وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآىِٕبِیْنَ ۟ؕوَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآئِبِيۡنَؕ
اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And never therefrom will they be absent.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآىِٕبِیْنَ ۟ؕوَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآئِبِيۡنَؕ
اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And never therefrom will they be absent.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Infitaar
اور اُس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے
اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے
وه اس سے کبھی غائب نہ ہونے پائیں گے
اور وہ اس سے غائب نہیں ہوسکتے۔
اور اس سے کہیں چھپ نہ سکیں گے،
اور وہ اس (دوزخ) سے (کبھی بھی) غائب نہ ہو سکیں گے،
اور وہ اس سے کبھی غائب ہونے والے نہیں ہیں۔
اور جہنم سے غائب نہ رہ سکیں گے
اور پھر اس سے وہ اوجھل ہونے والے نہیں
اور وہ اس سے کہیں جانے نہ پائیں گے
اور (پھر) اس سے باہر نہ ہوں گے۔
اور وہ اس سے کہیں غائب نہیں ہو سکیں گے۔
اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے
and then shall never come out of it.
and they will not (be able to) keep away from it.
and they will not (be able to) keep away from it.
And they will not be absent therefrom.
And will not be absent thence.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And never therefrom will they be absent.
to burn therein.
And they shall by no means be absent from it.
And thence they shall not be allowed to be absent.
And they will not be able to keep away therefrom.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 13–19
ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
سورة الْاِنْفِطَار 8 یعنی کسی کی وہاں یہ طاقت نہ ہوگی کہ وہ کسی شخص کو اس کے اعمال کے نتائج بھگتنے سے بچا سکے۔ کوئی وہاں ایسا با اثر یا زور آور یا اللہ کا چہیتا نہ ہوگا کہ عدالت خداوندی میں اڑ کر بیٹھ جائے اور یہ کہہ سکے کہ فلاں شخص میرا عزیز یا متوسل ہے، اسے تو بخشنا ہی ہوگا، خواہ یہ دنیا میں کیسے ہی برے افعال کر کے آیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَاۗىِٕبِيْنَ ، یعنی جہنمی لوگ کسی وقت جہنم سے غائب نہ ہوسکیں گے کیونکہ ان کے لئے خلود اور دائمی عذاب کا حکم ہے لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا، یعنی کوئی شخص با ختیار خود کسی دوسرے کو محشر میں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ کسی کی تکلیف کو کم کرسکے گا، اس سے شفاعت کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ شفاعت کسی کی اپنے اختیار سے نہ ہوگی جب تک کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی کی شفاعت کی اجازت نہ دیں، اس لئے اصل حکم کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ ہی اپنے فضل سے کسی کو شفاعت کی اجازت دیدے اور پھر شفاعت قبول فرمالے تو وہ بھی اسی کا حکم ہے، واللہ اعلم تمت سورة الانفطار بحمد اللہ لیلة…
Read the full tafseer →’وَمَا ہُمْ عَنْہَا بِغَائِبِیْنَ‘ کا اصل مدعا وہی ہے جو دوسرے مقامات میں ’خَالِدِیْنَ فِیْھَا اَبَدًا‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ جگہ پسند نہ آئی تو وہاں سے فرار کی کوئی راہ ڈھونڈ لیں گے وہ یہ خیال دل سے نکال دیں۔ اس میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلنے کے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
15۔ 1 یعنی جس دن جزا و سزا کے دن کا وہ انکار کرتے تھے اسی دن جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں داخل ہونگے،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
