Explained with ayahs 86–89
قرآن اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم
اللہ تعالیٰ اپنے زبردست احسان اور عظیم الشان نعمت کو بیان فرما رہا ہے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ پر انعام کی ہے یعنی آپ پر نہ کتاب نازل فرمائی جس میں کہیں سے بھی کسی وقت باطل کی آمیزش ناممکن ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں آخر زمانے میں ایک سرخ ہوا چلے گی شام کی طرف سے یہ اٹھے گی اس وقت قرآں کے ورقوں میں سے اور حافظوں کے دلوں میں سے قرآن سلب ہوجائے گا۔ ایک حرف بھی باقی نہیں رہے گا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ پھر اپنا فضل و کرم اور احسان بیان کر کے فرماتا ہے کہ اس قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوق اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 105
یہ چیلنج اس سے پہلے قرآن مجید میں تین مقامات پر گزر چکا ہے۔ سوررہ بقرہ، آیات 23، 24۔ سورة یونس، آیت 38 اور سورة ہود، آیت 13۔ آگے سورة طور، آیات 33۔ 34 میں بھی یہی مضمون آرہا ہے۔ ان سب مقامات پر یہ بات کفار کے اس الزام کے جواب میں ارشاد ہوئی ہے کہ محمد ﷺ نے خود یہ قرآن تصنیف کرلیا ہے اور خواہ مخواہ وہ اسے خدا کا کلام بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ مزید برآں سورة یونس، آیت 16 میں اسی الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا گیا کہ " قُلْ لَّوْ شَآء اللہُ مَا تَلَوْ تُہُ عَلَیْکُمْ وَلَآ اَدْرٰکُمْ بِہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہ اَفَلَا تَعْقِلُونَ۔ یعنی…
Read the full tafseer →آخری آیت وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا میں یہ بتلا دیا کہ اگرچہ قرآن کریم کا معجزہ اتنا کھلا ہوا ہے کہ اس کے بعد کسی سوال اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی مگر ہو یہ رہا ہے کہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے نعمت قرآن کی بھی قدر نہیں پہچانتے اس لئے گمراہی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →قرآن کے ذریعے اتمام حجت : وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۡ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا۔
" تصریف ؛" کے معنی یہاں ایک ایک حقیقت کو مختلف اسلوبوں اور گوناگوں پیرایوں سے بیان کرنا ہے اور " ضرب مثل " سے مراد حکمت و معرفت کی بات کہنا ہے۔ عربی میں اس مفہوم کے لیے اس محاورہ کا استعمال معروف ہے۔ کسی حماسی کا شعر مشہور ہے :
یا بدر والامثال۔ یضربہا لذی اللب الحکیم۔
اے بدر، حکمت کی باتیں حکیم عاقل ہی کے لیے بیان کرتا ہے
مطلب یہ ہے کہ اس معجز کتاب کے نازل ہوجانے کے بعد، جس میں حکمت کی ایک ایک بات گوناگوں اسلوبوں اور پیرایوں سے ہم نے بیان کی ہے ان…
Read the full tafseer →89۔ 1 یہ آیت اسی سورت کے شروع میں بھی گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
49: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ کچھ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کا امتحان لینے کے لئے یہ سوال کیا تھا کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اور جواب میں اتنی ہی بات بیان فرمائی گئی ہے جو انسان کی سمجھ میں آسکتی ہے، اور وہ یہ کہ روح کی پیدائش براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوئی ہے، انسان کے جسم اور دوسری مخلوقات میں تو یہ بات مشاہدے میں آجاتی ہے کہ ان کی پیدائش میں کچھ ظاہری اسباب کا دخل ہوتا ہے، مثلاً نر اور مادہ کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے، لیکن روح ایسی چیز ہے جس کی تخلیق کا کوئی عمل انسان کے مشاہدے میں نہیں آتا، یہ براہ راست اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
