Explained with ayahs 13–19
ابرار کا کردار
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
سورة الْاِنْفِطَار 8
یعنی کسی کی وہاں یہ طاقت نہ ہوگی کہ وہ کسی شخص کو اس کے اعمال کے نتائج بھگتنے سے بچا سکے۔ کوئی وہاں ایسا با اثر یا زور آور یا اللہ کا چہیتا نہ ہوگا کہ عدالت خداوندی میں اڑ کر بیٹھ جائے اور یہ کہہ سکے کہ فلاں شخص میرا عزیز یا متوسل ہے، اسے تو بخشنا ہی ہوگا، خواہ یہ دنیا میں کیسے ہی برے افعال کر کے آیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَاۗىِٕبِيْنَ ، یعنی جہنمی لوگ کسی وقت جہنم سے غائب نہ ہوسکیں گے کیونکہ ان کے لئے خلود اور دائمی عذاب کا حکم ہے لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا، یعنی کوئی شخص با ختیار خود کسی دوسرے کو محشر میں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ کسی کی تکلیف کو کم کرسکے گا، اس سے شفاعت کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ شفاعت کسی کی اپنے اختیار سے نہ ہوگی جب تک کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی کی شفاعت کی اجازت نہ دیں، اس لئے اصل حکم کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ ہی اپنے فضل سے کسی کو شفاعت کی اجازت دیدے اور پھر شفاعت قبول فرمالے تو وہ بھی اسی کا حکم ہے، واللہ اعلم
تمت سورة الانفطار بحمد اللہ لیلة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یہ سوال اس جزا کے دن کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لیے ہے اور اس کی تکرار نے اس کو مزید پرہول بنا دیا ہے۔ ’اَدْرٰکَ‘ میں واحد کا خطاب آنحضرت ﷺ سے نہیں ہے بلکہ انہی لوگوں سے ہے جن سے ’مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ اور اس کے بعد کی دوسری آیات میں ہے۔ جمع کو واحد کے صیغہ سے خطاب میں جو بلاغت ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
15۔ 1 یعنی جس دن جزا و سزا کے دن کا وہ انکار کرتے تھے اسی دن جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں داخل ہونگے،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
3: اس سے مراد فرشتے ہیں جو انسان کے سارے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں، اور اسی سے اس کا اعمال نامہ تیار ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
قرآن کے انداز تعبیر میں کسی مصیبت کو مجہول اور نامعلوم کرکے بیان کرنا ، ایک عمومی انداز ہے۔ اس انداز سے اس کی خوفناکیوں میں خوب اضافہ ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ کہ انسانی تصور سے قیامت کی مصیبت ماوراء ہے۔ مصیبت اور خوف کا ہم جو بھی بھیانک تصور کرسکتے ہیں ، اس سے بھی وہ بڑھ کر ہے۔ پھر سوال کو دہرا کر اس خوفناکی میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے۔
سوال دہرانے کے بعد اس کے ایسے خدوخال بیان کردیئے جاتے ہیں جو اس کی خوفناکیوں کے ساتھ متناسب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
9 یعنی کتنا ہی سوچو اور غور کرو، پھر بھی اس ہولناک دن کی پوری کیفیت سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بس مختصراً اتنا سمجھ لو کہ اس دن جتنے رشتے ناطے خویشی اور آشنائی کے ہیں سب نیست و نابود ہوجائیں گے۔ سب نفسی نفسی پکارتے ہوں گے۔ کوئی شخص بدون حکم مالک الملک کے کسی کی سفارش نہ کرسکے گا۔ عاجزی، چاپلوسی اور صبرو استقلال کچھ کام نہ دیگا۔ " الا من رحم اللہ "۔
10 یعنی دنیا میں جس طرح بادشاہ کا حکم رعیت پر، ماں باپ کا اولاد پر، اور آقا کا نوکر پر جاری ہوتا ہے اس دن یہ سب حکم ختم ہوجائیں گے اور اس شہنشاہ مطلق کے سوا کسی کو دم مارنے کی قدرت نہ ہوگی تنہا بلاشرکت غیرے ظاہر اً و باطناً اسی کا حکم چلے گا۔ اور سارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آیت 19{ یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّـنَفْسٍ شَیْئًاط وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ۔ } ”جس روز کسی جان کو کسی دوسری جان کے لیے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا ‘ اور امر ُ کل کا کل اس دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔“
اس دن سرمحشر پکارا جائے گا : { لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط } المومن 16 کہ اے نسل انسانی کے لوگو ‘ دیکھو ! آج حکومت ‘ اختیار اوراقتدارکس کے ہاتھ میں ہے ؟ اور اس سوال کا جواب بھی پھر خود ہی دیا جائے گا : { لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ } المومن : 16 یعنی آج کے دن اختیار کل کا کل اللہ ہی کے پاس ہے جو اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے۔ اس دن انسانوں کی اکثریت کو بےبسی اور نفسانفسی کی جس کیفیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
