82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 82:1–3

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ پڑے گا

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جب ستارے بکھر جائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جب سمندر بہا دئیے جائیں گے

(1) ظہور قیامت کے احوال کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ظہور قیامت کے ابتدائی احوال کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آسمان پھٹ پڑے گا، ستارے منتشر ہوجائیں گے، اور سمندروں کو بہا دیا جائے گا "۔ یعنی ان کے بیچ کی رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گے، اور وہ پھیل پڑیں گے، اور میٹھے اور کھارے پانی کے یہ عظیم الشان ذخائر آپس میں گڈ مد ہوجائیں گے ( خازن، مدارک، محاسن وغیرہ) اور اس طرح یہ نظام درہم برہم ہوجائے گا جس میں اہل دنیا اس سے پہلے امن و سکون سے رہ بس رہے تھے، سو اس روز سمندر اپنی حدوں کو توڑ کر بہہ نکلیں گے اور موجودہ حدود وقیود سے آزاد و بےقید ہو کر ہر طرف بہہ نکلیں گے اور ہر نشیب و فراز پر چھا جائیں گے۔ سو اس طرح اس عالم کہین کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوجائے گی، یہ زمین و آسمان بدل جائیں گے، اور ایک بالکل نیا جہاں نئے قوانین و نوامیس کے تحت ظہور و وجود میں آئے گا، اور اس ٹوٹ پھوٹ کا پورا اور صحیح تصور تو آج نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے متعلق ان اہم اور ابتدائی حوادث کا ذکر فرما کر قیامت کے اس حادثہ کبری کی تذکیرو یاد دہانی فرما دی گئی تاکہ اس طرح ان منکرین و متکبرین کو تنبیہ ہوجائے جو اپنے قلعوں، محلوں اور دفاعی حصاروں پر اعتماد کر کے نچنت اور بےفکر بیٹھے ہیں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی حفاظت کے لیے کافی ہے، سو قیامت کی اس ہلچل کے ذکر سے ان کو جھنجھوڑا گیا ہے، کہ جب وہ وقت آجائے گا تو یہ سب کچھ تہس نہس ہو کر رہ جائے گا۔
Ayah 82:4

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جب (لوگوں کو ازسر نو زندہ کرنے کے لیے) قبروں کو اکھاڑ دیا جائے گا

(2) قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کے دوسرے مرحلے کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور جب اکھاڑ دیا جائے گا قبروں کو "، اور ان کے اندر کے سب مردے زندہ کر کے اٹھا دیے جائیں گے تاکہ وہ زندی بھر کے اپنے کیے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاس کیں ( خاسن، مدارک، محاسن وغیرہ) سو اس یوم عظیم میں زمین سے اس کے اندر کے مردوں کو اگلوادیا جائے گا اگرچہ یہاں پر ذکر صرف قبروں کا ہے کہ مقصد انذار کے لحاظ سے اصل اور زیادہ اہمیت انہی کے ذکر کی تھی، اور ہے۔ تاکہ اس طرح ان کے اندر کے لوگوں کو نکال کر حساب کتاب کے لیے پیش کیا جائے۔ لیکن دوسرے مختلف مقامات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس روز زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال پھینکے گی۔ چناچہ سورة زلزال میں ارشاد فرمایا گیا ہے وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَہَا ( زلزال 2 پ 30) اور سورة انشقاق میں ارشاد فرمایا گیا وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ (الانشقاق 4 پ 30) یعنی اس روز زمین اپنے خالق ومالک کے حکم و ارشاد کے مطابق ان سب چیزوں کو نکلا پھینکے گی جو کہ اس کے اندر میں ہیں۔ اور ان سب کو اگل کر بالکل خالی ہوجائے گی، اگر مقصد بعث یعنی سزا وجزا کے اعتبار سے یہاں پر ذکر صرف قبروں اور مردوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ حساب و کتاب بہرحال ان ہی کا ہونا ہے۔ لیکن بیان دراصل حادثہ قیامت کی ابتداء سے متعلق سب اہم امور کا کرنا مقصود ہے۔
Ayah 82:5

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

تو اس وقت ہر شخص جان لے گا وہ سب کچھ جو کہ اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا

(3) انسان کا زندگی بھر کا کیا کرایا سب اس کے سامنے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز انسان جان لے گا جو کچھ کہ اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا "۔ ان کلمات کریمہ کے عموم میں کئی صورتیں داخل ہیں۔ ایک یہ کہ اس روز ہر انسان کے تمام اعمال اس کے سامنے آجائیں گے جو اس نے پہلے کیے تھے وہ بھی اور جو بعد میں کیے تھے وہ بھی۔ سو وہ سب کے سب اس کے سامنے ہوں گے، اور یہ ان سب کو اچھی طرح دیکھ اور جان لے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حاضِراً وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ أَحَداً (الکہف 49 پ 15) اور دوسری صورت اور دوسرا مطلب اس ارشاد کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو اعمال اس نے زندگی میں کیے تھے وہ سب " ما قدمت " میں داخل ہیں، اور جن کے آثار وثمرات اس کی زندگی کے بعد باقی رہے وہ " ما اخرت " ہیں، کہ ان کا حصہ بھی اس کو بعد میں ملتا رہے گا۔ خواہ وہ آثار وثمرات خیر کے ہوں، خواہ شیر کے۔ والعیاذ باللہ۔ اور تیسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو کچھ اس نے زندگی میں کرلیا وہ سب " ما قدمت " ہے، اور جو یہ کرنا چاہتا تھا مگر اس کے کرنے سے رہ گیا وہ " ما اخرت "۔ آیت کریمہ کے الفاظ و کلمات کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے، بہر کیف اس روز انسان کا سب کچھ کیا کرایا اس کے سامنے ہوگا اور اس کو اچھی طرح جان لے گا، اور اس کا وہ بھرپور صلہ اور بدلہ پائے گا، لہذا ہر کوئی اپنے بارے میں خود سوچ لے اور غور کرلے اور اپنے عمل و کردار کا جائزہ خود لے لے کہ وہ اپنی دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود میں اپنی آخرت اور اس یوم حساب کے لیے کیا کوئی کر رہا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر 18 پ 28) یعنی " ہر شخص دیکھ لے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے "۔ اللھم وقفنا لما تحب وترضی من القول والعمل وثبت اقدامنا علی الصراط المستقیم۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، اکرم الاکرمین۔
Ayah 82:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا اپنے اس رب کریم کے بارے میں

(4) انسان سے اس کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ایک سوال : سو ارشاد فرمایا گیا " اے انسان تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا اپنے رب کریم کے بارے میں ؟ " جس کے کرم و احسان کے عظیم الشان مظاہر ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں، اور جس کی رحمتوں اور عنایتوں میں تو سر تا پا ڈوبا ہوا ہے، اور جس کا تقاضا یہ تھا کہ تو ہر وقت اور طرح سے اس کے آگے اور صرف اسی کے آگے جھک جاتا اور جھکا ہی رہتا۔ اور دل و جان سے اس کی اطاعت و بندگی میں ہمیشہ مشغول و منہمک رہتا، مگر تو ہے کہ تو اسی کا باغی اور سرکش بن گیا، اور حق عبادت و بندگی ادا کرنے کی بجائے تو اس کو بھلا بیٹحا۔ اور تکبر و غرور میں مبتلا ہوگیا، آخر تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا، وہ اگر اپنی شان کریمی کی بنا پر تجھے ڈھیل دیئے جارہا ہے تو اس سے دھوکہ کھانے کی بجائے اس کا تقاضا تو یہ تھا اور یہ ہے کہ تو ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے ظاہر وباطن اور اپنے قلب و قالب اور دل وجان سے اس کے حضور جھک جھک جائے، کہ یہ اس خالق ومالک اور اس کے کرم کا تجھ پر حق بھی ہے اور اسی میں تیرا بھلا اور فائدہ بھی ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی جو کہ اس کو بعد آنے والا ہے، جو ابدی ہے اور جس کی کامیابی اصل اور حقیقی کامیابی ہے، اور اس طرح تو دارین کی سعادت اور سرخروئی سے بہرہ ور اور سرفراز ہوجاتا، لیکن تو ہے کہ الٹا اس کے اس حلم و کرم کی بنا پر اسی کے بارے میں دھوکے میں پڑگیا اور اس کے حقوق و فرائض سے آگہی اور ادائیگی کے بارے میں غفلت اور لاپروائی برتتا ہے۔
Ayah 82:7