ذرا دیکھئے ، یہ لوگ قرآن کریم کی اس معجزانہ شان کو نہ سمجھ سکے اور حضور اکرم ﷺ سے ایسے مادی معجزات اور خوارق عادت امور کے وقع کا مطالبہ کرتے رہے۔ معمولی غور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انکے مطالبات کس قدر طفلانہ ہیں۔ یہ لوگ ذات باری تعالیٰ کے حق میں بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے وقت انہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ خود ہمارے سامنے حاضر ہوجائے۔ حالانکہ قرآن مجید نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ، وہ نہایت ہی معقول انداز میں اور پھیر پھیر کر مختلف اسالیب میں اور مختلف مثالوں کی مدد سے ہر درجہ عقل و فکر کے لوگوں کے لئے سہل انداز میں پیش کی ہیں ، اور یہ تعلیمات اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
1 یہ اس کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ (ۭاِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ ) 34 ۔ سبأء :9)
2 یعنی معاذ اللہ خدا خود ہمارے سامنے آکر کہہ دے اور فرشتے کھلم کھلا شہادت دیں کہ تم سچے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت 88 قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا
اس موضوع پر قرآن کا اپنے مخاطبین سے یہ سب سے پہلا مطالبہ ہے جس میں ان سے پورے قرآن کا جواب دینے کو کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
109 قرآن میں کون کون سے موضوعات پر دلائل دیئے گئے ہیں ؟ اس قرآن میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر، روز آخرت اور قیامت کے واقع ہونے پر، جزاء و سزا کی معقولیت پر، رسول اللہ کی نبوت پر، شرک کی تردید پر، من گھڑت معبودوں کی بےچارگی اور احتیاج پر، نافرمان اقوام سابقہ کے انجام پر مختلف پیراؤں میں دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور دلائل ایسے ہیں جنہیں سب لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ اور خارجی کائنات اور اپنی اندر کی دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ اور ہر جگہ نئے اور اچھوتے طرز استدلال کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں اور وہ اتنی کثیر تعداد میں ہیں جو ایک طالب ہدایت کے لیے بہت کافی ہیں مگر ان لوگوں نے ایسی ضد اور ہٹ دھرمی کی راہ اختیار…
Read the full tafseer →131۔ (جو دلیل ہے ان کے ناشکرے پن کے کمال کی) (آیت) ” صرفنا “۔ یعنی ایک ایک مضمون بار بار مختلف طریقوں سے سہولت تفہیم کے لئے کھول کھول کر بیان کیا ہے (آیت) ” للناس “۔ یعنی لوگوں کے سمجھانے کے لئے، ان کی نصیحت کیلئے۔ (آیت) ” مثل “۔ کے معنی ہیں۔ ہر وہ مضمون جو ندرت یا حسن رکھتا ہو یا کلمہ پر تاثیر ہو، من کل وجہ من العبر والاحکام والوعید والوعید وغیرھا (معالم) اے بینالھم الحجج والبراھین القاطعۃ ووضعنا لھم الحق وشرحناہ وبسطناہ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
آیت نمبر 85 تا 93
ترجمہ : یہود آپ سے روح کے بارے میں جس کے ذریعہ جسم انسانی زندہ ہوتا ہے سوال کرتے ہیں آپ ان کو جواب دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے جس کی حقیقت وہ جانتا ہے تم نہیں جانتے، اور اس کے علم کی نسبت سے تمہیں بہت ہی کم دیا گیا اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے یعنی قرآن کو سلب کرلیں بایں طور کہ اس کو سینوں سے اور مصاحف سے مٹا دیں پھر آپ کو اس کیلئے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی میسر نہ ہو لیکن اس کو تیرے رب کی طرف سے رحمت کے طور پر باقی رکھا ہے یقیناً آپ پر اس کا بڑا ہی فضل ہے، اس لئے کہ اس نے اس کو آپ پر نازل کیا اور مقام محمود آپ کو عطا کیا اور اس کے علاوہ دیگر…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا للنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ اور ہم نے لوگوں (کے سمجھنے) کے لئے
اس قرآن میں ہر قسم کا عمدہ مضمون طرح طرح سے بیان کیا ہے۔
صَرَّفْنَا یعنی بار بار طرح طرح سے وضاحت اور تاکید کر کے ہم نے بیان کیا۔
مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ہر مقصد اور معنی ‘ عبرتیں ‘ احکام ‘ وعدہ وعید وغیرہ۔
مَثَل کہاوت اپنے اندر ندرت رکھتی ہے قرآن کے اندر بھی ندرت ہے حسن ہے دل نشینی ہے یہ بھی ان اوصاف میں مثل کی طرح ہے۔
فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا : پھر بھی اکثر لوگ بےانکار کئے نہ رہے۔ یعنی اکثر لوگوں نے سوائے کفر و انکار کے (قرآن کی ہدایت میں سے) کسی بات کو قبول کرنا پسند نہیں…
Read the full tafseer →(89) اور ہم نے اس قرآن کریم میں مکہ والوں کے لیے وعدے وعید اور ہر قسم مضامین بیان کیے ہیں مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے قبول نہ کیا اور کفر ہی پر جمے رہے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا للنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر طرح سے چیلنج کیا ہے اور یہ بھی کہ ہم نے توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے ہر قسم کے دلائل پیش کیے ہیں، یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتا چلا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (41) اور کہف (54)۔
فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا : یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 89
قولہ تعالیٰ : ولقد صرفنا۔۔۔۔ کل مثل یعنی ہم نے اس میں ہر مثال کے ساتھ قول کی توجیہ بیان کی جس کے ساتھ اعتبار اور نظرو فکر واجب ہوتی ہے، مثلا آیات، عبرتیں، ترغیب و ترہیب، اوامرو نواہی، پہلے لوگوں کے قصص اور واقعات، جنت و دوزخ اور قیامت وغیرہ۔ فابی اکثر الناس الا کفورا اور ان سے مراد اہل مکہ ہیں، ان کے لئے حق واضح کردیا اور ان کے لئے (اسے) کھول دیا اور انہیں مہلت دی یہاں تک کہ ان کیلئے ظاہر ہوگیا کہ یہ حق ہے، لیکن انہوں نے حق واضح اور ظاہر ہونے کے وقت سوائے کفر کے (ہر شے کا) انکار کردیا۔ مہدوی نے کہا ہے : ان کے اس قول میں قدریہ کے لئے کوئی حجت نہیں ہے۔ ابی (اس نے انکار کیا) کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
1:۔ ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے اب عباس ؓ سے روایت کیا کہ محمود بن مسیحان اور نعیمان بن اصی اور مجزیء بن عمر اور سلام بن مشکم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے محمد یہ جو آپ لائے ہیں کیا یہ حق ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ؟ ہم اس میں تورات کی طرح نظم ونسق نہیں دیکھتے آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم تم پہنچانتے ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہنے لگے ہم تیرے پاس اس طرح (کا کلام) لائیں گے جو تو لایا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” قل لئن اجتمعت الانس والجن “
2:۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل لئن اجتمعت الانس والجن “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ اگر جن…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا : اور بیشک پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ہم نے ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن میں ] [مِنْ كُلِ مَثَلٍ : ہر ایک مثال سے ] [فَاَبٰٓى: تو انکار کیا ] [اَكْثَرُ النَاسِ : لوگوں کے اکثر نے (سب کا)] [اِلَّا : سوائے ] [كُفُوْرًا : ناشکری کرنے کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
اگر تمام انسان اور جنات بھی جمع ہوجائیں تو قرآن جیسی کوئی چیز بنا کر نہیں لاسکتے
پہلی آیت میں اللہ جل شانہ نے اپنے نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر اپنے کرم و انعام کا اظہار فرمایا ہے کہ یہ جو وحی ہم نے آپ کے پاس بھیجی ہے اپنی قدرت اور اختیار سے بھیجی ہے۔ اور آپ کے پاس اس کا باقی رکھنا بھی ہماری قدرت سے ہے ہم اگر چاہیں تو اسے سلب کرلیں یعنی آپ کو بھلا دیں۔ جیسے ہمیں وحی بھیجنے پر قدرت ہے ایسے ہی بھلا دینے پر بھی قدرت ہے اگر ہم آپ کو بھلا دیں تو اس کے واپس لانے کے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی آپ کو حمایت کرنے والا نہ ملے گا۔ ہاں اگر اللہ اپنی رحمت سے پھر واپس فرما دے یا سرے سے واپس ہی نہ لے تو یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
