Explained with ayahs 105–106
قرآن کریم کی صفات عالیہ
ارشاد ہے کہ قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا، یہ سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ اسے نازل فرمایا ہے اس کی حقانیت پر وہ خود شاہد ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں اس میں وہی ہے جو اس نے خود اپنی دانست کے ساتھ اتارا ہے اس کے تمام حکم احکام اور نہی و ممانعت اسی طرف سے ہے حق والے نے حق کے ساتھ اسے اتارا اور یہ حق کے ساتھ ہی تجھ تک پہنچا نہ راستے میں کوئی باطل اس میں ملا نہ باطل کی یہ شان کہ اس سے مخلوط ہو سکے۔ یہ بالکل محفوظ ہے، کمی زیادتی سے یکسر پاک ہے۔ پوری طاقت والے امانتدار فرشتے کی معرفت نازل ہوا ہے جو آسمانوں میں ذی عزت اور وہاں کا سردار ہے۔ تیرا کام مومنوں کو خوشی…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 119
یہ مخالفین کے اس شبہہ کا جواب ہے کہ اللہ میاں کو پیغام بھیجنا تھا تو پورا پیغام بیک وقت کیوں نہ بھیج دیا ؟ یہ آخر ٹھیر ٹھیر کر تھوڑا تھوڑا پیغام کیوں بھیجا جا رہا ہے ؟ کیا خدا کو بھی انسانوں کی طرح سوچ سوچ کر بات کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ؟ اس شبہہ کا مفصل جواب سورة نحل آیات 101، 102 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کرچکے ہیں، اس لیے یہاں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نو معجزے دیئے (جنکا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے) جبکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ بنی اسرائیل سے (بھی چاہے) پوچھ دیکھئے (اور چونکہ آپ فرعون کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور فرعون وآل فرعون کے ایمان نہ لانے سے وہ عجائبات معجزات ظاہر ہوئے تھے اس لئے موسیٰ ؑ نے فرعون کو دوبارہ ایمان لانے کے لئے یاد دہانی کی اور ان آیات بینہ سے ڈرایا) تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو ضرور تم پر کسی نے جادو کردیا ہے (جس سے تمہاری عقل مخبوط ہوگئی کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو) موسیٰ ؑ نے فرمایا تو (دل میں) خوب جانتا ہے (گو عار کیوجہ سے…
Read the full tafseer →قرآن کے تدریج کے ساتھ اترنے کی حکمت : وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلا، یعنی یہ قرآن جو جستہ جستہ اتر رہا ہے تو اس وجہ سے نہیں، جیسا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ تم حالات کے مطابق سوچتے ہو اور جتنا تیار کرپاتے ہو اتنا سنا دیتے ہو، بلکہ یہ ہم ہی جستہ جستہ کرکے اس کو تم پر اتار رہے ہیں تاکہ تم اس کو بالتدریج لوگوں کو سناؤ کہ یہ لوگوں کے فکر و عمل کا جزو بنا جائے۔ اگر ان کا یہ گمان ہے کہ یہ خدائی کتاب ہوتی تو لازماً پوری کی پوری بیک دفعہ نازل ہوجاتی اس لیے کہ خدا کو کسی تیار کی ضرورت نہیں تھی تو یہ گمان بھی صحیح نہیں ہے۔ خدا کو تو بلاشبہ کسی اہتمام…
Read the full tafseer →16۔ 1 فَرَقْنَاہُ کے ایک دوسرے معنی بَیَّنَّاہ وَ اَوْضَحْنَاہ (ہم نے اسے کھول کر وضاحت سے بیان کردیا) بھی کئے گئے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–107
53: ایک صحیح حدیث میں ان نو نشانیوں کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ نو احکام تھے : شرک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی کو ناحق قتل نہ کرو، کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل یا سزا کے لئے پیش نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو، اور جہاد میں پیٹھ دکھاکر نہ بھاگو۔
(ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