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

جس نے تجھے پیدا کیا پھر تجھے ٹھیک کیا پھر تجھے برابر کیا

(5) اللہ تعالیٰ نعمت تخلیق کا حوالہ و ذکر : سو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے حوالہ و ذکر کے سلسلے میں سب سے پہلے نعمت خلق و ایجاد کی تزکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے تجھے پیدا کیا، اور تجھے نیست سے ہست کیا "۔ اور تجھے وجود کی اس نعمت سے سرفراز فرمایا جو کہ دوسری تمام نعمتوں کے لیے اصل اور اساس کی حیثیت رکھتی ہے، اس طرح یہ اس کا تجھ پر ایک بےپایاں کرم و احسان ہے، جس سے اس نے تجھے نوازا، اور محض اپنے فضل وکرم سے نوازا ہے، ورنہ اس کے لیے نہ تیرا کوئی استحقاق تھا اور نہ ہی تیری طرف سے اس کے لیے کسی طرح کی کوئی اپیل و درخواست تھی۔ بلکہ یہ سب کچھ اس کے فضل و کرم اور انعام و احسان ہی کے نتیجے میں وجود پذیر ہوا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جس نے تجھے اس قدر فضل و کرم، رحمت و عنایت، اور انعام و احسان سے نوازا، اور اس کے قدر بےمثال فیاضی کے ساتھ نوازا، اسی سے غافل ہوجانا اور اسی کے بارے میں غرور اور دھوکے میں پڑجانا، کتنا بڑا ظلم اور کس قدر ناقدری اور بےانصافی ہے ؟ اور پھر اس کی رحمت و عنایت کا یہ پہلو بھی واضح رہے کہ نسان ظلوم کفار کے اس قدر کفر انکار، اور اسی ناقدری بےانصافی کے باوجود وہ واہب مطلق نہ اس سے حق زندگی چھینتا ہے اور نہ اس کے اسباب معیشت سے اس کو محروم کرتا ہے اور یہ سب اسی وحدہ لا شریک کا حلم اور اس کا کرم ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ، اللھم فخذنا بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام، و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین۔ (6) عدل و تسویہ کی نعمت اور عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر اس نے تجھے ٹھیک کیا پھر برابر کیا "۔ اور اس نے تجھے نہایت متناسب اعضا وجوارح اور عمدہ قد وقامت سے نوازا۔ اور تجھے احسن تقویم ( بہترین ساخت) کا مصداق بنایا، پھر تو اسی سے غافل و لاپروا اور سرکشی و سرتابی کا ارتکاب کرتا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کیع طا فرمودہ ان عظیم الشان نعمتوں اور قوتوں کو جس سے اس نے تجھے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے تو ان کو ان فرضی اور بےحقیقت دیویوں، دیوتاؤں اور دوسری خود ساختہ ہستیوں اور وہمی سرکاروں کی طرف منسوب کرتا ہے، جن کا ان تمام نعمتوں میں سے کسی میں بھی سرے سے کوئی عمل دخل ہے ہی نہیں۔ اس سے بڑھ کر ظلم و بےانصافی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے ؟ والعیاذ باللہ۔ واضح رہے کہ " خلق " کے معنی کسی چیز کا خاکہ تیار کرنا اور اس کو بنانا و پیدا کرنا ہوتا ہے، اور تسویہ سے مراد ہے اس کی نوک پلک سنوارنا اور اس کو درست کرنا، سو اس اعتبار سے اس ارشاد میں اناسن کی پیدائش کے ابتدائی دونوں مرحلوں کی طرف اشارہ فرما دیا گیا۔ یعنی ایجاد اور نسویہ، کہ اس خالق کل اور مالک مطلق نے ہر چیز اور ہر انسان کو پیدا بھی کیا، یعنی اس کو عدم سے وجود میں لایا اور نیست سے ہست ہوگیا، اور اس کے بعد دوسرا مرحلہ تسویہ کا ہے کہ اسی نے ہر چیز کی نوک پلک کو درست کیا اور اس کو درجہ کمال تک پہنچایا۔ اور قطرے سے گوہر ہونے تک کے اس پورے سفر اور پروگرام میں دوسری کسی بھی ہستی کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں، بلکہ یہ سب اس قادر مطلق نے اکیلے ہی کیا، پس اس کے حق اطاعت و عبادت میں بھی دوسری کوئی بھی ہستی اس کی شریک و سہم نہیں ہوسکتی۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور عدل سے اس کے اعتدال اور توازن کی طرف اشارہ فرمایا گیا، سو انسان اپنی ظاہری شکل و صورت، قدوقامت اور اپنی روحانی و معنوی صلاحیتوں اور قوتوں کے اعتبار سے پوری مخلوق میں نقطہ وسط و اعتدال پر ہے، اسی بنا پر یہ اس بات کا اہل ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس کو زمین میں اپنا خلیفہ بنائے، سو جب اول سے لے کر آخر تک اور ظاہر سے لے کر باطن تک، تیرا وجود اے انسان اس کی رحمتوں اور عنایتوں میں ڈوبا ہوا ہے تو پھر اس سے غفلت و اعراض برتنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور مزید کرم و عنایت یہ کہ انسان سے یہ وعدہ بھی کہ اگر یہ زمین پر اس کی خلافت کا حق ادا کرے گا تو وہ اس کو آخرت کی ابدی بادشاہی کا حق دار ٹھہرائے گا۔ سبحانہ وتعالی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین۔
Ayah 82:8