12 یعنی آپ خواہ کتنا ہی سوچیں اور غور کریں اس ہولناک دن کی پوری کیفیت کبھی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ مختصراً یہ سمجھ لو کہ اس دن جتنے رشتے ناطے ہیں سب ختم ہوجائیں گے۔ ہر ایک کو بس اپنی ہی پڑی ہوگی۔ کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ نہ ہی اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
8۔ (نہ کہ اور کسی کی) یہ درمیانی وسائط اور اسباب قریبہ کے جو پردے دنیا میں پڑے ہوئے ہیں، یہ سب اس روز اٹھ جائیں گے، اور اللہ کی براہ راست حکومت قاہرہ کا مشاہدہ ہر ایک کو ہونے لگے گا، عالم اسباب وجہان ابتلاء میں تو ان حجابات کی ضرورت ومصلحت تھی، اس لیے یہ سب تھے اس روز کشف حقائق کے وقت ان کی حاجت ہی کیا رہے گی ، ، اور اس لیے سارے حجابات کثیف ولطیف یکسر برطرف ہوجائیں گے۔ (آیت) ” وما ..... الدین “۔ دہرے دہرے سوالات عربی اسلوب بلاغت وخطابت کے مطابق، اہمیت خصوصی کے اظہار کے لیے ہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…
Read the full tafseer →ثم ما ادراک ما یوم الدین . یوم الدین کی عظمت شان کو مؤکد کرنے کے لیے جملہ کی تکرار کی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(17۔ 19) اور آپ کو کچھ علم ہے کہ روز جزا کیسا ہے وہ ایسا دن ہے کہ مومن کو کافر کی نجات کرانے اور اس کی سفارش کرنے کے لیے کوئی بس نہ چلے گا۔
اور بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی تمام تر حکومت اللہ ہی کی ہوگی کوئی اس کے فیصلہ کے سامنے جنبش نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(یوم لا تملک نفس لنفس شیئاً…:) دنیا میں بظاہر لوگوں کی کچھ ملکیت بھی ہے اور ایک حد تک نفع و ضرر کا اختیار بھی ہے، مگر قیامت کے دن اللہ کے علاوہ نہ کسی کا اختیار رہے گا، نہ ملکی اور نہ حکومت، جیسا کہ فرمایا :(لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار) (المومن : 16)”آج کے دن بادشاہی کس کی ہے ؟ صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔“ رہ گئی شفاعت تو وہ بھی کسی کے اختیار میں نہیں ہوگی، بلکہ صرف وہی کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، فرمایا :(من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ) (البقرۃ : 255)”کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔“ مزید دیکھیے سورة نبا کی آیت (38) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ان الابرار لفی نعیم۔۔۔ تا۔۔۔ یومئذللہ۔
ان الابرارلفی نعیم، وان الفجار لفی جحیم۔ یہ اسی طرح تقسیم ہے جس طرح یہ تقسیم ہے، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ الشوری) ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک جماعت جہنم میں ہوگی اسی طرح ارشاد فرمایا، یومئذ یصدعون، الروم، فامالذین امنو، البقرہ 26 )
یصلونھا یوم الدین۔ انہیں جہنم کی لپک اور گرمی پہنچے گی، یوم الدین سے مراد یوم جزا ہے اس کا ذکر مکرر کیا تاکہ اس کی عظمت شان کا اظہار ہو جس طرح اس ارشاد میں ہے، القارعۃ ما القارعہ، وما ادراک ما القارعہ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں وما ادراک کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے ان امور سے نبی کریم کو آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
29۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ادرک ما یوم الدین اور تجھے کیا معلوم انصاف کا دن کیا ہے یہ قیامت کے دن کی تعظیم کے لیے ہے کہ اس دن لوگ اپنے اعمال کے مطابق بدلہ دئیے جائیں گے۔ آیت والامر یومئذ للہ۔ اور اس دن اللہ ہی کا حکم ہوگا۔ یعنی اس دن سوائے رب العالمین کے کوئی بھی نہ کسی چیز کا فیصلہ کرسکے گا اور نہ کچھ بنا سکے۔
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر (مکرر)][ مَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ : تو کیا جانے کیا ہے بدلے کا دن ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
