Al-Infitaar 82:9

Al-Infitaar · from ayah 9

82:9

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِ ۟ۙكَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالدِّيۡنِ

مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! But you deny the Recompense.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Infitaar

All translations of 82:9

ہرگز نہیں، بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جزا و سزا کو جھٹلاتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہرگز نہیں بلکہ تم تو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن تم جزاء و سزا کو جھٹلاتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کوئی نہیں بلکہ تم انصاف ہونے کو جھٹلانتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حقیقت تو یہ ہے (اور) تم اِس کے برعکس روزِ جزا کو جھٹلاتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز نہیں، بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہرگز نہیں بلکہ تم تو روز جزا کو جھٹلاتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہرگز نہیں، بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز نہیں بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جھٹلاتے ہو سزا و جزا کو

— مولانا اسحاق مدنی

(تجھے مغرور) ہرگز نہیں (ہونا چاہئے تھا) اصل یہ کہ تم جزاء ہی کو جھٹلاتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہرگز نہیں ! بلکہ اصل میں تم جزا و سزا کا انکار کر رہے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر افسوس کہ تم لوگ جزا کے دن کو جھٹلاتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

No indeed; (the fact is that) you deny the Reckoning, declaring it a lie;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Never! (i.e. one should never be heedless towards him.) But you deny the Requital,

— Muhammad Taqi Usmani

Never! (i.e. one should never be heedless towards him.) But you deny the Requital,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! But you deny (the Day of) Ad-Din.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

No! But you deny the Recompense.

— Saheeh International

Despite this, you deny the Day of Judgment,

— Muhammad Sarwar

Nay! but you give the lie to the judgment day,

— Muhammad Habib Shakir

By no means! Aye, ye belie the the Requital.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 82:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاِنْفِطَار 5 یعنی کوئی معقول وجہ اس دھوکے میں پڑنے کی نہیں ہے۔ تیرا وجود خود بتارہا ہے کہ تو خود نہیں بن گیا ہے تیرے ماں باپ نے بھی تجھے نہیں بنایا ہے، عناصر کے آپ سے آپ جڑ جانے سے بھی اتفاقاً تو انسان بن کر پیدا نہیں ہوگیا ہے، بلکہ ایک خدائے حکیم و توانا نے تجھے اس مکمل انسانی شکل میں ترکیب دیا ہے۔ تیرے سامنے ہر قسم کے جانور موجود ہیں جن کے مقابلے میں تیری بہترین ساخت اور تیری افضل و اشرف قوتیں صاف نمایاں ہیں۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ اس کو دیکھ کر تیرا سر بار احسان سے جھک جاتا اور اس رب کریم کے مقابلے میں تو کبھی نافرمانی کی جرات نہ کرتا۔ تو یہ بھی جانتا ہے کہ تیرا رب صرف رحیم و کریم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–12

(آیت) فِيْٓ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَاۗءَ رَكَّبَكَ ، یعنی باوجود اس کے کہ تخلیق سب انسانوں کی ایک خاص وضع اور ہیت اور مزاج پر ہونے کی وجہ سے سب میں اشتراک ہے اس کا نتیجہ بظاہر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب ایک ہی شکل و صورت کے ہوتے باہمی امتیاز دشوار ہوجاتا، مگر حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ نے کروڑوں بلکہ اربوں پدموں انسانوں کی شکل و صورت میں ایسے امتیازات پیدا فرمادیئے جو ایک دوسرے سے مشتبہ نہیں ہوتے صاف اور نمایاں امتیاز رہتا ہے۔ انسان کی ابتدائی تخلیق کے یہ کمالات قدرت بیان فرما کر ارشاد فرمایا مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْم کہ اے غافل انسان جس پروردگار نے تیرے وجود میں ایسے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مکذبین قیامت کو زجر: ’کَلَّا‘ یہاں مکذبین کے ان شبہات و اعتراضات کی نفی کے لیے ہے جو وہ قیامت کے خلاف پیش کرتے تھے اور جن کی تردید اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے فرمائی گئی ہے جو خود انسان کی خِلقت کے اندر موجود ہیں۔ ان کو پیش کرنے کے بعد ان دلیل بازوں کو زجر فرمایا ہے کہ ’کَلَّا‘ یعنی تمہارے ان تمام شبہات و اعتراضات کی ہرگز کوئی بنیاد نہیں ہے، یہ ساری باتیں بناوٹی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ تم جزا و سزا کو ماننا نہیں چاہتے اس وجہ سے لا یعنی شبہات پیش کر رہے ہو کہ بھلا مر کھپ جانے کے بعد وہ لوگ دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے؟ حالانکہ اگر جزا و سزا عقل، عدل، فطرت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–14