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

اور جس صورت میں چاہا اس نے تجھے جوڑ کر تیار کردیا

(7) صورت گری کی رحمت و عنایت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے جس صورت میں چاہا تجھے بنادیا "۔ جس میں اس کی بےپایاں قدرت اور بےنہایت رحمت و حکمت کے مظاہر با بجا چمکتے اور جھلکتے نظر آتے ہیں، اور اتنے اور اس قدر کہ انسان ضعیف البنیان اس کے احاطہ وبیان سے عاجزو قاصر ہے۔ اور پھر لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں کی تعداد میں پیدا ہونے والے انسانوں کے درمیان صورت و سیرت اور ظاہر و باطن کے اعتبار سے ایسے ایسے امتیازات رکھ دیئے کہ پوری دنیا میں کوئی بھی دو انسان ایسے نہیں مل سکیں گے جو اپنے ظاہر و باطن ہر لحاظ سے ایک برابر اور یکساں ہوں، سو یہ قدرت کا وہ عظیم الشان کرشمہ ہے کہ اس کے متعلق سوچنے پر عقل دنگ رہ جاتی ہے، پھر کیسا غضب اور کس قدر ظلم ہے کہ انسان اسی قادر مطلق، وہاب مطلق، ارحم الرحمین سے غافل اور لاپروا ہوجائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو انسان اگر صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے کر سر سے پاؤں تک اس کا پورا جسم اس کے خالق ومالک کے آگے جھکنے کی دعوت دیتا نظر آئے گا۔ اور صورت گری کی یہ عنایت ایسی عظیم الشان اور بےمثال عنایت ہے کہ اس نے جس کے لیے جو صورت مناسب سمجھی اسی کو اس پر پیدا فرمایا، اور اس حد تک کہ مجال نہیں کہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے اندر کوئی سے بھی دو شخص ایسے نکالے جاس کیں جو آپس میں شکل و صورت کے اعتبار سے ایک جیسے ہوں سو اس کے کمال قدرت و حکمت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین، سبحانہ و تعالیٰ جل جلالہ وعم نوالہ۔
Ayah 82:9

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

ہرگز نہیں بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جھٹلاتے ہو سزا و جزا کو

(8) منکرین و مکذبین کے لیے زجر وتوبیخ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز ایسا نہیں " یعنی ایسا نہیں جیسا تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، اور ہرگز ایسا کرنا نہ روا ہوسکتا ہے اور نہ اس کے لیے کوئی وجہ جواز ہوسکتی ہے، کہ تم اسی خدائے پاک سے غافل ہوجاؤ جس کی رحمتوں اور عنایتوں میں تم لوگ ڈوبے پوئے ہو، اور سر تا پا ڈوبے ہوئے ہو، اور جس کے حضور اپنے کیے کا بدلہ پانے کے لیے تم سب کو آخر کار اور بہرحال حاضر ہونا اور حساب دینا ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ سو دین حق کے اصول و مبادی اور بنیادی حقائق کے بارے میں تم لوگ جو شکوک و شبہات وارد کرتے ہو، ان کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد، اور خود تمہاری اپنی خلقت ہی ایسے تمام شکوک و شبہات اور اس طرح کی تمام سخن سازیوں اور حجت بازیوں کی تردید کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ تم اس میں صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لو۔ وباللہ التوفیق۔ پس تم لوگوں کے لیے صحیح راستہ اور بہتر طریقہ یہی ہے کہ تم لوگ حیلہ سازیوں اور بہانہ بازیوں کی روش کو ترک کر کے پیغام حق و ہدایت کے آگے جھک جاؤ اور صدق دل سے اس کو اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرو۔ ورنہ تمہارے لیے ابدی خساری و نقصان ہے جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین۔ (9) منکرین و مکذبین کے اصل روگ کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین و مکذبین کے اصل روگ کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جھٹلاتے ہو سزا و جزا کو "۔ سو تم سمجھتے ہو کہ ہم یونہی مر کھپ کر ختم ہوجائیں گے اور اس خیال باطل سے تمہاری زندگی کا راستہ اور رویہ ہی غلط ہوگیا، اور تم لوگ راہ حق و صواب ہی سے محروم ہوگئے، حالانکہ یہ خیال عدل و انصاف اور عقل و نقل سب کے تقاضوں کے خلاف اور سراسر نامعقول ہے، اور تمہارے اس خیال نے تمہارا راستہ ہی غلط کردیا اور تمہیں ایسے ہولناک خسارے کی راہ پر ڈال دیا جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، مگر تم ہو کہ تمہاری فرصت عمل یونہی ضائع جارہی ہے اور تمہیں اس کی پروا بھی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو انسان اور خاص کر غافل و متکبر انسان کی ایک نفسیات ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ جب کسی بات کو ماننا نہیں چاہتا اور اس کے خلاف کچھ کہنے کی گنجائش بھی اس کے سامنے نہیں ہوتی، تو وہ خواہ مخواہ غیر متعلق سوالات کرنے اور ازکار رفتہ بحثیں چھیڑنے لگتا ہے تاکہ اس طرح بات کو الجھا کر وہ دوسروں کو یہ باور کر اس کے کہ وہ بھی کسی اساس و دلیل پر قائم ہے اور اس کا انکار خوامخواہ کا اور بےبنیاد نہیں، سو یہی حال مشرکین مکہ اور کفار قریش کا تھا، اور وہ اسی الجھن میں مبتلا و گرفتار تھے کہ وہ لوگ دعوت حق و ہدایت کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار تھے نہیں۔ اور اس کے لیے ان کے پاس نہ کوئی دلیل و حجت تھی نہ ہوسکتی تھی، اس لیے وہ اسی طرح کے بےبنیاد شکوک و شبہات کی آڑ لیتے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔
Ayah 82:10

