Al-Israa 17:87

Al-Israa · from ayah 87

17:87

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ؕ— اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا ۟اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ‌ ؕ اِنَّ فَضۡلَهٗ كَانَ عَلَيۡكَ كَبِيۡرًا

مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اس کا بڑا فضل ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except [We have left it with you] as a mercy from your Lord. Indeed, His favor upon you has ever been great.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 10 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:87

یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے رب کی رحمت سے ملا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اس کا بڑا فضل ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سوائے آپ کے رب کی رحمت کے، یقیناً آپ پر اس کا بڑا ہی فضل ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن یہ تو تمہارے رب کی طرف سے ایک رحمت ہے (کہ وحی کا سلسلہ جاری ہے) حقیقت یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر جو فضل ہورہا ہے وہ بڑا عظیم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر تمہارے رب کی رحمت بیشک تم پر اس کا بڑا فضل ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر یہ کہ آپ کے رب کی رحمت سے (ہم نے اسے قائم رکھا ہے)، بیشک (یہ) آپ پر (اور آپ کے وسیلہ سے آپ کی امّت پر)اس کا بہت بڑا فضل ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر تیرے رب کی رحمت سے۔ یقینا اس کا فضل ہمیشہ سے تجھ پر بہت بڑا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

الا یہ کہ آپ کا پروردگار ہی مہربانی فرمادے کیونکہ آپ پر اس کا بہت بڑا فضل ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تو بس تمہارے رب کا فضل ہے۔ بیشک اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر (یہ صرف) آپ کے رب کی مہربانی ہے (کہ ایسے نہیں ہوا) بیشک اس کی عنایت آپ پر بہت ہی بڑی ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

مگر یہ (آپ پر) رحمت ہی ہے آپ کے پروردگار کی۔ بیشک اس کا آپ پر بہت بڑا فضل ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

مگر یہ تو رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا فضل آپ پر بہت بڑا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر اس کا قائم رہنا آپ کے رب کی رحمت ہے، کچھ شک نہیں کہ آپ پر اس کا بڑا فضل ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Whatever you have received) is nothing but grace from your Lord. Indeed His favour to you is great.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But it is a mercy from your Lord. Great is indeed His favor upon you.

— Muhammad Taqi Usmani

But it is a mercy from your Lord. Great is indeed His favor upon you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except as a mercy from your Lord. Verily, His grace unto you is ever great.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(It is naught) save mercy from thy Lord. Lo! His kindness unto thee was ever great.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except [We have left it with you] as a mercy from your Lord. Indeed, His favor upon you has ever been great.

— Saheeh International

except by the mercy of your Lord. He has certainly bestowed great favors on you.

— Muhammad Sarwar

But on account of mercy from your Lord-- surely His grace to you is abundant.

— Muhammad Habib Shakir

Except as a mercy from thy Lord verily His grace unto thee is ever great.

— Abdul Majid Daryabadi

Except for Mercy from thy Lord: for his bounty is to thee (indeed) great.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:87

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 86–89

قرآن اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم اللہ تعالیٰ اپنے زبردست احسان اور عظیم الشان نعمت کو بیان فرما رہا ہے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ پر انعام کی ہے یعنی آپ پر نہ کتاب نازل فرمائی جس میں کہیں سے بھی کسی وقت باطل کی آمیزش ناممکن ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں آخر زمانے میں ایک سرخ ہوا چلے گی شام کی طرف سے یہ اٹھے گی اس وقت قرآں کے ورقوں میں سے اور حافظوں کے دلوں میں سے قرآن سلب ہوجائے گا۔ ایک حرف بھی باقی نہیں رہے گا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ پھر اپنا فضل و کرم اور احسان بیان کر کے فرماتا ہے کہ اس قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوق اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 104 خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر مقصود دراصل کفار کو سنانا ہے جو قرآن کو نبی ﷺ کو اپنا گھڑا ہوا یا کسی انسان کا درپردہ سکھایا ہوا کلام کہتے تھے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کلام پیغمبر نے نہیں گھڑا بلکہ ہم نے عطا کیا ہے اور اگر ہم اسے چھین لیں تو نہ پیغمبر کی یہ طاقت ہے کہ وہ ایسا کلام تصنیف کر کے لا سکے اور نہ کوئی دوسری طاقت ایسی ہے جو اس کو ایسی معجزانہ کتاب پیش کرنے کے قابل بنا سکے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 86–87