نزول قرآن کا مقصد ایک امت کی تشکیل و تربیت تھا۔ پھر اس امت کے لئے ایک نظام حیات کی تشکیل قرآن کے پیش نظر تھی تاکہ یہ امت قرآن اور اس نظام کو لے کر اکناف عالم میں پھیل جائے۔ اور تمام انسانیت کو اس مکمل اور خود کفیل نظام حیات کی تعلیم دے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب متفرق طور پر مختلف اوقات میں اس امت کی واقعی ضرورت کے مطابق اترتی رہی۔ اور ان حالات کے مطابق اس کا نزول ہوتا رہا۔ جن حالات میں اس امت کی دو اول میں تربیت ہو رہی تھی۔ چونکہ مقصد ایک امت کی تربیت تھا۔ اس لئے نزول قرآن بھی متفرق طور پر ایک طویل عرصے تک ہوتا رہا کیونکہ کسی جماعت کی تربیت کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ یہ تربیت عملی…
Read the full tafseer →3 انزال قرآن سے مقصود اصلی مطلب سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہے جسے تدبر و تذکر کہتے ہیں۔ لیکن اس کے نفس الفاظ و حروف بھی نور وبرکت سے خالی نہیں۔ (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ) 38 ۔ ص :29) اسی لیے سورتیں اور آیتیں جدا جدا رکھیں تاکہ وظیفہ کے طور پر تلاوت کرنا بھی سہل ہو اور سننے والوں کے لیے حفظ و فہم میں بھی آسانی رہے۔ اور آہستہ آہستہ اس لیے اتارا کہ جیسے حالات پیش آئیں ان کے مناسب ہدایات حاصل کرتے رہیں۔ تاکہ وہ جماعت جسے آگے چل کر تمام دنیا کا معلم بننا تھا ہر آیت و حکم کے موقع محل کو بخوبی ذہن نشین کر کے یاد رکھ سکے اور…
Read the full tafseer →وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا
قرآن کے مختلف احکام حالات کے عین مطابق مختلف مواقع پر نازل کیے جاتے رہے تاکہ جن آیات یا احکام کی جس وقت ضرورت ہو وہی لوگوں کو پڑھ کر سنائے جائیں۔ جیسے جیسے رسول اللہ کی تحریک اور دعوت آگے بڑھتی گئی ویسے ویسے قرآن کے احکام کے ذریعے اس کے لیے فکری رہنمائی مہیا کی جاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پورا قرآن یکبارگی نازل نہیں کیا گیا۔
Read the full tafseer →125 قرآن کو بتدریج نازل کرنے کے فوائد :۔ مشرکین مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو یکبارگی نازل ہوجاتا۔ ہو نہ ہو یہ نبی ساتھ ساتھ اسے تصنیف کرتا جاتا ہے اور جیسے حالات ہوں اس کے مطابق لوگوں کو سناتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس قرآن کو موقع بہ موقع اور بتدریج ہم ہی نے اتارا ہے اور اس طرح وقفہ وقفہ پر اتارنے میں کئی مصلحتیں اور فوائد ہیں۔ مثلاً یہ کہ لوگوں کو اس کے حفظ کرنے میں آسانی رہے نیز ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ فلاں آیت کس موقع پر نازل ہوئی تھی اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے نیز یہ کہ لوگوں کو اس کے اوامر پر عمل کرنے اور نواہی سے اجتناب کرنے…
Read the full tafseer →152۔ (تاکہ اس کے حفظ اور فہم دونوں میں سہولت رہے) (آیت) ” فرقنہ “۔ یعنی اسے سورتوں، آیتوں وغیرہ کے ذریعہ سے الگ الگ رکھا گیا ہے۔ اے انزلناہ مفرقا (راغب) اے جعلنا نزولہ مفرقا منجما (کشاف) اس کی دوسری تفسیر بیناہ سے بھی آگئی ہے۔ یعنی ہم نے اسے کھول کر صاف صاف بیان کیا ہے۔ یا یہ کہ اس میں حق کو باطل سے ممتاز کردیا ہے۔ اے بینا فیہ الاحکام وفصلناہ (راغب) یعنی فرقناہ بالبیان عن الحق من الباطل (جصاص) (آیت) لتقراہ علی الناس علی مکث “۔ یعنی تاکہ آپ کے اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے سے لوگ بہ آسانی فہم مطالب واستخراج مسائل کرسکیں۔ یعنی علی تثبت وتوفقف لیفھموہ بالتامل ویعلموا مافیہ بالتفکر ویتفقھوا باستخراج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
آیت نمبر 101 تا 111
ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…
Read the full tafseer →ۘوَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا : اور قرآن میں جا بجا ہم نے
