وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ ۟ۙوَاِذَا الۡكَوَاكِبُ انْتَثَرَتۡ
اور جب تارے جھڑ پڑیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the stars fall, scattering,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ ۟ۙوَاِذَا الۡكَوَاكِبُ انْتَثَرَتۡ
اور جب تارے جھڑ پڑیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the stars fall, scattering,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Infitaar
اور جب تارے بکھر جائیں گے
اور جب تارے جھڑ پڑیں گے
اور جب ستارے جھڑ جائیں گے
اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔
اور جب تارے جھڑ پڑیں،
اور جب سیارے گر کر بکھر جائیں گے،
اور جب ستارے بکھر کر گر جائیں گے۔
اور ستارے بکھر کر گر پڑیں گے
اور جب کہ ستارے بکھر جائیں گے
اور جب ستارے بکھر جائیں گے
اور جب ستارے جھڑ پڑیں
اور جب تارے بکھر جائیں گے۔
اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔
when the stars are scattered,
and when the stars will disperse,
and when the stars will disperse,
And when the stars Intatharat.
When the planets are dispersed,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when the stars fall, scattering,
the stars are dispersed,
And when the stars become dispersed,
And when the stars shall be scattered,
When the Stars are scattered;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–12
اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الْاِنْفِطَار 1 سورۃ تکویر میں فرمایا گیا ہے کہ سمندروں میں آگ بھڑکا دی جائے گی، اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ سمندروں کو پھاڑ دیا جائے گا۔ دونوں آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے اور یہ بات بھی نگاہ میں رکھی جائے کہ قرآن کی رو سے قیامت کے روز ایک ایسا زبردست زلزلہ آئے گا جو کسی علاقے تک محدود نہ ہوگا بلکہ پوری زمین بیک وقت ہلا ماری جائے گی، تو سمندروں کے پھٹنے اور ان میں آگ بھڑک اٹھنے کی کیفیت ہماری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ پہلے اس عظیم زلزلے کی وجہ سے سمندروں کی تہ پھٹ جائے گی اور ان کا پانی زمین کے اس اندرونی حصے میں اترنے لگے لگا جہاں ہر وقت ایک بےانتہا گرم لاوا کھولتا رہتا ہے۔ پھر اس لاوے تک پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
خلاصہ تفسیر جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے (ٹوٹ کر) جھڑپڑیں گے اور جب سب دریا (شور اور شیریں) بہہ پڑیں گے (اور بہہ کر ایک ہوجاویں گے جیسا اوپر کی صورت میں سجرت کی تفسیر میں بیان ہوا ہے یہ تینوں واقعات تو نفخہ اولیٰ کے ہیں آگے نفخہ ثانیہ کے بعد کا واقعہ ہے یعنی) اور جب قبریں اکھاڑ دی جاویں گی (یعنی ان میں کے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت) ہر شخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال کو جان لیگا (اور ان واقعات کا مقتضی یہ تھا کہ انسان خواب غفلت سے بیدار ہوتا اس لئے آگے غفلت پر زجر و تنبیہ ہے کہ) اے انسان تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ بھول میں ڈال رکھا ہے جس نے تجھ کو (انسان) بنایا پھر تیرے…
Read the full tafseer →ستاروں کا نظام درہم برہم: ’اِنْتِثَارٌ‘ کے معنی بکھر جانے اور منتشر و پراگندہ ہو جانے کے ہیں۔ یعنی آج تو ستارے ایک غیر مرئی شیرازے میں پروئے ہوئے آسمان کی چھت میں قمقموں کی طرح ٹنکے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن اس دن یہ شیرازہ بکھر جائے گا اور وہ ٹوٹ ٹوٹ کر ادھر ادھر پراگندہ ہو جائیں گے۔ سابق سورہ میں ان کے بے نور ہو جانے کا ذکر ہوا ہے اس لیے کہ سورج کی بساط لپیٹ دیے جانے کے باعث نظام شمسی سے ان کا تعلق ختم ہو جائے گا، اس سورہ میں ان کے انتشار کا ذکر ہوا اس لیے کہ وہ شامیانہ ہی باقی نہیں رہے گا جس کی آرائش کے لیے ان کو آویزاں کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 1 یعنی اللہ کے حکم اور اس کی ہیبت سے پھٹ جائے گا اور فرشتے نیچے اتر آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اذا السمائ ........................ واخرت گزشتہ سورت میں ہم نے ان آثار کی بات کی تھی جو ان مظاہر کو دیکھ کر انسانی احساس پر نمودار ہوتے تھے ، یہ مناظر اس عظیم انقلاب سے متعلق تھے جو دست قدرت اس کائنات میں برپاکردے گا ، اس کائنات کو اس طرح ہلا مارا جائے گا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی اور اس عظیم کائنات کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا تھا کہ ان آثار میں سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس پوری کائنات سے اٹھ جاتا ہے اور انسان اپنا تعلق اس خالق حقیقی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو باقی اور لازوال ہے ۔ جو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ پوری کائنات ہلا ماری جائے گی۔ ان تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
