Explained with ayahs 13–19
ابرار کا کردار
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
سورة الْاِنْفِطَار 8
یعنی کسی کی وہاں یہ طاقت نہ ہوگی کہ وہ کسی شخص کو اس کے اعمال کے نتائج بھگتنے سے بچا سکے۔ کوئی وہاں ایسا با اثر یا زور آور یا اللہ کا چہیتا نہ ہوگا کہ عدالت خداوندی میں اڑ کر بیٹھ جائے اور یہ کہہ سکے کہ فلاں شخص میرا عزیز یا متوسل ہے، اسے تو بخشنا ہی ہوگا، خواہ یہ دنیا میں کیسے ہی برے افعال کر کے آیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ ، وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍ ، اس کا تعلق اس جملے سے ہے جو پہلے گزرچکا یعنی عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ کہ قیامت کے روز انسان کو اپنا اپنا عمل سامنے آجائیگا۔ اس جملے میں اس عمل کو سزا وجزاء کا ذکر ہے کہ اطاعت شعار ابرار تو اس روز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں مسرور ہوں گے اور سرکش نافرمان جہنم کی آگ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
نتیجہ اس اہتمام و انتظام کا جو اوپر مذکور ہوا:
یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے اس اہتمام و انتظام کا جو اوپر مذکور ہوا کہ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا بلکہ وہ نیکوں کو جنت میں داخل کرے گا اور بدوں کو دوزخ میں۔ جو نادان یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد نہ موت ہے نہ زندگی یا یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ اگر مرنے کے بعد زندگی ہوئی تو وہاں بھی وہ اپنے شرکاء کی سفارش سے اس سے اچھی زندگی حاصل کر لیں گے جو یہاں حاصل ہے، تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائیں۔ اس کائنات کا خالق نیکی و بدی کے معاملے میں بے حس اور غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
7۔ 1 یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اس کے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔
7۔ 2 یعنی تجھے ایک کامل انسان بنادیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل فہم رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
3: اس سے مراد فرشتے ہیں جو انسان کے سارے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں، اور اسی سے اس کا اعمال نامہ تیار ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ان الابرار ............................ بغئبین (13:82 تا 16) ” یقینا نیک لوگ مزے میں ہوں گے اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے۔ جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس سے ہرگز غائب نہ ہوسکیں گے “۔
لہٰذا یقین کرو کہ یہ انجام لازمی ہونے والا ہے۔ یہ طے شدہ انجام ہے کہ نیک لوگ جنت میں اور برے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے۔ بر ، ابرار کا واحد ہے۔ وہ شخص کہ نیکی اس کی عادت ثانیہ بن جائے۔ نیک کاموں میں وہ تمام کام شامل ہیں جو اچھے کام ہیں۔ اور نیکی کی یہ صفت انسانی شرافت کے ساتھ متناسب ہے۔ اس کے مقابلے کا لفظ بھی ایسا ہی ہے۔ فجار ، وہ گستاخ ، بےادب جو اثم ومعصیت کے کاموں میں بےدھڑک کود پڑتے ہیں۔ جہنم ان…
Read the full tafseer →7 جہاں ہمیشہ کے لئے ہر قسم کی نعمتوں اور راحتوں میں رہنا ہوگا، اگر نکلنے کا کھٹکا لگا رہتا تو راحت ہی کیا ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
آیت 16{ وَمَا ہُمْ عَنْہَا بِغَـآئِبِیْنَ۔ } ”اور وہ اس سے کہیں غائب نہیں ہو سکیں گے۔“
ظاہر ہے جہنم سے بھاگ نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہوگا اور نہ ہی کسی میں بھاگ جانے کی طاقت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
10 اعمال لکھنے والے فرشتے :۔ حالانکہ ہم نے تم پر نگران چھوڑ رکھے ہیں جو ہر وقت تمہارے ساتھ لگے رہتے ہیں وہ تمہاری ایک ایک حرکت، ایک ایک قول اور ایک ایک فعل کو ساتھ ساتھ ریکارڈ کرتے جارہے ہیں اور تمہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہ لکھنے والے نہایت معزز فرشتے ہیں۔ لکھنے میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ تمہاری کسی حرکت کو ریکارڈ نہ کریں یا تم نے کوئی کام نہ کیا ہو اور وہ تمہارے اعمال میں درج کردیں۔ پھر وہ تمہاری اس نیت سے بھی واقف ہیں جس کے تحت تم نے کوئی فعل سرانجام دیا تھا۔ لہذا ان کے اندراج میں کسی غلطی کا ہونا ناممکن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
