Al-Infitaar 82:1

82. Al-Infitaarالإنفطار

The Cleaving · Meccan · 19 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

82:1

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ ۟ۙاِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

When the sky breaks apart

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Infitaar

All translations of 82:1

جب آسمان پھٹ جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب آسمان پھٹ جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب آسمان پھٹ جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب کہ آسمان پھٹ جائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب آسمان پھٹ پڑے گا

— مولانا اسحاق مدنی

جب آسمان پھٹ جائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب آسمان پھٹ جائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

When the heaven is split asunder,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When the sky will be cleft asunder,

— Muhammad Taqi Usmani

When the sky will be cleft asunder,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When the heaven is cleft asunder (Infatarat).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When the sky breaks apart

— Saheeh International

When the heavens are rent asunder,

— Muhammad Sarwar

When the heaven becomes cleft asunder,

— Muhammad Habib Shakir

When the heaven shall be cleft,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 82:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18؀) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الْاِنْفِطَار 1 سورۃ تکویر میں فرمایا گیا ہے کہ سمندروں میں آگ بھڑکا دی جائے گی، اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ سمندروں کو پھاڑ دیا جائے گا۔ دونوں آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے اور یہ بات بھی نگاہ میں رکھی جائے کہ قرآن کی رو سے قیامت کے روز ایک ایسا زبردست زلزلہ آئے گا جو کسی علاقے تک محدود نہ ہوگا بلکہ پوری زمین بیک وقت ہلا ماری جائے گی، تو سمندروں کے پھٹنے اور ان میں آگ بھڑک اٹھنے کی کیفیت ہماری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ پہلے اس عظیم زلزلے کی وجہ سے سمندروں کی تہ پھٹ جائے گی اور ان کا پانی زمین کے اس اندرونی حصے میں اترنے لگے لگا جہاں ہر وقت ایک بےانتہا گرم لاوا کھولتا رہتا ہے۔ پھر اس لاوے تک پہنچ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

خلاصہ تفسیر جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے (ٹوٹ کر) جھڑپڑیں گے اور جب سب دریا (شور اور شیریں) بہہ پڑیں گے (اور بہہ کر ایک ہوجاویں گے جیسا اوپر کی صورت میں سجرت کی تفسیر میں بیان ہوا ہے یہ تینوں واقعات تو نفخہ اولیٰ کے ہیں آگے نفخہ ثانیہ کے بعد کا واقعہ ہے یعنی) اور جب قبریں اکھاڑ دی جاویں گی (یعنی ان میں کے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت) ہر شخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال کو جان لیگا (اور ان واقعات کا مقتضی یہ تھا کہ انسان خواب غفلت سے بیدار ہوتا اس لئے آگے غفلت پر زجر و تنبیہ ہے کہ) اے انسان تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ بھول میں ڈال رکھا ہے جس نے تجھ کو (انسان) بنایا پھر تیرے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اِنْفَطَارٌ‘ کے معنی پھٹ جانے اور شق ہو جانے کے ہیں۔ ظہور قیامت کے وقت آسمان پھٹ جانے کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ سورۂ انشقاق کی پہلی ہی آیت میں یہی مضمون ’اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ سورۂ رحمٰن کی آیت ۳۷ میں بھی لفظ ’اِنْشِقَاقٌ‘ استعمال ہوا ہے اور ’اِنْفَطَارٌ‘ و ’اِنْشِقَاقٌ‘ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ ایک نیا عالم نئے نوامیس کے ساتھ: قیامت کے بعد ایک بالکل نیا عالم، نئے نوامیس و قوانین کے تحت ظہور میں آئے گا اس وجہ سے اس عالم کہن کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس ٹوٹ پھوٹ کی شکل کیا ہو گی؟ اس کا صحیح تصور آج نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کی یاددہانی اس لیے فرمائی گئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

1۔ 1 یعنی اللہ کے حکم اور اس کی ہیبت سے پھٹ جائے گا اور فرشتے نیچے اتر آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

اذا السمائ ........................ واخرت گزشتہ سورت میں ہم نے ان آثار کی بات کی تھی جو ان مظاہر کو دیکھ کر انسانی احساس پر نمودار ہوتے تھے ، یہ مناظر اس عظیم انقلاب سے متعلق تھے جو دست قدرت اس کائنات میں برپاکردے گا ، اس کائنات کو اس طرح ہلا مارا جائے گا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی اور اس عظیم کائنات کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا تھا کہ ان آثار میں سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس پوری کائنات سے اٹھ جاتا ہے اور انسان اپنا تعلق اس خالق حقیقی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو باقی اور لازوال ہے ۔ جو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ پوری کائنات ہلا ماری جائے گی۔ ان تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

13 یعنی سمندر کا پانی زمین پر زور کرے۔ آخر میٹھے اور کھاری سب پانی مل جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