فصل رکھا تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا۔
فَرَقْنَہُ یعنی ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے متفرق طور پر اتارا پورا قرآن بیس برس میں اترا 1
[1 معلوم نہیں حضرت مفسر (رح) کو بیس سال کی روایت کہاں سے پہنچی تاریخی حقیقت اس کے خلاف ہے۔ چالیس سال کی عمر میں بعثت ہوئی اور نزول قرآن
کا آغاز ہوا اور 63 یا 64 سال کی عمر میں وفات ہوئی اور قرآن کا نزول ختم ہوا ‘ اس حساب سے 23 سال یا 24 سال میں پورا قرآن اترا۔ مترجم۔]
یا یہ مطلب ہے کہ…
Read the full tafseer →(106) اور ہم نے قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ؑ آپ پر نازل کیا اور اس میں حلال و حرام اور امر و نواہی کو بیان کیا تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر اور اطمینان کے ساتھ پڑھیں۔
اور ہم نے اس میں مضامین کو خوب کھول کھول کر بیان کیا ہے یا یہ کہ ہم نے قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین تھوڑا تھوڑا ایک ایک، دو دو، تین تین آیات کر کے اور جا بجا تفصیل کے ساتھ مختلف اوقات میں نازل کیا ہے۔
Read the full tafseer →ۘوَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ ۘ۔۔ : ”قُرْاٰنًا“ پر تنوین تعظیم کی ہے اور یہ فعل محذوف ”ٰاتَیْنَا“ کا مفعول ہے۔ یعنی ہم نے آپ کو یہ عظیم قرآن دیا، ہم نے اسے جدا جدا کرکے نازل کیا، یعنی اس کی سورتیں اور آیتیں جدا جدا رکھیں اور تقریباً تیئیس برس میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا۔ اس میں کئی حکمتیں ہیں، مثلاً یہ کہ اس کے پڑھنے، یاد کرنے، سمجھنے اور عمل کرنے میں آسانی ہو، موقع محل کے اعتبار سے اس کے مطالب ذہن نشین ہوجائیں، تاکہ آئندہ کسی آیت کے بےموقع استعمال کی گنجائش نہ رہے۔ جب بھی کفار کے طرز عمل سے کوئی پریشانی یا گھبراہٹ ہو تو اس کی آیات کے ساتھ آپ کے دل کو قائم رکھا جائے اور مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 106
قولہ تعالیٰ : وقرانا فرقنہ لتقراہ علی الناس علی مکث سیبویہ کا مذہب ہے کہ قرانا فعل مضمر کے ساتھ منصوب ہے جس کی تفسیر ظاہر فعل کر رہا ہے۔ اور جمہور لوگوں نے فرقنہ را کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اور اس کا معنی ہے ہم نے اسے بیان کیا ہے اور ہم نے اس کی وضاحت کردی ہے، اور ہم نے اس میں حق اور باطل کے درمیان فرق کیا ہے ؛ یہ حسن نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : ہم نے اسے مفصل بیان کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابی ابن کعب، حضرت قتادہ، ابو رجاء، اور شعبی ؓ نے فرقناہ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا نہ کہ یکبارگی، مگر حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
1:۔ نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” وقرانا فرقنہ “ میں فرقنہ کو شد کے ساتھ پڑھتے تھے فرمایا قرآن نازل کیا گیا آسمان دنیا پر رمضان کی لیلۃ القدر میں ایک ہی مرتبہ (یعنی اکٹھا) اور مشرکین جب کوئی نیا سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں آیات فرماتے تھے پس اللہ نے قرآن مجید کو جدا جدا کرکے اتارا بیس سال میں۔
قرآن کریم کا نزول لوح محفوظ سے یکبارگی ہوا۔
2:۔ ابن ابی حاتم محمد بن نصر اور ابن انباری نے مصاحف میں ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن یکبارگی نازل ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوح…