﴿كَلَّا﴾ (ہرگز نہیں ! ) یعنی نفس و شیطان کے دھوکہ میں نہ آئیں دھوکہ میں پڑنا اپنی خیر خواہی کے خلاف ہے اور اس سے بڑھ کر تمہارا اپنی جانوں پر یہ ظلم ہے کہ تم جزا اور سزا ہی کو جھٹلاتے ہو (اور یہ سمجھتے ہو کہ کوئی مواخذہ اور محاسبہ ہونا ہی نہیں ہے) حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں جو معزز ہیں (اللہ کے نزدیک مکرم ہیں) اور تمہارے اعمال کو لکھنے والے ہیں اور تم جو کام کرتے ہو وہ ان کو جانتے ہیں (لہٰذا تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرو اور گناہوں سے بچو) ۔
اس کے بعد قیامت کے دن کی جزا اور سزا کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔
﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ0013﴾ (بلاشبہ نیک لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
بسم اللہ الرحمن الرحیم :
سورة الانفطار :
حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت :
سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ،
سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
7:۔ ” وما ادراک “ یوم قیامت کی عظمت و شدت کا بیان ہے۔ فرمایا تمہیں کیا معلوم جزاء و سزاء کا دن کس قدر ہولناک اور فیصلہ کن ہوگا پھر کہتا ہوں تمہیں کیا معلوم یوم جزاء کس قدر ہولناک ہوگا۔ ” یوم لاتملک الخ “ سورت سابقہ علی سبیل الترقی بیان توحید ہے اس میں شفاعت قہریہ کی نفی کی گئی ہے اور یوم جزا 4 کا ایک نہایت ہی ہولناک اور مایوس کن پہلو بیان کیا گیا ہے کہ اس دن کوئی نفس کچھ بھی کسی کے کام نہیں آئے گا۔ مشرکین نے اپنے جن خود ساختہ معبودوں کو شفیع غالب سمجھ رکھا ہے قیامت کے دن وہ اپنے پجاریوں کو کوئی فرائدہ نہیں پہنچا سکیں گے اور اس دن سارا کاروبار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوگا۔ دنیا کے کاروبار میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے انسان پر کیے الذی خلقک “ اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کے ساتھ مغرور کیا ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ، فسوک ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا ” فعدلک “ پھر برابر کیا۔ تمام اعضاء اور جوڑوں کو درست کیا۔ ان میں تناسب رکھا۔ عقل ، شعور ، اخلاق ، مزاج تمام قوی مہیا کئے اور پھر جس قسم کی چاہی صورت بخشی۔ ان تمام حقائق کے باوجود تم اپنے رب سے کیوں روگردانی کرتے ہو۔ اور قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو۔
(انصاف کا دن)
فرمایا خبردار ! بل تکذبون بالدین بلکہ تم انصاف کو جھٹلاتے ہو۔ تم سمجھتے ہو۔ کہ یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا۔ ہرگز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ثُمَّ مَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ 18 ۭ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا 0 ۭ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلہِ 19 ۧ
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
ترکیب ¦ ان الابرار الجملۃ وما ہو معطوف علیھا اعنی الجملتہ الثانیہ مستانفۃ لبیان نتیجہ الحفظ والکتاب من الثواب والعذاب یصلونھا الجملۃ اما صفۃ لجحیم اومستانفۃ جواب لسوال مقدر کانہ قیل ماحالھم فقال یصلونھا الخ وقیل حال من الضمیر فی متعلق الجار والمجرور ویوم منصوب بیصلون قراء الجمہور مخففا مبنیاللفاعل وقریٔ مشدد مبنیا للمفعول وماھم الخ وھذہ الجملۃ ایضا صفۃ لحجیم وما ادراک تفخیم لشان یوم الدین ولذاکرہ یوم لا تملک قریٔ یوم بالرفع قرء ھا ابن کثیر وابو عمرو علی انہ بدل من یوم الدین او خبر مبتداء محذوف وقراء ابو عمروفی روایۃ عنہ بالتنوین والقطع عن الاضافۃ وقراء الباقون بفتحہ وفیہ وجوہ الاول باضما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَایَوْمُ الدِّیْنِ ۔ ثُمَّ مَـآ اَدْرٰ کَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ (الانفطار : 17، 18)
(اور تم کیا جانتے ہو کہ جزاء کا دن کیا ہے۔ ہاں تمہیں کیا خبر کہ وہ جزاء کا دن کیا ہے۔ )
چونکہ کفار مکہ جزاء کے دن یعنی قیامت کا انکار کرتے، بلکہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ان کے سامنے اس دن کی عظمت و اہمیت کو واضح کرنے کے لیے ان میں سے ایک ایک شخص کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ آج تو تم اس دن کا مذاق اڑاتے ہو، تم کیا جانو کہ وہ دن کیسا ہے۔ اگر تمہیں اس کی اہمیت اور عظمت کا احساس ہوتا تو تم کبھی اس کا انکار نہ کرسکتے۔ پھر اس کی تکرار نے اس کی ہولناکی اور ہیبت میں مزید اضافہ کردیا اور انھیں جھنجوڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
فہم القرآن