(آیت) وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ پچھلی آیت میں روح کے سوال پر بقدر ضرورت جواب دے کر روح کی حقیقت دریافت کرنے کی کوشش سے کہ کہہ کر روک دیا گیا تھا کہ انسان کا علم کتنا ہی زیادہ ہوجائے مگر حقائق الاشیاء کی ہمہ گیری کے اعتبار سے کم ہی رہتا ہے اس لئے غیر ضروری مباحث اور تحقیقات میں الجھنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے آیت وَلَىِٕنْ شِـئْنَا میں اس طرف اشارہ ہے کی انسان کو جس قدر بھی علم ملا ہے وہ بھی اس کی ذاتی جاگیر نہیں اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کو بھی سلب کرسکتے ہیں اس لئے اس کو چاہئے کہ موجودہ علم پر اللہ کا شکر ادا کرے اور فضول ولا یعنی تحقیقات میں وقت ضائع نہ کرے خصوصا جبکہ مقصود و تحقیق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 86–87

تفسیر آیات 86 تا 87:۔ وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا۔ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا۔ وحی کی حالت ایک تصرف غیبی ہے : اس آیت کا خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن بات جو فرمائی گئی ہے اس کو انہی لوگوں کو سنانا مقصود ہے جن کا اوپر سوال نقل ہوا ہے فرمایا کہ یہ وحی کی حالت و کیفیت تو تمہارے لیے بھی ایک بالکل اضطرار کیفیت و حال ہے جس میں تمہارے اختیار و ارادہ اور تمہاری خواہش و کوشش کو کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ تم اس کو اپنے ارادے سے لاسکتے اور نہ اپنے ارادے سے روک سکتے۔ یہاں تک…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 85–92

49: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ کچھ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کا امتحان لینے کے لئے یہ سوال کیا تھا کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اور جواب میں اتنی ہی بات بیان فرمائی گئی ہے جو انسان کی سمجھ میں آسکتی ہے، اور وہ یہ کہ روح کی پیدائش براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوئی ہے، انسان کے جسم اور دوسری مخلوقات میں تو یہ بات مشاہدے میں آجاتی ہے کہ ان کی پیدائش میں کچھ ظاہری اسباب کا دخل ہوتا ہے، مثلاً نر اور مادہ کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے، لیکن روح ایسی چیز ہے جس کی تخلیق کا کوئی عمل انسان کے مشاہدے میں نہیں آتا، یہ براہ راست اللہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 86–87

اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر اپنا احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ازراہ کرم تو پر وحی نازل کی۔ اور پھر قرآن کریم کو محفوظ رکھا۔ رسول اللہ سے زیادہ یہ احسان انسانوں پر ہے کیونکہ انسانیت پوری کی پوری اس قرآن کی بدولت رحمت اور ہدایت سے سرفراز ہے۔ اور نسلاً بعد نسل یہ سرچشمہ نور و ہدایت ضوفشاں ہے۔ جس طرح روح اللہ کے اسرار میں سے ہے اور کوئی انسان اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ، اس طرح یہ قرآن بھی اللہ کی معجزانہ صفت ہے اور کوئی انسان بلکہ تمام مخلوق بھی جمع ہوجائے تو اس کی نقل نہیں اتارسکتی۔ اور انس و جن و جو ظاہری اور خفیہ مخلوقات ہیں دونوں جمع ہو کر بھی اگر سعی کریں تو قرآن جیسی کتاب ان کے لئے لانا ممکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 86–87

7 یعنی ان کی خیر خواہی کے لیے عجیب و غریب مضامین بار بار مختلف پیرایوں میں قسم قسم کے عنوانوں سے بیان کیے جاتے ہیں۔ لیکن اکثر احمقوں کو اس کی قدر نہیں بجائے احسان ماننے کے ناشکری پر تلے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 87 اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے جس کے مطابق بظاہر خطاب تو حضور سے ہے مگر اصل میں لوگوں کو یہ باور کرانا مقصود ہے کہ آپ کا اصل مقام و مرتبہ کیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپ سے بار بار اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ کا اعلان کرایا گیا کہ اے لوگو ! میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ یہاں اسی بات کی تاکید کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ یہ ہماری عطا اور مہربانی ہے کہ ہم نے بذریعہ وحی آپ پر یہ عظیم الشان کلام نازل کیا ہے۔ اگرچہ اس کا ہرگز ہرگز کوئی امکان نہیں تھا مگر محض ایک اصولی بات سمجھانے کے لیے فرمایا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 86–87