7۔ 1 یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اس کے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔ 7۔ 2 یعنی تجھے ایک کامل انسان بنادیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل فہم رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–11

2: یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کہ معاذاللہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لفظ کلا بھی زجرو توبیخ کا لفظ ہے ، اس کے ذریعہ سرزنش کی جاتی ہے کہ تم جس حال میں ہو ، یہ درست نہیں ہے۔ تمہاری سوچ غلط ہے۔ اس کے ذریعے سابقہ موضوع سے بات کو دوسرے سے بات کو دوسرے موضوع اور نکتے کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔ ایک نئی بات سامنے لائی جاتی ہے اور یہ تاکید اور زور دار بات کرنے کا ایک انداز ہے۔ یہ انداز عتاب اور یاددہانی اور تصویر کشی سے الگ ہے۔ کلا بل ................ بالدین (9:82) ” ہرگز نہیں ! بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جزا وسزا کو جھٹلاتے ہو “۔ تمہیں یہ یقین نہیں ہے کہ اس زندگی کا جواب بھی دینا ہے اور یہی ہے تمہاری غفلت کا حقیقی سبب۔ جس کی وجہ سے تم سے تقصیرات ہوتی ہیں۔ یہ کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی بہکنے اور دھوکا کھانے کی اور کوئی وجہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ تم انصاف کے دن پر یقین نہیں رکھتے ہو کہ جو چاہیں کرتے رہیں، آگے کوئی حساب اور باز پرس نہیں۔ یہاں جو کچھ عمل ہم کرتے ہیں کون ان کو لکھتا اور محفوظ کرتا ہوگا۔ جس کی تفصیل آگے بیان کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِ۔ } ”ہرگز نہیں ! بلکہ اصل میں تم جزا و سزا کا انکار کر رہے ہو۔“ تم لوگ یہ جو اللہ تعالیٰ کی شان غفاری کے قصیدے پڑھ رہے ہو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم اس کی رحمت اور بخشش پر واقعتابہت پختہ یقین بھی رکھتے ہو ‘ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اپنے اس فلسفے کی آڑ میں تم جزا و سزاکا انکار کرنا چاہتے ہو۔ اسی طرح کے ایک ”قصیدے“ کی یہ جھلک ملاحظہ کیجیے اور پھر فیصلہ کیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شان غفاری کا اقرار ہے یا اس کے فلسفہ جزا و سزا کا مذاق : ؎ عصیاں سے کبھی ہم نے کنارا نہ کیا پر تو نے دل آزردہ ہمارا نہ کیا ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر لیکن تیری…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–11

9 یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے انکار کی وجہ یہ نہیں کہ تمہیں بات کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ تم جزا و سزا کے قانون الٰہی کے منکر ہو۔ تمہاری خواہش یہ ہے کہ تم جیسے بھی دنیا میں زندگی بسر کرتے رہو تم سے مرنے کے بعد کوئی محاسبہ نہ ہو اور یہ کس قدر ظلم اور بےانصافی کی بات ہے کہ تمہیں قوتیں اور تصرف و اختیار تو تمام مخلوق پر دیا جائے لیکن تم پر ذمہ داری کچھ بھی نہ ہو ؟ یہ دھوکا تمہیں کیسے لگ جاتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (اور خوف خدا ہو یا احساس ذمہ داری یا طلب حق، سب اسی عقیدۂ روز جزاء سے پیدا ہوتی ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–19

