Ayah 82:1جب آسمان پھٹ جائے گا
1 ؎ (انفطرت) کا اصل مادہط ر ہے اور اس کے معنی ہیں پھٹ گئی ۔ انفطار سے جس کے معنی پھٹنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ کسی تعمیر کی خرابی کا وقت آتا ہے تو وہ اس کو چھتوں ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آپ نے اگر کبھی سیر و تفریح کی ہے تو وہ قلعے اور خانقاہیں ، بارہ دریاں ، سہ دریاں اور دوسرے بڑے بڑے محلات پر اگر کبھی نظر پڑی ہوگی تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ فی الحقیقت واقعہ ہے کہ تعمیر کا وقت ہے تو پہلے دیواریں اور تخریب کا وقت آئے تو پہلے چھتوں کی باری آتی ہے۔ اس ترتب سے اس دنیا کے نظام کو فنا کرنے کے لے بھی شاید ضروری قرار دیا گیا ہے اور یہ بات حقیقت بھی ہے کہ جہاں مشاہدہ ہو اور کھنڈرات کو دیکھا تو سب سے پہلے چھتوں ہی کے گرنے کا منظر سامنے آیا ہے اور آسمان عالم دنیا کے لیے ایک چھت ہی کی حیثیت رکھتا ہے۔
Ayah 82:2اور جب ستارے جھڑ جائیں گے
1 ؎ (انتثرت) کا اصل مادہ ن ث ر ہے اور نثر کے معنی ہی پراگندہ ، بکھرا ہوا ، تتر بتر ۔ وہ عبادت جو منظوم نہ ہو۔ انتثار سے جس سے معنی بکھر جانے اور پراگندہ ہونے کے ہیں ، ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ( الکواکب) کو کب کی جمع ہے ، ستارے قیامت آنے کے وقت جو چیزیں مشاہدہ آئیں گی ان میں آسمانوں کو پھٹ جانا اور ستاروں کا جھڑجانا ، گر جانا ، ٹوٹ ٹوٹ کر ختم ہوجانا شامل ہے اور مکی سورتوں میں بار بار اس طرح کے اشارات و استعارات بیان کیے گئے ہیں کہیں مضمون کو قسمیں کھا کھا کر مؤکد کیا گیا ہے ، کہیں ایک بات کو بالکل سادہ طریقہ سے بیان کر کے حقیقت کو بالکل آسان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے جیسا کہ زیر نظر سورت میں بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 82:3اور جب سمندر پھاڑ کر ملا دیئے جائیں گے
3 ؎ زمین کی سطح پر 29 فی صد خشکی ہے اور 71 فی صد حصے پر پانی ہے۔ خشکی کے بڑے قطع کو براعظم کہا جاتا ہے اور کل براعظم سات ہیں ، جن کے نام حسب ذیل ہیں : (1) ایشیا (2) یورپ (3) افریقہ ( 4) آسٹریلیا (5) شمالی امریکہ (6) جنوبی امریکہ (7) انٹارکٹکا۔ حقیقت کو دیکھیں تو سلیم کرنا پڑتا ہے کہ سمندر دراصل ایک ہے تب ہی تو براعظموں کو الگ کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کو بھی پانچ بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور قرآن کریم میں بھی ( البحار) کا لفظ آیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک سمندر سے زیادہ تسلیم کیے گئے ہیں۔ (فجرت) واحد مؤنث غائب ماضی مجہول تجیر مصدر باب تفعیل ۔ پھاڑ دیئے جائیں گے یعنی ایک کا وہانہ دوسرے کی طرف کھول دیا جائے گا اور اس طرح سب سمندر آپس میں مل جائیں گے گویا یہ بھی نشانات قیامت میں سے ایک نشانی ہے۔
Ayah 82:4اور جب قبریں اکھاڑ کر رکھ دی جائیں گی
4 ؎ ( بعثرت) وہ کھو کر اٹھائی گئی بعثرۃً سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ آیت اول سے آیت 4 تک قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا تھا کہ آسمان پھٹ جائیں گے یعنی اس میں دراڑیں پڑجائیں گی اور شگاف نمودار اور جائیں گے ، ستارے ٹوٹ پھوٹ جائیں گے ، سمندر جو اس وقت ساکن ہیں وہ دریائوں کی طرح بہنے لگیں گے اور آپس میں مل جائیں گے اور ان کے درمیان جو زمینی خلا ہیں شاید وہ بھی پھٹ جائیں گی اس لیے سب سمندروں کا پانی آپس میں مل جائے گا اور یقینا وہ کوئی نہ کوئی ہلچل مچا دے گا اور اس طرح جب زمین کی باری آئے گی تو وہاں سے ایسی الٹ پلٹ شروع ہوگی اور اس طرح وہ سب انسان جو مر گئے ہیں وہ زندہ کردیئے جائیں گے اور اس وقت جو قیامت کے منکر ہیں ان کی حالت تو بہر حال دیدنی ہوگی اور پھر اس پر طرہ یہ کہ نیک و بد کی ساری حالت کھل کر سامنے آجائے گی اور انسانوں کو ان کے اعمال کے نتائج سے دو چار کردیا جائے گا ۔
Ayah 82:5ہر شخص جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چوڑا