اعجاز قرآن و اثبات رسالت محمدیہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ : قل لئن اجتمعت الانس والجن .... الیٰ .... الا کفورا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا تھا کہ قرآن نسخہ شفاء ہے مگر یہ معاندین کی قدر نہیں کرتے اب آگے شفاء ہے متمتع ہوں تعنت اور عناد پر اترے ہوئے ہیں اور خدا کی رحمت کی قدر نہیں کرتے اب آگے قرآن کا اعجاز بیان فرماتے ہیں جو آپ ﷺ کی نبوت اور رسالت کی دلیل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن جیسی معجز کتاب کا آپ ﷺ پر نازل ہونا یہ اللہ کا آپ ﷺ پر فضل کبیر ہے چناچہ فرماتے ہیں۔
اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ یہ قرآن میری نبوت کی حجت کبریٰ اور مجھ پر اس کے فضل و رحمت کی آیت عظمیٰ ہے اگر انسان اور جن سب اس بات پر…
Read the full tafseer →79:۔ یہ زجر ہے جو آئندہ شکوہ کا مبدا ہے۔ ہم نے قرآن میں سب کچھ بیان کردیا ہے کوئی عقدہ لاینحل نہیں چھوڑا۔ مسئلہ توحید، رد شرک، حشر ونشر، رسالت و نبوت، ترغیب و ترہیب اوامرو نواہی، امثال و واقعات غرضیکہ ایک متلاشی حق کیلئے ہم وہ تمام امور کھول کر قرآن میں بیان کردئیے ہیں جن کی حق سمجھنے کیلئے ضرورت ہے۔ مگر اس کے باوجود معاندین کفر و انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں اسلیے ان کے سوالات مطالبات محض ضد وعناد پر مبنی اور ٹالنے کیلئے حیلے اور بہانے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ربط آیات :
گذشتہ درس میں روح کے متعلق سوال اور اس کا جواب تھا ، مشرکین مکہ نے حضور ﷺ سے روح کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں دریافت کیا تھا ، جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کہہ دیں کہ روح میرے پروردگار کے امر سے ایک حقیقت ہے ہے مگر تمہیں تو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے ، اس لیے تم اسے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ۔
بعض لوگ غرور وتکبر کی وجہ سے کہتے ہیں کہ انسان تمام چیزوں پر حاوی ہے حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے انسان جتنا کچھ جانتا بھی ہے ، اس میں بھی بعض اوقات اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے ، انسان کے دماغ میں کچھ ہوتا ہے جب کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ، اس لیے بعض آثار میں یہ دعا بھی آتی ہے ، ” اللھم…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۡ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا 89
صرف
الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152]
( ص ر) الصرف
کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے :
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر کر بھگادیا ۔
أبى
الإباء : شدة الامتناع، فکل إباء امتناع ولیس کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
ترکیب : لایاتون جواب لئن ای جواب قسم محذوف دل علیہ اللام الموطّیۃُ ولولاھی لکان جواب الشرط بلاجزم لکون الشرط ماضیا۔ بیضاوی۔
تفسیر : منجملہ ان باتوں کے کہ جن سے قرآن مجید پر اعتراض کیا کرتے تھے ان کی ایک یہ بات بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ اس قرآن میں کون سی خوبی ہے ؟ اگر چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بھی ہے کہ قرآن کی بابت فرمایا تھا کہ وہ ہماری طرف سے ہے اگر ہم چاہیں تو اس کو واپس لے جائیں پھر تمام مخلوق مل کر بھی زور لگائے تو ایسا قرآن نہ بنا سکے۔ کماقال قل لئن اجتمعت الخ کہ تم کیا اگر تمہارے ساتھ تمہارے وہ جن بھی شریک ہوں کہ جن سے تم مانگا کرتے ہو اور جن…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ز فَاَبٰٓی اَکْثَرُالنَّاسِ اِلاَّ کُـفُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 89)
(ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا، لیکن اکثر لوگ انکار پر ہی اڑے ہوئے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت اور انسانی رویہ
تصریف : کا معنی تو ” پھیرنا “ ہوتا ہے، لیکن جب اسے کلام میں اس طرح استعمال کیا جاتا ہے جیسے یہاں استعمال ہوا ہے تو پھر اس کا معنی ایک حقیقت کو مختلف اسلوبوں اور گوناگوں پیرایوں سے بیان کرنا ہوتا ہے۔ اور مِنْ کُلِّ مَثَلٍ سے اسی کی تاکید ہوتی ہے۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ضرب مثل سے مراد حکمت و معرفت کی بات کہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