13 یعنی سمندر کا پانی زمین پر زور کرے۔ آخر میٹھے اور کھاری سب پانی مل جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت 5{ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ۔ } ”اُس وقت ہر جان ‘ جان لے گی کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔“ اس دن ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا کیا اچھے یا برے اعمال آگے بھیجے تھے اور ان کے آثار و نتائج کی شکل میں کیا کچھ وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة القیامہ کی آیت 13 کے تحت بھی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو بتادیا جائے گا کہ اس نے کس شے کو آگے کیا تھا اور کس شے کو پیچھے رکھا تھا۔ یعنی دنیا اور آخرت میں سے اس نے کس کو مقدم رکھا تھا اور کس کو موخر کیا تھا۔ آیت کے…
Read the full tafseer →3 انتثار کا لغوی مفہوم :۔ اِنْتَثرَتْ : نثر ہراس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز سے جھڑ کر پراگندہ ہوجائے۔ اور انتثار ناک جھاڑنے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح ناک کی رطوبت کے اجزا نہایت بےترتیبی سے جھڑ کر زمین پر ادھر ادھر جا پڑتے ہیں بس یہی اس لفظ کا معنی ہے۔ نیز واضح رہے کہ یہ لفظ صرف غیر جاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ستاروں کی آپس میں باہمی کشش ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ نہایت بےترتیبی سے ادھر ادھر گرپڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ (یعنی سب ملک کر ایک دل ہوجائیں) یہ تینوں واقعات یعنی آسمان کا پھٹ جانا، ستاروں کا جھڑ پڑنا، سمندروں کا ابل نکلنا، صور قیامت کے نفخہ اول کے وقت ہوں گے۔ اور نظام آسمانی وزمینی کے درہم برہم ہونے کے مظہر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…
Read the full tafseer →واذا الکواب انتثرت اور جب ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) جب پروردگار کے نزول سے بغیر کسی کیفیت کے آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے زمین پر ٹوٹ گریں گے اور کھاری دریا اور میٹھے دریا بہہ کر ایک دوسرے میں مل جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(واذا البحار فجرت): یہاں فرمایا کہ سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے، پچھلی سورت میں فرمایا بھڑکائے جائیں گے، تو دونوں باتیں ہی حق ہیں، پہلے قیامت کے شدید زلزلوں سے ساری زمین جا بجا پھٹ جائے گی، سمندر درمیان میں حائل رکاوٹیں ختم ہونے سے ایک ہوجائیں گے، پھر ان میں آگ لگ جائے گی۔
Read the full tafseer →واذالکواکب انتثرت۔ ٹوٹ گریں گے یوں جملہ بولا جاتا ہے، نثرت الشی انثرہ نثر فانتثر، میں نے اسے گریا تو وہ گرگیا اس کا اسم نثار اسے کہتے ہیں جو کسی شی سے گرے درمنثر کثرت کی وجہ سے اسے مشدد پڑھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اذا السماء انفطرت جب آسمان پھٹ جائے یعنی پھٹ جائے گا۔
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ : اور جب ستارے جھڑ جائیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ان آیات میں بھی وقوع قیامت کے بعض احوال کا ذکر ہے، ارشاد فرمایا جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے جھڑ پڑیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے، یعنی دریائے شوروشیریں بہہ کر آپس میں ایک دوسرے سے مل جل جائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دیں جائیں گی یعنی ان میں سے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر شخص اپنے اعمال کو جان لے گا جو اس نے پہلے بھیجے اور بعد میں بھیجے (ان میں سے اول کے تین واقعات نفخہ اولیٰ سے اور چوتھا واقعہ نفخہ ثانیہ سے متعلق ہے) ۔ روح المعانی میں ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ003﴾ کے بارے میں لکھا ہے کہ جب سارے دریا میٹھے اور نمکین اکٹھے ہوجائیں گے تو زمین اس سارے پانی کو چوس لے گی اور زمین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
