Al-Ghaashiya 88:11

Al-Ghaashiya · from ayah 11

88:11

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةً ۟ؕلَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا لَاغِيَةً

وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Wherein they will hear no unsuitable speech.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:11

کوئی بیہودہ بات وہاں نہ سنیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جہاں کوئی بیہوده بات نہیں سنیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس میں وہ کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ اس میں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے (جیسے اہلِ باطل ان سے دنیا میں کیا کرتے تھے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس میں بےہودگی والی کوئی بات نہیں سنیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جہاں وہ کوئی لغو بات نہ سنیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس میں وہ کوئی بےہودہ بات سننے نہ پائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اس میں کوئی لغوبات نہ سنیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ اس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں کسی طرح کی لغویات نہیں سنیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

wherein they shall hear no vain talk.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

in which they will not hear any absurd talk.

— Muhammad Taqi Usmani

in which they will not hear any absurd talk.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Where they shall neither hear harmful speech nor falsehood.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Wherein they will hear no unsuitable speech.

— Saheeh International

wherein they will not hear any vain talk.

— Muhammad Sarwar

Wherein you shall not hear vain talk.

— Muhammad Habib Shakir

They shall hear therein no vain discourse;

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 88:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

ہر طرف سلام ہی سلام اوپر چونکہ بدکاروں کا بیان اور ان کے عذابوں کا ذکر ہوا تھا تو یہاں نیک کاروں اور ان کے ثوابوں کا بیان ہو رہا ہے، چناچہ فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے ایسے بھی ہوں گے جن پر خوشی اور آسودگی کے آثار ظاہر ہوں گے یہ اپنے اعمال سے خوش ہوں گے، جنتوں کے بلند بالا خانوں میں ہوں گے جس میں کوئی لغو بات کان میں نہ پڑے گی۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ۭ وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا 62؀) 19۔ مریم :62) اس میں سوائے سلامتی اور سلام کے کوئی بری بات نہ سنیں گے اور فرمایا آیت (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–13

سورة الْغَاشِیَة 5 یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن مجید میں جگہ جگہ جنت کی نعمتوں سے ایک بڑی نعمت کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، مریم، حاشیہ 38۔ جلد پنجم، الطور، حاشیہ 18۔ الواقعہ حاشیہ 13۔ جلد ششم، البناء، حاشیہ 21)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–13

لاتسمع فیھا لاغیة، یعنی جنت میں کوئی ایسا کلام ایسی بات اہل جنت کے کان میں نہ پڑیگی جو لغو و بیہودہ اور دلخراش ہو۔ اس میں کلمات کفر یہ باطلہ بھی آگئے اور گالی گلوچ، افتراء و بہتوان الزام لگانا اور ایسے سب کلام آگئے جن کو سن کر انسان کو ایذا پہنچتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے اسی کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ لایسمعون فیھا لغواً ولا تاثیماً یعنی اہل جنت جنت میں کوئی لغوبات یا الزام لگانے کی بات نہ سنیں گے۔ اس کے علاوہ بھی کئی جگہ یہ مضمون قرآن کریم میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الزام تراشی اور بےتکی بےڈھنگی باتیں بڑی ایذا کی چیز ہے اسی لئے قرآن کریم نے اہل جنت کے حالات میں اہتمام سے اس کو بیان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اہل جنت کی مجلس ہر شر سے محفوظ ہو گی: اہل دوزخ سے متعلق قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ دوزخ کے باڑے میں پہنچتے ہی وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے کہ فلاں نے ہم کو گمراہ کیا، وہ گمراہ نہ کرتا تو ہم ہدایت پر ہوتے۔ لیڈروں اور ان کے پیروؤں میں توتکار ہو گی۔ پیرو لیڈروں کے لیے دونے عذاب کا مطالبہ کریں گے۔ کہ انھوں نے ان کی راہ ماری اس وجہ سے یہ دوگنے عذاب کے سزاوار ہیں۔ لیڈر جواب دیں گے کہ ہم نے تم کو وہی بنایا جو ہم خود تھے، تم نے خود اپنی شامت بلائی کہ جان بوجھ کر ہماری پیروی کی۔ اس کے برعکس اہل جنت کا یہ حال بیان ہوا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ایک فتح مند ٹیم کی طرح ایک دوسرے کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–14

یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–16

1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لا تسمع .................... لاغیة (11:88) ” کوئی بیہودہ بات وہ وہاں نہ سنیں گے “۔ اس کی تعبیر میں ایک فضا اور اک جہان معانی سمو دیا گیا ہے۔ آرام ہوگا ، سکون ہوگا ، اطمینان اور سلامتی ہوگی ، محبت اور رضامندی ہوگی ، دوستوں کی محفلیں ہوں گی ، آل اولاد جمع ہوں گے ، طہارت و پاکیزگی ہوگی ، ہر لغو بات سے وہ دورہوں گے۔ کوئی ایسی بات نہ ہوگی جس میں ان کے لئے خیروعافیت نہ ہو۔ اور ایسی فضا اپنی جگہ ایک نعمت ہوتی ہے ، یہ صورت حال خود نیک بختی ہے اور سعادت مندی ہے۔ جب انسان اس دنیا کی زندگی کی مشکلات اور تلخیوں کا تصور کرے کہ یہاں کس قدر لغو ، لڑائیاں جھگڑے ، تو تو میں میں ، شورو شغب ، مذمت وملامت ، جھوٹ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–11

3 یعنی کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے۔ چہ جائے کہ گالی گفتار اور ذلت کی بات ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–15

آیت 1 1{ لَّا تَسْمَعُ فِیْہَا لَاغِیَۃً۔ } ”وہ اس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔“ وہاں انہیں کوئی ایسی فضول یا غلط بات سنائی نہیں دے گی جس سے انہیں کو فت ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–16

7 وہاں نہ کسی قسم کا غل غپاڑہ ہوگا نہ شور شرابا، نہ جھوٹ اور چغلی، نہ گالی گلوچ اور نہ بیہودہ مذاق۔ سب کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوں گے۔ کسی کا دوسرے سے کوئی تنازعہ نہ ہوگا سب محبت و اخوت سے رہیں گے اور ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعائیں کرتے رہیں گے اور یہ جنت کی ایسی نعمت ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–12

3۔ (آیت) ” لا ..... لاغیۃ “۔ ماحول کے انتہائی خوشگوار ودلپذیر ہونے کا بیان ہے کہ اہل جنت کے کان میں بھنک تک کسی ایسی آواز کی نہ پڑے گی، جو طبعی یا عقلی یا کسی اور حیثیت سے گراں گزرے۔ (آیت) ” عین “۔ صورۃ مفرد ہے، معنی جمع ہے، یعنی اسم جنس۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–13

لاتسمع فیھا لاغیۃ یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرہ ور ہوں گے یعنی جنت میں کوئی ایسا کلام ان کے کانوں میں نہ پڑے گا جو لغو اور بےہودہ اور دلخراش، تکلیف دہ ہو اس میں کلمات کفریہ اور گالی گلوچ اور افتراء و بہتان سب داخل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا تسمع فیھا لاغیۃ . لَا تَسْمَعُ کی ضمیر وجوہ کی طرف راجع ہے ‘ وہ نہیں سنیں گے۔ یا رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے ‘ آپ ﷺ نہیں سنیں گے یا مخاطب غیر معین ہے۔ اے مخاطب ! تو نہیں سنے گا۔ لاغیۃ بمعنی لغو یعنی بیہودگی ‘ یا لغو بات مراد ہے یعنی بیہودہ بات یا لاغیۃ کا موصوف نفس محذوف ہے یعنی کسی شخص کو بیہودہ بات کرتے تم نہیں سنو گے کیونکہ اہل جنت کا سارا کلام ذکر آمیز اور پر از حکمت ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–11

(8۔ 11) اور سچے مومنین کے چہرے قیامت میں بارونق اور اپنے نیک کاموں کی بدولت خوش اور جنت میں ہوں گے اور وہاں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لاتسمع فیھا لاغیہ۔ کوئی ایسی گفتگو نہیں سنیں گے جوان کے مقام سے فروتر ہو اور ناپسندیدہ ہو کہا، لاغیہ لغو اور لغا سب کا ایک ہی معنی ہے کہا عن اللغا ورفث التکلم لغو بات اور بےحیائی کی باتوں سے۔ فراء اور اخنس نے کہا، اس میں تو کوئی لغو کلمہ نہیں سنے گا اس کی مراد میں چھ وجوہ ہیں۔ (1) اس میں جھوٹے، بہتان اور اللہ تعالیٰ کا انکار نہ سنیں گے یہ حضرت ابن عباس کا فرمان ہے۔ (2) نہ باطل اور نہ گناہ کی کوئی بات سنیں گے یہ قتادہ کا قول ہے۔ (3) اس سے مراد گالی ہے یہ مجاہد کا قول ہے۔ (4) وہ معصیت کے بارے میں نہ سنیں گے یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ (5) کسی قسم اٹھانے والے کے بارے میں نہ سناجاجائے گا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–12

24۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا آیت لا تسمع فیہا تاء کے نصب کے ساتھ اور آیت لاغیۃ کو منصوب اور تنوین کے ساتھ پڑھا۔ 25۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا لاتسمع فیہا لاغیۃ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔ یعنی وہ کوئی اذیت ناک اور باطل گفتگو نہیں سنیں گے۔ آیت فیہا سرر مرفوعۃ اس میں اونچے تخت ہوں گے۔ یعنی بعض کے اوپر بعض ونمار ق اور گاؤ تکیے یعنی مجلسیں سجی ہوئی ہوں گی۔ 26۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتسمع فیہا لاغیۃ یعنی کوئی گالی نہ سنوگے۔ 27۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتسمع فیہا لاغیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا : وہ نہیں سنیں گے اس میں ][ لَاغِيَةً : کوئی لایعنی (بات)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةًؕ0011﴾ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔ کیونکہ جنت ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کی بھی ناگواری پیش نہ آئے گی۔ نہ آنکھیں ایسی چیز دیکھیں گی جس کا دیکھنا ناگوار ہو اور نہ کانوں میں ایسی چیز پڑے گی جس کا سننا گوارا نہ ہو، وہاں نہ چیخ نہ پکار، نہ لغو بات نہ فضول کلام، نہ کوئی گناہ کی بات، ہر طرح سے خیر ہی خیر اور آرام ہی آرام ہوگا۔ سورة الواقعہ میں فرمایا : ﴿لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًاۙ0025 اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا 0026﴾ (نہ اس میں کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ کوئی گناہ، بس سلام ہی سلام سنیں گے) ۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–12

6:۔ ” جوہ یومئذ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ قرآن مجید کا یہ قانون ہے کہ جہاں تخویف کا ذکر آئیگا اس کے ساتھ بشارت کا ذکر بھی ہوگا یہاں بھی ” وجوہ “ سے اصحاب الوجوہ یعنی مومنین مراد ہیں۔ مومنین قیامت کے دن خوش وخرم ہوں گے۔ دنیا میں انہوں نے جو کام کیے ہوں گے ان کا اجر وثواب اور ان کی احسن جزاء دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔ عالیشان باغوں میں رہیں گے اور وہاں کوئی لغو اور بیہودہ بات نہیں سنیں گے ان باغوں میں ہر قسم کے اعلی مشروبات کے چشمے جاری ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَّا تَسْمَعُ فِيْہَا لَاغِيَۃً۝ 11 ۭ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–11

