وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ ۟ۙوَاِذَا الۡقُبُوۡرُ بُعۡثِرَتۡ
اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the [contents of] graves are scattered,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ ۟ۙوَاِذَا الۡقُبُوۡرُ بُعۡثِرَتۡ
اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the [contents of] graves are scattered,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Infitaar
اور جب قبریں کھول دی جائیں گی
اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی
اور جب قبریں (شق کر کے) اکھاڑ دی جائیں گی
اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی۔
اور جب قبریں کریدی جائیں
اور جب قبریں زیر و زبر کر دی جائیں گی،
اور جب قبریں الٹ دی جائیں گی۔
اور قبریں زیر و زبر کردی جائیں گی
اور جب کہ قبریں اگلوائی جائیں گی
اور جب (لوگوں کو ازسر نو زندہ کرنے کے لیے) قبروں کو اکھاڑ دیا جائے گا
اور جب قبریں شق کردی جائیں۔
اور جب قبریں تلپٹ کردی جائیں گی۔
) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی
and when graves are laid open,
and when the graves will be overturned,
and when the graves will be overturned,
And when the graves Bu`thirat.
And the sepulchres are overturned,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when the [contents of] graves are scattered,
and the graves are turned inside out,
And when the graves are laid open,
And when the graves are ransacked,
And when the Graves are turned upside down;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–12
اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…
Read the full tafseer →سورة الْاِنْفِطَار 2 پہلی تین آیتوں میں قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے اور اس آیت میں دوسرا مرحلہ بیان کیا گیا ہے۔ قبروں کے کھولے جانے سے مراد لوگوں کا از سر نو زندہ کر کے اٹھایا جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
خلاصہ تفسیر جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے (ٹوٹ کر) جھڑپڑیں گے اور جب سب دریا (شور اور شیریں) بہہ پڑیں گے (اور بہہ کر ایک ہوجاویں گے جیسا اوپر کی صورت میں سجرت کی تفسیر میں بیان ہوا ہے یہ تینوں واقعات تو نفخہ اولیٰ کے ہیں آگے نفخہ ثانیہ کے بعد کا واقعہ ہے یعنی) اور جب قبریں اکھاڑ دی جاویں گی (یعنی ان میں کے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت) ہر شخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال کو جان لیگا (اور ان واقعات کا مقتضی یہ تھا کہ انسان خواب غفلت سے بیدار ہوتا اس لئے آگے غفلت پر زجر و تنبیہ ہے کہ) اے انسان تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ بھول میں ڈال رکھا ہے جس نے تجھ کو (انسان) بنایا پھر تیرے…
Read the full tafseer →’وَإِذَا الْقُبُوۡرُ بُعْثِرَتْ‘۔ ’بعثر إلشئ‘ کے معنی ہوں گے، کسی شے کو پراگندہ و منتشر کر دیا، اس کو ادھیڑ ڈالا، اس کو کھول کر جو کچھ اس میں تھا برآمد کر لیا۔ اگرچہ یہاں خاص طور پر قبروں ہی کا ذکر ہے اس لیے کہ مقصد انذار کے پہلو سے زیادہ اہمیت انہی کے کھولے اور ان کے اندر سے لوگوں کے نکالے جانے کی تھی لیکن قرآن کے دوسرے مقامات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اس دن زمین اپنا سارا بار بوجھ نکال پھینکے گی۔ سورۂ زلزال میں ہے: ’وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَہَا‘ (۲) (اور زمین اپنے بار بوجھ نکال پھینکے گی) اسی طرح سورۂ انشقاق میں ہے: ’وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۵ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 1 یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر نکل آئیں گے یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اذا السمائ ........................ واخرت گزشتہ سورت میں ہم نے ان آثار کی بات کی تھی جو ان مظاہر کو دیکھ کر انسانی احساس پر نمودار ہوتے تھے ، یہ مناظر اس عظیم انقلاب سے متعلق تھے جو دست قدرت اس کائنات میں برپاکردے گا ، اس کائنات کو اس طرح ہلا مارا جائے گا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی اور اس عظیم کائنات کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا تھا کہ ان آثار میں سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس پوری کائنات سے اٹھ جاتا ہے اور انسان اپنا تعلق اس خالق حقیقی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو باقی اور لازوال ہے ۔ جو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ پوری کائنات ہلا ماری جائے گی۔ ان تمام…
Read the full tafseer →14 یعنی جو چیز زمین کی تہ میں تھی اوپر آجائے۔ اور مردے قبروں سے نکالے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت 5{ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ۔ } ”اُس وقت ہر جان ‘ جان لے گی کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔“ اس دن ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا کیا اچھے یا برے اعمال آگے بھیجے تھے اور ان کے آثار و نتائج کی شکل میں کیا کچھ وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة القیامہ کی آیت 13 کے تحت بھی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو بتادیا جائے گا کہ اس نے کس شے کو آگے کیا تھا اور کس شے کو پیچھے رکھا تھا۔ یعنی دنیا اور آخرت میں سے اس نے کس کو مقدم رکھا تھا اور کس کو موخر کیا تھا۔ آیت کے…
Read the full tafseer →5 بعثر کا لغوی مفہوم :۔ بُعْثِرَتْ ۔ بعثر دراصل دو لفظوں کا مرکب ہے۔ بعث اور عثر کا۔ بعث کا ایک معنی (زمین وغیرہ کا) کھودنا اور ڈھونڈنا یا ڈھونڈھ نکالنا بھی ہے۔ اور عثر کے معنی کسی دوسری چیز کے دوران کسی اور چیز کا خود بخود ظاہر ہوجانا، کھل جانا یا سامنے آجانا۔ مطلب یہ ہے کہ جب قبروں کو الٹ پلٹ کیا اور کھودا جائے گا تو مردے خود بخود زمین سے باہر نکل پڑیں گے۔
Read the full tafseer →2۔ (اور ان کے اندر سے مردے نکل نکل پڑیں) یہ بیان صور قیامت کے نفخہ ثانی کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…
Read the full tafseer →واذا القبور بعثرت . اور جب قبروں کی مٹی الٹ دی جائے گی اور مردوں کو ان کے اندر سے نکال لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →اور جب قبروں میں سے مردے نکل کھڑے ہوں گے تو اس وقت ہر ایک شخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال جان لے گا خواہ نیکی ہو یا گناہ۔
Read the full tafseer →(واذا القبور بعثرت :) دوسرے نفخہ سے قبریں پھٹیں گی اور مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔
Read the full tafseer →واذالقبور بعثرت۔ جب قبروں کو الٹ دیا جائے گا اور اس میں جو مردے ہیں انہی زندہ کرکے نکالاجائے گا یہ جملہ بولا جاتا ہے، بعثرت المتاع میں نے سامان کو الٹ پلٹ کردیا۔ بعثرت الحوض وبعثرتہ جب تو اسے گرادے اور اس کے نیچے والاحصہ اوپر کردے ایک قوم نے کہا، جن میں سے فراء بھی ہے معنی ہے زمین میں جو سونا اور چاندی ہوگی اسے نکال دے گی یہ قیامت کے نشانیوں میں سے ہے کہ زمین اپنا سونا اور چاندی باہر نکال دی گی۔
Read the full tafseer →2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے البعث میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذا لبحار فجر اور جب سمندر ابل پڑیں یعنی بعض سمندر بعض میں بہہ جائیں گے آیت واذا القبور بعثرت اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں یعنی الٹ بلٹ کردی جائیں گی۔ 3۔ عبد بن حمید نے ربیع بن خیثم (رح) سے آیت واذا البحار فجرت کے بارے میں روایت کیا کہ بعض سمندر بعض میں بہہ جائیں گے اور ان کا پانی ختم ہوجائے گا۔ 4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت واذا القبور بعثرت کے بارے میں روایت کیا وہ مردے جو قبروں میں ہیں ان کو نکالا جائے گا۔