107 وحی کے بتدریج نزول میں آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے : اس آیت کا تعلق دراصل سابقہ مضمون سے ہے جو کفار مکہ نے سمجھوتہ کی ایک شکل یہ پیش کی تھی کہ اگر آپ ان آیات کی تلاوت چھوڑ دیں جن میں ہمارے معبودوں کی توہین ہوتی ہے تو ہم آپ کے مطیع بن جائیں گے۔ اس آیت میں دراصل وحی الٰہی کی اہمیت مذکور ہوئی ہے کہ اس وحی الٰہی کی ہی تو برکت ہے کہ دن بدن دعوت اسلام پھیلتی جارہی ہے اور اس وحی کے ذریعہ آپ کو اور صحابہ کو صبر اور ثابت قدمی میسر آرہی ہے۔ اگر ہم اس نازل کردہ وحی میں سے کچھ حصہ آپ کو بھلا دیں تو آپ کو اللہ کی مدد اور نصرت جو پہنچ رہی ہے وہ منقطع ہوسکتی ہے اور اندریں صورت تمہیں سنبھالا دینے والی کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

128۔ (کہ اس نے ایسا نہیں کیا اور وہ رحمت آپ پر قائم ہی رہنے والی ہے) 129۔ (سو وہ آیندہ کبھی اس کی نوبت ہی کیوں آنے دے گا۔ آپ اللہ کے اس فضل و رحمت کو یاد کرکے خوش رہیے اور کسی کی مخالفت وغیرہ کا غم نہ کیجئے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–93

آیت نمبر 85 تا 93 ترجمہ : یہود آپ سے روح کے بارے میں جس کے ذریعہ جسم انسانی زندہ ہوتا ہے سوال کرتے ہیں آپ ان کو جواب دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے جس کی حقیقت وہ جانتا ہے تم نہیں جانتے، اور اس کے علم کی نسبت سے تمہیں بہت ہی کم دیا گیا اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے یعنی قرآن کو سلب کرلیں بایں طور کہ اس کو سینوں سے اور مصاحف سے مٹا دیں پھر آپ کو اس کیلئے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی میسر نہ ہو لیکن اس کو تیرے رب کی طرف سے رحمت کے طور پر باقی رکھا ہے یقیناً آپ پر اس کا بڑا ہی فضل ہے، اس لئے کہ اس نے اس کو آپ پر نازل کیا اور مقام محمود آپ کو عطا کیا اور اس کے علاوہ دیگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ : مگر یہ آپ کے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے ایسا نہیں کیا) ۔ اس آیت کا مطلب دو طرح سے ہوسکتا ہے (1) مگر اللہ کی رحمت اگر ہو تو وہ ہی واپس دلوا سکتی ہے۔ (2) استثناء منقطع ہے۔ یعنی اللہ کی رحمت نے اس قرآن کو باقی رکھا ہے تمہارے دلوں میں تحریروں میں قائم رکھا ہے ‘ اس مطلب پر اللہ کی طرف سے احسان ہونے کی دوہری صراحت کی گئی ہے ‘ قرآن کا نازل کرنا اور پھر اس کو باقی رکھنا۔ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا : واقعہ یہ ہے کہ اللہ کا فضل آپ پر بڑا ہے کہ اللہ نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا اور اپنی کتاب نازل فرمائی۔ پھر اس کو تحریروں اور دلوں میں جمع کرایا اور لوگوں سے بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(87) یہ آپ کے رب ہی کا انعام ہے کہ اس نے قرآن کریم کو آپ کے قلب مبارک میں محفوظ کردیا ہے۔ بیشک آپ پر نبوت اور اسلام کے ذریعے اس نے بڑا فضل فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 86–87

وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو جو کچھ آپ کی طرف وحی کیا ہے سب لے جائیں، نہ آپ کے سینے میں رہے، نہ آپ کے کسی صحابی یا امتی کے سینے میں، نہ کسی کاغذ یا دوسری چیز میں، پھر اسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے مقابلے میں آپ کو کوئی حمایتی نہیں ملے گا۔ rnۙاِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ : لیکن یہ تیرے رب کی رحمت ہے کہ وہ اسے لے نہیں گیا، بلکہ اسے تیرے پاس ہی رہنے دیا ہے۔ یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ معلوم ہوا قرآن قیامت تک باقی رہے گا، کوئی شخص اس کے تمام اوراق ختم کرکے بھی اسے ختم نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کا اصل ٹھکانا اہل علم کے سینے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 86–87

