Al-Infitaar 82:15

Al-Infitaar · from ayah 15

82:15

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ ۟يَّصۡلَوۡنَهَا يَوۡمَ الدِّيۡنِ

(یعنی) جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will [enter to] burn therein on the Day of Recompense,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Infitaar

All translations of 82:15

جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بدلے والے دن اس میں جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ اس میں جزاء و سزا کے دن داخل ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انصاف کے دن اس میں جائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ اس میں قیامت کے روز داخل ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس میں جزا کے دن داخل ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ قیامت کے دن اس میں داخل ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کو اس میں داخل ہونا ہوگا بدلے کے اس دن

— مولانا اسحاق مدنی

اس میں داخل ہوں گے روز جزاء کو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

داخل ہوں گے اس میں جزا و سزا کے فیصلے کے دن۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall enter it on the Day of Recompense

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

in which they will enter on the Day of Requital,

— Muhammad Taqi Usmani

in which they will enter on the Day of Requital,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therein they will enter, and taste its burning flame on the Day of Recompense,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will burn therein on the Day of Judgment,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will [enter to] burn therein on the Day of Recompense,

— Saheeh International

which they will enter on the Day of Judgment

— Muhammad Sarwar

They shall enter it on the day of judgment.

— Muhammad Habib Shakir

Roasted they shall be therein on the Day of Requital.

— Abdul Majid Daryabadi

Which they will enter on the Day of Judgment,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 82:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–19

ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–19

سورة الْاِنْفِطَار 8 یعنی کسی کی وہاں یہ طاقت نہ ہوگی کہ وہ کسی شخص کو اس کے اعمال کے نتائج بھگتنے سے بچا سکے۔ کوئی وہاں ایسا با اثر یا زور آور یا اللہ کا چہیتا نہ ہوگا کہ عدالت خداوندی میں اڑ کر بیٹھ جائے اور یہ کہہ سکے کہ فلاں شخص میرا عزیز یا متوسل ہے، اسے تو بخشنا ہی ہوگا، خواہ یہ دنیا میں کیسے ہی برے افعال کر کے آیا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–15

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ ، وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍ ، اس کا تعلق اس جملے سے ہے جو پہلے گزرچکا یعنی عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ کہ قیامت کے روز انسان کو اپنا اپنا عمل سامنے آجائیگا۔ اس جملے میں اس عمل کو سزا وجزاء کا ذکر ہے کہ اطاعت شعار ابرار تو اس روز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں مسرور ہوں گے اور سرکش نافرمان جہنم کی آگ میں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اصل حقیقت کا مواجہہ: یعنی اس طرح کے لذیذ خوابوں میں زندگی گزارنے کے بجائے بہتر ہے کہ لوگ اصل حقیقت کا مواجہہ کریں۔ جزا کے دن تمام نابکار جہنم میں داخل ہوں گے اور پھر ان کو وہاں سے ایک پل کے لیے بھی اوجھل ہونا نصیب نہ ہو گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–18

15۔ 1 یعنی جس دن جزا و سزا کے دن کا وہ انکار کرتے تھے اسی دن جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں داخل ہونگے،

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–19

3: اس سے مراد فرشتے ہیں جو انسان کے سارے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں، اور اسی سے اس کا اعمال نامہ تیار ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یصلونھا یوم الدین (15:82) ” جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے “۔ تو بطور تاکید مزیدیہ کہا جاتا ہے کہ وہاں مجرم مفرور نہ ہوسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 14–16

8 یعنی نہ بھاگ کر اس سے الگ رہ سکتے ہیں نہ داخل ہونے کے بعد کبھی نکل کر جاسکتے ہیں۔ ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

آیت 16{ وَمَا ہُمْ عَنْہَا بِغَـآئِبِیْنَ۔ } ”اور وہ اس سے کہیں غائب نہیں ہو سکیں گے۔“ ظاہر ہے جہنم سے بھاگ نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہوگا اور نہ ہی کسی میں بھاگ جانے کی طاقت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–15