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ : اور جب قبریں ادھیڑی جائیں گی ] پ ع ث ر [بَعْثَرَۃً : (رباعی) کسی چیز کو الٹنا پلٹنا۔ کریدنا۔ اس میں سے کچھ نکالنے کے لیے۔ بُعْثِرَ ماضی مجہول ہے۔ کریدا جانا۔ اِذَا بُعْثِرً مَافِی الْقُبُوْرِ (جب کریدا جائے گا اس کو جو قبروں میں ہے) ۔ 100:9 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ان آیات میں بھی وقوع قیامت کے بعض احوال کا ذکر ہے، ارشاد فرمایا جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے جھڑ پڑیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے، یعنی دریائے شوروشیریں بہہ کر آپس میں ایک دوسرے سے مل جل جائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دیں جائیں گی یعنی ان میں سے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر شخص اپنے اعمال کو جان لے گا جو اس نے پہلے بھیجے اور بعد میں بھیجے (ان میں سے اول کے تین واقعات نفخہ اولیٰ سے اور چوتھا واقعہ نفخہ ثانیہ سے متعلق ہے) ۔ روح المعانی میں ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ003﴾ کے بارے میں لکھا ہے کہ جب سارے دریا میٹھے اور نمکین اکٹھے ہوجائیں گے تو زمین اس سارے پانی کو چوس لے گی اور زمین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
2:۔ ” اذا السماء انفطرت “ تخویف اخروی۔ حالات قیامت کا بیان سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی۔ آسمان پھٹ جائیگا یعنی چھیلا جانے کے بعد۔ ” واذا الکواکب انتثرت “ اور بےنور ہوجانے کے بعد تارے جھڑ جائیں گے۔ ” واذا البحار فجرت “ اور دریا بھر جانے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ ” واذا القبور بعثرت “ اور اہل قبور کو اٹھایا جائے گا۔ ” علمت نفس الخ “ جواب قسم ہے۔ جب قیامت قائم ہوجائیگی تو ہر نفس کو اپنے تمام اعمال خیر و شرکا علم ہوجائیگا، کیونکہ ہر شخص کو اس کا اعمالنامہ دیدیا جائے گا جسے پڑھ کر وہ سب کچھ معلوم کرلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(قیامت سب سے بڑا حادثہ ہوگا) تخلیق کائنات کی ابتداء سے لے کر اب تک جتنے واقعات پیش آچکے ہیں یا آئند ہ پیش آنے والے ہیں۔ ان میں قیامت کا واقعہ سب سے بڑا ہوگا۔ اسی قیامت کو القارعۃ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک حادثہ ہوگا جو کھٹکا دینے والا ہوگا۔ قیامت کا ایک نام واقعہ بھی ہے۔ کہ ایک واقعہ پیش آنے والا ہے۔ جب کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ اس طرح اسے الطامۃ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ یعنی سب سے زوردار حادثہ یا ہنگامہ تو گویا ان سورتوں میں مختلف اشیاء پر قیامت کے اثرات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ ہر شخص محاسبے کے لیے تیار رہے۔ (قرآن کریم کے ساتھ ربط) قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ 4 ۙ قبر القَبْرُ : مقرّ الميّت، ومصدر قَبَرْتُهُ : جعلته في القَبْرِ ، وأَقْبَرْتُهُ : جعلت له مکانا يُقْبَرُ فيه . نحو : أسقیته : جعلت له ما يسقی منه . قال تعالی: ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقْبَرَهُ [ عبس/ 21] ، قيل : معناه ألهم كيف يدفن، والْمَقْبَرَةُ والْمِقْبَرَةُ موضع الْقُبُورِ ، وجمعها : مَقَابِرُ. قال : حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابِرَ [ التکاثر/ 2] ، كناية عن الموت . وقوله : إِذا بُعْثِرَ ما فِي الْقُبُورِ [ العادیات/ 9] ، إشارة إلى حال البعث . وقیل : إشارة إلى حين كشف السّرائر، فإنّ أحوال الإنسان ما دام في الدّنيا مستورة كأنّها مَقْبُورَةٌ ، فتکون القبور علی طریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ اذا شرطیۃ السماء فاعل فعل محذوف یدل علیہ انفطرت و الجملۃ معطوفۃ علیھا واذا الکواکب الخ عطف علیھا وکذاما بعدھامن الجملتین علمت الجملۃ جواب الشرط نفس فاعل علمت ‘ ما قدمت و اخرت مفعول یقال بعثر 1 ؎ یبعثر بعثرۃ اذا قلب التراب وقال الفر 1 اء اخرجت مافیھا من الدفائن وذلک من اشراط القیامۃ ان تخرج الارض ذھبا وفض تھا۔ ؎ وبعثرو بحثر بمعنی واحد وھما مرکبان من البعث والبحث مع راء مضمومۃ الھما والمعنٰی ایثرت وقلب اسفلھا اعلاہا وباطنھا ظاہر ھاکبیر۔ 12 تفسیر ¦ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ نسائی نے روایت کی ہے کہ معاذ ؓ نے جب عشاء کی نماز میں بڑی سورة پڑھی…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ ۔ (الانفطار : 4) (اور جب قبریں کھول دی جائیں گی۔ ) نفخہ ثانیہ کے بعد قبروں کا کھولا جانا پہلی تین آیتوں میں قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے۔ جب ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور ہر زندہ چیز پر موت طاری ہوجائے گی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دوسرے مرحلے کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ قبروں کے کھولے جانے سے مراد یہ ہے کہ لوگ زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکلیں گے۔ اور میدانِ حشر میں جمع ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة التکویر میں قیامت سے پہلے دوسرے مرحلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن جنت اور جہنم لوگوں کے سامنے لائی جائیں گی اور ہر انسان جان لے گا کہ اس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ الانفطار کی ابتدا بھی قیامت کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی نشاندہی سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی اس وقت ہر انسان کو اپنا اگلا پچھلا کیا ہوا سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ اس وقت انسان کو یاد آئے گا کہ اس…
Read the full tafseer →4 : وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ (جب قبورا کھاڑ دی جائیں گی) کرید دی جائیں گی اور اس کے مردوں کو نکال باہر کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →3 ۔” واذا البحار فجرت “ جب سمندر ایک دوسرے میں بہادیئے جائیں گے اور میٹھے کو کھارے میں ملادیا جائے گا۔ پس سارا ایک سمندر ہوجائے گا اور ربیع (رح) فرماتے ہیں ” فجرت “ بہہ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہوجائے گا۔ ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہوجائے گا جب سمندر بہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے قبریں شق کرکے اکھاڑ دی جائیں گی اور ان میں سے مردے نکال لیے جائیں گے اور ان اعمال کی جزا وسزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا پس اس وقت پر دہہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہوجائے گا جو چھپا ہوا تھا اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہوجائے گا تو وہ حسرت اور پیشمانی سے اپنے ہاتھوں…
Read the full tafseer →(2) قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کے دوسرے مرحلے کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور جب اکھاڑ دیا جائے گا قبروں کو "، اور ان کے اندر کے سب مردے زندہ کر کے اٹھا دیے جائیں گے تاکہ وہ زندی بھر کے اپنے کیے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاس کیں ( خاسن، مدارک، محاسن وغیرہ) سو اس یوم عظیم میں زمین سے اس کے اندر کے مردوں کو اگلوادیا جائے گا اگرچہ یہاں پر ذکر صرف قبروں کا ہے کہ مقصد انذار کے لحاظ سے اصل اور زیادہ اہمیت انہی کے ذکر کی تھی، اور ہے۔ تاکہ اس طرح ان کے اندر کے لوگوں کو نکال کر حساب کتاب کے لیے پیش کیا جائے۔ لیکن دوسرے مختلف مقامات سے یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کا نقشہ تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