3: اس سے مراد فرشتے ہیں جو انسان کے سارے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں، اور اسی سے اس کا اعمال نامہ تیار ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →وماھم عنھا بغئبین (16:82) ” اور وہ اس سے ہرگز غائب نہ ہوسکیں گے “۔ نہ آغاز فیصلہ میں یہ غائب ہوں گے اور نہ معافی کے ذریعہ جہنم سے نکل سکیں گے۔ یوں ابرار اور فجار کی حالت ایک دوسرے کے عین بالمقابل اور متضاد ہوگی۔ جنت اور جہنم کے حالات بھی باہم متضاد اور بالمقابل ہوں گے۔ جبکہ اہل جہنم کے حالات اور دردو جہنم کو ذرا تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ اصل موضوع یہ تھا کہ یہ لوگ قیامت کے حساب و کتاب کے منکر تھے اور تکذیب کرتے تھے۔ لہٰذا اس دن کے واقعات بیان کرنے کے بعداس دن کی ہولناکیوں اور خوفناکیوں کو دوبارہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس دن کو وہ مکمل طور پر بےبس ہوں گے۔ کسی کے لئے کوئی چارہ نہ ہوگا اور کسی جانب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
8 یعنی نہ بھاگ کر اس سے الگ رہ سکتے ہیں نہ داخل ہونے کے بعد کبھی نکل کر جاسکتے ہیں۔ ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
آیت 16{ وَمَا ہُمْ عَنْہَا بِغَـآئِبِیْنَ۔ } ”اور وہ اس سے کہیں غائب نہیں ہو سکیں گے۔“ ظاہر ہے جہنم سے بھاگ نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہوگا اور نہ ہی کسی میں بھاگ جانے کی طاقت ہوگی۔
Read the full tafseer →11 یعنی نہ اس سے بھاگ کر کسی اور جگہ پناہ لے سکیں گے اور نہ جہنم میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے نکل سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
7۔ (اور ہمیشہ ہمیش اسی میں رہیں گے) یہ نص ہے دوزخ کے دوام وخلود پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…
Read the full tafseer →وما ھم عنھا بغائبین اور اس سے غائب نہیں ہوں گے۔ ھم کی ضمیر بعض فجار کی طرف راجع ہے اور بعض الفجار سے کافر مراد ہیں ‘ یا آیت مذکورہ بالا میں الفجار کا لفظ ہے ‘ اس سے مراد ہی کافر ہیں (کیونکہ الفجار میں لام عہدی ہوگا اور سعہود وہی فجار ہوں گے جو یوم دین کی تکذیب کرتے ہیں یعنی کافر) ۔ جحیم سے غائب نہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے یا یہ معنی ہے کہ وہ پہلے ہی اس سے غائب نہ تھے یا یہ مطلب ہے کہ قبروں میں بھی دوزخ کی گرم ہوا ان کو پہنچتی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی مرجاتا ہے تو صبح و شام اسکی جگہ اسکے سامنے لائی جاتی ہے ‘ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(14۔ 16) اور کافر مثلا کلد وغیرہ دوزخ میں ہوں گے اور روز جزا کو اس میں داخل ہوں گے اور داخل ہونے کے بعد پھر اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(وما ادرک ما یوم الدین…:) قیامت کی عظمت و اہمیت ذہن میں بٹھانے کے لئے سوال اور پھر تکرار سوال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ان الابرار لفی نعیم۔۔۔ تا۔۔۔ یومئذللہ۔ ان الابرارلفی نعیم، وان الفجار لفی جحیم۔ یہ اسی طرح تقسیم ہے جس طرح یہ تقسیم ہے، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ الشوری) ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک جماعت جہنم میں ہوگی اسی طرح ارشاد فرمایا، یومئذ یصدعون، الروم، فامالذین امنو، البقرہ 26 ) یصلونھا یوم الدین۔ انہیں جہنم کی لپک اور گرمی پہنچے گی، یوم الدین سے مراد یوم جزا ہے اس کا ذکر مکرر کیا تاکہ اس کی عظمت شان کا اظہار ہو جس طرح اس ارشاد میں ہے، القارعۃ ما القارعہ، وما ادراک ما القارعہ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں وما ادراک کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے ان امور سے نبی کریم کو آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
جنابت کے وقت اور غسل کے وقت۔ 27۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے ایک آدمی کو کھلی زمین میں ننگا غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا اما بعد اللہ سے ڈروا اور ان کراماکاتبین فرشتوں کی عزت و تکریم کرو جو تمہاے ساتھ ہیں تم سے جدا نہیں ہوتے مگر دو حالتوں میں سے ایک حالت میں ایک وہ حالت جب آدمی بیت الخلاء میں ہوتا ہے اور دوسری وہ حالت جب بندہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا ہے یعنی ہم بستری میں ہوتا ہے اور وہ معزز ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام رکھا۔ پس تم میں سے ہر کوئی دیوار یا اپنے اونٹ کے وجود کے ساتھ بھی ایسی…
Read the full tafseer →[وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَاۗىِٕبِيْنَ : اور وہ لوگ اس (جہنم) سے چھپنے والے نہیں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