10 اعمال لکھنے والے فرشتے :۔ حالانکہ ہم نے تم پر نگران چھوڑ رکھے ہیں جو ہر وقت تمہارے ساتھ لگے رہتے ہیں وہ تمہاری ایک ایک حرکت، ایک ایک قول اور ایک ایک فعل کو ساتھ ساتھ ریکارڈ کرتے جارہے ہیں اور تمہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہ لکھنے والے نہایت معزز فرشتے ہیں۔ لکھنے میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ تمہاری کسی حرکت کو ریکارڈ نہ کریں یا تم نے کوئی کام نہ کیا ہو اور وہ تمہارے اعمال میں درج کردیں۔ پھر وہ تمہاری اس نیت سے بھی واقف ہیں جس کے تحت تم نے کوئی فعل سرانجام دیا تھا۔ لہذا ان کے اندراج میں کسی غلطی کا ہونا ناممکن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–16

7۔ (اور ہمیشہ ہمیش اسی میں رہیں گے) یہ نص ہے دوزخ کے دوام وخلود پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–19

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–16

(14۔ 16) اور کافر مثلا کلد وغیرہ دوزخ میں ہوں گے اور روز جزا کو اس میں داخل ہوں گے اور داخل ہونے کے بعد پھر اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–15

(یصلونھا یوم الذین…:”بغآئبین“ پر باء نفی کی تاکید کیلئے ہے، اس لئے ترجمہ ”کبھی غائب ہونے والے نہیں۔“ کیا گیا ہے۔ فاجر لوگ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، کبھی اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگرچہ وہ قیامت کے دن جہنم میں دناخل ہوں گے مگر اس سے پہلے قبر میں بھی وہ آگ سے غائب نہیں ہیں، ، جیسا ہ آل فرعون کے متعلق فرمایا :(وحاق بال فرعون سوء العذاب ، النار یعرضون علیھا غدواً وغشیاً ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب) (المومن : 35، 36)”اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا جو آگ ہے۔ اس پر صبح اور شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–18

ان الابرار لفی نعیم۔۔۔ تا۔۔۔ یومئذللہ۔ ان الابرارلفی نعیم، وان الفجار لفی جحیم۔ یہ اسی طرح تقسیم ہے جس طرح یہ تقسیم ہے، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ الشوری) ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک جماعت جہنم میں ہوگی اسی طرح ارشاد فرمایا، یومئذ یصدعون، الروم، فامالذین امنو، البقرہ 26 ) یصلونھا یوم الدین۔ انہیں جہنم کی لپک اور گرمی پہنچے گی، یوم الدین سے مراد یوم جزا ہے اس کا ذکر مکرر کیا تاکہ اس کی عظمت شان کا اظہار ہو جس طرح اس ارشاد میں ہے، القارعۃ ما القارعہ، وما ادراک ما القارعہ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں وما ادراک کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے ان امور سے نبی کریم کو آگاہ کردیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–16

جنابت کے وقت اور غسل کے وقت۔ 27۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے ایک آدمی کو کھلی زمین میں ننگا غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا اما بعد اللہ سے ڈروا اور ان کراماکاتبین فرشتوں کی عزت و تکریم کرو جو تمہاے ساتھ ہیں تم سے جدا نہیں ہوتے مگر دو حالتوں میں سے ایک حالت میں ایک وہ حالت جب آدمی بیت الخلاء میں ہوتا ہے اور دوسری وہ حالت جب بندہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا ہے یعنی ہم بستری میں ہوتا ہے اور وہ معزز ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام رکھا۔ پس تم میں سے ہر کوئی دیوار یا اپنے اونٹ کے وجود کے ساتھ بھی ایسی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–19