Read the full tafseer →[وَقُرْاٰنًا : اور (ہم نے اتارا) قرآن کو ] [فَرَقْنٰهُ : (پھر) ہم نے جدا جدا کیا اس کو ] [لِتَقْرَاَهٗ : تاکہ آپ ﷺ پڑھیں اس کو ] [عَلَي النَاسِ : لوگوں پر ] [عَلٰي مُكْثٍ : ٹھہر ٹھہر کر ] [وَّنَزَّلْنٰهُ : اور ہم نے بتدریج اتارا اس کو ] [تَنْزِيْلًا : جیسا بتدریج اتارنے کا حق ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 106) قُرْاٰنًا سے پہلے اَنْزَلْنَا محذوف ہے جس کا مفعول ہونے کی وجہ سے یہ حالت نصب میں ہے۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ ) (یعنی ہم نے قرآن کو اس طرح نازل کیا کہ اس میں جابجا فصل ہے) ایک آیت ختم ہونے کے بعد دوسری آیت شروع ہوتی ہے اور ایک سورت کے بعد دوسری سورت شروع ہوجاتی ہے اس میں آیات، اوقاف، فواصل اور سورتوں اور مضامین کا تنوع رکھا گیا ہے تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں تاکہ سننے والے سمجھ سکیں اور حفظ کرنے والے یاد کرسکیں، مسلسل بیان کرنے میں جو بعض مرتبہ سننے والوں سے بعض باتیں رہ جاتی ہیں ان کے سمجھنے اور یاد کرنے میں جو دقت ہوتی ہے اس کا سامنا نہ ہو۔ (عَلٰی مُکْثٍ ) کا یہ معنی لیا جائے تو اس میں ترتیل اور تجوید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
ذکر معجزات موسویہ برائے تحقیق رسالت محمدیہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت .... الیٰ .... ویزیدھم خشوعا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مخالفین کے معاندانہ سوالات کا ذکر تھا اب ان آیات میں معجزات موسویہ یعنی ان نشانیوں کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی تہدید کے لیے عطا کی تھیں مگر باوجود اس کے وہ ایمان نہیں لائے اور بالآخر ہلاک ہوئے اور غرق ہوئے اسی طرح تم محمد رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہاری سفارش کے مطابق وہ معجزات ظاہر کر بھی دئیے جائیں تب بھی تم محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کروگے۔
جس طرح وہ متکبر اور جبار…
Read the full tafseer →90:۔ قرآن مجید ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو دھیرے دھیرے پڑھ کر سنائیں کیونکہ ہم نے اسے حسب مواقع تھوڑا تھوڑا کر کے اسی لیے نازل کیا ہے تاکہ لوگ بالتدریج آسانی سے اس کو اپنا سکیں اور اس پر عمل کرسکیں۔ انما فرقہ لیکون حفظہ اسھل ولیکون الاحاطۃ والوقوف علی دقائقہ و حقائقہ اسھل (کبیر ج 5 ص 668) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا تذکرہ فرمایا ، جس طرح فرعون کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) سے نشانیاں طلب کرتی تھی ، اسی طرح مشرکین حضور ﷺ سے اپنیمن مانی نشانیاں طلب کرتے تھے ، دونوں اقوام محض ضد اور عناد کی بنا پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرتی تھیں ، ورنہ حقیقت میں وہ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے تھے ، فرعون نے بنی اسرائیل کے زمین سے قدم اکھاڑ کر انہیں ذلیل کرنا چاہا مگر اللہ نے اس کو مع اس کے لاؤلشکر کے غرق کردیا پھر بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ تم اسی زمین میں رہو ، یہاں تک کہ جب قیامت کے وعدے کا…
Read the full tafseer →وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا 106
قرآن
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله :…
Read the full tafseer →1 ؎ قرآن کے یکبارگی نازل نہ ہونے کی وجہ۔
Read the full tafseer →وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰـہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنٰـہُ تَنْزِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 106)
(اور قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا تاکہ آپ ﷺ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سنائیں اور ہم نے اس کو نہایت اہتمام سے اتارا۔ )
قرآن کے بتدریج اترنے کی حکمت