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا . یہ اللہ کے کرم سے فریب خوردہ ہونے سے بازداشت ہے۔ بل تکذبون بالدین . الدّین سے مراد ہے اسلام یا جزاء و سزا۔ کریم کے کرم پر اعتماد کر بیٹھنے سے اس کلام میں اعراض کیا ہے (یعنی ادنیٰ سے رخ موڑ کر اعلیٰ کی طرف توجہ کی ہے) مطلب یہ ہے کہ مذکورۂ بالا فریب خوردگی ہی پر تم بس نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ اسلام یا عقیدۂ جزا و سزا کی تکذیب کرتے ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ جملہ علمت نفس ما قدمت واخرت کے مفہوم سے اعراض ہو یعنی ہر انسان نے جو پہلے معصیت اور پیچھے طاعت کی ہوگی اس کو جان لے گا اور تم عصیان کرتے ہو (لہٰذا تم اپنے گناہوں کو جان لو گے) اور فقط معصیت ہی نہیں کرتے بلکہ جزا و سزا کو ہی نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–12

(5۔ 6) اے کافر ! مثلا کلاہ بن اسید تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ کفر کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے جس نے تجھ کو نطفہ سے پیدا کیا اور پھر تیری ماں کے پیٹ میں تیرے اعضاء کو درست کیا اور پھر معتدل القامت بنایا، پھر جس صورت میں چاہا تجھ کو پیدا کردیا یا یہ اچھی بری صورت میں بنا دیا اور اگر وہ چاہتا تو بندر اور سور کی شکل میں بنا دیتا مگر تم جزا و سزا کے دن ہی کو جھٹلاتے ہو اور ہم نے تمہارے اوپر تمہاری نگرانی اور تمہارے اعمال لکھنے کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں وہ اللہ کے ہاں معزز اور تمہارے تمام اقوال و افعال سے باخبر ہیں۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ (الخ) ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

(کلا بل تکذبون بالدین : یعنی دھوکا کھانے کا سبب یہ نہیں کہ تمہیں رب کریم کی مہربانیوں پر بہت اعتماد ہے، بلکہ یہ باطل خیال ہے کہ ہمیں نہ دوبارہ زندہ ہونا ہے اور نہ اعمال کا بدلا ملنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام بد اعمالیوں کا اصل سبب روز جزا کو جھٹلانا ہے اور اسی کو تم جھٹلا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

کلابل تکذبون بالدین۔ یہ بھی جائز ہے کہ کلا حق کے معنی میں ہو تو اس سے کلام کا آغاز ہوگا، یہ بھی جائز ہے کہ یہ لا کے معنی میں ہو پھر معنی بنے گا معاملہ اس طرح نہیں کہ جس طرح تم کہتے ہو کہ تم غیر اللہ کی عبادت میں حق پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، ماغرک بربک الکریم، دلالت کرتا ہے فراء بھی یہی کہتا ہے معنی یہ ہوگا کہ باس اس طرح نہیں جس طرح تجھے دھوکے میں رکھا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو کہ دوبارہ اٹھانا نہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جھڑکنے کے معنی میں ہے یعنی تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور کرم سے دھوکہ میں مبتلا نہ ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی آیات میں تفکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

24۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا بل تکذبون بالدین ہرگز نہیں بلکہ تم جزا کو نہیں مانتے یعنی حساب کو نہیں مانتے آیت وان علیکم لحفظین کراما کاتبین حالانکہ تم پر نگران فرشتے مقرر ہیں جو معزز ہیں حرف بحرف لکھنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ : ہرگز نہیں ! بلکہ تم لوگ جھٹلاتے ہو بدلے (جزا و سزا) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–19