آیت نمبر 86 تا 87 قولہ تعالیٰ : ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک مراد قرآن کریم ہے، یعنی جس طرح ہم اسے نازل کرنے پر قادر ہیں اسی طرح ہم اسے سلب کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں یہاں تک کہ مخلوق اسے بھول جائے اور یہ آیت اس ارشاد کے ساتھ متصل ہے : وما اوتیتم۔۔۔ قلیلا۔ یعنی اگر میں چاہوں کہ میں اس قلیل اور تھوڑے علم کو سلب کرلوں تو میں اس پر قادر ہوں۔ ثم لا تجد لک بہ علینا وکیلا پھر آپ کوئی ایسا مددگار نہ پاتے جو اسے آپ پر لوٹا سکتا۔ الا رحمۃ من ربک لیکن ہم اسے نہیں چاہیں گے (اور یہ) آپ کے رب کی رحمت ہے ؛ پس یہ استثناء پہلے سے نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مگر یہ کہ آپ کا رب آپ پر رحم فرمائے اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ حکیم ترمذی نے ابن عبا سؓ سے روایت کیا کہ یمن کا وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ ” ابیت اللعن “ یعنی آپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ جس کی وجہ سے لوگ آپ پر لعنت کریں (یہ بادشاہوں کو سلام کرنے کا طریقہ تھا) رسول اللہ ﷺ نے کہا سبحان اللہ یہ تو بادشاہوں کے لئے کہا جاتا ہے اور میں بادشاہ نہیں ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں انہوں نے کہا ہم آپ کو آپ کے نام کے ساتھ نہیں پکاریں گے آپ ﷺ نے فرمایا میں ابوالقاسم ہوں انہوں نے کہا اے ابو القاسم ہم نے (اپنے دلوں میں) ایک بات چھپائی ہوئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ اس طرح کے سوالات تو کاہن سے کئے جاتے ہیں اور کاہن (غیب کی خبریں بتانے والا) اور متکہن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِلَّا : سوائے ] [رَحْمَةً : اس رحمت کے جو ] [مِّنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ہو ] [ان : بیشک ] [فَضْلَهٗ : اس کا فضل ] [كَان : ہے ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [كَبِيْرًا : بڑا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 85–87

روح کے بارے میں یہودیوں کا سوال اور رسول اکرم ﷺ کا جواب حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھیتوں کے درمیان سے گزر رہا تھا اس وقت آپ کھجور کی ٹہنی پر ٹیک لگا کر تشریف لے جا رہے تھے وہاں سے یہودیوں کا گزر ہوا۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے بارے میں دریافت کرو۔ پھر آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ دریافت کریں یا نہ کریں۔ ممکن ہے کہ ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو۔ پھر کہنے لگے اچھا دریافت کرلو۔ چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے روح کے بارے میں دریافت کیا آپ ٹھہر گئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ میں اپنی جگہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–87

ظالموں کے ایک معاندانہ سوال کا جواب قال اللہ تعالیٰ : ویسئلونک من الروح .... الیٰ .... ان فضلہ کان علیک کبیرا۔ (ربط) گزشتہ آیت ولا یزید الظلمین الا خسارا : میں جن ظالموں کی عداوت کا ذکر فرمایا یہ ظالم قرآن عظیم اور نبی کریم ﷺ پر طرح طرح کی نکتہ چینیاں کرتے تھے ازاں جملہ یہ ہے کہ ایک بار قریش نے باہم فیصلہ اور مشورہ کیا کہ یہود اہل علم اور اہل کتاب ہیں ان سے دریافت کرکے کوئی بات محمد ﷺ سے ایسی پوچھنی ہے کہ جس کا جواب آپ ﷺ سے نہ بن سکے۔ چناچہ قریش نے یہود سے دریافت کرنے کے لیے کچھ لوگوں کو مدینہ بھیجا انہوں نے مشرکین سے کہلا بھیجا کہ وہ آپ ﷺ سے تین باتیں پوچھیں۔ (1) روح کی بابت سوال کرو۔ (2)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 86–87

77:۔ یہ زجر ہے مشرکین مکہ ازراہ عناد و تعنت آنحضرت ﷺ پر مختلف قسم کے سوالات پیش کرتے انہی میں سے روح کے بارے میں ان کا سوال تھا۔ آنحضرت ﷺ وفور شفقت کی بنا پر اس بات کے متمنی تھے کہ مشرکین کو اگر ان کا مطلوب معجزہ دکھا دیا جائے تو شاید وہ ایمان لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف انداز میں اس سے منع فرمایا کہ آپ کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے معجزہ معراج کافی ہے اور دوسرا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے جس کا مثل ساری دنیا کے جن و انس مل کر بھی پیش نہیں کرسکتے۔ یہ قرآن بھی تو ہمارا معجزہ ہے یہ آپ نے تھوڑا ہی بنایا ہے اگر ہم یہ قرآن آپ کے سینے سے اٹھا لیں تو آپ اسے واپس نہیں لاسکتے اور نہ کوئی اس معاملہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 86–89