فہم القرآن
ربط کلام : رسول معظم ﷺ پر وحی کے ذریعے قرآن نازل ہوا کرتا تھا۔ جس کے بارے میں کفار یہ الزام لگاتے کہ آپ اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں۔ جس پر انہیں ایک دفعہ پھر چیلنج دیا گیا ہے۔
حق کے مقابلے میں انسان جب ہٹ دھرمی اور مسلسل تکبر کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ تو اسے حق قبول کرنے سے الرجی سی ہوجاتی ہے۔ جس بناء پر وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگ جاتا ہے۔ کفار مکہ کی بھی یہی حالت ہوچکی تھی۔ ایک وقت میں وہ الزام لگاتے کہ روم کے فلاں شخص سے بالواسطہ سیکھ کر اس کا کلام ہمارے سامنے قرآن کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ دوسرے وقت یہ الزام دیتے کہ یہ نبی اپنی طرف سے کلام بنا کر ہمارے سامنے سناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →قرآن نے ہر قسم کی مثالیں بیان کیں مگر انہوں نے کفر کی ٹھانی ہے :
89: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا (تحقیق ہم نے طرح طرح سے بیان کیں) باربار لوٹائیں دوبارہ سہ بارہ لائے۔ لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ (لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں) ہر معنی کے لحاظ سے قرآن غرابت وحسن کی ایک مثال ہے۔ فَاَبٰٓی
اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا (پس اکثر لوگ بغیر انکار کے نہ رہے) یہ جائز نہیں ضربت الازیدًا کیونکہ ابیؔ میں تاویلاً نفی ہے۔ گویا اس طرح کہا : فَلَمْ یَرْضَوْا اِلاَّ کُفُوْرًا کہ وہ کفر کے علاوہ اور کسی چیز پر راضی نہ ہوئے۔
Read the full tafseer →تفسیر 89۔” ولقد صرفنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل “ یعنی ہر مقصد اور معنی ، عبرتیں احکام ، وعدہ وعید غیرہ سب شامل ہیں ۔ ” فابی اکثر الناس الا کفور اً “ انکار کرنا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
88۔ 89:۔ تفسیر ابن جریر اور ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک صحیح روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہود کے چند علماء نے یہ کہا تھا کہ قرآن شریف کی عبارت تو رات جیسی فصیح نہیں ہے اس لیے ہم چاہیں تو قرآن جیسی عبارت بنا سکتے ہیں اور یہود سے یہ بات سن کر قریش بھی کہا کرتے تھے لونشاء لقلنا مثل ھذا (31/8) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ایسا قرآن بنا سکتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور قسم کھا کر فرمایا کہ ساری دنیا بھر کے انسان اور جنات ایک ہوجائیں جب بھی ان سے اس قرآن کے مانند کلام نہیں بن سکتا اس آیت سے قرآن شریف کا معجزہ ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–100
(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
159۔ قرآن حکیم ایک زندہ جاوید اور بےمثال معجزہ :۔
ایسا بڑا معجزہ کہ تمام انسان اور جن مل کر بھی اس جیسا کلام بنا کر نہیں لاسکتے اگرچہ وہ سب مل کر بھی اس کیلئے کوشش کریں۔ اور سب ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔ جس میں ان کے تمام بڑے بڑے فصحاء وبلغاء سب موجود ہوں۔ مگر اس کے باوجود اگر یہ سب اس کی نظیر الانے سے عاجز اور قاصر ہیں تو پھر اس سے بڑھ کر اور کون سا معجزہ تم لوگوں کو چاہئے ؟ سو معجزہ قرآن ایک بےمثال اور زندہ جاوید معجزہ ہے اور یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا ہے بلکہ یہ خالق بشر کا کلام ہے جس کی شان اور صف ہے ” عالم الغیب والشھادۃ “ یعنی نہاں وعیاں کو ایک برابر جاننے والا سبحانہ وتعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
اللہ کی قدرت اور قرآن کا معجزہ