یہ ایک اعتراض کا جواب ہے جو مشرکین کی طرف سے کیا گیا لیکن انھیں یقینا بنی اسرائیل نے اس پر آمادہ کیا، کیونکہ مشرکین آسمانی کتابوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ بنی اسرائیل نے انھیں یہ بات سمجھائی کہ ہماری کتابیں تو یکبارگی نازل ہوئیں۔ اگر یہ صاحب اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ ہیں تو ان پر کتاب ایک ہی دفعہ کیوں نہیں نازل ہوئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل کو حکم۔
اللہ تعالیٰ نے اسی سورة میں فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عنایت کی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا۔ جس میں پہلا حکم یہ تھا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کارساز اور مشکل کشا نہ سمجھنا۔ سورة البقرۃ آیت 83، 84 میں اس فرمان کی تفصیل ہے ” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں کو اچھی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکٰو ۃ ادا کرنا۔ لیکن تھوڑے لوگوں کے…
Read the full tafseer →تھوڑا تھوڑا اتارنے میں حکمت :
106: وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰـہٗ (اور قرآن مجید میں ہم نے فصل رکھا ہے) قرآنًا کا لفظ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر فَرَقْنٰہ کر رہا ہے تقدیر عبارت یہ ہے فَصَّلْنٰہ نمبر 2۔ فرقنا فیہ الحق والباطل ہم نے اس میں حق سے باطل کو الگ کردیا۔ یعنی حق و باطل میں امتیاز کردیا۔ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ (تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں) یعنی آہستگی سے اور ثابت قدمی سے۔ وَّ نَزَّلْنٰـہٗ تَنْزِیْلًا (اور ہم نے اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا) حوادث کے مطابق۔
Read the full tafseer →106۔” قرآنا فرقناہ “ ہم نے اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ، یکدم نہیں اتارا ۔ حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت میں ۔ ” وقرآنا فرقناہ “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے عام قراء نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ہم نے اس کو کھول کھول کر بیان کیا ۔ حسن کا بیان ہے کہ اس سے مراد حق باطل کے درمیان فرق کرنے والا ۔ ” لتقراء ہ علی الناس عل مکث “ اس کو ہم نے تئیس سالوں میں آپ پر نازل کیا ۔” ونزلناہ تنزیلا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
105۔ 106:۔ یہاں حق کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن بالکل محفوظ ہے خدا کے پاس سے آنے میں کوئی کمی بیشی اس میں نہیں ہوئی جبرئیل امین خداوند جل جلالہ کے پاس سے جوں کا توں لائے پھر فرمایا کہ جو لوگ ایمان دار ہیں اور تمہارے تابع اور مطیع ہیں تم ان کو خوشخبری سنانے والے ہو کہ انہیں ان کے نیک اعمال کا بدلہ آخرت میں اچھا ملے گا اور جنت ان ہی کے واسطے تیار ہوئی ہے اور جو لوگ تمہاری نافرمانی کرتے ہیں اور تمہیں جھٹلاتے ہیں آپ ان کے واسطے مقرر ہے پھر اللہ پاک نے یہ بات بیان فرمائی کہ ہم نے قرآن کو ایک بارگی نہیں اتارا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے جب جس بات کی ضرورت ہوئی ویسی ہی آیتیں نازل کیں تاکہ تمہیں لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
(آیت نمبر (106
یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی ‘ حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے (لتقراہ علی الناس علی مکث) ” تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں “ تاکہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں۔ (و نزلنہ تنزیلا ) ” اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔ “ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے ‘ ٹکڑوں میں تئیس (23) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ (ولا یا تونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفسیرا) (الفرقان (33/25:” اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو…