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ تم پر تو سخت قسم کے نگراں مقرر ہیں

(10) منکرین و مکذبین کے لیے ایک تنبیہ و تذکیر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور منکرین و مکذبین سے ان کی تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ سزا و جزا کو جھٹلا رہے ہو حالانکہ تم پر سخت قسم کے نگران مقرر ہیں "۔ جو تمہارے ہر قول و فعل پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کا ریکارڈ بنا رہے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا مَا یَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَیْْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ( ق 18 پ 26) یعنی انسان کوئی بھی لفظ نہیں بولتا مگر اس کے ایک مستعد و تیار نگران موجود ہے، اس طرح ہر انسان کے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ باضابطہ طور پر تیار ہوتا رہتا ہے، اور کل قیامت کے روز تمہارا وہ پورا ریکارڈ تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا جس کے مطابق تم کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، جبکہ تم کو ندامت و افسوس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ پس کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس کی خلوت و جلوت کی باتوں کی کسی کو خبر نہیں اور یہ کہ اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں، سو ایسے نہ ہوسکتا ہے، بلکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر ایسے نگران فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو تمہارے ہر قول و فعل کو نوٹ کر رہے ہیں اور تمہارا پورا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ جو کل کے اس یوم حساب میں تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح موجود ہے۔
Ayah 82:11

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

یعنی کچھ ایسے معزز لکھنے والے

(11) ’ ’ کراما کا تبین " سے مقصود و مراد ؟ سو اس سے معزز لکھنے والے فرشتے مراد ہیں، یعنی وہ فرشتے جو انسان کے اعمال نامے لکھنے پر مقرر و مامور ہیں، سو ان نگران فرشتوں کی صفت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا یعنی " کچھ ایسے معزز فرشتے جو لکھتے جا رہے ہیں "۔ سو وہ بلا کم وکاست پوری دیانت داری اور امانت داری کے ساتھ اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق تمہارے تمام کیے کرائے اور عمل و کردار کا پورا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ ہَذَا کِتَابُنَا یَنطِقُ عَلَیْْکُم بالْحَقِّ إِنَّا کُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( الجاثیہ 29 پ 25) یعنی ہم برابر لکھواتے جارہے تھے وہ سب جو تم لوگ اپنی دنیاوی زندگی میں کرتے رہے تھے، اور کل قیامت کے روز وہ سب ریکارڈ ایک کھلی کتاب کی شکل میں تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا وَکُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاہُ طَآئِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَاباً یَلْقَاہُ مَنشُوراً ( بنی اسرائیل 13 پ 15) یعنی ہم قیامت کے روز ہر انسان کے لیے ایسی عظیم الشان کتاب لائیں گے جس کو وہ اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا، اور اس سے کہا جائے گا کہ لے تو اپنی کتاب کو خود پڑھ لے، آج تو اپنے بارے میں حساب لینے کے لیے خود کافی ہے، چناچہ سورة بنی اسرائیل کی مذکورہ بالا آیت کریمہ کے بعد اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اقْرَأْ کَتَابَکَ کَفَی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْْکَ حَسِیْباً سو وہ نگران فرشتے نہایت فرض شناسی، پورے احساس و ذمہ داری اور کامل غیر جانبداری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، وہ تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کردار کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں، اور جس ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے ان کو ان کے خالق ومالک کی طرف سے مامور و معین فرمایا گیا ہے، اس کو وہ اس احساس و ذمہ داری، پوری فرض شناسی اور کامل غیر جانبداری کے ساتھ انجام دیتے ہیں، نہ تو وہ کام چور لوگوں کی طرح اپنے فرض کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوئی غفلت و کوتاہی برتتے ہیں، اور نہ ہی احساس ذمہ داری سے محروم لوگوں کی طرح وہ بھی دفع الوقتی اور کسی طرح کی مداہنت سے کام لیتے ہیں، اور نہ ہی وہ کسی کے دباؤ کی بنا پر یا کسی کی خوشامد کے نتیجے میں کسی سے کوئی رعایت یا جانبداری برتتے ہیں۔ بلکہ وہ حقیقت اور واقعہ کے عین مطابق اپنے فرض منصبی کو ادا کرتے ہیں، سو کراما کا تبین کی صفات سے ان کی ایسی تمام خوبیوں کو بیان فرما دیا گیا۔ والحمدللہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبیہ ثقتنا وعلیہ الاعتقاد۔
Ayah 82:12