5 ؎ اس دنیا کی زندگی میں ہر ایک شخص کو جو بھیجا گیا ہے کیوں بھیجا گیا ہے ؟ محض اس لیے کہ اس کو اس امتحان گاہ میں بھیجا گیا تاکہ اس کا جائزہ لیا جائے کہ وہ اچھے اعمال کرتا ہے با برے ۔ جو کچھ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کا سب اس آزمائش کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اس روز جونہی وہ اٹھایا جائے گا تو اس کو اس کے اعمال کے نتائج سے دو چار کردیا جائے گا اور کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ جائے گی یعنی جو جو اعمال اس نے کیے اور جن جن عبادات اور صدقات کو اس نے ادا کیا اور جو اس نے بالکل ترک کردیئے اور ان کے قریب بھی نہ گا اس کو سب باتوں سے آگاہی ہوجائے گی اور کوئی بات اس سے پوشیدہ نہ رہے گی ۔ جن نیک کاموں کو اس نے بنیاد رکھی ہوگی اور جن جن برائیوں کو اس نے چھوڑا ہوگا سب کی سب اس روز کھل جائیں گی اور اس طرح اس کی زندگی کا پورا حساب کتاب اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا ۔ اس طرح جن جن کاموں میں اس نے پہل کی ہوگی وہ بھی اور جن میں تاخیر کی ہوگی وہ بھی سب باتیں اس کو بتا دی جائیں گی اور اس طرح بتائی جائیں گی کہ کوئی بات اس پر مبہم نہ رہے گی۔
Ayah 82:6اے انسان تجھ کو کس چیز نے اپنے رب کریم کے متعلق دھوکا میں رکھا ؟
6 ؎ ( غرک) غر واحد مذکر غائب ، ماضی معروف غرور مصدر ، دھوکہ دیا ، فریب میں رکھا۔ ضمیر تجھ کو ۔ انسان کی غفلت کی بھی کوئی حد نہیں لیکن رب ذوالجلال والاکرام کو جو انسان سے پیار ہے اس کا اندازہ بھی بڑا انوکھا ہے ۔ انسان جتنا زیادہ غفلت میں ہوگا اتنے ہی زیادہ زور دار طریقہ سے اس کو بیدار کرنے کی سعی ہوگی کہ اٹھو کیوں اتنی گہری نیند سو گئے ہو کس نے تم کو غافل کردیا ہے کیوں غفلت میں پڑے ہو اس طرح کی لوری اس کو دی گئی ہے کہ قم قم یا حببی کم تنام زیر نظر آیت میں غافل انسان کو کس طرح جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ اے انسان تیرا پروردگار جو سو مائوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والا اور ہزار باپ سے زیادہ شفقت کرنے والا ہے۔ جس کے لطف و کرم کی کوئی انتہاہی نہیں ہے ، جس نے تیرے لیے اس ساری کائنات کا نظام بنایا اور نہ اگر تو نہ ہوتا تو اس دنیا میں کس چیز کے ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔ تو اچھی طرح غور کر کے دیکھ لے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے کیا تیرے فائدہ کے لیے نہیں ہے ؟ کیا ہرچیز تیری فرمانبرداری میں لگی ہوئی نہیں ہے۔ تیرے لیے غذائیں تیار ہو رہی ہیں ، تیرے مشروبات بنائے جا رہے ہیں ، تیرے لباس کے لیے کیا کچھ تیار کیا گیا ہے ، تیرے رہنے کے لیے کیا کیا تعمیرات کرائی جا رہی ہیں ۔ باغات ہیں تو تیرے لیے پھل تیارکر رہے ہیں ، درخت ہیں تو تیرے لیے ٹھنڈا سایہ پیدا کر رہے ہیں ، فصلیں ہیں تو تیرے لیے غلے پیدا کیے جا رہی ہیں ، بیلیں ہیں تو تیرے لیے ترکاریاں تیار کر رہی ہیں اس طرح اگر تو اس کائنات کی ایک ایک چیز سے پوچھتا چلا جائے کہ تجھ کو تیرے ہونے سے کیا فائدہ ہے اور کیا نقصان تو ہر ایک چیز گواہی پیش کرے گی کہ میرا وجود تو محض اس اشرف المخلوقات انسان کے لیے جو رب کریم کا شاہکار ہے اس لیے میرے ہونے سے میرے وجود سے میرا ذاتی طور پر تو کوئی فائدہ نہیں ہے یہ ساری باتیں پوچھنے کے ساتھ ساتھ اس سے یہ بھی پوچھاجا رہا ہے کہ جب تو اپنے رب کے بارے میں اس قدر غافل ہے کہ تیرے سجدوں کے لیے کتنی جگہیں بن چکی ہیں ، تیرے قیام کے لیے کیا کیا ہستیاں موجود نہیں ہیں ، تیری شکر گزاری کے لیے دوسروں کے آستانے اور چوکھٹیں ہیں اس لے اس سے پوچھا جا رہا ہے کہ اے انسان ! تجھ کو تیرے رب کے معاملہ میں کس نے دھوکا میں ڈال دیا ہے اور وہ کون ہے جس نے تجھے تیرے رب کے مقابلہ میں کھڑا کردیا ہے۔ کیا تیرے نزدیک احسنات کا بدلہ اس طرح دیا جاتا ہے۔ ذرا غور تو کرو کہ جو تو کر رہا ہے اگر یہی کچھ کوئی دوسرا تیرے ساتھ کرنا شروع کر دے پھر تیرا کیا وطیرہ ہوگا ۔ کیا تو نے کبھی اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ تجھے انسان آخر کیوں کہا جاتا ہے ؟ محض اس لیے کہ جو قوتیں تجھے دی ہیں کہ تو ان کے ساتھ غور و فکر کرے وہ کسی دوسری مخلوق کو ودیعت نہیں کی گئیں اور جس طرح تجھے ( احسن تقویم) پیدا کیا گیا کسی دوسری مخلوق کو اس طرح پیدا نہیں کیا گیا ۔