Read the full tafseer →قرآن تدریجاً نازل ہوا
قول باری ہے (وقراناً فوقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر ک را سے لوگوں کو سنائو) قول باری (فرقناہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے حق کو باطل سے الگ بیان کر کے اسے جدا جدا کر رکھا ہے۔ قول باری (لتقراہ علی الناس علی مکث ) کا مفہوم ہے کہ آپ ٹھہر ٹھہر کر اور توقف کے ساتھ لوگوں کو اسے سنائیں تاکہ لوگ اسے اچھی طرح سمجھ لیں اور انہیں ان کے معانی پر غور و فکر کا موقع مل جائے نیز وہ اس قابل ہوجائیں کہ اپنی سمجھ سے کام لے کر اس میں موجود حکمت کی باتوں اور علوم عالیہ کا استخراج کرسکیں۔ ایک قول کے مطابق قرآن ک کچھ حصہ نازل…
Read the full tafseer →196۔ قرآن حکیم کا نزول تدریج کے ساتھ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم ہی نے اس کو خاص تدریج کے ساتھ اتارا ہے “ تئیس سال کے طویل عرصے میں حالات و واقعات اور حوادث ونوازل کے مطابق۔ تاکہ یہ دلوں میں اترتا اور ذہنوں میں بیٹھتا چلا جائے اور لوگ اس کے معانی ومطالب کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اس کے احکام کو صحیح طور اپنا لیں۔ سو اس کے تدریجی نزول پر اعتراض کرتے ہیں یہ ان کی حماقت اور کوڑھ مغزی کا ثبوت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی اس کی سورتیں اور آیتیں جدا جدا رکھیں5 تاکہ اس کے پڑھنے یاد کرنے اور اس پر عمل کرنے میں آسانی ہو اور اس کے مطالب موقع پر محل کے اعتبار سے ذہن نشین ہوجائیں اور آئندہ کسی آیت کے بےموقع استعمال کی گنجئاش باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →(17:106) قرانا۔ فعل مضمر کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای اتینا قرانا (ہم نے قرآن کو بھیجا) ۔
فرقنہ میں ضمیر ہُ واحدمذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ فرقنا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے اسے الگ الگ حکم بیان کیا۔ الگ الگ کر کے بتایا۔ تھوڑا تھوڑا کر کے اس کو نازل کیا۔ یا اس میں حق و باطل کو الگ الگ کر کے بیان کیا۔ ای فرقنا فیہ بین الحق والباطل وبین الحلال والحرام یہاں جار کو حذف کر کے مجرور کو بوجہ مفعول بہٖ کے منصوب کردیا گیا۔
لتقرأہمیں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ تا کہ تو اسے پڑھے۔
علی مکث۔ ٹھہر ٹھہر کر المکث کسی چیز کے انتظار میں ٹھہرے رہنا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے قال لاھلہ امکثوا (28:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 109
تسع نو۔ اسئل پوچھئے۔ مسحور جادو کیا گیا۔ سحر زدہ۔ بصائر سمجھ بوجھ کی باتیں۔ مثور تباہ کیا جانے اولا۔ اسکنوا آباد ہوجاؤ۔ رہو سہو۔ لفیف سمیٹ کر۔ فرقنا ہم نے جدا کیا۔ مکت ٹھرٹھر کر۔ تنزیل آہستہ آہستہ اتارنا۔ اوتوالعلم علم دیا گیا۔ یتلی پڑھا گیا۔ یخرون وہ گر پڑتے ہیں۔ اذقان تھوڑیاں۔ یبکون وہ روتے ہیں۔ خشوع خشوع۔ عاجزی و انکساری ۔
تشریح : آیت نمبر 101 تا 109
انبیاء کرام کو معجزات اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر کفار اپنے کفر سے توبہ کرلیں اور سالام کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایسے نو معجزات عطا کئے تھے…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمائی کہ ہم نے قرآن کو یکبارگی نہیں اتارا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے جب جس بات کی ضرورت ہوئی ویسی ہی آیتیں نازل کیں تاکہ تمہیں لوگوں کو سنانا آسان ہو۔ اور پہلے اس قرآن کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا، پھر حسب ضرورت 23 سال میں آنحضرت ﷺ پر نازل کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
