Al-Ghaashiya 88:24

Al-Ghaashiya · from ayah 24

88:24

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ ۟ؕفَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَؕ

تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then Allah will punish him with the greatest punishment.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:24

تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے اللہ تعالیٰ بہت بڑا عذاب دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو اللہ اس کو بڑا زبردست عذاب دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اسے اللہ بڑا عذاب دے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو اسے اﷲ سب سے بڑا عذاب دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اسے اللہ عذاب دے گا، سب سے بڑا عذاب۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو اللہ اسے بہت بڑی سزا دے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اللہ اس کا بڑا عذاب دے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو اس کو اللہ مبتلا کرے گا (اس کے اپنے کئے کی پاداش میں) اس سب سے بڑے (اور ہولناک) عذاب میں

— مولانا اسحاق مدنی

تو اللہ اس کو بڑی ہی سزا دے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس کو اللہ عذاب دے گا سب سے بڑا عذاب۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah will chastise him with the most terrible chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah will punish him with the greatest torment.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah will punish him with the greatest torment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then Allah will punish him with the greatest punishment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah will punish him with direst punishment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then Allah will punish him with the greatest punishment.

— Saheeh International

God will punish them with the greatest torment.

— Muhammad Sarwar

Allah will chastise him with the greatest chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

Him Allah shall torment with the greatest torment.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah will punish him with a mighty Punishment,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 88:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–26

کائنات پر غور و تدبر کی دعوت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بےانتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ایک چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کیساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموما عرب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–26

سورة الْغَاشِیَة 8 یعنی اگر معقول دلیل سے کوئی شخص بات نہیں مانتا تو نہ مانے، تمہارے سپرد یہ کام تو نہیں کیا گیا ہے کہ نہ ماننے والوں سے زبردستی منواؤ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کو صحیح اور غلط کا فرق بتادو اور غلط راہ پر چلنے کے انجام سے خبردار کردو۔ سو یہ فرض تم انجام دیتے رہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–26

افلاینظرون الی الابل کیف خلقت، آلایتہ قیامت کے احوال اور اس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کا بیان فرمانے کے بعد ان جاہل معاندین کی ہدایت کی طرف توجہ فرمائی جو اپنی بےوقوفی سے قیامت کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کہ انہیں مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بہت بعید بلکہ محال نظر آتا ہے ان کی ہدایت کے لئے حق جل شانہ نے اپنی قدتر کی چند نشانیوں میں غور کرنے کا ان آیتوں میں ارشاد فرمایا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں تو آسمان و زمین میں بیشمار ہیں، یہاں ان میں سے ایسی چار چزیوں کا ذکر فرمایا جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر بڑے بڑے سفر طے کرتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اَلْعَذَابَ الْأَکْبَرَ‘ سے مراد جہنم کا عذاب ہے جو دنیا کے تمام عذابوں سے بڑا ہو گا۔ اس دنیا کا کوئی عذاب نہ شدت میں اس کا مقابلہ کر سکتا نہ پائیداری میں۔ سابق سورہ میں اس کو ’اَلنَّارَ الْکُبْرٰی‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے لیکن مدعا ایک ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–26

3: آنحضرت ﷺ کو کافروں کی ہٹ دھرمی سے جو تکلیف ہوتی تھی، اس پر آپ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا فریضہ صرف تبلیغ کر کے پورا ہوجاتا ہے، آپ پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ انہیں زبردستی مسلمان بنائیں۔ اس میں ہر مبلغ اور حق کے داعی کے لیے بھی یہ اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ اسے اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کرتے رہنا چاہیے اور یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ان سے زبردستی اپنی بات منوانے کا ذمہ دار ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–24

الا من ............................................ الاکبر (23:88 تا 24) ” البتہ جو شخص منہ موڑے گا ، اور انکار کرے گا تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا “۔ اس لئے کہ وہ صرف اللہ ہی کے سامنے لوٹنے والے ہیں اور وہ یقینا ان کو جزادینے والا ہے ، یہ اس سورت کا آخری اعلان ہے اور حتمی اور دوٹوک اعلان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 23–26