آیت 5{ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ۔ } ”اُس وقت ہر جان ‘ جان لے گی کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔“ اس دن ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا کیا اچھے یا برے اعمال آگے بھیجے تھے اور ان کے آثار و نتائج کی شکل میں کیا کچھ وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة القیامہ کی آیت 13 کے تحت بھی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو بتادیا جائے گا کہ اس نے کس شے کو آگے کیا تھا اور کس شے کو پیچھے رکھا تھا۔ یعنی دنیا اور آخرت میں سے اس نے کس کو مقدم رکھا تھا اور کس کو موخر کیا تھا۔ آیت کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اِنْفَطَرَتْ : فطر کے معنی کسی چیز کو لمبائی میں یوں پھاڑنا کہ اس میں شگاف پڑجائے اور فطور شگاف کے معنی میں آتا ہے۔ اس لحاظ سے انفطر کا معنی چِر جانا بھی درست ہے اور پھٹ جانا بھی۔ جو صورت بھی ہو اس سے آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (یعنی سب ملک کر ایک دل ہوجائیں) یہ تینوں واقعات یعنی آسمان کا پھٹ جانا، ستاروں کا جھڑ پڑنا، سمندروں کا ابل نکلنا، صور قیامت کے نفخہ اول کے وقت ہوں گے۔ اور نظام آسمانی وزمینی کے درہم برہم ہونے کے مظہر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–19

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–3

(1۔ 3) جب پروردگار کے نزول سے بغیر کسی کیفیت کے آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے زمین پر ٹوٹ گریں گے اور کھاری دریا اور میٹھے دریا بہہ کر ایک دوسرے میں مل جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(واذا البحار فجرت): یہاں فرمایا کہ سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے، پچھلی سورت میں فرمایا بھڑکائے جائیں گے، تو دونوں باتیں ہی حق ہیں، پہلے قیامت کے شدید زلزلوں سے ساری زمین جا بجا پھٹ جائے گی، سمندر درمیان میں حائل رکاوٹیں ختم ہونے سے ایک ہوجائیں گے، پھر ان میں آگ لگ جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اذالسماء انفطرت۔۔ تا۔۔۔۔ واخرت۔ اذالسماء انفطرت۔ جب آسمان اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھٹ جائے گا تاکہ فرشتے اتریں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے، ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزیلا۔ الفرقان) جس روز آسمان بادل کی صورت میں پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل ہوں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے پھٹ جائے گا فطر کا معنی پھاڑنا ہے یوں جملہ بولا جاتا ہے، فطرتہ فانفطر میں نے اسے پھاڑا تو وہ پھٹ گیا۔ اس معنی میں فطرنا البعیر ہے ھو بعیر فاطر۔ ایسا اونٹ جس کی ناب نکل آئی ہے تفطر الشئی پھٹ گئی، سیف فطار جس میں پھٹنیں ہوں۔ عشرہ نے کہا : وسیفی کالعقیقۃ وھو کمعی، سلاحی لا افل ولافطارا۔ میری تلوار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اذا السماء انفطرت جب آسمان پھٹ جائے یعنی پھٹ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذَا السَّمَاۗءُ انفَطَرَتْ : جب آسمان پھٹ جائے گا ] نوٹ۔ 1: ظہورِ قیامت کے وقت آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا۔ دراصل قیامت کے بعد ایک بالکل نیا عالم نئے قوانین کے تحت ظہور میں آئے گا، اس وجہ سے اس عالم کہن کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس ٹوٹ پھوٹ کی شکل کیا ہوگی، اس کا صحیح تصور آج نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کی یاد دبانی اس لیے فرمائی گئی ہے کہ لوگوں کو جھنجھوڑا جائے کہ قیامت کی ہلچل ایسی ہوگی کہ یہ محکم چھت (یعنی آسمان) جس میں تم ڈھونڈے سے بھی کوئی رخنہ نہیں پاسکتے، بالکل رخنہ ہی رخنہ اور شگاف ہی شگاف بن کر رہ جائے گی۔ یہاں اس الجھن میں اپنے دماغ کو مت ڈالیئے کہ یہ آسمان جو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

ان آیات میں بھی وقوع قیامت کے بعض احوال کا ذکر ہے، ارشاد فرمایا جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے جھڑ پڑیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے، یعنی دریائے شوروشیریں بہہ کر آپس میں ایک دوسرے سے مل جل جائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دیں جائیں گی یعنی ان میں سے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر شخص اپنے اعمال کو جان لے گا جو اس نے پہلے بھیجے اور بعد میں بھیجے (ان میں سے اول کے تین واقعات نفخہ اولیٰ سے اور چوتھا واقعہ نفخہ ثانیہ سے متعلق ہے) ۔ روح المعانی میں ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ003﴾ کے بارے میں لکھا ہے کہ جب سارے دریا میٹھے اور نمکین اکٹھے ہوجائیں گے تو زمین اس سارے پانی کو چوس لے گی اور زمین پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–5

