ یہ مبنی ہے اور مضاف ہے جس طرح تو کہتا ہے، اعجبنی یوم یقوم زید۔ مبرد نے کہا، من ای یومی من الموت افرا یوم لم یقدر ام یوم قدر۔ میں موت کے کون سے دن سے بھاگوں کیا اس دن سے جو مقدر نہیں یا جو مقدر کیا گیا ہے۔ دوسرے دنوں یوم کے الفاظ پہلے دونوں یوم کے الفاظ سے بدل ہیں مگر لفظ میں منصوب اس لیے ہیں کیونکہ دونوں جملہ کی طرف مضاف ہیں، یہ فراء اور زجاج کا پسندیدہ مسلک ہے ایک قوم نے کہا، دوسرا یوم منسوب ہے گویا یہ فرمایا، فی یوم لاتملک نفس لنفس شئیا، ایک قوم نے یہ کہا ان کا معنی یہ ہے، ان ھذہ الاشیاء تکون یوم۔ یا اس کا یہ معنی ہے یدائون یوم، کیونکہ لفظ دین اس پر دلالت کرتا ہے اذکر کی وجہ سے منصوب ہے۔ والامریومئذ للہ۔ اس میں کوئی اللہ تعالیٰ سے جھگڑا نہیں کرے گا، جس طرح یہ فرمایا، لمن الملک الیوم، للہ الوحدالقھار۔ غافر) آج کس کی بادشاہت ہے اللہ واحد قہار کی، الیوم تجزی کل نفس بماکسبت، لاظلم الیوم۔ غافر 17) آج ہر نفس کو اس کے عمل کا بدلہ دیاجائیگا آج کوئی ظلم نہیں ہوگا۔