﴿كَلَّا﴾ (ہرگز نہیں ! ) یعنی نفس و شیطان کے دھوکہ میں نہ آئیں دھوکہ میں پڑنا اپنی خیر خواہی کے خلاف ہے اور اس سے بڑھ کر تمہارا اپنی جانوں پر یہ ظلم ہے کہ تم جزا اور سزا ہی کو جھٹلاتے ہو (اور یہ سمجھتے ہو کہ کوئی مواخذہ اور محاسبہ ہونا ہی نہیں ہے) حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں جو معزز ہیں (اللہ کے نزدیک مکرم ہیں) اور تمہارے اعمال کو لکھنے والے ہیں اور تم جو کام کرتے ہو وہ ان کو جانتے ہیں (لہٰذا تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرو اور گناہوں سے بچو) ۔ اس کے بعد قیامت کے دن کی جزا اور سزا کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔ ﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ0013﴾ (بلاشبہ نیک لوگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–16

6:۔ ” وان الفجار “ یہ تخویف اخروی ہے اور اللہ کے نافرمان اور اس کی حدود کو توڑنے والے دوزخ میں ہوں گے قیامت کے دن فصلِ جزاء اور سزا کے بعد وہ اس میں داخل ہوں گے۔ ” وما ھم عنہا بغائبین “ یہ حالت قیامت سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی ہے۔ دوزخی دوزخ میں اپنے اپنے مقامات میں پہنچ جانے کے بعد ایک لحظہ بھی غائب نہیں ہوسکیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–19

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے انسان پر کیے الذی خلقک “ اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کے ساتھ مغرور کیا ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ، فسوک ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا ” فعدلک “ پھر برابر کیا۔ تمام اعضاء اور جوڑوں کو درست کیا۔ ان میں تناسب رکھا۔ عقل ، شعور ، اخلاق ، مزاج تمام قوی مہیا کئے اور پھر جس قسم کی چاہی صورت بخشی۔ ان تمام حقائق کے باوجود تم اپنے رب سے کیوں روگردانی کرتے ہو۔ اور قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو۔ (انصاف کا دن) فرمایا خبردار ! بل تکذبون بالدین بلکہ تم انصاف کو جھٹلاتے ہو۔ تم سمجھتے ہو۔ کہ یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا۔ ہرگز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّصْلَوْنَہَا يَوْمَ الدِّيْنِ۝ 15 صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–19

ترکیب ¦ ان الابرار الجملۃ وما ہو معطوف علیھا اعنی الجملتہ الثانیہ مستانفۃ لبیان نتیجہ الحفظ والکتاب من الثواب والعذاب یصلونھا الجملۃ اما صفۃ لجحیم اومستانفۃ جواب لسوال مقدر کانہ قیل ماحالھم فقال یصلونھا الخ وقیل حال من الضمیر فی متعلق الجار والمجرور ویوم منصوب بیصلون قراء الجمہور مخففا مبنیاللفاعل وقریٔ مشدد مبنیا للمفعول وماھم الخ وھذہ الجملۃ ایضا صفۃ لحجیم وما ادراک تفخیم لشان یوم الدین ولذاکرہ یوم لا تملک قریٔ یوم بالرفع قرء ھا ابن کثیر وابو عمرو علی انہ بدل من یوم الدین او خبر مبتداء محذوف وقراء ابو عمروفی روایۃ عنہ بالتنوین والقطع عن الاضافۃ وقراء الباقون بفتحہ وفیہ وجوہ الاول باضما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

یَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآئِبِیْنَ ۔ (الانفطار : 15، 16) (وہ جزاء کے دن اس میں داخل ہوں گے۔ اور پھر اس سے وہ غائب ہونے والے نہیں۔ ) گزشتہ آیت میں فرمایا کہ نیک لوگ عیش میں ہوں گے اور برے لوگ جہنم میں۔ پیش نظر آیت میں دنیا میں عیش کی زندگی گزارنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اصل حقیقت یہی ہے کہ آرام اور عیش نیکی کی جزاء ہے۔ اور سزا بدی کی۔ لیکن یہاں لوگوں نے اسے الٹ سمجھ رکھا ہے۔ جزاء کا دن چونکہ انصاف کا دن ہوگا اس لیے اس دن تمام نابکار اور بدکار جہنم میں داخل ہوں گے۔ اور یہ چونکہ مہلت عمل ختم ہونے کے بعد جزاء کی دنیا ہوگی اس لیے وہاں سے انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–19