﴿كَلَّا﴾ (ہرگز نہیں ! ) یعنی نفس و شیطان کے دھوکہ میں نہ آئیں دھوکہ میں پڑنا اپنی خیر خواہی کے خلاف ہے اور اس سے بڑھ کر تمہارا اپنی جانوں پر یہ ظلم ہے کہ تم جزا اور سزا ہی کو جھٹلاتے ہو (اور یہ سمجھتے ہو کہ کوئی مواخذہ اور محاسبہ ہونا ہی نہیں ہے) حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں جو معزز ہیں (اللہ کے نزدیک مکرم ہیں) اور تمہارے اعمال کو لکھنے والے ہیں اور تم جو کام کرتے ہو وہ ان کو جانتے ہیں (لہٰذا تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرو اور گناہوں سے بچو) ۔ اس کے بعد قیامت کے دن کی جزا اور سزا کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔ ﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ0013﴾ (بلاشبہ نیک لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
6:۔ ” وان الفجار “ یہ تخویف اخروی ہے اور اللہ کے نافرمان اور اس کی حدود کو توڑنے والے دوزخ میں ہوں گے قیامت کے دن فصلِ جزاء اور سزا کے بعد وہ اس میں داخل ہوں گے۔ ” وما ھم عنہا بغائبین “ یہ حالت قیامت سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی ہے۔ دوزخی دوزخ میں اپنے اپنے مقامات میں پہنچ جانے کے بعد ایک لحظہ بھی غائب نہیں ہوسکیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے انسان پر کیے الذی خلقک “ اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کے ساتھ مغرور کیا ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ، فسوک ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا ” فعدلک “ پھر برابر کیا۔ تمام اعضاء اور جوڑوں کو درست کیا۔ ان میں تناسب رکھا۔ عقل ، شعور ، اخلاق ، مزاج تمام قوی مہیا کئے اور پھر جس قسم کی چاہی صورت بخشی۔ ان تمام حقائق کے باوجود تم اپنے رب سے کیوں روگردانی کرتے ہو۔ اور قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو۔ (انصاف کا دن) فرمایا خبردار ! بل تکذبون بالدین بلکہ تم انصاف کو جھٹلاتے ہو۔ تم سمجھتے ہو۔ کہ یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا۔ ہرگز…
Read the full tafseer →وَمَا ہُمْ عَنْہَا بِغَاۗىِٕبِيْنَ 16 ۭ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
ترکیب ¦ ان الابرار الجملۃ وما ہو معطوف علیھا اعنی الجملتہ الثانیہ مستانفۃ لبیان نتیجہ الحفظ والکتاب من الثواب والعذاب یصلونھا الجملۃ اما صفۃ لجحیم اومستانفۃ جواب لسوال مقدر کانہ قیل ماحالھم فقال یصلونھا الخ وقیل حال من الضمیر فی متعلق الجار والمجرور ویوم منصوب بیصلون قراء الجمہور مخففا مبنیاللفاعل وقریٔ مشدد مبنیا للمفعول وماھم الخ وھذہ الجملۃ ایضا صفۃ لحجیم وما ادراک تفخیم لشان یوم الدین ولذاکرہ یوم لا تملک قریٔ یوم بالرفع قرء ھا ابن کثیر وابو عمرو علی انہ بدل من یوم الدین او خبر مبتداء محذوف وقراء ابو عمروفی روایۃ عنہ بالتنوین والقطع عن الاضافۃ وقراء الباقون بفتحہ وفیہ وجوہ الاول باضما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
یَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآئِبِیْنَ ۔ (الانفطار : 15، 16) (وہ جزاء کے دن اس میں داخل ہوں گے۔ اور پھر اس سے وہ غائب ہونے والے نہیں۔ ) گزشتہ آیت میں فرمایا کہ نیک لوگ عیش میں ہوں گے اور برے لوگ جہنم میں۔ پیش نظر آیت میں دنیا میں عیش کی زندگی گزارنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اصل حقیقت یہی ہے کہ آرام اور عیش نیکی کی جزاء ہے۔ اور سزا بدی کی۔ لیکن یہاں لوگوں نے اسے الٹ سمجھ رکھا ہے۔ جزاء کا دن چونکہ انصاف کا دن ہوگا اس لیے اس دن تمام نابکار اور بدکار جہنم میں داخل ہوں گے۔ اور یہ چونکہ مہلت عمل ختم ہونے کے بعد جزاء کی دنیا ہوگی اس لیے وہاں سے انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
فہم القرآن ربط کلام : انسان جو کچھ کرتا ہے فرشتے اسے اس کے اعمال نامے میں درج کرتے ہیں۔ خوش قسمت انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور بدقسمت لوگ اپنے برے اعمال کرنے کی وجہ سے جہنم میں سزا پائیں گے۔ پچھلی آیات میں ذکر ہوا کہ انسان جو کچھ کرتا ہے کراماً کاتبین اسے لکھتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کراماً کاتبین کو یہ صلاحیت عطا فرمائی کہ وہ نہ صرف انسان کا دن رات میں کیا ہوا ہر عمل ضبط تحریر میں لاتے ہیں بلکہ انسان جو عمل جس نیت کے ساتھ کرتا ہے اسے بھی اس کے عمل کے ساتھ درج کرلیتے ہیں۔ جس کا عقیدہ اور عمل ٹھیک ہوگا اسے جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا اور جن کا عقیدہ اور…