﴿كَلَّا﴾ (ہرگز نہیں ! ) یعنی نفس و شیطان کے دھوکہ میں نہ آئیں دھوکہ میں پڑنا اپنی خیر خواہی کے خلاف ہے اور اس سے بڑھ کر تمہارا اپنی جانوں پر یہ ظلم ہے کہ تم جزا اور سزا ہی کو جھٹلاتے ہو (اور یہ سمجھتے ہو کہ کوئی مواخذہ اور محاسبہ ہونا ہی نہیں ہے) حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں جو معزز ہیں (اللہ کے نزدیک مکرم ہیں) اور تمہارے اعمال کو لکھنے والے ہیں اور تم جو کام کرتے ہو وہ ان کو جانتے ہیں (لہٰذا تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرو اور گناہوں سے بچو) ۔ اس کے بعد قیامت کے دن کی جزا اور سزا کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔ ﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ0013﴾ (بلاشبہ نیک لوگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” کلا “ یہ ماقبل سے ردع کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی شان کریمی سے مغرور ہو کر اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ ” بل تکذبون بالدین “ یہ ماقبل سے ترقی ہے کہ تم اللہ کے احکام سے غفلت کو ختم کرنے کے بجائے ایک اور بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے اور سرے سے جزاء و سزاء کو جھٹلا رہے ہو۔ انتم لا ترتدعون عن ذلک بل تجترءون علی اعظم منہ حیث تکذبون بالجزاء والبعث راسا (روح ج 30 ص 65) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–19

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے انسان پر کیے الذی خلقک “ اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کے ساتھ مغرور کیا ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ، فسوک ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا ” فعدلک “ پھر برابر کیا۔ تمام اعضاء اور جوڑوں کو درست کیا۔ ان میں تناسب رکھا۔ عقل ، شعور ، اخلاق ، مزاج تمام قوی مہیا کئے اور پھر جس قسم کی چاہی صورت بخشی۔ ان تمام حقائق کے باوجود تم اپنے رب سے کیوں روگردانی کرتے ہو۔ اور قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو۔ (انصاف کا دن) فرمایا خبردار ! بل تکذبون بالدین بلکہ تم انصاف کو جھٹلاتے ہو۔ تم سمجھتے ہو۔ کہ یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا۔ ہرگز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ۝ 9 ۙ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–12

ترکیب ¦ الکریم صفۃ اولی للرب الذی الخ صفۃ ثانیۃ مقررۃ للربوبیۃ مبنیۃ للکرم فسواک فعدلک عطف صلۃ الذی ای خلقک فی ای صورۃ الجار متعلق برکبک وما مزیدۃ وشاء صفۃ لصورۃ ای رکبک فی ای صورۃ شاء ھا وقیل یتعلق مجذوف علی انہ حال ای رکبک حاصلا فی ای صورۃ شاء ھا وانما لم یعطف الجملۃ ما قبلہا لانھا بیان لعدلک وان علیکم خبران لحافظین اسمھا کراما صفۃ للحافظین وکذا کاتبین وکذایعلمون وقیل ھذا حال من الکاتبین فان مع اسمھا و خبرہا وصفات الاسم جملۃ اسمیۃ فی محل النصب علی الحال من فاعل تکذبون ای تکذبون والحال ان علیکم من یردتکذیبکم وقیل مستانفۃ مسوقۃ لبیان ما یبطل تکذیبھم۔ تفسیر ¦ جب یہ حالت ہے کہ ایک روز قیامت آنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کَلاَّ بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِ ۔ (الانفطار : 9) (ہرگز نہیں ! بلکہ تم جزاء کو جھٹلاتے ہو۔ ) مکذبینِ قیامت کو تنبیہ ہرگز نہیں سے مراد یہ ہے کہ تم نے جن مصنوعی اسباب اور اعذار کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ تصورات قائم کر رکھے ہیں اور جن شبہات و اعتراضات کی بنیاد پر تم قیامت کے آنے سے انکار کرتے ہو، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کا جواب خود انسان کی اپنی ذات اور اپنی تخلیق میں موجود ہے۔ اگر ان پر غور کرے تو وہ کبھی اس فریبِ نفس کا شکار نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری بیماری کچھ اور ہے جسے تم ان مصنوعی باتوں میں چھپانا چاہتے ہو۔ وہ بیماری یہ ہے کہ تم جزاء و سزا کو ماننا نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–12