Ayah 82:7جس ذات نے تجھے پیدا کیا پھر درست کیا پھر مناسب قوتیں بخشیں
7 ؎ کیا تو نہیں جانتا کہ تریا پیدا کرنے والا ، تجھے درست کرنے والا اور تھے معتدل غافر بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں سے تجھے اپنا شاہکار قرار دیا ہے اور تیری خاطر اس پوری دنیا کا نظام بنایا اور پھر چلایا اور چلائے ہی چلا جا رہا ہے۔ اگر وہ تجھے اشرف المخلوقات نہ بناتا بلکہ اونٹ ، گھوڑا اور گدھا بنا دیتا تو آخر تو اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ جن عناصر سے اللہ نے تجھے بنایا کس طرح ان میں عدل رکھ دیا اور پھر سارے عناصر اپنا اپنا کام کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ تو ہی تو وہ ہے کہ فرشتوں کا مسجود ٹھہرا اور انہوں نے تیرے علم کا سکہ مان لیا ۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے پورپور کو اس طرح جوڑا کہ تم کو بنا کر ، درست کر کے خود ہی ( احسن تقویم) کا فیصلہ دے دیا ۔ ( سولک) اس نے تجھ کو پورا پورا بنا دیا ، اس نے تجھ کو برابر کا ۔ اس میں ک ضمیر واحد مذکر حاضر ہے۔ ( عدلک) تجھ کو برابر کیا ۔ تجھ کو اعتدال پر بنایا ۔ عدل عدل سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر واضح ریہ کہ عدل کے معنی برابر کرنے کے بھی آتے ہیں اور لوٹنے اور پھرنے کے بھی ، چناچہ یہاں اہل لغت نے دونوں معنی بیان کیے ہیں چناچہ تفسیر کبیر میں ہے کہ کوفہ کے قاریوں نے ( فعدلک) کو تخفیف کے ساتھ پڑھا اور ایسا ہی سمجھا اور بیان کیا لیکن بعض نے اس کے معنی عدلک سے کیے ہیں اور اس طرح اس کا مفہوم یہ نکل آیا کہ تیرے بعض اعضاء کو بعض کے ساتھ اس طرح برابر کردیا کہ سب میں اعتدال آگیا اور بعض نے ( فعدلک) کے معنی بتائے کہ جس صورت کی طرف تجھ کو چاہا لوٹا دیا اور اس کے بعد فراء نے کہا کہ تشدید کے ساتھ مفہوم زیادہ واضح ہوتا ہے اور اس طرح اس کے بیان میں اور بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ انسان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ تو رب کریم کے معاملہ میں محتاط ہوجا اور اپنی اصلاح کی جتنی کوشش تو کرسکتا ہے آج وقت ہے کہ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر تو ہاتھ ملتا رہ جائے گا ۔
Ayah 82:8پھر جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا
8 ؎ وہ صورت جو انفرادی طور پر ہر ایک فرد کو دی گئی یا وہ شکل و صورت جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو بخشی جیسے دوسری مخلوق کو جسا چاہا ان کی شکل و صورت بنا دی لیکن جو بنایا بلاشبہ خوب بنایا ۔ انسان کے لے دونوں طرح سے جو صورت فی نفسہٖ انسان کو بخشی خوب بخشی اور اسی طرح ہر انسان کی انفرادی طور پر جو شکل و صورت بنائی وہ بھی خوب بنائی کہ آج تک کس شخص کو اس میں کسی کمی بیشی کا احساس تک نہ ہوا کہ اگر انسان کی شکل و صورت اس طرح ہوتی تو زیادہ بہتر اور زیادہ اچھا لگتا اور اس طرح انسان کے سوا جو مخلوق بنائی سب کے متعلق یہی حقیقت ہے کہ کسی ایک مخلوق کی ترکیب و ہیئت میں کسی طرح کی مبہم میخ نہیں نکالی گئی اور نہ ہی نکالی جاسکتی ہے۔ اگرچہ اس جگہ فقط انسان ہی کو مخاطب کر کے پوچھا جا رہا ہے اور اس کی شکل و صورت کے متعلق پوچھا جا رہا ہے۔ ( رکبک) اس نے تجھے جوڑ دیا ، اس نے تیری ترک بےدی رکب ترکیب سے جس کے معنی ترکیب دینے اور ملانے کے ہیں اور جوڑ دینے کے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر ( ای صورۃ) جس شکل و صورت میں چاہا اپنی مرضی سے تیری شکل و صورت کو ترکیب دے دیا ۔
Ayah 82:9ہرگز نہیں بلکہ تم روز جزا کے منکر ہو
9 ؎ قابل غور بات ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا اور جس شکل و صورت میں چاہا بنایا اور اس نے جیسا کیسا بنایا تم کو منظور ہوا ۔ تمہارے لیے اس کائنات میں طرح طرح کی چیزیں بنائیں ، تم کو منظور ہے۔ ایک ایک بات پر تم خود مہر درست درج کرتے چلے آئے ہو اور جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا اور اس قرآن کریم کو ہدایت کی کتاب بنایا اور تمہارے اعمال کے نتائج کے لیے قیامت کا دن مقرر فرمایا تو تم کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور منہ بنانے لگتے ہو ۔ اچھا اگر تم کو روز جزا پر یقین نہیں ہے تو اس پر یقین نہ کر کے بھی تم دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ پیچھے سے لائن درست چلی آتی ہے لیکن یہاں اگر اس میں ایسا بل پڑتا ہے کہ وہ ختم ہی نہیں ہوتا ، حالانکہ اگر تم کو اس بات پر یقین ہوتا تو تم پیچھے سے درست آنے والی لائن سے کبھی نہ اترتے اور آخر تک درست درست کی بات کرتے جاتے لیکن کل جب تم کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے روبرو پیش کیا جائے گا اور تم سے تمارے اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا تو تم بغاوت اور سر کشی کی یہ روش ہرگز اختیار نہ کرسکو گے اور اس وقت تم کو پچھتاوا ہوگا اور جس جزا و سزا کو تم جھٹلا رہے ہو اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لو گے حالانکہ یہ وہ چیز ہے کہ آج اس پر ایمان لانے سے عقائد کو درست کرنے سے کل تمہا را فائدہ ہوگا اور آج اس طرح اس کی طرف سے بےنیاز ہونے سے کل تم اپنا نقصان کرو گے اور اللہ رب کریم کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑے گی اس لیے نہایت شفقت اور پیار سے تم کو سمجھایا جا رہا ہے اگر تم سمجھ جائو۔
Ayah 82:10بلا شبہ تم پر نگہبان مقرر کیے گئے ہیں
10 ؎ جس طرح بہت سی بتائی گئی باتوں میں تم کو کوئی شبہ نہیں ہے اسی طرح آج وقت ہے کہ تم مان لو اور یقین کرلو کہ تم پر ہم نے نگہبان مقرر کر رکھے ہیں اور وہ تمہاری ہر ایک حرکت کو من و عن اسی طرح ریکارڈ کر رہے ہیں جس طرح تم کرتے ہو ۔ تمہارا پریکٹیکل بھی محفوظ ہے اور تمہارا بول اور نظریہ بھی اور تمہارے انکار کردینے سے نہ تو قیامت کا پروگرام ہم منسوخ کردیں گے اور نہ تمہارا وہ ریکارڈ رکھنا بند کردیں گے کیونکہ ہم نے جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ نہ تو تمہارے مشورے سے شروع کیا ہے اور نہ ہی تمہارے مشورے سے بند کریں گے۔ ہمارا پروگرام بالتریب چلتا رہے گا تعجب تو تم پر ہے کہ ہم ایک ایک بات پوچھتے جاتے ہیں تم ایک ایک بات پر ہاں ہاں کہتے جاتے ہو لیکن جب تمہارا جی چاہتا ہے تو سر ہلانا شروع کردیتے ہو کہ تم نہیں مانتے ۔ اچھی طرح کھول کر سن لو کہ تم کو اپنے کیے کا جواب دینا ہے اور قیامت کے روز تم کو زندہ کر کے تمہارے اعمال کے نتائج کو تمہارے سامنے پیش کرنا ہے۔
Ayah 82:11وہ کراما ً کاتبین ہیں جو نہایت بزرگ اور شریف ہیں
11 ؎ مطلب یہ ہے کہ جو فرشتے تمہارا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں وہ نہایت بزرگ ہیں وہ ایک ایک حرکت کو ریکارڈ کر رہے ہیں اور اس میں ذرا برابر بھی کمی و بیشی نہیں کریں گے وہ معمولی قسم کے اہلکار نہیں کہ ہماری کہی گئی بات میں کسی طرح کا تساہل برتیں ۔ مطلب یہ ہے کہ بھیگی بلی بنانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے کچھ کرسکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں ان کو جو ذمہ داری ہم نے سونپ دی ہے وہ اس کو پورا کر رہے ہیں اور پورا کرتے رہیں گے ان کو نہ تو کسی سے ذاتی دوستی ہے اور نہ ہی وہ کسی سے ذاتی طور پر دشمنی رکھتے ہیں ۔ ان کا کام ہے کہ جس ذمہ داری پر ان کو لگا دیا گیا ہے وہ بدستور اس کو پورا کرتے رہیں اور بلا شبہ وہ پورا کر رہے ہیں ۔ وہ بلند پایا فرشتے ہیں ، تمہاری آنکھیں ان کو دیکھ نہیں سکتیں جس طرح بہت سی دوسری چیزوں کو بھی دیکھ نہیں سکتے اور نہ ہی تم دکھا سکتے ہو ۔ تم خواہ مخواہ محبتیں پیدا نہ کرو تم کو معلوم ہے کہ تم دکھ درد کا اظہار کرتے ہو لیکن اگر تم سے کہا جائے کہ وہ دکھ اور درد ذرا ہم کو دکھا دو تو کیا دکھا دو گے۔ گرمی ، سردی تم کو لگتی ہے اور تم بول بول کر اس کا اظہار کرتے ہو لیکن اگر تم سے کہا جائے کہ ذرا سردی یا گرمی ہم کو دکھا دو تو تم مجبور ہو جائو گے یا منہ چڑھانے لگو گے تم کو خوشی اور غمی سے انکار نہیں لیکن اگر تم سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ ذرا خوشی اور غمی ملاحظہ کرا دو تو تم ہنس کر رہ جائو گے۔ ان گنت باتیں ہیں جن میں سے دو تین کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے تم مانتے ہو ، مان رہے اور مانتے رہو گے لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے دو فرشتوں کے متعلق تمہاری زندگی کی ایک ایک بات ریکارڈ رکھنے کی بات کی تو تم مذاق اڑانے لگے کہ کہاں ہیں وہ ہم کو تو کہیں بھی وہ نظر نہیں آ رہے ہیں اور اس طرح کی کتنی ہی واہیات باتیں ہیں جو تم بکنے لگتے ہو۔