ربط کلام : انسان جو کچھ کرتا ہے فرشتے اسے اس کے اعمال نامے میں درج کرتے ہیں۔ خوش قسمت انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور بدقسمت لوگ اپنے برے اعمال کرنے کی وجہ سے جہنم میں سزا پائیں گے۔
پچھلی آیات میں ذکر ہوا کہ انسان جو کچھ کرتا ہے کراماً کاتبین اسے لکھتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کراماً کاتبین کو یہ صلاحیت عطا فرمائی کہ وہ نہ صرف انسان کا دن رات میں کیا ہوا ہر عمل ضبط تحریر میں لاتے ہیں بلکہ انسان جو عمل جس نیت کے ساتھ کرتا ہے اسے بھی اس کے عمل کے ساتھ درج کرلیتے ہیں۔ جس کا عقیدہ اور عمل ٹھیک ہوگا اسے جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا اور جن کا عقیدہ اور…
Read the full tafseer →قیامت کا موقعہ :
18 : ثُمَّ مَآ اَدْرٰکَ مَایَوْمُ الدِّیْنِ (پھر آپ کو کچھ خبر ہے کہ وہ روز جزاء کیا ہے) تاکید اور اس کی شدت وہولنا کی بیان کرنے کیلئے دوبارہ لائے۔ اور اگلی آیت میں قیامت کی وضاحت فرمائی۔
Read the full tafseer →18 ۔” ثم ما ادراک ما یوم الدین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
13۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کو نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دو دفعہ ذکر فرما کر یہ جتلا دیا کہ اس دن کے عذاب سے بغیر مرضی الٰہی کوئی کسی کو چھوڑا نہیں سکتا کیونکہ دنیا کی طرح اس دن اللہ تعالیٰ کے رو برو بیجا سفارش کرنے کا کسی کا مقدور نہیں اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لئے کہ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ ۔ ثُمَّ مَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ ) اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے ؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے ؟ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زندہ کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(18) یوم جزا کی عظمت کے ایک خاص پہلو کا ذکرو بیان : سو یوم جزا کی عظمت کے ایک خاص پہلو کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اس دن کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا "۔ اور لوگوں نے از خود جو طرح طرح کے سفارشی اور حمایتی بنا رکھے ہیں اور وہ انہی کا نام لیتے اور دم بھرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی وہاں ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا۔ البتہ جو شفاعت و سفارش اللہ پاک کے اذن سے ہوگی اس کا معاملہ الگ ہے، مگر وہ بھی ملکیت اور اختیار کے درجہ میں نہیں ہوگی، بلکہ وہ اس وحدہ لا شریک کی مشیت ومرضی پر موقوف ہوگی، اور وہ اسی کی نصیب ہوسکے گی جس کے لیے وہ چاہے اور جسے اذن واجازت مرحمت فرمائے۔ سبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
اللہ کے انصاف کا دن
تشریح : جب ہمیں اللہ کی تمام قدرتوں، عظمتوں اور طاقتوں کا پوری طرح علم ہوگیا اور ہمیں اپنے بارے میں بھی خوب اچھی طرح علم ہوگیا تو اب اس دن کی تیاری کو مد نظر رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے جس کا ذکر بار بار تفصیلاً کیا گیا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انسان پھر بھی بھول جاتا ہے۔ اللہ جس قدر رحیم و کریم ہے اسی قدر حساب لینے اور بدلہ دینے میں جبار و قھار بھی ہے اور بڑے انصاف سے بدلہ دینے والا ہے۔ اسی لیے تو اس نے ہمارے اعمال کے اندراج کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں تاکہ ہم خود اپنے اعمال کو دیکھ کر اپنا انجام قبول کریں۔ جنت یا دوزخ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی کچہری دنیا کی کچہری کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الانفطار۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 11 یہ انداز بیان ذہن میں روز قیامت پر ایمان کی اہمیت و عظمت کو نقش کرنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(82:18) ثم ما ادرک ما یوم الدین پھر تجھے کیا معلوم کہ روز جزاء کیا ہے۔ ثم حرف عطف بمعنی پھر۔ دوہرے دوہرے سوالات عربی اسلوب بلاغت و خطابت کے مطابق اہمیت خصوصی کے اظہار کے لئے ہیں۔ (تفسیر ماجدی)
یوم الدین کی عظمت شان کو مؤکد کرنے کے لئے جملہ کی تکرار کی گئی ہے۔ (تفسیر مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم
تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اس سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کی نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی، اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا، پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دودفعہ ذکر فرماکریہ جتلادیا کہ اس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی بات کا مالک نہ ہوگا، یعنی کافروں کی کوئی سفارش نہ کرسکے گانہ ان کو نجات دلاسکے گا، اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لیے صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان گناہ گاروں میں سے جس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
[9] سوال کیونکہ جواب کے لئے نہیں بلکہ صرف اس دن کے ہول کا تصور پیدا کرنے کے لئے تھا اس لئے جواب کا انتظار کئے بغیر اللہ تعالیٰ نے خود ہی جواب دے دیا کہ اس دن کوئی شخص کسی شخص کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا۔ ساری رشتہ داریاں اور دوستیاں اس دن ختم ہوجائیں گے اور اس شہنشاہ مطلق کے آگے کسی کو دم مارنے کی جرأت نہ ہوگی۔ تنہا بلاشرکت غیرے اسی کا حکم چلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
ف 1: اس میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے جو سرکشی اور عناد کا وتیرہ اختیار کررکھا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رشدوہدایت کے استفادہ کے مواقع عنایت نہیں فرمائے ہیں یا عقل و دانش اس راہ میں حائل ہے اور نیک نیتی کے ساتھ اسلام کے حقائق کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے ۔ بلکہ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ اصول مکافات ععمل کے قائل نہیں ہیں ۔ قیامت اور جزاوسزا کو نہیں تسلیم کرتے ۔ اس لئے دین کی قدر و قیمت ہی ان کے دلوں سے اٹھ گئی ہے اور اب یہ اس قابل نہیں رہے کہ ان معارف پر غور کرسکیں ۔
Read the full tafseer →(18) پھر مکرر کہتے ہیں آپ کو کچھ خبر ہے وہ روز جزا کیسا ہے - یعنی اس انصاف کے دن کی کیفیت آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ انصاف کا دن کیسا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ف 1۔ یعنی باوجود اشتراک خلق و تسویہ و تعدیل کے پھر الگ الگ طور پر پیدا کیا، ماغرک سے پہلے معاد کا اور اس کے بعد مبدا کا ذکر اشارہ ہے کہ گو امر مانع اغترار ہو پھر بھی غرور سے باز نہیں آتا اور کریم کی صفت میں تلقین حجت نہیں، بلکہ تقویت ہے مانع کی یعنی کریم ہونا مقتضی ہے کہ اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔
Read the full tafseer →پھر اے مخاطب ! تجھے کیا معلوم کہ جزا و سزا کا دن کیا ہے ؟
18 ؎ اس تاکید نے سوال کی اہمیت کو اور بھی زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ اس کی تفصیل پیچھے سورة الحاقہ کی آیت اسے 3 تک گزر چکی ہے اس کو ایک بار پھر دیکھ لیں ۔ دراصل اس دن کی ہولناکی سے آگاہ کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے تاکہ انسان کا دل ڈر جائے اور قیامت کے ہول کے بارے میں آگاہ ہو کر اپنی اصلاح کرلے اور اسی کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اگر تو نے توجہ نہ کی اور یہ دنیا کی زندگی یا سی غفلت میں گزار دی تو کل کے پچھتاوے سے تیرے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا اور بار باریاد دہانی کا فائدہ یہ ہے کہ اگر صبح کا بھولا شام کو بھی واپس پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ (and they will not [ be able to ] keep away from it...82:16) The inmates of Hell will never be able to get away from it, because the torment will be eternal, as the concluding verse of the Surah asserts: لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا (A Day when no one [ with his own free will in the Plain of Gathering ] will have power to do anything for another! ). This does not negate intercession, because that will not happen with one's own free will, unless Allah grants permission to someone to intercede on someone's behalf, and then accepts the intercession. And…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
8 That is, no one there will have the power to save anyone from suffering the consequences of his deeds; no one there will be so influential, strong, or such a favourite with AIIah that he should behave stubbornly in the Divine Court and say: "Such and such a one is a close relative or associate of mine; he will have to be forgiven, no matter what evils He might have committed in the world."
Read the full tafseer →