فہم القرآن ربط کلام : انسان جو کچھ کرتا ہے فرشتے اسے اس کے اعمال نامے میں درج کرتے ہیں۔ خوش قسمت انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور بدقسمت لوگ اپنے برے اعمال کرنے کی وجہ سے جہنم میں سزا پائیں گے۔ پچھلی آیات میں ذکر ہوا کہ انسان جو کچھ کرتا ہے کراماً کاتبین اسے لکھتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کراماً کاتبین کو یہ صلاحیت عطا فرمائی کہ وہ نہ صرف انسان کا دن رات میں کیا ہوا ہر عمل ضبط تحریر میں لاتے ہیں بلکہ انسان جو عمل جس نیت کے ساتھ کرتا ہے اسے بھی اس کے عمل کے ساتھ درج کرلیتے ہیں۔ جس کا عقیدہ اور عمل ٹھیک ہوگا اسے جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا اور جن کا عقیدہ اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : یَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّیْنِ (روز جزاء کو اس میں داخل ہونگے) جزاء کے دن وہ جہنم میں داخل ہونگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–19

13۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کو نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دو دفعہ ذکر فرما کر یہ جتلا دیا کہ اس دن کے عذاب سے بغیر مرضی الٰہی کوئی کسی کو چھوڑا نہیں سکتا کیونکہ دنیا کی طرح اس دن اللہ تعالیٰ کے رو برو بیجا سفارش کرنے کا کسی کا مقدور نہیں اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لئے کہ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

( يَّصْلَوْنَهَا) وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس کے ذریعے سے انہیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔ ( يَوْمَ الدِّيْنِ ) اعمال کی جزا وسزا کے دن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(15) یوم جزا میں بدکاروں کے حال بد کا ذکر وبیان : سو فساق و فجار کے اس دن کے حال دب کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو بدلے کے اس دن اس دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، ان کے لیے اس سے بچنے کی، اس وقت کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ نہ ان کا وہاں پر کوئی حامی و ناصر ہوگا، اور نہ ہی کسی سفارشی کی کوئی سفارش ان کے کچھ کام آسکے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَأَنذِرْہُمْ یَوْمَ الْآزِفَۃِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کَاظِمِیْنَ مَا للظَّالِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَلَا شَفِیْعٍ یُطَاعُ ( المومن 18 پ 24) والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو، اللھم فکن لنا ولا تکن علینا و خذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–19

اللہ کے انصاف کا دن تشریح : جب ہمیں اللہ کی تمام قدرتوں، عظمتوں اور طاقتوں کا پوری طرح علم ہوگیا اور ہمیں اپنے بارے میں بھی خوب اچھی طرح علم ہوگیا تو اب اس دن کی تیاری کو مد نظر رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے جس کا ذکر بار بار تفصیلاً کیا گیا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انسان پھر بھی بھول جاتا ہے۔ اللہ جس قدر رحیم و کریم ہے اسی قدر حساب لینے اور بدلہ دینے میں جبار و قھار بھی ہے اور بڑے انصاف سے بدلہ دینے والا ہے۔ اسی لیے تو اس نے ہمارے اعمال کے اندراج کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں تاکہ ہم خود اپنے اعمال کو دیکھ کر اپنا انجام قبول کریں۔ جنت یا دوزخ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی کچہری دنیا کی کچہری کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–16

ف 10 ” بلکہ ہمیشہ اس میں رہیں گے “ دوزخ سے غائب ہونے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے بھی اس سے جدا نہ تھے بلکہ برزخی زندگی میں بھی اس کی کچھ نہ کچھ گرمی نہیں لگتی رہتی تھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(82:15) یصلونھا یوم الدین : یہ جملہ یا تو الجحیم کی صفت ہے یا جملہ مستانفہ ہے۔ سوال مقدر کا جواب ہے جیسے کہا جائے ما حالہم (ان کا کیا حال ہوگا) جواب ہوگا : یصلونھا یوم الدین (روز جزاء کو وہ اس میں داخل ہونگے) تفسیر حقانی۔ یصلون مضارع جمع کا صیغہ جمع مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع الفجار ہے صلی (باب ضرب) مصدر بمعنی بھوننا۔ آگ میں پھینکنا، بوخواہی کرنا۔ ہلاکت میں ڈالنا۔ دھوکہ دینا خوشامد کرنا۔ داخل کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الجحیم ہے۔ فجار دوزخ میں داخل ہوں گے۔ یوم مفعول فیہ اور مضاف ہے الدین مضاف الیہ۔ روز جزاء کو ۔ قیامت کے دن ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–19