Ayah 82:12وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے رہتے ہو
12 ؎ وہ تمہاری حرکت کو جانتے ہیں جو کچھ تم زندگی میں کرتے ہو ۔ ہاں ! غیب سے نہیں اور بالکل نہیں غیب تو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا لیکن وہ بذاتہٖ تمہارے ساتھ ہر وقت اور ہر حال میں موجود ہے اور تم ان سے زندگی بھر الگ نہیں ہو سکتے بالکل اسی طرح جس طرح تمہارا سایہ تمہارے ساتھ لیکن سایہ پھر بھی اندھیرے میں تم کو چھوڑ جاتا ہے اور وہ کسی حال میں بھی اور کسی صورت میں بھی الگ نہیں ہوتے اور اچھی طرح سمجھ لو کہ جو دیکھ کر اور سمجھ کر کیا جاتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا ۔ ان کا علم ادھوری قسم کا علم نہیں ، ان کی تحریر ایسی تحریر نہیں کہ اس کا ریکارڈ جلا دیا جائے یا کسی طرح ضائع کردیا جائے۔ نہیں ہرگز نہیں ان کو تم قلم دوات ساتھ رکھنے کی زحمت بھی مت دو اس لیے کہ تم بولتے ہو اور تم جس طرح کی حرکت کرتے ہو وہ اس ریکارڈ میں محفوظ ہوتی چلی جا رہی ہے وہ قیامت کے روز تم کو اگر تم چاہو گے سب کچھ آنکھوں سے دکھا دیں گے اور تم اپنی ذات کا کسی حال میں بھی انکار نہیں کرسکو گے۔ ہم تو تم کو بتا رہے ہیں کہ تم اس حقیت کو سمجھ کر اپنی حالت کو درست کرلو لیکن تم ہماری اس بات کو اتنی بھی اہمیت نہیں دے رہے جتنی اہمیت ایک دودھ پیتے بچے کی بات کو دی جاتی ہے لیکن اگر کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلے تو کیا اس کے جھپٹے سے بچ جائے گا یا جلد اس کے قبضہ میں آئے گا اور وہ ایک منٹ میں اس کی کھال اتار کر رکھ دے گی ۔ اس غلط فہمی میں مبتلا رہ کر تم اپنا نقصان کر کے آپ ہی خوش ہو رہے ہو تو ہم تم کو تمہارے اس فعل میں دیکھنے کے باوجود خاموش ہیں اور خاموش رہیں گے تا آنکہ تم چیخیں مارنے لگو گے اور کوئی تمہارا پرسان حال نہ ہوگا۔ ہم تم کو بار بار کہہ رہے ہیں کہ آج ہنسنے والے کل روئیں گے پنجائی مثل ہے کہ ” اج ہنسی ایں کل رو ویں دی گھر جا کے جھاٹاکھویں دی “۔
Ayah 82:13بلاشبہ نیک لوگ انعامات الٰہی میں ہوں گے
13 ؎ قیامت کے روز ہر ایک انسان کی حالت ایک جیسی نہیں ہوگی بلا شبہ وہ لوگ جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرتے رہے ، حق کو حق جانا اور ناحق کو ناحق سمجھتے رہے اور اس کے قریب تک نہ گئے اور حق کے لیے جو کچھ ان کو جھیلنا پڑا بخوشی اس کو جھیل گئے یہی وہ لوگ ہیں جن کو ( الابرار) کہا گیا ہے اور ان کو قیامت کے روز کوئی کھٹکا نہیں ہوگا ، ان میں کتنے ہوں گے جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اور کتنے ہوں گے جن کے دائیں ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ دے کر جنت کا مستحق بنایا اور ٹھہرایا جائے گا اور کتنے ہیں جن کو رعایتی طور پر پاس کردیا جائے گا اور ان کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی اور ایسے بھی ہوں گے جن کو دوزخ میں ڈبو کر پاک و صاف کردیا جائے گا اور پھر وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔ بہر حال اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ برابر نہیں ہو سکتے ، پاس اور فیل دونوں کو ایک جیسے کوئی بھی نہیں مانے گا ۔ انکے چہرے دمک رہے ہوں گے اور ان کی خوشی کا یہ عالم ہوگا کہ وہ اپنے میں پھولے نہیں سمائیں گے اور فرشتے ان کو مبارکبادیاں پیش کرتے ہوں گے۔
Ayah 82:14اور بلا شبہ بد کار دوزخ میں ہوں گے