ترکیب ¦ وجوہ مبتداء ناعمۃ خبرہ یومئذ ظرف للخبر لسعیھا واللام تتعلق براضیۃ وھی خبر بعد خبر۔ وکذافی جنۃ عالیۃ لا تسمع قرء الجہور بفتح الفوقیۃ ونصب لاغیۃ وقریٔ بصیغۃ المجھول ورفع لاغیۃ ولاغیۃ اما صفۃ موصوف محذوف ای کلمۃ لاغیۃ او مصدر ای لاتسمع انت یا ایھا المخاطب فی الجنۃ لغواً ای اذا وباطلا ھذہ الجملۃ وکذاما بعد ھا صفۃ جنۃ واکواب جمع کو ب وانہ قدح الذی لاعروۃ ولا خرطوم نما رق جمع نمرقۃ بضم النون وبکسرھا عند الفراء وھی وسادۃ صغیرۃ (تکیہ) زرابی جمع زربی وزربیۃ فی القاموس الزرابی النمارق والبسط و کل مایبسط وتیکاء علیھا الواحد زربی بالکسر وبالضم۔ تفسیر ¦ اب دوسرے فریق کا حال بیان فرماتا ہے یعنی نیک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَّ تَسْمَعُ فِیْھَا لاَ غِیَۃً ۔ (الغاشیۃ : 11) (جس میں وہ کوئی بےہودہ بات نہیں سنیں گے۔ ) اہلِ جنت کی مجلس نہایت شائستہ ہوگی اہلِ جہنم کے بارے میں قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے کہ ہم ان کی وجہ سے آج جہنم میں ہیں۔ پیچھے چلنے والے اپنے رہنمائوں کے بارے میں دونے عذاب کا مطالبہ کریں گے اور ان کے لیڈر ان کی ہر بات سے انکار کریں گے۔ اور انھیں خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ لیکن اہل جنت کا حال بالکل برعکس ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ایک دوسرے کا خیرمقدم تحیت وسلام سے کریں گے۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، نہایت گرم جوشی سے ایک دوسرے ساتھ اٹھیں بیٹھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے مقابلے میں جنتی کا اکرام، مقام اور انعام۔ جہنمی اپنی ذلّت اور ناکامی کی وجہ سے تھکے تھکے دکھائی دیں گے اور ان پر انتہا درجے کی ذلّت چھائی ہوگی، ان کے مقابلے میں جنتی اپنے اعمال اور انعام دیکھ کر بےانتہا خوش ہوں گے اور ان کے چہروں پر شادمانی اور کامیابی کی مسکراہٹیں بکھر رہی ہوں گی انہیں اعلیٰ قسم کی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جنتی جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائیں گے، جنت میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی، جنت میں اعلیٰ قسم کے تخت اونچی جگہ پر رکھے جائیں گے، جنتی ان پر تشریف فرما ہوں گے، ان کے سامنے آبخورے ہوں گے، جنت کے تختوں پر قطار اندر قطار تکیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنت کی صفت : 1 1 : لَّا تَسْمَعُ فِیْھَا لَاغِیَۃً (جن میں کوئی لغوبات نہ سنیں گے) اے مخاطب تو ان میں کوئی لغو بات نہ سنے گا۔ یا وہ چہرے اس میں لغوبات نہ سنیں گے۔ لا غیہؔ یعنی لغو۔ یا لغویت والا کلمہ۔ نمبر 3۔ کوئی ایسا شخص جو لغو کہے۔ اہل جنت حکمت کی بات کریں گے اور دائمی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد کے کلمات بولیں گے۔ قراءت : مکی اور ابو عمرو نے لا یسمع فیھا لا غیۃً اور نافع نے لا تسمع فیھا لاغیۃًپڑھا

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 10–11

11-10…” فی جنۃ عالیۃ لا تسمع فیھا لا غیۃ “ لغو اور باطل اہل مکہ اور اہل بصرہ نے۔ ” لا یسمع “ یاء کے ساتھ اور اس کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” لاغیۃ “ مرفوع اور نافع (رح) نے تاء اور اس کے پیش کے ساتھ ” لاغیۃ “ مرفوع اور دیگر حضرات نے تاء اور اس کے زبر کے ساتھ ” لاغیۃ “ نصب کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہونے کی بناء پر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنے سے سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اجر پائیں گے تو اپنے عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا لیکن دوزخ کے مقابلہ میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے۔ اس لئے فی جنۃ عالیہ فرمایا۔ سورة بقر میں آیت اذتبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا گزر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغو باتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہیں گے اور نہ کسی لغو بات کسی دوسرے سے سنیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً ) اس میں نہیں سنیں کوئی حرام کی بات۔ یعنی جنت کے اندر حرام کی بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی نہیں سنیں گے بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہوگا جوا للہ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہوگا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

(7) جنتیوں کے بعض خاص انعامات کا ذکرو بیان : سو جنتیوں کو ملنے والے انعامات کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ایسی عالی شان اور بلند مرتبہ جنت میں ہوں گے جس میں وہ کوئی لغو اور بیہودہ بات سننے نہیں پائیں گے "۔ وہاں پر طرح طرح کے عظیم الشان چشمے رواں ہوں گے، اونچی اونچی مسندیں سجی ہوں گی، قسما قسم کے ساغر دھرے ہوں گے، عمدہ قسم کے گاؤ تکیے قطار اندر قطار لگے ہوں گے اور ان کے لیے بیش قیمت قالین بچھے ہوں گے، تاکہ وہ جہاں چاہیں بیٹھیں اور جو چاہیں کھائیں پیئیں، اور جس نعمت سے چاہیں شاد کام و لطف اندوز ہوں۔ سبحان اللہ۔ کیسی عظیم الشان اور بےمثل ہے جنت کی یہ نعمت کہ وہاں کے باسیوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–17