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں تک ان کے اعمال نامے پہنچنے کے بعد ہر شخص کو رب کریم کا خطاب۔ جب تمام لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں اعمال نامے تھما دیئے جائیں گے تو پھر ایک مرحلہ ایسا آئے گا۔ جب رب کریم پورے جلال کے ساتھ ان لوگوں کو مخاطب فرمائیں گے۔ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اس کے فرامین سے روگردانی کی ہوگی۔ ہر مجرم یہی سمجھے گا کہ رب ذوالجلال صرف مجھے ہی مخاطب کر رہا ہے اس لیے خطاب ہوگا کہ اے مجرم انسان ! تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ نہ تو نے اپنے رب کی کرم نوازیوں کا شکر ادا کیا اور نہ ہی اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِ ( ہرگز نہیں بلکہ تم جزاء وسز اکو جھٹلاتے ہو) کلاؔ ردع کیلئے ہے اللہ تعالیٰ کے متعلق جس غفلت کا شکار ہے اس کے متعلق ردع کی گئی ہے۔ بل تکذبون بالدین۔ الدینؔ اصل میں جزاء ہے یا دین اسلام مطلب یہ ہے تم ثواب و عقاب کی تصدیق نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” کلا بل تکذبون “ ابوجعفر (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قول ” وان علیکم لحافظین “ کی وجہ سے۔ ” بالدین “ جزاء اور حساب کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–12

فرمایا (كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ ) یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا وسزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمہارا محاسبہ ہوگا اللہ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو تمہارے اقوال وافعال کو لکھتے رہتے ہیں۔ انہیں ان اقوال افعال کا علم ہے اس میں افعال قلوب، افعال جوارح سب داخل ہیں پس تمہارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام واجلال اور احترام کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(8) منکرین و مکذبین کے لیے زجر وتوبیخ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز ایسا نہیں " یعنی ایسا نہیں جیسا تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، اور ہرگز ایسا کرنا نہ روا ہوسکتا ہے اور نہ اس کے لیے کوئی وجہ جواز ہوسکتی ہے، کہ تم اسی خدائے پاک سے غافل ہوجاؤ جس کی رحمتوں اور عنایتوں میں تم لوگ ڈوبے پوئے ہو، اور سر تا پا ڈوبے ہوئے ہو، اور جس کے حضور اپنے کیے کا بدلہ پانے کے لیے تم سب کو آخر کار اور بہرحال حاضر ہونا اور حساب دینا ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ سو دین حق کے اصول و مبادی اور بنیادی حقائق کے بارے میں تم لوگ جو شکوک و شبہات وارد کرتے ہو، ان کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد، اور خود تمہاری اپنی خلقت ہی ایسے تمام شکوک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

قیامت کا نقشہ تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی یہی نہیں کہ تم اپنے خالق ومالک سے غافل ہو بلکہ قیامت سے بھی انکار کرتے ہو اس لئے شتر بےمہار کی طرح جو چاہتے ہو کرتے ہو۔ اس چیز نے تمہاری زندگی کو حیوانوں سے بدتر بنادیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(82ـ:9) کلا۔ یہ اللہ کے کرم سے فریب خوردہ ہونے سے باز داشت ہے (تفسیر مظہری) یعنی اگر اللہ تعالیٰ اپنی کرم نوازی سے ہماری لغزشوں کی سزا فوری نہیں دیتا اور اپنی نعمتیں باوجود ہماری ناشکری کے اور غرور کے پیہم جاری و ساری رکھتا ہے تو ہمیں کسی قسم کے غرور یا دھوکہ میں مبتلاء نہیں ہونا چاہیے۔ صاحب تفسیر حقانی اس کی تشریح کچھ یوں فرماتے ہیں :۔ کہ کیا جس انسان کو رب کریم نے یہ کچھ دیا یہ اس کے مقابلہ میں شکر گزاری کرتا ہے ؟ کلا ہرگز نہیں۔ (مزید ملاحظہ ہو 74:32) بل تکذبون بالدین، بل حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لیے آیا ہے۔ یعنی رب کریم کی کرم نوازیوں کا شکر بجالانا تو کجا بلکہ تم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–12