تشریح : یہاں پر اللہ کی قدرت کاملہ کا یوں بیان دیا گیا ہے کہ اے نبی ! اللہ تعالیٰ کی قدرت کو سمجھنے کے لیے یہ بات بھی سامنے رکھو کہ ہم نے جو قرآن آپ کی طرف رشدوہدایت کے لیے نازل کیا ہے اگر ہم چاہیں تو آپ کے ذہن سے بلکہ ہر ذہن اور تحریر سے اس کو بالکل ختم کردیں اور ہم اس کی طاقت بھی رکھتے ہیں، مگر ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے آپ پر خاص فضل ہے کہ یہ اتنی عظیم الشان کتاب نازل کی گئی، پھر قرآن کی مضبوطی کی دلیل کے لیے فرمایا کہ ایسا بہترین کلام کوئی بندہ بشر بلکہ جن بھی بنانا چاہیں تو نہیں بنا سکتے۔
انسانی روح اور وحی الٰہی دونوں رضائے الٰہی اور شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ آخرت دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کا سارا نظام اسی بنیاد پہ استوار ہے کہ روح سے حیات ہے اس کی مفارقت موت ہے وہ پھر لوٹے گی تو اجسام زندہ ہوجائیں گے جبکہ کفار ومشرکین کے نزدیک تو موت ایک خاتمے کا نام ہے تو یہ روح آخر کیا شے ہے ، کہاں سے آتی ہے کدھر جاتی ہے اور کس طرح زندگی کا یا موت کا باعث بنتی ہے ، مفسرین کے مطابق رؤسائے مکہ نے ایک وفد مدینہ میں علماء یہود کے پاس بھیجا کہ آپ ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو کیسے پرکھا جائے کہ سچ ہے ، انہوں نے تین سوال بتلائے اصحاب کہف کے بارے میں پوچھا جو سوائے یہود کے علماء کے کوئی نہیں جانتا…
Read the full tafseer →ف 2 اس سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نے ہر طرح سے تجدی کی ہے اور یہ بھی کہ ہم نے دلائل توحید اور نفی شرک پر ہر نوع کے دلائل پیش کئے ہیں یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیریہ میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتے چلے جاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور افہام کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی (رازی)3 یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتے
Read the full tafseer →(17:89) صرفنا۔ ماضی جمع متکلم۔ تصریف (تفعیل) ہم نے پھیر پھیر کر سمجھایا۔ ہم نے طرح سے بیان کیا۔ تصریف الامر۔ کسی بات کو بار بار مختلف انداز سے بیان کرنا۔ ابی۔ ماضی واحد مذکر غائب ابائمصدر۔ اس نے سختی سے انکار کردیا۔
کفورا۔ انکار۔ کفر۔ منصوب بوجہ ابی کے مفعول ہونے کے ہے۔ فابی اکثر الناس الا کفورا۔ سوائے کفر کے اکثر لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ یا اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
لغات القرآن آیت نمبر 86 تا 89
لئن البتہ، اگر۔ شئنا ہم نے چاہا۔ لنذھبن البتہ ہم چاہیں گے۔ (لے جائیں گے۔ ) اوحینا ہم نے وحی کی۔ کبیر بڑا۔ اجتمعت جمع ہوگئی۔ ان تاتوا یہ کہ وہ لے آئیں۔ لایاتون وہ لا نہ سکیں گے۔ ظھیر مددگار۔ ابی انکار کردیا۔
تشریح : آیت نمبر 86 تا 89
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے قرآن جیسی کتاب وحی کے ذریعہ نبی کریم ﷺ پر نازل فرمائی جس میں تمام انبیاء کرام کی تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ موجود ہے۔ اس کتاب ہدایت پر عمل کرنے سے ایک نئی روحانی اور دنیاوی زندگی حاصل کرنا انسانی سعادت ہے۔ لیکن انسان کی یہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب کے موافق دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ اسی واسطے طرح طرح کی مثالیں دے کر جس قدر قرآن کی آیتوں سے ان لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے اسی قدر قرآں کو جھٹلانے پر یہ لوگ آمادہ ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–95
[62] روح سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ یہی بات سورة نحل آیت 2، سورة مومن آیت 15 اور سورة شوریٰ آیت 52 میں بیان ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے لیکن سیاق وسباق کی مناسبت سے روح کے معنی وحی الٰہی کے زیادہ صحیح ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ ، قتادہ اور حسن بصری نے بھی یہی معنی اختیار کئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–91
(ف 1) یہاں کس روح کے متعلق پوچھا جا رہا ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے قرآن نے روح کو متعدد معانی میں استعمال کیا ہے ، روح جبرائیل (علیہ السلام) کو بھی کہتے ہیں اور قرآن کو بھی اس طرح روح مراد روح حیوانی بھی ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ، مفسرین کی اکثریت کی رائے یہ ہے یہ یہاں روح سے متعارف روح مراد ہے ۔