ربط آیات : گذشتہ درس میں روح کے متعلق سوال اور اس کا جواب تھا ، مشرکین مکہ نے حضور ﷺ سے روح کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں دریافت کیا تھا ، جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کہہ دیں کہ روح میرے پروردگار کے امر سے ایک حقیقت ہے ہے مگر تمہیں تو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے ، اس لیے تم اسے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ۔ بعض لوگ غرور وتکبر کی وجہ سے کہتے ہیں کہ انسان تمام چیزوں پر حاوی ہے حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے انسان جتنا کچھ جانتا بھی ہے ، اس میں بھی بعض اوقات اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے ، انسان کے دماغ میں کچھ ہوتا ہے جب کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ، اس لیے بعض آثار میں یہ دعا بھی آتی ہے ، ” اللھم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا 87؀ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 85–87

1 ؎ روح کو ایک گروہ عقلاء صرف یہی کہتا ہے کہ وہ خون کی لطیف بھاپ ہے جس کے زور سے ذی روح کی کل چل رہی ہے جب وہ نہیں تو سب کام بگڑ جاتا ہے اس ذی روح کے مرنے بعد پھر کچھ بھی باقی نہیں رہتا چناچہ یورپ کے دہری اور مادی لوگ اسی کے قائل ہیں جس لیے وہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان پر نہ کوئی ثواب ہے نہ عذاب ہے کیونکہ وہ باقی تو رہی نہیں گر یہ خیال محض مغالطہ ہے جس کی غلطی کا اب یورپ کے حکماء پر بھی انکشاف ہو چلا ہے کیونکہ ایک جماعت حکماء قائل ہوگئی ہے کہ مرنے کے بعد روح ایک نورانی پیکر میں جو جسم اول سے مناسبت رکھتا ہے قائم رہتی ہے ہم کو پہلی باتیں سب یاد رہتی ہیں وہ رنج راحت بھی پاتی ہیں۔ حکمائِ یونان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 86–87

وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْھَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لاَ تَجِدُلَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلاً ۔ اِلاَّرَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ط اِنَّ فَضْلَہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 86۔ 87) (اور اگر ہم چاہیں وہ سب کچھ آپ ﷺ سے چھین لیں جسے ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کیا ہے، پھر آپ ﷺ اس کے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پائو گے۔ یہ آپ ﷺ کے رب کی رحمت ہے، بیشک اس کا فضل آپ ﷺ پر بہت بڑا ہے۔ ) وحی تصرفِ غیبی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے قرآن کریم کے سلسلے میں قریش آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات کرتے تھے ان میں بنیادی خیال یہ تھا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں بلکہ یہ محمد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 86–87

فہم القرآن ربط کلام : الروح کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگو تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے۔ رسول محترم ﷺ جو بھی لوگوں کے سامنے بیان فرماتے تھے وہ من جانب اللہ تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ اے نبی ! جو کچھ ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ ہم اسے واپس لے جانے میں پوری طرح قادر ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ لوگوں کو جو تھوڑا ساعلم دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہاں یہ ثابت کیا ہے کہ جو کچھ رسول اکرم ﷺ کو وحی کی صورت میں علم دیا گیا ہے۔ وہ بھی من جانب اللہ ہے اور آپ کو منصب نبوت پر فائز کرنا اللہ تعالیٰ کا عظیم ترین فضل ہے۔ منصب نبوت اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا فضل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

87: اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ اِنَّ فَضْلَہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا (مگر یہ آپ کے رب کی رحمت ہے۔ بیشک اس کا فضل آپ پر بہت ہے) یعنی مگر آپ کا رب آپ رحمت کر کے آپ پر لوٹا دے۔ (وہ ایسا کرسکتا ہے) اس کی رحمت ہی ایک ایسی چیز ہے جس پر آپ اس کے واپس کرنے میں بھروسہ کرسکتے ہیں۔ نمبر 2۔ مستثنیٰ منقطع ہے۔ تو معنی یہ ہے لیکن یہ تیرے رب کی مہربانی ہے اس لئے اس کو بغیر لے جانے کے چھوڑ دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید کے محفوظ باقی رہنے کا احسان ہے۔ اس کے بعد کہ اس نے اس کو اتارا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