2:۔ ” اذا السماء انفطرت “ تخویف اخروی۔ حالات قیامت کا بیان سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی۔ آسمان پھٹ جائیگا یعنی چھیلا جانے کے بعد۔ ” واذا الکواکب انتثرت “ اور بےنور ہوجانے کے بعد تارے جھڑ جائیں گے۔ ” واذا البحار فجرت “ اور دریا بھر جانے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ ” واذا القبور بعثرت “ اور اہل قبور کو اٹھایا جائے گا۔ ” علمت نفس الخ “ جواب قسم ہے۔ جب قیامت قائم ہوجائیگی تو ہر نفس کو اپنے تمام اعمال خیر و شرکا علم ہوجائیگا، کیونکہ ہر شخص کو اس کا اعمالنامہ دیدیا جائے گا جسے پڑھ کر وہ سب کچھ معلوم کرلے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

(قیامت سب سے بڑا حادثہ ہوگا) تخلیق کائنات کی ابتداء سے لے کر اب تک جتنے واقعات پیش آچکے ہیں یا آئند ہ پیش آنے والے ہیں۔ ان میں قیامت کا واقعہ سب سے بڑا ہوگا۔ اسی قیامت کو القارعۃ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک حادثہ ہوگا جو کھٹکا دینے والا ہوگا۔ قیامت کا ایک نام واقعہ بھی ہے۔ کہ ایک واقعہ پیش آنے والا ہے۔ جب کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ اس طرح اسے الطامۃ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ یعنی سب سے زوردار حادثہ یا ہنگامہ تو گویا ان سورتوں میں مختلف اشیاء پر قیامت کے اثرات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ ہر شخص محاسبے کے لیے تیار رہے۔ (قرآن کریم کے ساتھ ربط) قرآن کریم کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذَا السَّمَاۗءُ انْفَطَرَتْ۝ 1 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ اذا شرطیۃ السماء فاعل فعل محذوف یدل علیہ انفطرت و الجملۃ معطوفۃ علیھا واذا الکواکب الخ عطف علیھا وکذاما بعدھامن الجملتین علمت الجملۃ جواب الشرط نفس فاعل علمت ‘ ما قدمت و اخرت مفعول یقال بعثر 1 ؎ یبعثر بعثرۃ اذا قلب التراب وقال الفر 1 اء اخرجت مافیھا من الدفائن وذلک من اشراط القیامۃ ان تخرج الارض ذھبا وفض تھا۔ ؎ وبعثرو بحثر بمعنی واحد وھما مرکبان من البعث والبحث مع راء مضمومۃ الھما والمعنٰی ایثرت وقلب اسفلھا اعلاہا وباطنھا ظاہر ھاکبیر۔ 12 تفسیر ¦ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ نسائی نے روایت کی ہے کہ معاذ ؓ نے جب عشاء کی نماز میں بڑی سورة پڑھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ ۔ (الانفطار : 1) (جب آسمان پھٹ جائے گا۔ ) انفطار کا معنی پھٹ جانا اور شق ہوجانا ہے۔ سورة الانشقاق میں اِذَاالسَّمَائُ اَنْشَقَّتْ فرمایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انفطار و انشفاق دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ نفخہ اولٰی کے بعد آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر اس پھٹ جانے کی کیفیت کیا ہوگی، اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ لیکن اتنی بات واضح ہے کہ وہ گنبدبے در جو ہمارے سروں پر چھایا ہوا ہے اور جسے سقف نیلگوں بھی کہتے ہیں اور جس میں کہیں کوئی شگاف نظر نہیں آتا، قیامت کے روز یہ پھٹ جائے گا اور شق ہوجائے گا۔ اور اس میں جگہ جگہ شگاف دیکھنے والوں کو نظر آئیں گے۔ آج ہمارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة التکویر میں قیامت سے پہلے دوسرے مرحلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن جنت اور جہنم لوگوں کے سامنے لائی جائیں گی اور ہر انسان جان لے گا کہ اس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ الانفطار کی ابتدا بھی قیامت کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی نشاندہی سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی اس وقت ہر انسان کو اپنا اگلا پچھلا کیا ہوا سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ اس وقت انسان کو یاد آئے گا کہ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

احوالِ قیامت : 1 : اِذَا السَّمَآ ئُ انْفَطَرَتْ (جب آسمان پھٹ جائے گا) انفطرتؔ پھٹ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہوجائے گا۔ ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہوجائے گا جب سمندر بہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے قبریں شق کرکے اکھاڑ دی جائیں گی اور ان میں سے مردے نکال لیے جائیں گے اور ان اعمال کی جزا وسزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا پس اس وقت پر دہہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہوجائے گا جو چھپا ہوا تھا اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہوجائے گا تو وہ حسرت اور پیشمانی سے اپنے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