قرآن حکیم کہتا ہے ، اس قسم کے سوالات کا تعلق مذہب سے نہیں ہے ، پیغمبر کے فرائض میں یہ چیز داخل نہیں ہے کہ وہ تمہیں روح کی حقیقت سمجھائے وہ اس لئے آیا ہے ، تاکہ روح کو جو کچھ بھی وہ ہے تازگی اور نمود بخشے ، اسے تزکیہ وتطہیر سے اس قابل بنائے کہ وہ فضائے قدس میں پرواز کرسکے تمہارا علم محدود ہے ،…
Read the full tafseer →-89 اور یقینا ہم نے لوگوں کو اس قرآن کریم میں ہر پیرایہ سے بار بار ہر قسم کا عمدہ اور عجیب مضمون بیان کیا ہے پھر بھی بہت سے لوگ بن ناشکری کئے نہیں ہے۔ یعنی جہاں تک سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے اس قرآن کریم میں مختلف انداز سے ہر قسم کے دلائل اور مثالیں لوگوں کے لئے بیان کیں اور بار بار بیان کیں لیکن باوجود اس کے اکثر لوگوں نے سوائے شیوئہ کفر کے ہر بات کا انکار کیا یعنی کفر کو نہ چھوڑا اور ایمان و شکر گزاری کی پوری بات اختیار نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–94
ف 12۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسی روح کے متعلق سوال تھا جس سے انسان زندہ ہے کیونکہ جب روح مطلق بولتے ہیں، یہی مفہوم ہوتی ہے اور جواب سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ نصوص میں اس کی حقیقت ظاہر نہ کرنے کی وجہ بتلائی، اور ضروری عقیدہ اس کے حدوث کا ظاہر کردیا گیا ہے۔ اب یہ امر کہ کسی دوسرے طریقہ سے اس کا انکشاف ہوسکتا ہے، یا ہوتا ہے۔ آیت اس کے اثبات و نفی دونوں سے ساکت ہے۔ پس دونوں امر محتمل ہیں اور کوئی شق معارض نص کے نہیں۔
13۔ یہاں جو علم کو قلیل فرمایا تو یہ نسبت علم الہی کے اور دوسری آیت میں جو علم کو خیر کثیر فرمایا تو یہ نسبتیں متاع و دنیا کے۔ پس دونوں میں تصادم نہیں۔
Read the full tafseer →قرآن کریم میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی گئیں لیکن اکثروں نے ان کو قبول نہ کیا :
107۔ ایک بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کرنے کو تصریف کہا جاتا ہے ، رسول کی حیثیت ‘ قرآن کریم کا کلام الہی ہونا ‘ توحید الہی کا بیان ‘ جنت و دوزخ کی تفہیم ‘ مرنے کے بعد دو بار اٹھایا جانا اور اچھے برے اعمال کے نتائج کو قرآن کریم نے بار بار مختلف طریقوں سے بیان کیا اور ہر ممکن سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن اکثر لوگوں نے ان کو قبول کرنے سے انکار ہی کیا ہے وہ انکار زبان واقرار کا انکار ہو یا کسب وعمل کا گویا وہ انکار کفر کا انکار ہو یا نفاق کا جو اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے ، اس جگہ اس کا بیان جس نسبت سے آیا وہ ییا ہے کہ…
Read the full tafseer →The last verse: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا (And surely We have explained - 89) tells us that the Holy Qur’ an stands out as a miracle so clear that it leaves no room for any question and doubt. Still, what is happening is that people do not thank Allah for His blessings, do not even recognize the real worth of the blessing of the Qur'an and keep wandering around in error.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
105. This challenge occurs at several other places in the Quran: (Surah Al-Baqarah, Ayat 23); (Surah Younus, Ayats 38-39); (Surah Al-Momin, Ayats 13-14); (Surah At-Toor, Ayats 33-34). At all these places, this has been cited as an answer to the charge of the disbelievers that Muhammad (peace be upon him) has himself invented the Quran but is presenting it as Allah’s Word. Besides this, the same has also been refuted in (Surah Younus, Ayat 16):“Say also, had not Allah willed that I should recite the Quran to you, I could not have recited it to you, nor could I have been able to give you any…
Read the full tafseer →