13 یعنی جس نے اللہ کی طاعت سے روگردانی کی اور اس کی آیتوں کا انکار کیا وہ آخرت کے بڑے عذاب اور اللہ کی سخت ترین سزا سے بچ نہیں سکتا۔ یقینا ان کو ایک روز ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے اور ہم کو ان سے رتی رتی کا حساب لینا ہے۔ غرض آپ ﷺ اپنا فرض ادا کئے جائیے اور ان کا مستقبل ہمارے سپرد کیجئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24{ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ۔ } ”تو اس کو اللہ عذاب دے گا سب سے بڑا عذاب۔“ بلاشبہ اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا کلام اور پیغام اپنی بےداغ اور مثالی سیرت کی گواہی کے ساتھ امت تک اس انداز میں پہنچا دیا ہے کہ حق کو سمجھنے کے بارے میں کہیں کوئی ابہام نہیں رہا۔ اب اس کے بعد بھی جو شخص حق سے منہ موڑے گا تو وہ گویا حق کو حق سمجھتے ہوئے اسے ٹھکرائے گا اور اس سے یہی ثابت ہوگا کہ اس کے اندر بھلائی اور خیر کی کوئی رمق موجود ہی نہیں۔ چناچہ ایسا ہر شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے شدید ترین عذاب کا مستحق ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 22–24

10 آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام سب کو پہنچا دیں۔ پھر جو لوگ آپ ﷺ کی باتوں پر کان دھریں انہیں نصیحت کرتے رہیں اور جو اللہ کی آیات کا مذاق اڑائیں ان کے پیچھے نہ پڑیں کیونکہ انہیں زبردستی راہ راست پر لانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–26

7۔ ایاب اور حساب، مراجعت اور حساب کتاب اور جزاء وسزا، سب کا تعلق صرف ذات باری سے ہے، نہ کوئی شافع مطلق ہے، نہ مختار کل۔ یہ ضرب مسیحی عقیدہ شفاعت مطلق پر تو کھلی ہوئی ہے۔ اور ضمنا دوسرے اہل باطل پر بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–26

لست علیھم بمصیطر اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی فرمائی کہ آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ نہ ہوں، اس لئے کہ آپ ﷺ ان پر مسلط نہیں ہیں، آپ ﷺ کا کام تبلیغ اور نصیحت کرنا ہے، وہ کر کے آپ ﷺ بےفکر ہوجائیں باقی کام ہمارے اوپر چھوڑ دیں ان کا حساب کتاب اور جزاء و سزا سب ہمارا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فیعذبہ اللہ العذاب الاکبر . تو اللہ آخرت میں اس کو آگ کا عذاب دے گا۔ بعض نے کہا : استثناء متصل ہے اور دنیا میں جہاد کی اور آخرت میں عذاب جہنم کی وعید ہے۔ یہ بھی ایک تفسیری قول ہے کہ اس آیت کا تعلق فذکرھم سے ہے ‘ یعنی تم ان کو نصیحت کرو مگر ان میں سے جو ایمان سے روگرداں ہو اور کفر کرتا رہے اور تم کو اس کے ایمان کی امید نہ رہے تو وہ مستثنیٰ ہے (اس کو نصیحت کرنا ضروری نہیں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–26

(21۔ 26) تو آپ بھی بذریعہ قرآن کریم ان کو نصیحت کردیا کیجیے، آپ ان پر مسلط نہیں ہیں کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قتال کا حکم دیا البتہ جو ایمان لانے سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اسے دوزخ کا عذاب دے گا، آخرت میں ہمارے ہی پاس ان کا آنا ہوگا اور دنیا میں ان کی پختگی دنیا اور آخرت میں ثواب و عذاب دینا ہمارا ہی کام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 23–24