87۔” الا رحمۃ من ربک “ لیکن ہم نے اپنے رب کی رحمت کی وجہ سے ایسا نہیں کیا ۔ ” ان فضلہ کان علیک کبیرا ً “ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ سوال کیا جائے کہ یہ کیسے ہمارے سینوں سے مٹ جاتا حالانکہ یہ تو کلام اللہ ہے۔ اس کا جواب دیا کہ مصاحف سے مٹ جانا اور سینے سے بھول جانا ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا ، قیامت سے پہلے قرآن کو اٹھا لیا جائے گا ۔ قبل اس کے کہ قرآن اٹھا لیا جائے تم اس کو پڑھا کرو ( یعنی اس کو سمجھ لو اور اس پر عمل کرو) ایک شخص کہنے لگا یہ تحریریں تو اٹھائی جاسکتی ہیں ( کہ نئی نقلیں کرنا لوگ چھوڑ دیں اور پرانی تحریریں بوسیدہ فرسودہ ہو کر مٹ جائیں، مترجم) لیکن جو قرآن سینوں میں ہوگا رہ کیسے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 86–87

86۔ 87:۔ اوپر ذکر تھا کہ یہ قرآن ایسے بڑے فائدہ کی چیز ہے کہ اس سے دلی اور جسمانی بیماریوں کو شفا ہوتی ہے اس آیت میں اس فائدہ کی قدر بڑھانے کے لیے فرمایا اگر ہم اس قرآن کو لوگوں کے دل اور ورقوں سے ایسا مٹا اور بھلا دیں کہ اس کا اثر تک باقی نہ رہے تو ہمارے اس کام پر کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو اعتراض کرے اور اس کو پھیر لاوے مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں صحیح سند کی عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے قریب قرآن اٹھا لیا جائے گا، لوگوں نے پوچھا یہ کس طرح ہوگا قرآن تو حافظوں کے سینہ میں محفوظ ہے اور ورقوں میں لکھا ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جواب دیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت نمبر (87: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن اور وحی جسے اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کیا ہے وہ آپ پر اور بندوں پر رحمت اور احسان ہے قرآن اور وحی علی الاطلاق رسول اللہ ﷺ کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ فضل و کرم ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔ پس جس ہستی نے آپ پر یہ فضل و کرم کیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ اسے واپس لے لے پھر آپ کوئی ایسی ہستی نہیں پائیں گے جو یہ فضل و کرم واپس لاسکے اور آپ کو کوئی ایسا وکیل اور کار ساز نہیں ملے گا جو اللہ کے حضور اس بارے میں بات کرسکے۔ پس آپ کو اس بارے میں خوش ہوتا چاہیے اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رہنی چاہیں اور تکذیب کرنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 85–87

روح کی کیفیت قول باری ہے (ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی۔ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہو ” یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے۔ “ لوگوں نے کس روح کے متعلق حضور ﷺ سے سوال کیا تھا ؟ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ یہ ایک فرشتہ تھا جس کے ستر ہزار چہرے ہیں اور ہر چہرے میں ستر ہزار زبانیں ہیں جن سے وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے جاندار کی روح مراد ہے۔ کلام سے بھی یہی بات ظاہر ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ یہود کے ایک گروہ نے روح کے متعلق سوال کیا تھا۔ جاندار کی روح اس جسم لطیف کا نام ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

157۔ پیغمبر پر رب کا خاص فضل وکرم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” آپ کے رب کی مہربانی سے ایسا نہیں ہوا “ اور قرآن حکیم کے اس مصدر فیض وشفاء اور منبع رشد و ہدایت کو نہیں اٹھایا گیا جو کہ اس کی رحمت بیپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ فلہ الحمد والمنۃ، اسی سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ قرآن حکیم کا علم اور اس کا حفظ اللہ پاک کا دوہراکرم ہے۔ فالحمد للہ۔ امام رازی کہتے ہیں اس میں علماء پر دوہرے کرم واحسان کا بیان ہے کہ ایک تو ان کو قرآن حکیم کے علم سے نوازا گیا اور دوسرا اس کو ان کے سینوں میں محفوظ رکھا گیا۔ (تفسیر المراغی، المحاسن وغیرہ) سواول تو آپ کو نزول قرآن کے شرف سے نوازا پھر اس کو آپ کے سینے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 86–89

اللہ کی قدرت اور قرآن کا معجزہ تشریح : یہاں پر اللہ کی قدرت کاملہ کا یوں بیان دیا گیا ہے کہ اے نبی ! اللہ تعالیٰ کی قدرت کو سمجھنے کے لیے یہ بات بھی سامنے رکھو کہ ہم نے جو قرآن آپ کی طرف رشدوہدایت کے لیے نازل کیا ہے اگر ہم چاہیں تو آپ کے ذہن سے بلکہ ہر ذہن اور تحریر سے اس کو بالکل ختم کردیں اور ہم اس کی طاقت بھی رکھتے ہیں، مگر ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے آپ پر خاص فضل ہے کہ یہ اتنی عظیم الشان کتاب نازل کی گئی، پھر قرآن کی مضبوطی کی دلیل کے لیے فرمایا کہ ایسا بہترین کلام کوئی بندہ بشر بلکہ جن بھی بنانا چاہیں تو نہیں بنا سکتے۔ انسانی روح اور وحی الٰہی دونوں رضائے الٰہی اور شان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 85–93