14 ؎ ( الفجار) جمع ہے اور اس کی واحد فاجر ہے اور فاجر بدکار اور کافر کو کہتے ہیں ۔ فاجر کے لفظی معنی پھاڑنے والے کے ہیں اور فاجر کو فاجر اس لے کہتے ہیں کہ دراصل وہ دین کا پردہ پھاڑ دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ علی الاعلان گناہ کرتا ہے اور کھلے بندوں حق سے انحراف کرتا ہے۔ ان معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس پر نظر رکھیں اور محولہ حوالوں میں اس کی وضاحت دیکھ لیں۔ ان شاء اللہ مفید رہے گی۔ (فجورھا) الشمس : 8) (لیفجر) ( القیامۃ 5) (فاجرا) (نوح : 27) (الفجرۃ) (عبس : 42) ( الفجار) (ص : 28) (الانفطار : 14) (المطففین : 7) باقی اس مادہ کے حروف قرآن کریم میں جہاں بھی استعمال ہوئے ہیں وہاں ان کے معنی گناہ کے نہیں کیے جاسکتے بلکہ پھاڑنے اور پھوٹنے ہی کے ہیں اور وہ ہی لیے گئے ہیں ۔ جس طرح گناہ بہت اقسام کے ہیں اس طرح فجار کی بھی بہت سی اقسام ہیں اس جگہ اسے گناہ گا رمراد ہیں جو کبائر کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ ان کے گناہوں کی تعداد انکی نیکیوں کے مقابلہ میں بہت ہوگی اور وہ اسی سبب سے فیل ہوں گے اور ان کی سفارش کر کے بھی ان کو جنت میں نہیں بھجوایا جائے گا ۔ گویا ان کے جرائم ایسے ہوں گے جو قابل معافی نہیں ہوں گے بلکہ قابل سزا ہوں گے۔
Ayah 82:15اس میں وہ جزاء سزا کے دن ڈالے جائیں گے
15 ؎ جرم کی نوعیت دیکھ کر بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا جرم کس نوعیت کا ہے اور ان کی سزا کس نوعیت کی ہوگی ؟ اور جب یہ بات بھی معلوم ہو کہ جو جرم کیا ہے اس کی سزا بہر حال لازم ہے ، اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہے خواہ سزا کتنا عرصہ تاخیر سے دی جائے یا دی جانے والی ہو لیکن مجرم کو احساس جرم کا عذاب بدستور رہتا ہے اور احساس عذاب ، عذاب سے کمتر سہی لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس لیے بھی اس کا تعلق دراصل عالم آخرت ہی سے ہے نہ کہ عالم دنیا سے اور یہ نظریہ اصلاح کے لیے بھی درست اور مفید ہے ۔ احادیث میں اس کا ذکر بھی بہت آیا ہے اور اس طرح کی احادیث جن میں عالم آخرت کی بحث ہو زیادہ جرح اور میم میخ نکالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ مفید چیز بہر حال مفید ہی ہوتی ہے اور اس سے خواہ بحث کرنا اصناعت وقت میں شمار ہوتا ہے۔ ( یوم الدین) بلا شبہ جزا و سزا کے دن ہی کو کہا جاتا ہے اور وہ قیامت کا روز ہے جب عالم دنیا کا نظام فنا کردیا جائے گا اور اس نظام کو فنا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ عالم آخرت کا نظام قائم کرے گا اور زمین بہ زمین اور آسمان بہ آسمان نہیں ہوں گے بلکہ ایک بار سب کو اجاڑ کر نئے سرے سے تعمیر کی جائے گی اور ظاہر ہے کہ وہ تعمرر اس سے بھی زیادہ ستھری ، صاف اور شفاف ہوگی ۔ زمین میں نشیب و فراز نہیں ہوں گے اور آسمان و زمین میں روابط قائم ہوں گے۔ یہی وہ دن ہوگا کہ جنتیوں کو جنت میں اور جہنمیوں کو جہنم میں چلا کرلے جایا جائے گا ۔
Ayah 82:16اور اس سے غائب نہ ہو سکیں گے
16 ؎ دوزخ ایسا مقام نہیں ہے کہ وہاں کوئی آدمی خوشی سے رہنے کے لیے تیار ہو اور جہاں آدمی کو مجبور اً رکھا جائے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ کوئی صورت اس کی نکل آئے کہ میں یہاں سے نکل جائوں خواہ نکلنے کی کوئی صورت ہی اختیار کرنی پڑے۔ اس لیے زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کی جیل نہیں ہے اور نہ ہی وہاں کے دربان ہماری جیلوں کے دربانوں کی طرح رشوت خور ہیں ۔ اس لیے اس بات کا کوئی تصور بھی نہ کرے کہ کسی کو دوزخ پہنچا دینے کے بعد خود وہاں سے نکل بھاگنے کی جرأت ہو یا وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ نہیں اور ہرگز نہیں ، ہاں ! جن کی سزا مکمل ہوتی جائے گی ان کو باقاعدہ خارج کردیا جائے گا اور قانون کے مطابق ان کو یہاں سے فارغ (Discharge) کر کے جنت میں داخل کردیا جائے گا اور اس میں انجام کار وہی بد بخت رہ جائیں گے جو اس ایندھن اور اوپلوں کی طرح ہوں گے ، جن کو جلایا جانا ضروری ہے اور ان کو جلانے میں کبھی بھی احساس نہیں ہوگا کیونکہ وہ جلنے ہی کے لیے بنائے گئے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایسے اعمال کیسے ہیں کہ وہ شکل و صورت سے انسان نظر آنے کے باوجود انسان نہیں ہوں گے بلکہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہ گئے ہوں گے۔ مختصر یہ کہ ان کے متعلق قبل از وقت بتایا جا رہا ہے کہ اگر یہ بھاگنا چاہیں گے بھی تو کہیں بھاگ کر نہیں جاسکیں گے اور ہم نے دوسری جگہ ان کی مثال دی ہے کہ دوزخ کیا ہے ؟ سمجھ لیں کہ چوہوں کا پنجرا ہے کہ اس میں داخل ہونیوالے تو بہر حال ہوں گے لیکن اگر وہاں سے نکلنا چاہیں گے تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ بس وہ اسی طرح عذاب کے اندر پڑے سڑتے رہیں گے۔