7۔ (اور ہمیشہ ہمیش اسی میں رہیں گے) یہ نص ہے دوزخ کے دوام وخلود پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…
Read the full tafseer →ان الابرار لفی نعیم . بلاشبہ ابرار راحت میں ہوں گے۔ ابرار وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں ‘ غلط عقائد ‘
برے اخلاق اور قبیح کردار غرض ہر ممنوع سے پرہیز کرتے اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے انکو ابرار اسلئے فرمایا کہ انہوں نے باپ اور بیٹوں کے ساتھ نیک سلوک کیا۔
Read the full tafseer →نیک حضرات مثلا حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اور ان کے ساتھی جنت کی آسائش میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →(ان الابرار لفی نعیم…:) فرشتوں کے تیار کردہ اعمال ناموں کا نتیجہ یہ ہے کہ نیک لوگ نعمت میں اور نافرمان بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوں گے۔”الابرار“ ”بر“ کی جمع ہے، وہ شخص جس میں ”بر“ (نیکی) پائی جائے۔ نیکی کیا ہے اور نیک کون ہے اس کی تفصیل سورة بقرہ کی آیت (177) یعنی ”آیت بر“ میں ملاحظہ فرمائیں۔ (الفجار“ (فاجر“ کی جمع ہے، یہاں مراد کافر ہیں، کیونکہ مومن ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ان الابرار لفی نعیم۔۔۔ تا۔۔۔ یومئذللہ۔
ان الابرارلفی نعیم، وان الفجار لفی جحیم۔ یہ اسی طرح تقسیم ہے جس طرح یہ تقسیم ہے، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ الشوری) ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک جماعت جہنم میں ہوگی اسی طرح ارشاد فرمایا، یومئذ یصدعون، الروم، فامالذین امنو، البقرہ 26 )
یصلونھا یوم الدین۔ انہیں جہنم کی لپک اور گرمی پہنچے گی، یوم الدین سے مراد یوم جزا ہے اس کا ذکر مکرر کیا تاکہ اس کی عظمت شان کا اظہار ہو جس طرح اس ارشاد میں ہے، القارعۃ ما القارعہ، وما ادراک ما القارعہ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں وما ادراک کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے ان امور سے نبی کریم کو آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
جنابت کے وقت اور غسل کے وقت۔
27۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے ایک آدمی کو کھلی زمین میں ننگا غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا اما بعد اللہ سے ڈروا اور ان کراماکاتبین فرشتوں کی عزت و تکریم کرو جو تمہاے ساتھ ہیں تم سے جدا نہیں ہوتے مگر دو حالتوں میں سے ایک حالت میں ایک وہ حالت جب آدمی بیت الخلاء میں ہوتا ہے اور دوسری وہ حالت جب بندہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا ہے یعنی ہم بستری میں ہوتا ہے اور وہ معزز ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام رکھا۔ پس تم میں سے ہر کوئی دیوار یا اپنے اونٹ کے وجود کے ساتھ بھی ایسی…
Read the full tafseer →[ان الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ : بیشک نیک لوگ یقینا دائمی خوشحالی میں ہیں ]
(آیت۔ 13 ۔ 14) اَلْاَبْرَارَ اور اَلْفُجَّارَ ، یہ دونوں اِنَّ کے اسم ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔ ان کی خبریں محذوف ہیں۔ فِیْ نَعِیْمٍ اور فِیْ جَحِیْمٍ قائم مقام خبریں ہیں جن پر لام تاکید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
﴿كَلَّا﴾ (ہرگز نہیں ! ) یعنی نفس و شیطان کے دھوکہ میں نہ آئیں دھوکہ میں پڑنا اپنی خیر خواہی کے خلاف ہے اور اس سے بڑھ کر تمہارا اپنی جانوں پر یہ ظلم ہے کہ تم جزا اور سزا ہی کو جھٹلاتے ہو (اور یہ سمجھتے ہو کہ کوئی مواخذہ اور محاسبہ ہونا ہی نہیں ہے) حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں جو معزز ہیں (اللہ کے نزدیک مکرم ہیں) اور تمہارے اعمال کو لکھنے والے ہیں اور تم جو کام کرتے ہو وہ ان کو جانتے ہیں (لہٰذا تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرو اور گناہوں سے بچو) ۔
اس کے بعد قیامت کے دن کی جزا اور سزا کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔
﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ0013﴾ (بلاشبہ نیک لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
بسم اللہ الرحمن الرحیم :
سورة الانفطار :
حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت :
سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ،
سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