2:۔ ” اذا السماء انفطرت “ تخویف اخروی۔ حالات قیامت کا بیان سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی۔ آسمان پھٹ جائیگا یعنی چھیلا جانے کے بعد۔ ” واذا الکواکب انتثرت “ اور بےنور ہوجانے کے بعد تارے جھڑ جائیں گے۔ ” واذا البحار فجرت “ اور دریا بھر جانے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ ” واذا القبور بعثرت “ اور اہل قبور کو اٹھایا جائے گا۔ ” علمت نفس الخ “ جواب قسم ہے۔ جب قیامت قائم ہوجائیگی تو ہر نفس کو اپنے تمام اعمال خیر و شرکا علم ہوجائیگا، کیونکہ ہر شخص کو اس کا اعمالنامہ دیدیا جائے گا جسے پڑھ کر وہ سب کچھ معلوم کرلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(قیامت سب سے بڑا حادثہ ہوگا) تخلیق کائنات کی ابتداء سے لے کر اب تک جتنے واقعات پیش آچکے ہیں یا آئند ہ پیش آنے والے ہیں۔ ان میں قیامت کا واقعہ سب سے بڑا ہوگا۔ اسی قیامت کو القارعۃ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک حادثہ ہوگا جو کھٹکا دینے والا ہوگا۔ قیامت کا ایک نام واقعہ بھی ہے۔ کہ ایک واقعہ پیش آنے والا ہے۔ جب کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ اس طرح اسے الطامۃ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ یعنی سب سے زوردار حادثہ یا ہنگامہ تو گویا ان سورتوں میں مختلف اشیاء پر قیامت کے اثرات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ ہر شخص محاسبے کے لیے تیار رہے۔ (قرآن کریم کے ساتھ ربط) قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ 2 ۙ كب الْكَبُّ : إسقاط الشیء علی وجهه . قال عزّ وجل : فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ [ النمل/ 90] . والإِكْبَابُ : جعل وجهه مَكْبُوباً علی العمل . قال تعالی: أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلى وَجْهِهِ أَهْدى[ الملک/ 22] والکَبْكَبَةُ : تدهور الشیء في هوّة . قال : فَكُبْكِبُوا فِيها هُمْ وَالْغاوُونَ [ الشعراء/ 94] . يقال كَبَّ وكَبْكَبَ ، نحو : كفّ وكفكف، وصرّ الرّيح وصرصر . والکَوَاكِبُ : النّجوم البادية، ولا يقال لها كواکب إلّا إذا بدت . قال تعالی: فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَباً [ الأنعام/ 76] ، وقال : كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ اذا شرطیۃ السماء فاعل فعل محذوف یدل علیہ انفطرت و الجملۃ معطوفۃ علیھا واذا الکواکب الخ عطف علیھا وکذاما بعدھامن الجملتین علمت الجملۃ جواب الشرط نفس فاعل علمت ‘ ما قدمت و اخرت مفعول یقال بعثر 1 ؎ یبعثر بعثرۃ اذا قلب التراب وقال الفر 1 اء اخرجت مافیھا من الدفائن وذلک من اشراط القیامۃ ان تخرج الارض ذھبا وفض تھا۔ ؎ وبعثرو بحثر بمعنی واحد وھما مرکبان من البعث والبحث مع راء مضمومۃ الھما والمعنٰی ایثرت وقلب اسفلھا اعلاہا وباطنھا ظاہر ھاکبیر۔ 12 تفسیر ¦ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ نسائی نے روایت کی ہے کہ معاذ ؓ نے جب عشاء کی نماز میں بڑی سورة پڑھی…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْـکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ ۔ (الانفطار : 2) (اور جب ستارے بکھر جائیں گے۔ ) ستاروں کی پراگندگی انتثار کے معنی بکھر جانے، منتشر اور پراگندہ ہوجانے کے ہیں۔ آسمان کے پھٹ جانے کے بعد وہ شیرازہ بکھر جائے گا جس میں آج یہ ستارے ہمیں پروئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اور سورج کے بےنور ہوجانے اور اس کی بساط لپیٹ دیئے جانے کے بعد نظام شمسی سے ان کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ تو اس کے بعد پراگندگی اور انتشار کے سوا اور کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ جس غیرمرئی قوت سے وہ لٹک رہے تھے وہ بھی ختم ہوجائے گی۔ اور جس نظام شمسی سے ان کو روشنی مل رہی تھی اس سے تعلق ٹوٹ جانے سے وہ بجھ کر رہ جائیں گے۔ اس طرح سے ان کا وجود ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة التکویر میں قیامت سے پہلے دوسرے مرحلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن جنت اور جہنم لوگوں کے سامنے لائی جائیں گی اور ہر انسان جان لے گا کہ اس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ الانفطار کی ابتدا بھی قیامت کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی نشاندہی سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی اس وقت ہر انسان کو اپنا اگلا پچھلا کیا ہوا سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ اس وقت انسان کو یاد آئے گا کہ اس…
Read the full tafseer →2 : وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ ( اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے) انتثرتؔ گرپڑنا۔