(1) ظہور قیامت کے احوال کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ظہور قیامت کے ابتدائی احوال کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آسمان پھٹ پڑے گا، ستارے منتشر ہوجائیں گے، اور سمندروں کو بہا دیا جائے گا "۔ یعنی ان کے بیچ کی رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گے، اور وہ پھیل پڑیں گے، اور میٹھے اور کھارے پانی کے یہ عظیم الشان ذخائر آپس میں گڈ مد ہوجائیں گے ( خازن، مدارک، محاسن وغیرہ) اور اس طرح یہ نظام درہم برہم ہوجائے گا جس میں اہل دنیا اس سے پہلے امن و سکون سے رہ بس رہے تھے، سو اس روز سمندر اپنی حدوں کو توڑ کر بہہ نکلیں گے اور موجودہ حدود وقیود سے آزاد و بےقید ہو کر ہر طرف بہہ نکلیں گے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

قیامت کا نقشہ تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

“2 یعنی اللہ تعالیٰ کی بیبت سے یا فرشتوں کے اترنے کے لئے پھٹ جائے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ” یوم تشق السمآء بالغمام و نزل الملائکہ تنزیلاً اور جس دن بادل کے ساتھ آسمان پھٹے گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتارے جائیں گے۔ (فرمان :25)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(82:1) اذا : جب ، ناگہاں، جب، اس وقت۔ ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے۔ کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے واذا رأوا تجارۃ او لھوا ن انفضوا الیہا (62:11) اور بعض (لوگوں) نے جب دیکھا کسی تجارت یا تماشا کو تو بکھر گئے اس طرف، اگر قسم کے بعد واقع ہو تو پھر زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسے والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے اذا اکثر و بیشتر شرط ہوتا ہے مگر مفاجات (کسی چیز کے اچانک پیش آجانے) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے یہاں اس آیت میں بمعنی جب (شرطیہ) مستعمل ہے۔ انفطرت : ماضی واحد مؤنث غائب انفطار (انفعال) مصدر سے ۔ وہ پھٹ گئی وہ چر گئی۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل آیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

(ف 1) آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر بارش کی طرح جھڑ پڑنے کا حال اوپر گذرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] یعنی جو چیز زمین کی تہہ میں تھی اوپر آجائے گی اور مردے قبروں سے نکالے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–9

تم فریب نفس میں کیوں مبتلا ہوئے ؟ 1: علامات قیامت کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ہر شخص اپنے کئے ہوئے کو دیکھے گا اور معلوم کرلے گا کہ اس نے اپنی نجات کے لئے اعمال کی پونجی کیا آگے بھیجی ہے اور کن فرائض اور واجبات کو اس نے ادا نہیں کیا اور ان میں پیچھے رہ گیا ۔ پھر منکر و سرکش انسان سے پوچھا ہے کہ تیرے پاس اس دن کے لئے کیا تحفہ ہے ؟ تجھ کو آخر رب کریم کے باب میں کس چیز نے خداع نفس اور بھول میں مبتلا کررکھا ہے ؟ کیا اس کی ربوبیت اور گرم ونوازش نے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں مستحق ہے ؟ مگر تم نے کبھی سوچا ہے کہ صرف تو ہی اس کا کیوں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب آسمان پھٹ جائے گا 1 ؎ (انفطرت) کا اصل مادہط ر ہے اور اس کے معنی ہیں پھٹ گئی ۔ انفطار سے جس کے معنی پھٹنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ کسی تعمیر کی خرابی کا وقت آتا ہے تو وہ اس کو چھتوں ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آپ نے اگر کبھی سیر و تفریح کی ہے تو وہ قلعے اور خانقاہیں ، بارہ دریاں ، سہ دریاں اور دوسرے بڑے بڑے محلات پر اگر کبھی نظر پڑی ہوگی تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ فی الحقیقت واقعہ ہے کہ تعمیر کا وقت ہے تو پہلے دیواریں اور تخریب کا وقت آئے تو پہلے چھتوں کی باری آتی ہے۔ اس ترتب سے اس دنیا کے نظام کو فنا کرنے کے لے بھی شاید ضروری قرار دیا گیا ہے اور یہ بات حقیقت بھی ہے کہ جہاں مشاہدہ ہو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 In Surah At-Takwir it has been said: "When the oceans are set ablaze," and here: "When the oceans are torn apart." When the two verses are read together, and this fact also is kept in view that even according to the Qur'an a terrible earthquake will occur on the Resurrection Day, which will shake up the entire earth alI at once, the state of the splitting of the oceans and their being set ablaze ' seems to be as follows: first, because of the terrible convulsion, the bottom of the oceans will split asunder and their water will start sinking into the interior of the earth where an intensely…

Read the full tafseer →