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ آخرت دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کا سارا نظام اسی بنیاد پہ استوار ہے کہ روح سے حیات ہے اس کی مفارقت موت ہے وہ پھر لوٹے گی تو اجسام زندہ ہوجائیں گے جبکہ کفار ومشرکین کے نزدیک تو موت ایک خاتمے کا نام ہے تو یہ روح آخر کیا شے ہے ، کہاں سے آتی ہے کدھر جاتی ہے اور کس طرح زندگی کا یا موت کا باعث بنتی ہے ، مفسرین کے مطابق رؤسائے مکہ نے ایک وفد مدینہ میں علماء یہود کے پاس بھیجا کہ آپ ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو کیسے پرکھا جائے کہ سچ ہے ، انہوں نے تین سوال بتلائے اصحاب کہف کے بارے میں پوچھا جو سوائے یہود کے علماء کے کوئی نہیں جانتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 86–87

ف 9 کہ اس نے آپ کو اپنا رسول منتخب کیا آپ پر اپنی آخری کتاب نازل فرمائی۔ تمام بنی نوع انسان کا سردار قرار دیا۔ آپ کو مقام محمود اور دوسرے بےانتہا انعامات سے سرفراز کیا۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 86–88

(17:86) ثم لا تجد لک بہ علینا وکیلا۔ پھر تم نہیں پائو گے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی و مددگار جو اسے (وہ جو ہم نے تم پر وحی کیا ہے یعنی قرآن) واپس دلا سکے۔ بہ میں ضمیر واحدمذکر غائب الذی اوحینا الیک کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 86–89

لغات القرآن آیت نمبر 86 تا 89 لئن البتہ، اگر۔ شئنا ہم نے چاہا۔ لنذھبن البتہ ہم چاہیں گے۔ (لے جائیں گے۔ ) اوحینا ہم نے وحی کی۔ کبیر بڑا۔ اجتمعت جمع ہوگئی۔ ان تاتوا یہ کہ وہ لے آئیں۔ لایاتون وہ لا نہ سکیں گے۔ ظھیر مددگار۔ ابی انکار کردیا۔ تشریح : آیت نمبر 86 تا 89 اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے قرآن جیسی کتاب وحی کے ذریعہ نبی کریم ﷺ پر نازل فرمائی جس میں تمام انبیاء کرام کی تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ موجود ہے۔ اس کتاب ہدایت پر عمل کرنے سے ایک نئی روحانی اور دنیاوی زندگی حاصل کرنا انسانی سعادت ہے۔ لیکن انسان کی یہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 86–87

قرآن شریف اور رسول اللہ ﷺ کی تعریف اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے روح کا علم تم کو نہیں دیا اگر ہم چاہیں تو قرآں کو بھی تمہارے پاس سے ہٹا لیں تمہارے دلوں سے بھلا دیں، کاغذ سے اس کے نقوش مٹا دیں، پھر تم کوئی اپنا مدد گار نہیں لاسکتے جو اس کام میں تمہاری مدد کرے اور قرآن پھر تم کو دے دے، یا تمہارے دلوں میں بھی پیدا کر دے اور کوئی اس کام میں مدد نہیں کرسکتا مگر ہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت سب کچھ کرسکتی ہے۔ پھر فرمایا اے محمد ﷺ ! تمہارے اوپر ہماری بہت بڑی مہربانی ہے تم کو ہم نے اولاد آدم کا سردار کردیا اور رسولوں کا خاتم النبیین کیا اور مقام محمود عطا کیا اور اپنی سب سے عمدہ کتاب یعنی قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 85–95

[62] روح سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ یہی بات سورة نحل آیت 2، سورة مومن آیت 15 اور سورة شوریٰ آیت 52 میں بیان ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے لیکن سیاق وسباق کی مناسبت سے روح کے معنی وحی الٰہی کے زیادہ صحیح ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ ، قتادہ اور حسن بصری نے بھی یہی معنی اختیار کئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–91