Read the full tafseer →1 ۔” اذا السماء انفطرت “ جب آسمان پھٹ جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہوجائے گا۔ ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہوجائے گا جب سمندر بہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے قبریں شق کرکے اکھاڑ دی جائیں گی اور ان میں سے مردے نکال لیے جائیں گے اور ان اعمال کی جزا وسزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا پس اس وقت پر دہہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہوجائے گا جو چھپا ہوا تھا اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہوجائے گا تو وہ حسرت اور پیشمانی سے اپنے ہاتھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) ظہور قیامت کے احوال کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ظہور قیامت کے ابتدائی احوال کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آسمان پھٹ پڑے گا، ستارے منتشر ہوجائیں گے، اور سمندروں کو بہا دیا جائے گا "۔ یعنی ان کے بیچ کی رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گے، اور وہ پھیل پڑیں گے، اور میٹھے اور کھارے پانی کے یہ عظیم الشان ذخائر آپس میں گڈ مد ہوجائیں گے ( خازن، مدارک، محاسن وغیرہ) اور اس طرح یہ نظام درہم برہم ہوجائے گا جس میں اہل دنیا اس سے پہلے امن و سکون سے رہ بس رہے تھے، سو اس روز سمندر اپنی حدوں کو توڑ کر بہہ نکلیں گے اور موجودہ حدود وقیود سے آزاد و بےقید ہو کر ہر طرف بہہ نکلیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کا نقشہ تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
ف 3 یعنی جس کے ثواب یا عذاب کا سلسلہ اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا دوسرا مطل بیہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس کام کو بھی جان لیگا جو اس نے پہلے شروع عمر میں کیا اور اس کام کو بھی جان لیگا جو اس نے بعد میں آخری عمر میں کیا تیسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ اس فریضہ کو بھی جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا (یعنی اسے توشہ آخرت بنایا) اور اس فریضہ کو بھی جان لیگا جو اس نے موخر کیا (یعنی اسے بچا نہ لایا) ۔
Read the full tafseer →(82:2) واذا الکواکب انتثرت : انتثرت انتثار (افتعال) مصدر سے واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے مادہ ن ث ر سے۔ بمعنی جھڑجانا۔ نکھر جانا۔ پراگندہ ہونا۔ نثر ضد ہے نظم کی۔ کواکب جمع ہے کو کب کی بمعنی ستارے۔ اور جب ستارے بکھر جائیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 1) آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر بارش کی طرح جھڑ پڑنے کا حال اوپر گذرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] یعنی جو چیز زمین کی تہہ میں تھی اوپر آجائے گی اور مردے قبروں سے نکالے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟ 1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں…
Read the full tafseer →(2) اور جب ستارے جھڑ پڑیں۔
Read the full tafseer →اور جب ستارے جھڑ جائیں گے 1 ؎ (انتثرت) کا اصل مادہ ن ث ر ہے اور نثر کے معنی ہی پراگندہ ، بکھرا ہوا ، تتر بتر ۔ وہ عبادت جو منظوم نہ ہو۔ انتثار سے جس سے معنی بکھر جانے اور پراگندہ ہونے کے ہیں ، ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ( الکواکب) کو کب کی جمع ہے ، ستارے قیامت آنے کے وقت جو چیزیں مشاہدہ آئیں گی ان میں آسمانوں کو پھٹ جانا اور ستاروں کا جھڑجانا ، گر جانا ، ٹوٹ ٹوٹ کر ختم ہوجانا شامل ہے اور مکی سورتوں میں بار بار اس طرح کے اشارات و استعارات بیان کیے گئے ہیں کہیں مضمون کو قسمیں کھا کھا کر مؤکد کیا گیا ہے ، کہیں ایک بات کو بالکل سادہ طریقہ سے بیان کر کے حقیقت کو بالکل آسان لفظوں میں بیان کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 In Surah At-Takwir it has been said: "When the oceans are set ablaze," and here: "When the oceans are torn apart." When the two verses are read together, and this fact also is kept in view that even according to the Qur'an a terrible earthquake will occur on the Resurrection Day, which will shake up the entire earth alI at once, the state of the splitting of the oceans and their being set ablaze ' seems to be as follows: first, because of the terrible convulsion, the bottom of the oceans will split asunder and their water will start sinking into the interior of the earth where an intensely…
Read the full tafseer →