ف 10 اونٹ اپنی ظاہری شکل و صورت اور اندرونی ساخت دونوں کے اعتبار سے دوسرے تمام جانوروں کی بہ نسبت عجیب ہے۔ چھوٹا سر اور لمبی گردن رکھتا ہے جس سے اونچے اونچے درختوں کے پتے ت وڑ توڑ کر کھاتا ہے۔ اس کے پیٹ میں فانے ہوتے ہیں جن میں پانی بھر لیتا ہے اور پھر دس دن تک صحرا میں بھوکا پیاسا سفر کرسکتا ہے اور منوں بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ عربوں کو اپنی صحرائی زندگی میں اس سے خاص لگائو تھا۔ اس لئے خاص طور پر اس کی طرف توجہ دلائی گئی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:11) لا تسمع فیہا لاغیۃ۔ یہ جملہ جنت کی صفت ہے۔ لاتسمع مضارع منعی۔ واحد مذکر حاضر۔ تو (اے مخاطب) نہیں سنے گا۔ اس میں کوئی لغویات ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنۃ کے لئے ہے۔ لاغیۃ مفعول ہے لاتسمع کا۔ لغا یلغوا لغو ولاغیۃ بروزن فاعلۃ (باب نصر) مصدر ہے۔ بغیر سمجھے بوجھے بولنا۔ اول فول بکنا۔ لغو سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بھی ہے۔ بکواس ۔ بیہودہ بات۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–16

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 3) اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنا سے سات سو تک اور بعض نیکوں کا اس سے بھی زیادہ اجرپائیں گے تو اپنے نیک عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپرگذرچکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا، لیکن دوزخ کے مقابلے میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے ، اس لیے فی جنۃ عالیہ۔ فرمایا سورة بقرہ میں آیت ، اذ تبرالذین اتبعوا من الذین انتبعواگذرچ کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغوباتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہین گے اور نہ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–19

[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–15

ف 1۔ یعنی نہ اس میں تغذی ہے نہ سد جوع ہے اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر میں پریشان پھرنا اور دوزخ میں سلاسل و اغلال کو لادنا، دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اس کے اثر سے خستگی ظاہر ہے اور کھلوتا ہوا دشمہ وہی جس کو دوسری آیتوں میں حمیم فرمایا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کا بھی چشمہ ہوگا اور ضریع میں طعام کا حصر اضافی ہے یعنی اطعمہ مرغوبہ لذیذہ کی نفی مقصود ہے، پس زقوم و غسلین کے اثبات سے اس کا تعارض نہیں، یہ دوزخیوں کا حال ہوا۔ آگے اہل جنت کا حال ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس میں وہ کوئی فضول بات نہ سنیں گے 11 ؎ ( لا غیۃ) اسم فاعل مفرد مؤنث لا غی اسم فاعل مذکر ، بیہودہ ، لغو ، فحش ، ناکارہ بات لغو بیہودہ ، غلط بات ، ہر بیکار چیز ۔ اس جگہ (لا غیۃ) کا موصوف محذوف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ کلمۃ لا غیہ وہاں کوئی لغو بات ان کو سننے میں نہیں آئے گی نفسا ً لاغیۃ اور کسی بیہودہ گر سے ان کا واسطہ نہیں پڑے گا ۔ لغو کیا ہے ؟ سمجھ لنا چاہیے کہ ایک چیز نقصان دہ ہوتی ہے اور ایک چیز نفع بخش ہوتی ہے لیکن بعض چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو نہ نفع بخش ہوتی ہیں اور نہ ہی نقصان دہ اور ایسی باتوں کو لغو سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کو آسان زبان میں بےکار اور فضول سے موسوم کرتے ہیں اس لیے مومن کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً (in which they will not hear any absurd talk...88:11). It includes the words of disbelief, futile or idle talk, obscene language, calumny or false accusation, or any other talk that hurts people's feelings. On another occasion, the Qur'an puts it thus: لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا 'They will hear neither an absurd talk therein, nor something leading to sin, [ 56:25] This shows that false accusation and absurd talks are hurtful. That is why the Holy Qur'an has described it as a blessing to the inmates of Paradise that no such foolish words…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–13

5 This thing has been mentioned at several places in the Qur'an as a major blessing of Paradise. (For explanation, see E.N. 38 of Maryam, E.N. 18 of At-Tur, E.N. 13 of Al-Wiiqi`ah, E.N. 21 of An-Naba) .

Read the full tafseer →