[66] یعنی قرآن کی جتنی باتیں ہیں سب بالکل ٹھیک اور سچی ہیں۔ کوئی بات خلاف واقعہ نہیں اور جیسا یہ کاتب کے پاس سے چلا تھا اسی طرح مکتوب الیہ تک پہنچ گیا اور درمیان میں کوئی تغیر و تبدل و تصرف اس میں نہیں ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(ف 1) قرآن حکیم بتدریج نازل ہوا ہے ، واقعات کے مطابق اترا ہے تاکہ سینوں میں محفوظ رہے ، اور لوگ اپنی ضروریات کا حل اس میں دیکھ کر اس کی صداقت کے قائل ہوں ، کیونکہ کلام جو باموقع اور برمحل ہو زیادہ موثر اور زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →- 106 اور ہم نے اس مصلحت سے کہ آپ اس قرآن کریم کو لوگوں کے سامنے ٹھیر ٹھیر کر پڑھیں اس قرآن کریم میں فصل اور فرق کردیا ہے اور اس کو نازل بھی کیا ہے۔ تدریجاً تھوڑا تھوڑا کر کے یعنی قرآن کریم کی سچائی اور راستی کے ساتھ اس میں اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں کہ ہم نے اس کو آیتوں اور سورتوں کے ساتھ فصل سے نازل کیا ہے تاکہ آپ اس کو ٹھیر ٹھیر کر لوگوں پر پڑھیں، ایک آیت کو دوسری آیت سے اور ایک سورت کو دوسری سورت سے جدا رکھا اور نازل بھی کیا۔ تدریج کے ساتھ تھوڑا تھوڑا تاکہ معافی کا بھی انکشاف ہو اور مسائل بھی معلوم ہوتے رہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بعضے کتاب سے مطلب فقط معنی سمجھتے ہیں اور اس کے لفظ بھی…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی تاکہ وہ اچھی طرح سمجھ سکیں اور تاکہ معانی کا خوب انکشاف ہو۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کو نجما نجما نازل کیا گیا تاکہ آپ بھی ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں :
124۔ قرآن کریم کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے متفرق طور پر اتارا ہے اور اس طرح پورا قرآن کریم 23 سال کے عرصہ میں نازل ہوا اس لئے کہ آپ بھی اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور یہ بھی کہ ہم نے قرآن کریم میں حق و باطل کو بالکل جدا اور الگ الگ کردیا جس سے حق و باطل میں فرق واضح اور عیاں ہوتا ہے اور اس میں حکمت یہ رکھی گئی ہے کہ لوگوں کو سمجھنے اور یاد کرنے میں آسانی ہو۔ بات واضح اور صاف ہوگئی کہ قرآن کریم کو تیز تیز روا دواں نہ پڑھو بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ہر ایک آیت پر ٹھہرو تاکہ ذہن پوری طرح کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
Commentary
The first verse (101): وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ mentions the bestowal of nine clear signs on Sayyidna Musa (علیہ السلام) . The word: آیَہ ('ayah) carries the meaning of miracle or sign as well as that of the آیَت : ayat or verses of the Qur'an, that is, the divine injunctions. At this place, the probability of both meanings exists. Therefore, a number of commentators have taken the word 'ayat' to mean miracles - and the number nine does not make it necessary that they will not be more than nine - but, at this place, the figure 'nine' has been mentioned on the basis…
Read the full tafseer →119. This is an answer to this objection: Why has not Allah sent down His message as a whole? Why is He sending it piecemeal? Has Allah any need to think deliberately what to send down? As the answer to this objection has been given in (Surah An-Nahal, Ayats 101-102) and in the Explanatory Notes 104-106 added to them.
Read the full tafseer →