(الا من تولی و کفر…:) مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو منہ موڑ کر کفر پر اصرار کرتا ہے اسے پوچھا ہی نہ جائے، بلکہ اگر وہ کافر ہی رہنا چاہتا ہے تو رہے، مگر مسلمانوں کی حکومت تسلیم کرے، اپنے ہاتھوں سے انہیں جزیہ دے اور اپنی ذلت کا اقرار کرے (یہ دنیا کا عذاب ہے) ورنہ لڑنے کے لئے تیار رہے۔ (دیکھیے توبہ : 29) اور قیامت کو اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں غلایم سے بڑی ذلت کوئی نہیں اور آخرت میں آگ سے بڑا عذاب کوئی نہیں، دونوں عذاب اکبر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–26

الا من تولی وکفر۔ یہ مستثنی منقطع ہے لیکن جو وعظ اور تذکیر سے روگردانی کرے عذاب اکبر سے مراد جہنم ہے اس کا عذاب دائمی ہے یہاں آخرت کے عذاب کے لیے اکبر کا لفظ ذکر کیا کیونکہ دنیا میں انہیں بھوک، قحط، قید اور قتل کی سزا دی گئی اس تاویل کی دلیل حضرت ابن مسعود کی قرات ہے، الامن تولی وکفر فانہ یعذبہ اللہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مستثنی متصل ہے معنی یہ ہوگا آپ مسلط نہیں ہیں مگر ان لوگوں پر جنہوں نے اعراض کیا، اور کفر کا ارتکاب کیا آپ ان پر جہاد کے ذریعے مسلط ہیں اس کے بعد اللہ تعایل انہیں عذاب اکبر دے گا اس تعبیر کی بنا پر آیت میں کوئی نسخ نہیں۔ روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی کے پاس ایک آدمی لایا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–24

40۔ الحاکم وصححہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا آیت لست علیہم بمصیطر صاد کے ساتھ۔ 41۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لست علیم بمصیطر یعنی آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ ان سے درگذر کیجیے۔ 42۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لست علیہم بمصیطر یعنی میرے بندوں کو میرے سپرد کردیجیے۔ 44۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت بمصیطر سے مراد ہے مسلط۔ یعنی کوئی چیز مسلط کرنے والا۔ 45۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لست علیم بمصیطر سے مراد ہے جبار یعنی آپ ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ : تو ان کو تو عذاب دے گا اللہ ] [الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ : وہ بڑا (دوزخ کا) عذاب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–26

مخاطبین کو قیامت کے وقوع اور اس دن کی پریشانی اور اہل ایمان کی خوبی اور خوشحالی سے اور وہاں کی نعمتوں سے باخبر فرما دیا اور ان چیزوں کے بارے میں جو مخاطبیین کو تعجب تھا اسے دور فرما دیا اس سب کے باوجود اگر کوئی نہیں مانتا اور ایمان نہیں لاتا تو اس کے نتیجے کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنے مخاطبین کو ہدایت پر لانے کا زیادہ فکر رہتا تھا۔ لوگ آپ کی دعوت کو قبول نہ کرتے تھے تو اس سے آپ رنجیدہ ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان کو نصیحت کردیا کریں۔ ان کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے رنجیدہ نہ ہوں آپ کا کام اتنا ہی ہے کہ ان کو بتادیں۔ نصیحت فرما دیں، آپ پر مسلط نہیں کیے گئے کہ ان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–24

10:۔ ” فذکر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے اور یہ آیت سورة الاعلی کی آیت ” فذکر ان نفعت الذکری “ سے متعلق ہے۔ کیونکہ یہ سورت اس سورت کا تتمہ ہے۔ اگر مشرکین قرآن میں غور و تدبر نہیں کرتے اور آپ کے بطریق احسن بیان و ارشاد کے باوجود نہیں مانتے تو اس سے آپ غمگین نہ ہوں کیونکہ آپ بشیر و نذیر اور ناصح و معلم ہیں۔ اس لیے آپ اپنا کام کرتے رہیں آپ کو ان پر داروغہ اور نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ ان کو ماننے اور ایمان لانے پر مجبور کریں۔ ” الا من تولی وکفر “ استثناء منقطع ہے اور ” الا “ بمعنی ” لکن “ ہے موصول مع صلہ مبتداء اور ” فیعذبہ اللہ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے (روح) ۔ یہ تخویف اخروی ہے لیکن جو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–26