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

جو جانتے ہیں وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو

(12) ریکارڑ کی تیاری علم کی بنا پر : سو ان کے تیار کردہ ریکارڈ کی صحت اور قطعیت کے ثبوت واظہار کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ جانتے ہیں وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو " کہ وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں اور تمہا ا سب کچھ عمل و کردار ان کے سامنے ہورہا ہوتا ہے۔ پس اہل بدعت کے بعض لوگوں کا اس سے اپنے شرکیہ عقائد کے لیے دلیل کی کشید کرنا باطل و مردود ہے۔ کیونکہ اعمال لکھنے والے وہ فرشتے انسان سے کہیں دور اور غائب نہیں ہوتے، بلکہ وہ تمہارے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ تم لوگ جو بھی کچھ کرتے کراتے ہو وہ اس کو لکھتے اور محفوظ کرتے جارہے ہوتے ہیں تاکہ تمہارے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ محفوظ ہوجائے اور اس کے مطابق تم اپنے زندگی بھر کے کیئے کرائے کا بھرپور صلہ اور بدلہ پاس کو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوسکیں۔ اسی لیے حضرت فضیل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ غافلوں پر بڑی سخت آیت ہے۔ ما اشد ھذہ الایۃ علی الغافلین، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور سورة ق کی آیت نمبر 18 جس کا ذکر ابھی اوپر حاشیہ نمبر 11 میں ہوا ہے، اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ دونوں فرشتے ہوتے ہیں، اور ہی دائیں اور بائیں دو نوں طرف ہوتے ہیں۔ اور صحیح احادیث کی روشنی میں ان میں سے ایک نیکیاں لکھنے پر مامور ہوتا ہے اور ایک برائیاں لکھنے پر۔ بہرکیف اس سے اہم حقیقت کو واضح فرما دیاگ یا کہ ان کا تیار کردہ یہ ریکارڈ یقینی علم پر مبنی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، ویا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 82:13

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

بلاشبہ نیک لوگ بڑی ہی عظیم الشان نعمتوں میں ہوں گے

(13) نیک لوگ عظیم الشان نعمتوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور کراما کا تبین کے تیار کردہ ریکارڈ کے نتیجے کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ نیک لوگ بڑی ہی عظیم الشان نعمتوں میں ہوں "۔ جو کہ ایسی عظیم الشان و بےمثل نعمتیں ہوں گے کہ ان کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی اور نہ کسی کان نے سنی ہوں گی، اور نہ ہی ان کا کسی دل پر کبھی گزر ہی ہوا ہوگا۔ " مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر " اللھم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین۔ سو اس سارے انتظام و اہتمام کا نتیجہ سامنے رکھ دیا گیا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے اور جو انسانی عمل و کر ادار کی ریکارڈنگ کے لیے قدرت کی طرف سے فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نیکوں کاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی جیسا معاملہ نہیں فرمائے گا کہ یہ اس کی صفت عدل و حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بلکہ وہ قیامت کے یوم فضل و تمییز میں نیکوں کو ان کے ایمان و عمل کے نتیجے میں جنت میں داخل فرمائے گا ان کے کفر وانکار اور معاصی وذنوب کے باعث دوزخ میں ڈال دے گا، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور علی وجہ الکمال پورے ہوں۔ والحمد للہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 82:14

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور یقینا بدکار لوگ دوزخ میں ہوں گے

(14) فاجر و بدکار لوگ دوزخ کے انتہائی ہولناک گڑھے میں، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف " ان " کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا فاجر و بدکار لوگ دوزخ میں ہوں گے "۔ جہاں ایسے لوگ اس کی اس ہولناک آتش سوزاں میں جل بھن رہے ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جن لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ کرے گا انہوں نے بہت ہی غلط اور برا سمجھ رکھا ہے۔ ایسا نہ ہوگا، نہ ہوسکتا ہے کہ یہ اس کی شان عدل وانصاف اور تقاضائے حکمت کے خلاف ہے، بلکہ وہ نیکوکاروں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور بروں کو دوزخ میں جھونک دے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جو لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد کچھ نہیں، یا یہ کہ وہ اپنے خود ساختہ شرکاء و شفعاء پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنی مداخلت اور سفارش سے ان کا کام بنادیں گے، یا یہ کہ ان کو جب اس دنیا میں بڑے بڑے سامان عیش و عشرت حاصل ہیں تو وہاں بھی جیت انہی کی ہوگی، اور یہ وہاں بھی گلچھرے اڑائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے تمام لوگ بڑی ہی ہولناک غلطی میں مبتلا اور تباہ کن گمراہی میں پڑے ہیں جس کا نتیجہ دائمی خسارہ اور ابدی عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء و انحراف من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، ومن کل نوع من انواع العذاب۔
Ayah 82:15