Read the full tafseer →16 : وَمَا ھُمْ عَنْہَا بِغَآئِبِیْنَ (اور وہ اس سے باہر نہ ہونگے) یعنی جہنم سے نکالے نہ جائیں گے جیسا ارشاد فرمایا : وماھم بمخرجین منھا ] المائدہ : 37[
Read the full tafseer →16 ۔” وما ھم عنھا بغائبین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
13۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کو نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دو دفعہ ذکر فرما کر یہ جتلا دیا کہ اس دن کے عذاب سے بغیر مرضی الٰہی کوئی کسی کو چھوڑا نہیں سکتا کیونکہ دنیا کی طرح اس دن اللہ تعالیٰ کے رو برو بیجا سفارش کرنے کا کسی کا مقدور نہیں اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لئے کہ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل…
Read the full tafseer →(وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَاۗىِٕبِيْنَ ) اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔
Read the full tafseer →(16) منکرین کے لیے دوزخ کا عذاب دائمی، والعیاذ باللہ العظیم : سو ایسے بدبختوں کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ وہاں سے کبھی کہیں غائب بھی نہیں ہوسکیں گے "۔ تاکہ اس طرح اس کا عذاب سے کسی قدر چھٹکارا پاس کیں۔ بلکہ یہ ہمیشہ اسی عذاب میں غلطاں و بیچاں رہیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ( البقرہ 167 پ 2) والعیاذ باللہ العظیم۔ سو " وماھم عنھا بغائبین " یعنی اس روز نہ ظالموں کے لیے دوست ہوگا، اور نہ ہی کوئی ایسا سفارشی جس کی بات مانی جائے، پس ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگتنا ہوگا، کا اصل مدعا وہی ہے جو دوسرے مقامات پر " خلدین فیھا ابدا "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
اللہ کے انصاف کا دن تشریح : جب ہمیں اللہ کی تمام قدرتوں، عظمتوں اور طاقتوں کا پوری طرح علم ہوگیا اور ہمیں اپنے بارے میں بھی خوب اچھی طرح علم ہوگیا تو اب اس دن کی تیاری کو مد نظر رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے جس کا ذکر بار بار تفصیلاً کیا گیا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انسان پھر بھی بھول جاتا ہے۔ اللہ جس قدر رحیم و کریم ہے اسی قدر حساب لینے اور بدلہ دینے میں جبار و قھار بھی ہے اور بڑے انصاف سے بدلہ دینے والا ہے۔ اسی لیے تو اس نے ہمارے اعمال کے اندراج کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں تاکہ ہم خود اپنے اعمال کو دیکھ کر اپنا انجام قبول کریں۔ جنت یا دوزخ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی کچہری دنیا کی کچہری کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 10 ” بلکہ ہمیشہ اس میں رہیں گے “ دوزخ سے غائب ہونے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے بھی اس سے جدا نہ تھے بلکہ برزخی زندگی میں بھی اس کی کچھ نہ کچھ گرمی نہیں لگتی رہتی تھی۔
Read the full tafseer →(82:16) وما ہم عنھا بغائبین یہ جملہ بھی جحیم کی صفت ہے (تفسیر حقانی) ایسا دوزخ جس سے وہ کبھی باہ رنہ نکلیں گے۔ ما نافیہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع الجحیم ہے۔ غائبین غیاث (باب ضرب) مصدر ضمیر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ غائب ہونے والے۔ چھپ جانے والا۔ پوشیدہ ہونے والے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ فجار کے لئے ہے۔ اور وہ فاجر لوگ کبھی دوزخ سے غائب نہ ہوں گے۔ یعنی ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ہم ضمیر الفجار کی طرف راجع ہے۔ اس میں الف لام عہد کا ہے اور معبود وہی تھا جو یوم دین کی تکذین کرتے ہیں یعنی کافر۔ (تفسیر مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اس سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کی نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی، اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا، پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دودفعہ ذکر فرماکریہ جتلادیا کہ اس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی بات کا مالک نہ ہوگا، یعنی کافروں کی کوئی سفارش نہ کرسکے گانہ ان کو نجات دلاسکے گا، اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لیے صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان گناہ گاروں میں سے جس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