5:۔ ” وان علیکم “ تم حشر و نشر اور جزاء و سزاء کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم پر نگران فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے نزدیک عزت والے ہیں اور تمہارے تمام نیک و بد اعمال کو لکھتے رہتے ہیں وہ تمہارے تمام چھوٹے بڑے اور اچھے برے عملوں کو جانتے ہیں۔ کیونکہ خلوت و جلوت میں وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔ ” یعلمون ما تفعلون “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے صرف ظاہری اعمال ہی کو جانتے ہیں اور دلوں کے ارادوں کو نہیں جانتے ان کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ” ان الابرار لفی نعیم “ یہ بشارت اخرویہ ہے، نیک لوگ اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے قیامت کے دن ہر قسم کی نعمتوں میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے انسان پر کیے الذی خلقک “ اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کے ساتھ مغرور کیا ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ، فسوک ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا ” فعدلک “ پھر برابر کیا۔ تمام اعضاء اور جوڑوں کو درست کیا۔ ان میں تناسب رکھا۔ عقل ، شعور ، اخلاق ، مزاج تمام قوی مہیا کئے اور پھر جس قسم کی چاہی صورت بخشی۔ ان تمام حقائق کے باوجود تم اپنے رب سے کیوں روگردانی کرتے ہو۔ اور قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو۔
(انصاف کا دن)
فرمایا خبردار ! بل تکذبون بالدین بلکہ تم انصاف کو جھٹلاتے ہو۔ تم سمجھتے ہو۔ کہ یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا۔ ہرگز…
Read the full tafseer →اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ 13 ۚ
برَّ
البَرُّ خلاف البحر، وتصوّر منه التوسع فاشتق منه البِرُّ ، أي : التوسع في فعل الخیر، وينسب ذلک إلى اللہ تعالیٰ تارة نحو : إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ [ الطور/ 28] ، وإلى العبد تارة، فيقال : بَرَّ العبد ربه، أي : توسّع في طاعته، فمن اللہ تعالیٰ الثواب، ومن العبد الطاعة . وذلک ضربان :
ضرب في الاعتقاد . وضرب في الأعمال، وقد اشتمل عليه قوله تعالی: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ [ البقرة/ 177] وعلی هذا ما روي «أنه سئل عليه الصلاة والسلام عن البرّ ، فتلا هذه الآية» «1» . فإنّ الآية متضمنة للاعتقاد والأعمال الفرائض والنوافل . وبِرُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
ترکیب ¦ ان الابرار الجملۃ وما ہو معطوف علیھا اعنی الجملتہ الثانیہ مستانفۃ لبیان نتیجہ الحفظ والکتاب من الثواب والعذاب یصلونھا الجملۃ اما صفۃ لجحیم اومستانفۃ جواب لسوال مقدر کانہ قیل ماحالھم فقال یصلونھا الخ وقیل حال من الضمیر فی متعلق الجار والمجرور ویوم منصوب بیصلون قراء الجمہور مخففا مبنیاللفاعل وقریٔ مشدد مبنیا للمفعول وماھم الخ وھذہ الجملۃ ایضا صفۃ لحجیم وما ادراک تفخیم لشان یوم الدین ولذاکرہ یوم لا تملک قریٔ یوم بالرفع قرء ھا ابن کثیر وابو عمرو علی انہ بدل من یوم الدین او خبر مبتداء محذوف وقراء ابو عمروفی روایۃ عنہ بالتنوین والقطع عن الاضافۃ وقراء الباقون بفتحہ وفیہ وجوہ الاول باضما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ۔ وَّاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ ۔ (الانفطار : 13، 14)
(بیشک نیک لوگ عیش میں ہوں گے۔ اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے۔ )
اللہ تعالیٰ کے نظام احتساب کا نتیجہ
اللہ تعالیٰ نے اعمال کی حفاظت کا جو حیران کن انتظام کر رکھا ہے یہ اس کا نتیجہ ہے کہ جن لوگوں نے شریعت کے احکام کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے نیکوکاری کی زندگی اختیار کی ہوگی وہ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور انھیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی بجائے فسق و فجور میں اپنے آپ کو مبتلا رکھا ہوگا اور شیطان کی پیروی میں زندگی گزاری ہوگی، وہ جہنم میں ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
فہم القرآن
ربط کلام : انسان جو کچھ کرتا ہے فرشتے اسے اس کے اعمال نامے میں درج کرتے ہیں۔ خوش قسمت انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور بدقسمت لوگ اپنے برے اعمال کرنے کی وجہ سے جہنم میں سزا پائیں گے۔