(گذشتہ پیوستہ) اب ان آیات میں قدرت کے چند دلائل پیش کئے ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو قیامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طرح مالک الملک نے چیزیں پیدا کی ہیں ۔ اسی طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرکے اس سے حساب کتاب لے ۔ جب انسان ان اشیاء پر کوئی تعجب نہیں کرتا تو پھر وہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر کیوں ہے ۔ ان آیات میں اللہ نے ان چار چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ جن سے قرآن پاک کے اولین مخاطبین قوم عرب بخوبی واقف تھے ۔ دوسرے مقامات پر اور بھی بہت سے دلائل قدرت مذکور ہیں ۔ مگر اس مقام پر پیش آمدہ صرف چار کا ذکر ہے ۔ (اونٹ اور اسکی خصوصیات ) عربوں کا اونٹوں کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَيُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ۝ 24 ۭ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–26

ترکیب ¦ فذکر الفاء لترتیب مابعدھا علی قبلھا مصیطر بالصادو السین قال فی الصحاح ھوالمسلط علی الشیء لیشرف علیہ ویتعھدا حوالہ الا استثناء متصل من اعم المفاعیل وقیل منقطع والعذاب الاکبر العذاب الشدید الدائم وھو عذاب جھنم وانما قال الاکبر لانھم عذبوافی الدنیا بالعذاب الاصغر وھوالجوع والقتل والا سرقرء قتادہ وابن عباس الا التی للتنبیہ ایابھم اسم ان الینا خبرھا وقس علیہ حسابھم و جمیع الضمیر فی ایابھم وحسابھم باعتبار معنی من کما افراد الضمیر فی یعذبہ باعتبار لفظھا۔ تفسیر ¦ جب عالم آخرت کی طرف رغبت کرنے کے اسباب بیان ہوچکے اور اس چند روزہ زندگی کا انجام کار لوگ سن چکے اور نیک و بد کاموں کا انجام بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

اِلاَّ مَنْ تَوَلّٰی وَکَفَرَ ۔ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ ۔ (الغاشیۃ : 23، 24) (رہا وہ شخص جو منہ موڑے اور انکار کرے۔ تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ) آپ کی تمام تبلیغی مساعی کے باوجود جو شخص حق سے منہ پھیرے گا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اولاً تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں عذاب کا شکار ہوجائے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کی وجہ سے وہ دنیا میں عذاب سے بچا رہا تو آخرت کا عذاب جو عذاب جہنم ہے وہ تو اس کے لیے لازمی ہوگا۔ اس لیے کہ دنیا میں تو بعض دفعہ پروردگار اپنی حکمت کی وجہ سے ڈھیل دیتے رہتے ہیں۔ لیکن آخرت چونکہ دارالجزاء اور دارالعدل ہے۔ وہاں نیک عمل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–26

فہم القرآن ربط کلام : اونٹ کی خلقت، پہاڑوں کی جسامت اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر دین کے داعی کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ اسے بھی اپنے آپ میں یہ اوصاف پیدا کرنے چاہیے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا تذکرہ فرما کر نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان لوگوں کو نصیحت کرتے جائیں، آپ کا فرض نصیحت کرنا ہے کیونکہ آپ کو ان پر چوکیدار اور کو توال نہیں بنایا گیا۔ آپ کی پرخلوص کوشش کے باوجود جو شخص اس نصیحت سے منہ پھیرے اور اس کا انکار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑا عذاب دے گا کیونکہ بالآخر انہیں ہمارے پاس حاضر ہونا ہے اور ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا ذکر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24 : فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ (تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑی سزادیگا ) نحو : یہ استثناء منقطع ہے۔ یعنی تم ان پر مسلط نہیں ہو۔ لیکن جس نے ان میں سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اللہ تعالیٰ کو اس پر کامل ولایت و غلبہ حاصل ہے۔ پس وہ اس کو بڑے عذاب میں مبتلا کریگا اور وہ بڑا عذاب جہنم کا عذاب ہے۔ ایک قول یہ ہے : فذکرؔ سے استثناء ہے پس آپ نصیحت کریں مگر وہ آدمی جس کے ایمان سے تمہاری امید منقطع ہوچکی ہو۔ اور وہ منہ موڑنے والا ہو تو وہ عذاب اکبر کا حقدار ہے۔ اس صورت میں ان کے مابین یہ جملہ معترضہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24 ۔” فیعذبہ اللہ العذابالاکبر “ وہ یہ کہ اس کو جہنم میں داخل کردے گا اور الاکبر کہا ہے اس لئے کہ وہ دنیا میں بھوک، قحط، قتل اور قید کے عذاب دیئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–26