(ف 1) اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اس سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کی نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی، اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا، پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دودفعہ ذکر فرماکریہ جتلادیا کہ اس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی بات کا مالک نہ ہوگا، یعنی کافروں کی کوئی سفارش نہ کرسکے گانہ ان کو نجات دلاسکے گا، اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لیے صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان گناہ گاروں میں سے جس شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[8] یہ سوال روز جزا کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لئے ہے اور اس کی تکرار نے اسے مزید پر ہول بنادیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–19

ف 1: اس میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے جو سرکشی اور عناد کا وتیرہ اختیار کررکھا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رشدوہدایت کے استفادہ کے مواقع عنایت نہیں فرمائے ہیں یا عقل و دانش اس راہ میں حائل ہے اور نیک نیتی کے ساتھ اسلام کے حقائق کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے ۔ بلکہ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ اصول مکافات ععمل کے قائل نہیں ہیں ۔ قیامت اور جزاوسزا کو نہیں تسلیم کرتے ۔ اس لئے دین کی قدر و قیمت ہی ان کے دلوں سے اٹھ گئی ہے اور اب یہ اس قابل نہیں رہے کہ ان معارف پر غور کرسکیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–19

ف 1۔ یعنی باوجود اشتراک خلق و تسویہ و تعدیل کے پھر الگ الگ طور پر پیدا کیا، ماغرک سے پہلے معاد کا اور اس کے بعد مبدا کا ذکر اشارہ ہے کہ گو امر مانع اغترار ہو پھر بھی غرور سے باز نہیں آتا اور کریم کی صفت میں تلقین حجت نہیں، بلکہ تقویت ہے مانع کی یعنی کریم ہونا مقتضی ہے کہ اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس میں وہ جزاء سزا کے دن ڈالے جائیں گے 15 ؎ جرم کی نوعیت دیکھ کر بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا جرم کس نوعیت کا ہے اور ان کی سزا کس نوعیت کی ہوگی ؟ اور جب یہ بات بھی معلوم ہو کہ جو جرم کیا ہے اس کی سزا بہر حال لازم ہے ، اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہے خواہ سزا کتنا عرصہ تاخیر سے دی جائے یا دی جانے والی ہو لیکن مجرم کو احساس جرم کا عذاب بدستور رہتا ہے اور احساس عذاب ، عذاب سے کمتر سہی لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس لیے بھی اس کا تعلق دراصل عالم آخرت ہی سے ہے نہ کہ عالم دنیا سے اور یہ نظریہ اصلاح کے لیے بھی درست اور مفید ہے ۔ احادیث میں اس کا ذکر بھی بہت آیا ہے اور اس طرح کی احادیث جن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

إِنَّ الْأَبْرَ‌ارَ‌ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ‌ لَفِي جَحِيمٍ (Surely the righteous will be in bliss, and surely the sinners will be in Hell,...82:13-14). These two statements are connected with verse [ 5] above: عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَ‌تْ 'then one will know what he sent ahead and what he left behind. [ 5] ' The verse informs us that each person, on the Day of Reckoning, will know what he has done, and what will be the consequences of his deeds. The present verse says that the righteous will be in perfect bliss, while the sinners will be in a Blazing Fire of Hell.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–19

8 That is, no one there will have the power to save anyone from suffering the consequences of his deeds; no one there will be so influential, strong, or such a favourite with AIIah that he should behave stubbornly in the Divine Court and say: "Such and such a one is a close relative or associate of mine; he will have to be forgiven, no matter what evils He might have committed in the world."

Read the full tafseer →