پچھلی آیات میں ذکر ہوا کہ انسان جو کچھ کرتا ہے کراماً کاتبین اسے لکھتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کراماً کاتبین کو یہ صلاحیت عطا فرمائی کہ وہ نہ صرف انسان کا دن رات میں کیا ہوا ہر عمل ضبط تحریر میں لاتے ہیں بلکہ انسان جو عمل جس نیت کے ساتھ کرتا ہے اسے بھی اس کے عمل کے ساتھ درج کرلیتے ہیں۔ جس کا عقیدہ اور عمل ٹھیک ہوگا اسے جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا اور جن کا عقیدہ اور…
Read the full tafseer →13 : اِنَّ الْاَبَْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ (نیک لوگ بیشک آسائش میں ہونگے) ابرارؔ سے مؤمنین مراد ہیں وہ جنت کی نعمتوں میں ہونگے۔
Read the full tafseer →13 ۔” ان الا برار لفی نعیم “ ابرار وہ لوگ جو نیک ہیں اور اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ادا کرنے اور اس کے معاصی سے اجتناب کرنے کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
13۔ 19۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کو نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دو دفعہ ذکر فرما کر یہ جتلا دیا کہ اس دن کے عذاب سے بغیر مرضی الٰہی کوئی کسی کو چھوڑا نہیں سکتا کیونکہ دنیا کی طرح اس دن اللہ تعالیٰ کے رو برو بیجا سفارش کرنے کا کسی کا مقدور نہیں اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لئے کہ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل…
Read the full tafseer →(الْاَبْرَارَ ) سے مراد وہ لوگ ہیں جوا للہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں برزخ میں اور آخرت میں، قلب وروح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔
Read the full tafseer →(13) نیک لوگ عظیم الشان نعمتوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور کراما کا تبین کے تیار کردہ ریکارڈ کے نتیجے کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بلا شبہ نیک لوگ بڑی ہی عظیم الشان نعمتوں میں ہوں "۔ جو کہ ایسی عظیم الشان و بےمثل نعمتیں ہوں گے کہ ان کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی اور نہ کسی کان نے سنی ہوں گی، اور نہ ہی ان کا کسی دل پر کبھی گزر ہی ہوا ہوگا۔ " مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر " اللھم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین۔ سو اس سارے انتظام و اہتمام کا نتیجہ سامنے رکھ دیا گیا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے اور جو انسانی عمل و کر ادار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
اللہ کے انصاف کا دن
تشریح : جب ہمیں اللہ کی تمام قدرتوں، عظمتوں اور طاقتوں کا پوری طرح علم ہوگیا اور ہمیں اپنے بارے میں بھی خوب اچھی طرح علم ہوگیا تو اب اس دن کی تیاری کو مد نظر رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے جس کا ذکر بار بار تفصیلاً کیا گیا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انسان پھر بھی بھول جاتا ہے۔ اللہ جس قدر رحیم و کریم ہے اسی قدر حساب لینے اور بدلہ دینے میں جبار و قھار بھی ہے اور بڑے انصاف سے بدلہ دینے والا ہے۔ اسی لیے تو اس نے ہمارے اعمال کے اندراج کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں تاکہ ہم خود اپنے اعمال کو دیکھ کر اپنا انجام قبول کریں۔ جنت یا دوزخ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی کچہری دنیا کی کچہری کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الانفطار۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 10 ” بلکہ ہمیشہ اس میں رہیں گے “ دوزخ سے غائب ہونے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے بھی اس سے جدا نہ تھے بلکہ برزخی زندگی میں بھی اس کی کچھ نہ کچھ گرمی نہیں لگتی رہتی تھی۔
Read the full tafseer →(82:13) ان الابرار لفی نعیم ان حرف مشبہ بالفعل، بمعنی تحقیق، الابرار اس کا اسم فی نعیم اسکی خبر۔ الابرار برو بار کی جمع۔ نیک آدمی۔ نیک لوگ۔
البر یہ بحر کی ضد ہے (اور اس کے معنی خشکی کے ہیں) پھر معنی وسعت کے اعتبار سے البر کا لفظ مشتق کیا گیا ۔ جس کے معنی وسیع پیمانے پر نیکی کرنے کے ہیں۔ پھر اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے انہ ھو البر الرحیم (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہ : بندہ نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی۔