17۔ 26۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر 1 ؎ ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں اور جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانور پیدا کیا کہ کانٹے کھا کر اپنی گزر کرتا ہے اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ ) تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–24

(12) منکرین کے لیے سخت ترین عذاب کی دھمکی، والعیاذ باللہ : سو اس میں منکروں کے لے سب سے بڑے اور انتہائی ہولناک عذاب کی آگہی و تنبیہ اور دھمکی و تہدید ہے، اور وہ عذاب اس قدر بڑا اور اتنا ہولناک اور اس قدر سنگین ہوگا کہ انسان کے لیے از خود اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس عذاب سے مراد دوزخ کا وہ عذاب ہے جو دنیا کے تمام عذابوں سے کہیں بڑھ کر سخت اور ہولناک عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ کہ وہ اپنی شدت اور سختی کے اعتبار سے بھی دنیا کے تمام عذابوں سے کہیں بڑھ کر ہوگا اور اپنی مدت اور دوام کے لحاظ سے بھی اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، اتنا بڑا اور اس قدر سخت کہ اس دنیا میں اس کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–26

اللہ کی تخلیقات اللہ کی شہادت دیتی ہیں تشریح : اس جہان کی ہر چیز ہمارے سمیت اللہ کے بےمثل خالق ومالک ہونے کا پکا ثبوت ہے۔ یہاں تمام عالم حیوانات میں سے اونٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو حکمت سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے حوالہ دیتی ہوں۔ لکھتے ہیں۔ '' اونٹ کو مصلحتاً موضوع بنایا گیا ہے۔ 1 ۔ اونٹ کے وجود میں ایسی خصوصیات ہیں جو کائنات میں نظریہ ارتقاء کو بےبنیاد ثابت کرتی ہیں۔ 2 ۔ اونٹ انتہائی دلچسپ حیاتیاتی خصوصیات رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے وٹامن خود پیدا کرتا ہے۔ اونٹ اپنی (Ionic) خصوصیت کی وجہ سے پانی کو پچاس دنوں تک اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کو بہترین یادداشت عطا کی گئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–26

ف 4 اس آیت کے خاتمہ پر اللھم حاسبنا حساباً یسراً کہنا مستحب ہے یعنی اے اللہ ہم سے آسان حساب لے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:24) فیعذبہ اللہ العذاب الاکبر :جواب شرط کے لئے ہے۔ یعذب مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب تعذیب (تفعیل) مصدر۔ وہ عذاب دے گا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ العذاب الاکبر۔ موصوف و صفت پل کر عذب کا مفعول۔ ترجمہ ہوگا :۔ تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ فائدہ : ایمان سے روگردانی کرنے والوں کو اور اللہ کا انکار کرنے والوں کو اس دنیا میں بھی کئی قسم کے عذاب ملیں گے مثلا بھوک۔ قحط۔ قتل۔ بیماری وغیرہ۔ لیکن یہ عذاب، آخرت کے عذاب (یعنی عذاب جہنم) سے دکھ اور تکلیف میں بہت کم درجے کے ہوں گے اور آخرت کا عذاب ان تمام عذابوں سے بہت بڑا اور دردناک ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–26

اونٹ کا قدرت الٰہی کانمونہ ۔ (ف 1) شان نزول۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانو پیدا کیا کہ کانٹے کھاکر اپنی گذر کرتا اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–26