Ayah 82:17اور اے مخاطب تجھے کیا معلوم کہ وہ جزا سزا کا دن کیا دن ہے ؟
17 ؎ ( ادراک) کا اصل مادہ د ر ی ہے ۔ تعجب ہے کہ صاحب مفہوم نے اس کود رک میں کیسے شامل کردیا۔ معنی ہیں تجھے واقف کیا۔ تجھے خبردار کیا ۔ ادری ادراء سے جس کے معنی واقف کرنے اور بتانے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ک ضمیرواحد حاضر ۔ قرآن کریم میں اس مادہ کے الفاظ اور بھی بہت استعمال ہوئے ہیں اور ( ادراک) کا لفظ بھی 12 بار استعمال ہوا ہے۔ پہلی بار اس کا استعمال سورة الحاقہ میں ہوا ہے اور اس سے پہلے کسی جگہ پر اس کا استعمال نہیں ہوا ۔ مخاطب اس سوال کے نبی کریم ﷺ نہیں ہو سکتے بلکہ ہر وہ شخص مراد ہے جو منکر قا مت ہے جس کو پیچھے اس سورت میں ( ما غرک بربک الکریم) کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے کہ اے وہ شخص جس نے باوجود اللہ کے اقرار کرنے اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ پر اتاری گئی کتاب قرآن کریم اور آپ ﷺ کے بتائے ہوئے عقیدہ ٔ آخرت سے انکار کرنے والے ، تجھے اس دھوکے اور فریب میں کس نے مبتلا کردیا اور تجھے جزا و سزا کے دن کے متعلق کچھ سمجھ ہی نہ رہی ، تیری مت کس نے مار دی ؟ حالانکہ جزا و سزا سے انکار اگر ذرا بھر انسان عقل و فکر سے کام لے اور تدبر کرے تو ممکن ہی نہیں ہو سکتا ۔ جو شخص اپنی تخلیق پر غور کرے ، جو شخص اس کائنات کی کسی بھی ایک چیز پر فکرکرے وہ بغیر اس عقیدہ اور نظریہ کے رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کے پاس کوئی انکار کی دلیل نہیں ہو سکتی۔
Ayah 82:18پھر اے مخاطب ! تجھے کیا معلوم کہ جزا و سزا کا دن کیا ہے ؟
18 ؎ اس تاکید نے سوال کی اہمیت کو اور بھی زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ اس کی تفصیل پیچھے سورة الحاقہ کی آیت اسے 3 تک گزر چکی ہے اس کو ایک بار پھر دیکھ لیں ۔ دراصل اس دن کی ہولناکی سے آگاہ کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے تاکہ انسان کا دل ڈر جائے اور قیامت کے ہول کے بارے میں آگاہ ہو کر اپنی اصلاح کرلے اور اسی کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اگر تو نے توجہ نہ کی اور یہ دنیا کی زندگی یا سی غفلت میں گزار دی تو کل کے پچھتاوے سے تیرے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا اور بار باریاد دہانی کا فائدہ یہ ہے کہ اگر صبح کا بھولا شام کو بھی واپس پہنچ گیا تو خیر ہے لیکن رات پڑگئی تو معاملہ خراب ہوجائے گا ۔ اس کے متعلق میاں محمد صاحب نے یہ کہا تھا کہ ؎
لوئی لوئی بھر لے کڑیئے جے تدھ بھانڈا بھرنا شام پئی بن شام محمد گھر جاندی نے ڈرنا
Ayah 82:19جس دن کوئی شخص کسی شخص کے کام نہ آئے گا اور حکم اس دن اللہ کا ہو گا
19 ؎ اوپر جو بات بطور سوال کی گئی تھی وہ سوال اتنا عام فہم تھا کہ اس کا جواب فقط ایک ہی جواب ہو سکتا تھا کوئی دوسرا جواب ممکن ہی نہیں تھا۔ اس لیے اس کا جواب خود ہی دے دیا کہ وہ دن ایسا دن ہوگا کہ سارے دنیوی بادشاہوں کی بادشاہی کا خاتمہ ہوچکا ہوگا اور کوئی بڑے سے بڑا صاحب اقتدار بھی اپنے اقتدار کی بات نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے اقتدار کی بات کوئی دوسرا ہی کرنے کے لیے تیار ہوگا ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس دن کا ہول بھی اتنا سخت ہوگا اور گھبراہٹ بھی اتنی بڑی ہوگی کہ اس کو اپنے اقتدار یا کسی دوسرے کے اقتدار کی خبر ہی نہ رہے گی ۔ سب برابر کی سراسیمگی ہوگی اور کوئی شخص بھی کسی دوسرے شخص کے لے کچھ نہ کرسکے گا اور نہ کہہ سکے گا ۔ اس کی وضاحت ویسے تو جگہ جگہ کی گئی ہے لیکن جو منظر سورة عبس کی آیات 33 تا 43 میں بیان کی گئی ہے وہ سب کو کفایت کرتا ہے اور اس کو سمجھ لینے کے بعد کسی طرح کے کسی سوال کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ ویسے تو قرآن کریم میں جگہ جگہ اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ دن ایسا دن ہوگا کہ انسان کے سارے تعلقات جو اس دنیا میں آخرت کے عذاب سے بچنے کے لیے اختیار کیے تھے اگرچہ وہ اس تخیل کے ماننے کے بعد ہی اختیار کیے تھے کہ قیامت قائم ہوگی اور اس پر یقین کیا گیا تھا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے لیکن پھر بھی وہ قائم کردہ تعلقات کچھ کام نہ دیں گے۔ (وتطعت بھم الاسباب) (2 : 166) کہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ساری وضاحت بیان کردی ہے اور جب قیامت کا تخیل قائم کرنے کے بعد اس سے بچائو کے لیے سہارے تلاش کرنے والوں اور آسرے اور سہارے قائم کرنے والوں کے لیے یہ وعید ہے تو جو بالکل اسی نظریہ اور عقیدہ ہی کے منکر ہوں گے ان کا حال کیا ہوگا ؟ فرمایا ہم نے انسان کو دنیا میں بھی کئی بار اسی طرح بےیارو مدد کر کے دکھایا بلکہ صرف یہی نہیں کہ ایسا کرکے دکھایا ہم نے تو پکار پکار کر کہا کہ یہ ہے تمہارا ساتھ اور اسی پر ہمارا فیصلہ صادر ہونے والا ہے اور ہمارے حکم کے مطابق اس کی موت کا وقت قریب آچکا ہے اور ہماری دی گئی مہلت بس اب ختم ہی ہونے والی ہے۔ تم سب اس کے ارد گرد تشریف رکھتے ہو اور اس کی حالت سے آگاہ ہو اور ہم بھی آپ کے قریب ہی موجود ہیں بلکہ اس وقت جتنے تم اس مرنے والے کے قریب ہو ہم اس سے بھی زیادہ قریب ہیں ۔ فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ ہم تم کو دیکھ رہے ہیں لیکن تم ہم کو دیکھ نہیں رہے اور پھر تم سے بزبان حال کہہ بھی رہے ہیں کہ لوگو ! اگر تم کسی قانون کے پابند نہیں ہو تو اس کو روک لو جس کے جانے کے آرڈر (Order) ہم نے کردیئے ہیں اگر تم سچے ہو تو ذرا زور لگا کردکھائو پھر صرف اتنے پر بس نہیں ہے ہم تو یہاں تک اجازت دیتے ہیں کہ اس وقت بلا لو اگر کوئی دم درود کرنے والا ہے اور کوئی گٹ تعویذ کرنے والا ہے تو اس کو کہو کہ ایسا دم کرے دے اور ایسا گٹ اور تعویذ دے دے کر تمہاری جان بچ جائے۔ ( وقیل من راق) (75 : 27) حالانکہ یہ تو ابھی دنیا کی زندگی ہی کا کھیل ہے اور تمہارے مشاہدہ کی بات ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بڑے بڑے جری اور بہادر لوگوں پر یہ وقت آیا کہ جن کا سکہ دنیا میں چلتا تھا ، جن کی حکومت کا ڈنکا بجتا تھا ، جن کی دولت کے ڈھیروں کا کچھ اندازہ نہ تھا ، جن کے خزانوں کی کنجیاں ایک بہت بڑی جماعت سنبھالے ہوئے تھی ، جن کے کاروبار ساری دنیا میں چلتے تھے ، جن کے بنک دنیا میں چلتے تھے لیکن جب ہمارے فیصلے کا وقت آیا تو ان کو کوئی چیز نہ بچاسکی ۔ یہی زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ آج کا دن تو وہ دن ہے جس دن کوئی جان بھی کسی جان کے لیے کچھ نہیں کرسکے گی خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسی ہے۔ لاریب کوئی نبی و رسول ہے تو وہ اپنے باپ کے کام بھی نہیں آئے گا جس کے توسط سے اس نے اس دنیا میں قدم رکھا تھا۔ اگر پھنسنے والا اس کا بیٹا ہے اور باپ نبی و رسول ہے تو وہ اپنے بیٹے کے کچھ کام نہ آسکے گا اگر وہ نبی و رسول ہے اور اس کی بیوی قانون کی گرفت میں آگئی ہے تو وہ باوجود نبی و رسول ہونے کے اپنی بیوی کے کچھ کام نہ آسکے گا ۔ پھر اسی اصول کے مطابق کوئی بھاء کسی بھائی کے ، کوئی بیٹا کسی ماں کے اور باپ کے ، کوئی میاں اپنی بیوی کے اور کوئی باپ اپنے بیٹے کے اور کوئی دوست اور گہرایار کسی دوست اور گہرے یار کے کام نہیں آئے گا ۔ ( عبس : 26 تا 33) اور اسی طرح اس دن کسی صاحب کا بھی حکم نہیں چلے گا اور حکمرانی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی اور اسی کا فرمان نافذ ہوگا ، کسی کی مجال نہیں کہ اس کی مرضی کے خلاف ایک سانس بھی لے سکے یا اس کے فیصلے کو ردکر سکے یا کسی دوسری جگہ اپیل کرسکے۔ والا مر یومئذ للہ۔ لا حکم الا للہ ۔ ھو الاول والاخر والباطن والظاھر۔ القدیر القوی ۔ العلیم العل ۔ الخلاق العلام ۔ الرزاق السلام ۔ مالک الملوک ومالک الصعلوک ۔ الفردالواحد الحمید ۔ الصمد الاحد المجید ماولد ۔ ولا ولد ۔ ولا عضد ولا اخوا ۔ ولا کفوا ۔ لا شریک لہ ولا ندلہ ولا لہ نظیر ولا ضد ۔ لا لہ عدل ولالہ مثل ۔ لا سھیم ولا قسیم لہ الجمال والجلال والکمال والفضال والاکرام والانعام ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ سبحان اللہ و بحمد سبحان اللہ العظیم ۔
توحید الٰہی کے اسی گیت پر ہم سورة الانفطار کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ۔ والحمد للہ علی ذلک ۔ سبحان اللہ و بحمد سبحان اللہ العظیم ۔