انسان کی پیدائش اور حشر کا ذکر۔ (ف 1) یعنی زمین پر کے سب سمندر شریں وشور مل کر ایک ہوجائیں اور قبریں پھٹ جائیں گی اور ان میں سے مردے زندہ کر کے نکالے جائیں گے اس وقت ہر نفس اپنے اعمال خیر وشر جان لے گا جو اس نے زندگی میں کیے ہوں گے کہ میں نے نیک عمل و بدعمل کیا بھیجا اور کیا چھوڑا اور توبہ اور نیک عمل کو پست پشت ڈالنے کا ثمرہ بھی معلوم ہوجائے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائیں گے اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست ونابود تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا، برابھلا دیکھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] یعنی تمہارے دھوکا کھانے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ [6] یعنی بات یہ ہے کہ تم روز جزا پر یقین نہیں رکھتے ہو اور سمجھتے ہو کہ جو چاہیں کرتے رہیں، آگے کوئی بازپرس نہیں۔ مرگئے اور قصہ ختم ہوا۔ اس غلط اور بےبنیاد گمان نے تمہیں اللہ سے غافل اور اس کے انصاف سے بےخوف بنادیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–9

تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟ 1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) نہیں نہیں بلکہ تم تو جزاوسزا کی ہی تکذیب کرتے ہو اور قیامت ہی کو جھٹلاتے ہو۔ اوپر کی تمام آیتیں بلکہ لفظ کریم ہی ایک مستقل دلیل ہے قیامت کی لیکن تم اس قدر غرور اور بھول اور غفلت میں پڑے ہوئے ہو کہ جزا اور سزا ہی کو جھٹلاتے ہو اور کسی ایسے دن کو مانتے ہی نہیں جس دن ظالم سے مظلوم کا بدلہ لیا جائی اس دن پر اگر ایمان رکھتے تو تم اغترار میں مبتلا نہ ہوتے کیونکہ قیامت پر ایمان لانا ہی تو دافع اغترار ہے اور تم اس پر یقین نہیں رکھتے تم اس دن کو جھٹلاتے اور اس دن کی تکذیب کرتے ہو۔ آگے فرمایا کہ اچھا ہم نے بھی اپنے فرشتے تم پر مقرر کر رکھے ہیں تم جو اعمال کرتے ہو اس پر ہمارے فرشتے نگہبان ہیں تم کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–19

ف 1۔ یعنی باوجود اشتراک خلق و تسویہ و تعدیل کے پھر الگ الگ طور پر پیدا کیا، ماغرک سے پہلے معاد کا اور اس کے بعد مبدا کا ذکر اشارہ ہے کہ گو امر مانع اغترار ہو پھر بھی غرور سے باز نہیں آتا اور کریم کی صفت میں تلقین حجت نہیں، بلکہ تقویت ہے مانع کی یعنی کریم ہونا مقتضی ہے کہ اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز نہیں بلکہ تم روز جزا کے منکر ہو 9 ؎ قابل غور بات ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا اور جس شکل و صورت میں چاہا بنایا اور اس نے جیسا کیسا بنایا تم کو منظور ہوا ۔ تمہارے لیے اس کائنات میں طرح طرح کی چیزیں بنائیں ، تم کو منظور ہے۔ ایک ایک بات پر تم خود مہر درست درج کرتے چلے آئے ہو اور جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا اور اس قرآن کریم کو ہدایت کی کتاب بنایا اور تمہارے اعمال کے نتائج کے لیے قیامت کا دن مقرر فرمایا تو تم کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور منہ بنانے لگتے ہو ۔ اچھا اگر تم کو روز جزا پر یقین نہیں ہے تو اس پر یقین نہ کر کے بھی تم دیکھ لو کہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–12

فِي أَيِّ صُورَ‌ةٍ مَّا شَاءَ رَ‌كَّبَكَ (He composed you in whichever form He willed....82:8). This is to indicate that since the basic structure of all human beings is the same, it was expected that the zillions of members of the human society would have shared the same shape, size and features, but the perfect mastery and the wonderful acumen of the Supreme Creator has created them so differently that each one of them has its own unique features that make him clearly distinct from all others, and no one is confused with another. Having stated the creative acumen of the Great Creator, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 That is, "There is no reasonable ground for you to be deluded. Your own physical existence itself tells that you did not come into being by yourself; your parents also did not make you. Man also did not come about as a result of the elements combining together by themselves accidentally; but a Wise and Powerful God has composed you into this perfect human shape and form. There are other kinds of animals in the world compared with which your excellent form and structure and your superior powers and faculties stand out in sharp contrast. Reason demanded that in view of all this you should…

Read the full tafseer →