[3] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی قدرت کی چند نشانیوں پر غور کرنے کے لئے فرمایا ہے جو آخرت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں۔ اگر وہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے اور جنت و دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے۔ یہاں اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین ان چار چیزوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ قرآن کے مخاطب اول عرب تھے جن کا سابقہ انہیں چار چیزوں سے ہر وقت رہتا تھا۔ صحرا میں پھرتے پھراتے رہتے تو ساتھ اونٹ ہوتے تھے اور اطراف میں پہاڑ۔ اوپر نظر اٹھائی تو آسمان اور نیچے نظر کی تو زمین۔ اس لئے انہی نشانیوں میں غور کرنے کے لئے فرمایا۔ یعنی یہ بنی ہوئی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–26

دین فطرت اور دین کون 1: قرآن صرف مسائل ہی بیان نہیں کرتا ۔ بلکہ فطرت کے عجائبات کی طرف بھی انسانی توجہات اور فکر وغور کو مبذول کرتا ہے ۔ اس لئے غرائب دنیا اور غرائب دین میں ایک عجیب تناسب ہے ۔ بلکہ قرآن تو اس حقیقت کا برملا اظہار کرتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے ۔ اس میں اور قوانین فطرت وکون میں نہ صرف کوئی تضاد نہیں ۔ بلکہ پورا تو افق وتطابق ہے ۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ انسان اتنا وسیع النظر ہو کہ اسرار وعجائبات کون پر کامل طریق سے نگاہ رکھتا ہو ۔ اس لئے کہ حقائق کی راہ میں سب سے بڑی جو رکاوٹ ہوتی ہے ، وہ تعصب اور کوتاہ نظری ہوتی ہے اور فطرت کے آزاد مطالعہ سے یہ مرض دور ہوجاتا ہے ۔ فرمایا کہ ان کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ عذاب کرے گا جو بہت بڑا عذاب ہے - ایسا شخص دائمی عذاب میں رکھا جائے گا اور آخرت میں اس ک وایسا عذاب کیا جائے گا جو بہت بڑا عذاب ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–26

ف 3۔ تخصیص ان چار چیزوں کی اس لئے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے رہتے تھے، اس وقت ان کے سامنے اونٹ ہوتے تھے اور اوپر آسمان اور نیچے زمین اور اطراف میں پہاڑ، اس لئے ان علامات میں غور کرنے کے لئے ارشاد فرمادیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بس اللہ تعالیٰ اس کو بہت سخت عذاب دے گا 24 ؎ اللہ تعالیٰ کے عذاب دیئے جانے کی خبر کس کے لیے ہے ؟ اس کے لیے جو دین اسلام سے منہ پھیرتا اور کفر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو اس دن بھی ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور آخرت بھی اس کی تباہ و بربادہو جائے گی ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ساری نعمتیں دیں اور عقل و فکر سے بھی نوازا اور اپنی طرف سے قرآن کریم جیسی کتاب لازوال بھی عطا فرمائی اس کے باوجود ان لوگوں نے ہٹ دھرمی سے کام لیا ان کو ان کی ہٹ دھرمی کی سزا بھی آخر دی جائے گی کیونکہ گزشتہ اقوام کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا کہ جب انہوں نے نہ مانا اور رسولوں کو جھٹلایا اور پھر جھٹلاتے ہی چلے گئے تو انجام کار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–26

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (So, do they not look at the camels how they are created...88:17) The Qur'an first described the conditions of the Hereafter; and it then went on to depict the reward of the believers and the retribution of the unbelievers. Now it turns attention to rebuff the obdurate unbelievers' foolish denial of the Hereafter. They reject it on the ground that after death and decomposition of the body and bones it is inconceivable that they would be recomposed and resurrected. For their guidance, Allah invites their attention to reflect carefully on a few…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–26

8 That is, "If a person does not listen to reason, he may not. You have not been appointed to force the will of the deniers: your only task is to distinguish the right from the wrong for the people and warn them of the consequences of following the wrong way; so this is the task you should continue to perform."

Read the full tafseer →