[8] یہ سوال روز جزا کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لئے ہے اور اس کی تکرار نے اسے مزید پر ہول بنادیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
ف 1: اس میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے جو سرکشی اور عناد کا وتیرہ اختیار کررکھا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رشدوہدایت کے استفادہ کے مواقع عنایت نہیں فرمائے ہیں یا عقل و دانش اس راہ میں حائل ہے اور نیک نیتی کے ساتھ اسلام کے حقائق کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے ۔ بلکہ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ اصول مکافات ععمل کے قائل نہیں ہیں ۔ قیامت اور جزاوسزا کو نہیں تسلیم کرتے ۔ اس لئے دین کی قدر و قیمت ہی ان کے دلوں سے اٹھ گئی ہے اور اب یہ اس قابل نہیں رہے کہ ان معارف پر غور کرسکیں ۔
Read the full tafseer →(16) اور یہ لوگ اس جہنم سے کہیں غائب نہ ہوسکیں گے۔ یہاں اہل جنت اور اہل جہنم کی تقسیم بڑے ہی مختصرالفاظ میں فرمائی سورة والنازعات میں فاما من طغیٰ الخ فرمایا تھا یہاں محض ابرار اور فجار فرمایا، یعنی نیک لوگ جزا کی دن جنت میں اور بدکردار یعنی کافر جہنم میں ہوں گے۔ یہ کافر اس جہنم میں جزا کے دن داخل ہوں گے اور داخل ہونے کے بعد اس جہنم سے جدا نہ ہوسکیں گے اور کہیں چھپ نہ سکیں گے یعنی ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے آگے یوم الدین کی تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ف 1۔ یعنی باوجود اشتراک خلق و تسویہ و تعدیل کے پھر الگ الگ طور پر پیدا کیا، ماغرک سے پہلے معاد کا اور اس کے بعد مبدا کا ذکر اشارہ ہے کہ گو امر مانع اغترار ہو پھر بھی غرور سے باز نہیں آتا اور کریم کی صفت میں تلقین حجت نہیں، بلکہ تقویت ہے مانع کی یعنی کریم ہونا مقتضی ہے کہ اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔
Read the full tafseer →اور اس سے غائب نہ ہو سکیں گے 16 ؎ دوزخ ایسا مقام نہیں ہے کہ وہاں کوئی آدمی خوشی سے رہنے کے لیے تیار ہو اور جہاں آدمی کو مجبور اً رکھا جائے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ کوئی صورت اس کی نکل آئے کہ میں یہاں سے نکل جائوں خواہ نکلنے کی کوئی صورت ہی اختیار کرنی پڑے۔ اس لیے زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کی جیل نہیں ہے اور نہ ہی وہاں کے دربان ہماری جیلوں کے دربانوں کی طرح رشوت خور ہیں ۔ اس لیے اس بات کا کوئی تصور بھی نہ کرے کہ کسی کو دوزخ پہنچا دینے کے بعد خود وہاں سے نکل بھاگنے کی جرأت ہو یا وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ نہیں اور ہرگز نہیں ، ہاں ! جن کی سزا مکمل ہوتی جائے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ (and they will not [ be able to ] keep away from it...82:16) The inmates of Hell will never be able to get away from it, because the torment will be eternal, as the concluding verse of the Surah asserts: لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا (A Day when no one [ with his own free will in the Plain of Gathering ] will have power to do anything for another! ). This does not negate intercession, because that will not happen with one's own free will, unless Allah grants permission to someone to intercede on someone's behalf, and then accepts the intercession. And…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
8 That is, no one there will have the power to save anyone from suffering the consequences of his deeds; no one there will be so influential, strong, or such a favourite with AIIah that he should behave stubbornly in the Divine Court and say: "Such and such a one is a close relative or associate of mine; he will have to be forgiven, no matter what evils He might have committed in the world."
Read the full tafseer →