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

ان کو اس میں داخل ہونا ہوگا بدلے کے اس دن

(15) یوم جزا میں بدکاروں کے حال بد کا ذکر وبیان : سو فساق و فجار کے اس دن کے حال دب کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو بدلے کے اس دن اس دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، ان کے لیے اس سے بچنے کی، اس وقت کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ نہ ان کا وہاں پر کوئی حامی و ناصر ہوگا، اور نہ ہی کسی سفارشی کی کوئی سفارش ان کے کچھ کام آسکے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَأَنذِرْہُمْ یَوْمَ الْآزِفَۃِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کَاظِمِیْنَ مَا للظَّالِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَلَا شَفِیْعٍ یُطَاعُ ( المومن 18 پ 24) والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو، اللھم فکن لنا ولا تکن علینا و خذ بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک، یا ارحم الرحمین۔ سو جو نادان یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ زندگی بس دنیا ہی کی زندگی ہے، اس کے بعد کچھ نہیں ہوگا، یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، یا وہ اس طرح کے خواب دیکھ رہے ہیں کہ اگر مرنے کے بعد کوئی زندگی ہوئی تو وہ وہاں پر اپنے خود ساختہ شرکاء کی سفارش سے اچھی زندگی حاصل کرلیں گے اور دنیا کی طرح وہاں بھی ٹھاٹھ کریں گے، وہ سب کے سب سخت دھوکے میں پڑے ہیں اور ایسی ہر سوچ ان کے دماغ کی خرابی کا نتیجہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آخرت کے اس یوم حساب میں ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوگی، اور اس طرح کی کسی بھی خوش فہمی اور خام خیالی کی وہاں پر کوئی گنجائش نہ ہوگی، بلکہ وہاں ہر کسی کو اس کا اپنا ایمان و عمل ہی کام آئے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وفھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد جل وعلا وعم نوالہ۔
Ayah 82:16

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور وہ اس سے کہیں جانے نہ پائیں گے

(16) منکرین کے لیے دوزخ کا عذاب دائمی، والعیاذ باللہ العظیم : سو ایسے بدبختوں کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ وہاں سے کبھی کہیں غائب بھی نہیں ہوسکیں گے "۔ تاکہ اس طرح اس کا عذاب سے کسی قدر چھٹکارا پاس کیں۔ بلکہ یہ ہمیشہ اسی عذاب میں غلطاں و بیچاں رہیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ( البقرہ 167 پ 2) والعیاذ باللہ العظیم۔ سو " وماھم عنھا بغائبین " یعنی اس روز نہ ظالموں کے لیے دوست ہوگا، اور نہ ہی کوئی ایسا سفارشی جس کی بات مانی جائے، پس ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگتنا ہوگا، کا اصل مدعا وہی ہے جو دوسرے مقامات پر " خلدین فیھا ابدا " کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر کسی کے دماغ میں اس طرح کا کوئی سودا سمایا ہو کہ اگر وہ جگہ جگہ پسند نہ آئی تو ہم وہاں سے کہیں اور جانے کے لیے راہ فرار ڈھونڈ لیں گے، وغیرہ۔ تو ایسے لوگ اپنے دماغ کا علاج کرالیں اور اس طرح کے ہر خمار کو اس کے اندر سے نکال دیں۔ کیونکہ وہاں داخل ہونے کے بعد والعیاذ باللہ کسی کافر اور منکر کے لیے گریز و فرار کی کوئی راہ کسی کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ سو نہ کوئی منکر و کافر دوزخ سے بچ سکے گا اور نہ کبھی اس سے نکل سکے گا۔ بلکہ جب کبھی وہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے تو ان کو اسی میں دھکیل دیا جائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے کُلَّمَا أَرَادُوا أَن یَخْرُجُوا مِنْہَا مِنْ غَمٍّ أُعِیْدُوا فِیْہَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیْقِ (الحج 22 پ 17) یعنی ’ ’ جب بھی دوزخ سے وہاں کی گھٹن کی بنا پر نکلنا چاہیں گے تو ان کو اسی میں دھکیل دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ چکھتے رہو جلنے کا عذاب ہمیشہ کے لیے " سو کافروں اور منکروں کے لیے وہاں پر ہمیشہ کا اور دائمی عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 82:17