ف 3 یعنی جس کے ثواب یا عذاب کا سلسلہ اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا دوسرا مطل بیہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس کام کو بھی جان لیگا جو اس نے پہلے شروع عمر میں کیا اور اس کام کو بھی جان لیگا جو اس نے بعد میں آخری عمر میں کیا تیسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ اس فریضہ کو بھی جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا (یعنی اسے توشہ آخرت بنایا) اور اس فریضہ کو بھی جان لیگا جو اس نے موخر کیا (یعنی اسے بچا نہ لایا) ۔
Read the full tafseer →(82:4) واذا القبور بعثرت : بعثرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب بعثرۃ (فعلل۔ رباعی مجرد) مصدر سے۔ بمعنی الٹ پلٹ کرنا، بکھیرنا۔ سامان کو الٹنا پلٹنا۔ جن علما کی رائے ہے کہ رباعی و خماسی دو ثلاتی سے مل کر بنتی ہے ان کے خیال میں بعثر : بعث اور اثیر سے مل کر بنا ہے اور یہ بات کچھ بعید نہیں ہے کیونکہ بعثرۃ میں دونوں فعلوں کے معنی موجود ہیں پس جس طرح بسمل (اس نے بسم اللہ پڑھی) اور ہلل (اس نے لا الہ الا اللہ پڑجا) بنا ہے اسی طرح لفظ بعثرۃ بعث اور اثارۃ سے بن گیا ہے۔ جب قبریں زیر و زیر کردی جائیں گے یعنی مردوں کو ازسر نو زندہ کرکے قبروں سے اٹھایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
انسان کی پیدائش اور حشر کا ذکر۔ (ف 1) یعنی زمین پر کے سب سمندر شریں وشور مل کر ایک ہوجائیں اور قبریں پھٹ جائیں گی اور ان میں سے مردے زندہ کر کے نکالے جائیں گے اس وقت ہر نفس اپنے اعمال خیر وشر جان لے گا جو اس نے زندگی میں کیے ہوں گے کہ میں نے نیک عمل و بدعمل کیا بھیجا اور کیا چھوڑا اور توبہ اور نیک عمل کو پست پشت ڈالنے کا ثمرہ بھی معلوم ہوجائے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائیں گے اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست ونابود تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا، برابھلا دیکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] یعنی جو چیز زمین کی تہہ میں تھی اوپر آجائے گی اور مردے قبروں سے نکالے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟ 1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں…
Read the full tafseer →(4) اور جب قبریں زیروزبر کردی جائیں - اس سورت میں مثل سابقہ سورتوں کے قیامت اور مجازاۃ کا بیان ہے چناچہ ارشا فرمایا جس وقت آسمان پھٹ جائے اور جب آسمان پھٹ پڑے گا تو ستارے بےنور ہوکر جھڑ پڑیں گے دریا سب کے سب ملاکر بہادیئے جائیں گے یعنی میٹھے اور کھاری دریا مل کر بہیں اور درمیان میں سے حجاب ہٹ جائیں اور مل کر بہنے کے بعدان میں جوش اور طغیانی پیدا ہو اور ان میں دھواں اور آگ پیدا ہو اور سب دریاخشک ہوجائیں پہاڑوں کا ریت اور دوسری قسم کا کو ڑاکرکٹ اور مٹی وغیرہ اس میں پڑجائے اور دریائوں کا نام ونسان باقی نہ رہے۔ یہ تین باتیں نفخہ اولیٰ کے وقت ہوں گی اور قبروں کا زیروزبر ہونا اور قبروں کا اکھیڑا…
Read the full tafseer →اور جب قبریں اکھاڑ کر رکھ دی جائیں گی 4 ؎ ( بعثرت) وہ کھو کر اٹھائی گئی بعثرۃً سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ آیت اول سے آیت 4 تک قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا تھا کہ آسمان پھٹ جائیں گے یعنی اس میں دراڑیں پڑجائیں گی اور شگاف نمودار اور جائیں گے ، ستارے ٹوٹ پھوٹ جائیں گے ، سمندر جو اس وقت ساکن ہیں وہ دریائوں کی طرح بہنے لگیں گے اور آپس میں مل جائیں گے اور ان کے درمیان جو زمینی خلا ہیں شاید وہ بھی پھٹ جائیں گی اس لیے سب سمندروں کا پانی آپس میں مل جائے گا اور یقینا وہ کوئی نہ کوئی ہلچل مچا دے گا اور اس طرح جب زمین کی باری آئے گی تو وہاں سے ایسی الٹ پلٹ شروع ہوگی اور…
Read the full tafseer →2 In the first three verses, the first stage of the Resurrection has been mentioned, and in this verse the second stage is being described. "Opening of the graves" implies resurrection of the dead then.
Read the full tafseer →