البر نیکی دو قسم پر ہے : اعتقادی، عملی، آیت کریمہ لیس البر ان تولوا وجوکہم ۔۔ (2:177) دونوں قسم کی نیکیوں کے بیان پر مشتمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم
تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور حشر کا ذکر تھا، ان آیتوں میں اس سب کا یہ نتیجہ فرمایا کہ نیکوں کی نیکی کی جزا میں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں ملیں گی، اور بدوں کو بدی کی سزا میں دوزخ کا طرح طرح کا عذاب بھگتنا پڑے گا، پھر قیامت کا تاکید کے طور پر دودفعہ ذکر فرماکریہ جتلادیا کہ اس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی بات کا مالک نہ ہوگا، یعنی کافروں کی کوئی سفارش نہ کرسکے گانہ ان کو نجات دلاسکے گا، اس آیت میں فاجر سے وہی لوگ منکر حشر مراد ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا۔ اہل ایمان گناہ گار اس میں داخل نہیں ہیں کس لیے صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان گناہ گاروں میں سے جس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
[8] یہ سوال روز جزا کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لئے ہے اور اس کی تکرار نے اسے مزید پر ہول بنادیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
ف 1: اس میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے جو سرکشی اور عناد کا وتیرہ اختیار کررکھا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رشدوہدایت کے استفادہ کے مواقع عنایت نہیں فرمائے ہیں یا عقل و دانش اس راہ میں حائل ہے اور نیک نیتی کے ساتھ اسلام کے حقائق کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے ۔ بلکہ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ اصول مکافات ععمل کے قائل نہیں ہیں ۔ قیامت اور جزاوسزا کو نہیں تسلیم کرتے ۔ اس لئے دین کی قدر و قیمت ہی ان کے دلوں سے اٹھ گئی ہے اور اب یہ اس قابل نہیں رہے کہ ان معارف پر غور کرسکیں ۔
Read the full tafseer →(13) بے شک نیک لوگ بڑے آرام میں ہوں گے یعنی بہشت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ف 1۔ یعنی باوجود اشتراک خلق و تسویہ و تعدیل کے پھر الگ الگ طور پر پیدا کیا، ماغرک سے پہلے معاد کا اور اس کے بعد مبدا کا ذکر اشارہ ہے کہ گو امر مانع اغترار ہو پھر بھی غرور سے باز نہیں آتا اور کریم کی صفت میں تلقین حجت نہیں، بلکہ تقویت ہے مانع کی یعنی کریم ہونا مقتضی ہے کہ اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ نیک لوگ انعامات الٰہی میں ہوں گے
13 ؎ قیامت کے روز ہر ایک انسان کی حالت ایک جیسی نہیں ہوگی بلا شبہ وہ لوگ جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرتے رہے ، حق کو حق جانا اور ناحق کو ناحق سمجھتے رہے اور اس کے قریب تک نہ گئے اور حق کے لیے جو کچھ ان کو جھیلنا پڑا بخوشی اس کو جھیل گئے یہی وہ لوگ ہیں جن کو ( الابرار) کہا گیا ہے اور ان کو قیامت کے روز کوئی کھٹکا نہیں ہوگا ، ان میں کتنے ہوں گے جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اور کتنے ہوں گے جن کے دائیں ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ دے کر جنت کا مستحق بنایا اور ٹھہرایا جائے گا اور کتنے ہیں جن کو رعایتی طور پر پاس کردیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ (Surely the righteous will be in bliss, and surely the sinners will be in Hell,...82:13-14). These two statements are connected with verse [ 5] above: عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ 'then one will know what he sent ahead and what he left behind. [ 5] '
The verse informs us that each person, on the Day of Reckoning, will know what he has done, and what will be the consequences of his deeds. The present verse says that the righteous will be in perfect bliss, while the sinners will be in a Blazing Fire of Hell.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
8 That is, no one there will have the power to save anyone from suffering the consequences of his deeds; no one there will be so influential, strong, or such a favourite with AIIah that he should behave stubbornly in the Divine Court and say: "Such and such a one is a close relative or associate of mine; he will have to be forgiven, no matter what evils He might have committed in the world."
Read the full tafseer →