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ بدلے کا دن ؟

(17) یوم جزا کی عظمت اور ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور یوم جزا کی عظمت اور ہولناکی کے اظہار وبیان کے لیے استفہام تفخیم و تہویل کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ بدلے کا دن ؟ یعنی وہ یوم عظیم اس قدر ہولناک اور ایسا سخت ہوگا کہ انسانی عقل و درایت کے بس میں نہیں کہ وہ اس کی شدت اور ہولناکی کا اپنے طور پر کسی بھی درجے میں احاطہ و ادراک کرسکے۔ اس کے جاننے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات عالیہ کی طرف رجوع کیا جائے اور بس۔ اور " ما ادراک " کا خطاب یہاں پر پیغمبر سے نہیں بلکہ یہ خطاب انہی لوگوں سے ہے جو " ما غرک بربک الکریم " کے مخاطب ہیں۔ اور جو اس کے بعد والی آیات کریمہ کے مخاطب ہیں، اور جمع کو واحد کے صیغے کے ساتھ خطاب کرنے میں خاص زور اور بلاغت پائی جاتی ہے کہ اس طرح گویا جماعت کے ہر ہر فرد کے قلب و ضمیر پر دستک دی جاتی ہے، اور اس کو جھنجھوڑا جاتا ہے، اور تہویل مزید کے طور پر مکرر ارشاد فرمایا گیا کہ " تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ بدلے کا دن "۔ یعنی اس کا جاننا اور اس کا پوری طرح ادارک کرنا تمہارے بس میں نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل نوع من انواع العذاب، من کل زیع وضلال، و سوء و انحراف من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، جل وعلا۔
Ayahs 82:18–19

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

ہاں تم کیا جانو کہ کیا ہے بدلے کا وہ دن ؟

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

یہ وہ دن ہوگا جس میں کسی بھی شخص کے بس میں نہیں ہوگا کہ وہ کسی کے کام آسکے کچھ بھی اور معاملہ اس دن اللہ ہی کے اختیار میں ہوگا (سب کا سب)

(18) یوم جزا کی عظمت کے ایک خاص پہلو کا ذکرو بیان : سو یوم جزا کی عظمت کے ایک خاص پہلو کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اس دن کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا "۔ اور لوگوں نے از خود جو طرح طرح کے سفارشی اور حمایتی بنا رکھے ہیں اور وہ انہی کا نام لیتے اور دم بھرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی وہاں ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا۔ البتہ جو شفاعت و سفارش اللہ پاک کے اذن سے ہوگی اس کا معاملہ الگ ہے، مگر وہ بھی ملکیت اور اختیار کے درجہ میں نہیں ہوگی، بلکہ وہ اس وحدہ لا شریک کی مشیت ومرضی پر موقوف ہوگی، اور وہ اسی کی نصیب ہوسکے گی جس کے لیے وہ چاہے اور جسے اذن واجازت مرحمت فرمائے۔ سبحانہ و تعالی۔ سو اس ہولناک دن کو بھول جانا اور اس کے تقاضوں سے غفلت برتنا اور من گھڑت اور فرضی و وہمی قسم کے سہاروں پر ٹیک اور آس لگائے رکھنا خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع وضلال، و سوء وانحراف۔ (19) قیامت کے روز معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوگا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز اختیار و اقتدار سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوگا چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز معاملہ سب کا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہوگا "۔ سبحانہ و تعالی۔ کہ خالق ومالک وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے۔ بس غلط اور بےبنیاد ہیں وہ سب ڈھکوسلے اور مفروضے جو کہ جہالت کے ماروں نے اپنی شرکیہ ذہنیتوں سے از خود گھڑ رکھے ہیں کہ ہم نے چونکہ فلاں سرکار کا لڑ پکڑ رکھا ہے وہی ہمارا سب کام بنا دے گی، وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسے لوگ اپنے دماغ کا علاج کرالیں، اور اس طرح کے ہر خمار کو اس کے اندر سے نکال دیں۔ کیونکہ وہاں داخل ہونے کے بعد والعیاذ باللہ، کسی کافر اور منکر کے لیے گریز و فرار کی کوئی راہ کسی کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ سو نہ کوئی منکر و کافر دوزخ سے بچ سکے گا، اور نہ کبھی اس سے نکل سکے گا، بلکہ جب کبھی وہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے تو ان کو اسی میں دھکیل دیا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس خدائے پاک کا شریک اور شفیع بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ اور ایسی موہوم امیدوں کی بنا پر جنہوں نے ایسے خود ساختہ شریکوں اور سفارشوں کی بندگی و پوجا کی ہوگی وہ سب اس دن ہوا ہوجائیں گے اور اپنے پجاریوں کو خداوند قدوس کی گرفت و پکڑ سے بچانے کے لیے کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ تب ان مشرکوں اور پجاریوں پر یہ حقیقت کھلے گی کہ یہ بہت بڑا دھوکہ اور فریب تھا جس میں ایسے لوگ شیطان اور اس کے حواریوں کے اغواء واضلال کی بنا پر مبتلا تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء و انحراف بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وبھذا القدر من التفسیر نکتفی فی سورة الانفطار والحمدللہ رب العالمین