(ف 1) یہاں کس روح کے متعلق پوچھا جا رہا ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے قرآن نے روح کو متعدد معانی میں استعمال کیا ہے ، روح جبرائیل (علیہ السلام) کو بھی کہتے ہیں اور قرآن کو بھی اس طرح روح مراد روح حیوانی بھی ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ، مفسرین کی اکثریت کی رائے یہ ہے یہ یہاں روح سے متعارف روح مراد ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ، اس قسم کے سوالات کا تعلق مذہب سے نہیں ہے ، پیغمبر کے فرائض میں یہ چیز داخل نہیں ہے کہ وہ تمہیں روح کی حقیقت سمجھائے وہ اس لئے آیا ہے ، تاکہ روح کو جو کچھ بھی وہ ہے تازگی اور نمود بخشے ، اسے تزکیہ وتطہیر سے اس قابل بنائے کہ وہ فضائے قدس میں پرواز کرسکے تمہارا علم محدود ہے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-87 مگر یہ آپ کے پروردگار ہی کی رحمت ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا بلاشبہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل یہ۔ یعنی قرآن شریف ایک نعمت عظمیٰ ہے اگر اللہ تعالیٰ چ ہے تو اس کی نعمت کو سلب کرسکتا ہے یعنی نہ وجود خارجی باقی رہے نہ وجود ذہنی اور اگر یہ چیز سلب ہوجائے تو تمہارا کوئی حمایتی ہم سے واپس بھی نہیں دلا سکتا مگر آپ کے پروردگار کی مہربانی سے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ آپ پر اس کا بڑا فضل ہے۔ شاید یہاں سلب وحی کا ذکر اس لئے فرمایا کہ کوئی روح خواہ کتنی ہی کامل ہو اس کے سب اوصاف و کمالات اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے ہیں اور مستعار ہیں کوئی کمال کسی کا ذاتی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–94

ف 12۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسی روح کے متعلق سوال تھا جس سے انسان زندہ ہے کیونکہ جب روح مطلق بولتے ہیں، یہی مفہوم ہوتی ہے اور جواب سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ نصوص میں اس کی حقیقت ظاہر نہ کرنے کی وجہ بتلائی، اور ضروری عقیدہ اس کے حدوث کا ظاہر کردیا گیا ہے۔ اب یہ امر کہ کسی دوسرے طریقہ سے اس کا انکشاف ہوسکتا ہے، یا ہوتا ہے۔ آیت اس کے اثبات و نفی دونوں سے ساکت ہے۔ پس دونوں امر محتمل ہیں اور کوئی شق معارض نص کے نہیں۔ 13۔ یہاں جو علم کو قلیل فرمایا تو یہ نسبت علم الہی کے اور دوسری آیت میں جو علم کو خیر کثیر فرمایا تو یہ نسبتیں متاع و دنیا کے۔ پس دونوں میں تصادم نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مشیت الہی کا فیصلہ پیغمبر اسلام کے لئے اللہ کا خاص فضل ہے : 105۔ اپنی قدرت کاملہ مطلقہ کے ذکر کے بعد خودی ہی وضاحت فرما دی کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ کے لئے مشیت کا یہ فیصلہ کہ آپ کے بعد کوئی اور پیغام رسا نہیں آئے گا ان عنایات میں سے ہے جو آپ کے لئے خاص کردی گئی تھیں اور وہ اپنے وقت پر آپ ہی کو ملیں ۔ غور کیجئے کہ جس بات کو خود اللہ رب العزت اپنی زبان قدرت سے ” فضل کبیر “ فرما دے وہ کسی دوسرے کے لئے ممکن ہو سکتی ہے اور کوئی انسان اس کا احاطہ کرسکتا ہے کہ اس کی حدود کیا ہیں اور کہاں تک ہیں ؟ یہی وہ بات ہے جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر فضیلت عطا کرتی ہے اور کسی بیٹے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–87

We can now move to verse 86: وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ (And if We so will, We will surely take away...). It will be recollected that, in the previous verse (85), by giving an answer to the question about Ruh as true to the measure of its necessity, the underlying effort to find out the reality of the Ruh was blocked and it was declared that man's knowledge, no matter how much, still remains relatively insignificant in terms of the great span of the ultimate reality of things. Therefore, getting entangled with unnecessary debates and investigations is a waste of precious time. The present…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

104. Though these words are apparently addressed by the Prophet (peace be upon him), they are in fact meant for the disbelievers who considered the Quran to be either the invention of the Prophet (peace be upon him) himself or of some other man, who secretly taught him the Quran. They are being told that this is the Word of Allah, as if to say: Our Prophet has not fabricated the Quran but We have bestowed this on him, and if We take it back from him, the Prophet has no power to invent such a thing nor has any other man the power to help the Prophet to present such a miraculous Book.

Read the full tafseer →