كِرَامًا كَاتِبِیْنَ ۟ۙكِرَامًا كَاتِبِيۡنَ
عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Noble and recording;
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
كِرَامًا كَاتِبِیْنَ ۟ۙكِرَامًا كَاتِبِيۡنَ
عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Noble and recording;
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Infitaar
ایسے معزز کاتب
عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے
لکھنے والے مقرر ہیں
وہ معزز لکھنے والے۔
معزز لکھنے والے
(جو) بہت معزز ہیں (تمہارے اعمال نامے) لکھنے والے ہیں،
جو بہت عزت والے ہیں، لکھنے والے ہیں۔
جو معزز ہیں اعمال لکھنے والے
دبیران گرامی۔
یعنی کچھ ایسے معزز لکھنے والے
معزز لکھنے والے (مقرر) ہیں
جو بڑے باعزت لکھنے والے ہیں۔
عالی قدر تمہاری باتوں کے لکھنے والے
noble scribes,
who are noble, writers (of the deeds) ,
who are noble, writers (of the deeds) ,
Kiraman Katibin,
Generous and recording,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Noble and recording;
watching over you
Honorable recorders,
Honourablel scribes.
Kind and honourable,- Writing down (your deeds):
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–12
اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے فرمایا آیت (السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18) 73۔ المزمل :18) اور ستارے سب کے سب گرپڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہوگئے ہو ؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
سورة الْاِنْفِطَار 7 یعنی تم لوگ چاہے دارالجزاء کا انکار کرو یا اس کو جھٹلاؤ یا اس کا مذاق اڑاؤ، اس سے حقیقت نہیں بدلتی۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں دنیا میں شتر بےمہار بنا کر نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ اس نے تم میں سے ایک ایک آدمی پر نہایت راستباز نگران مقرر کر رکھے ہیں جو بالکل بےلاگ طریقے سے تمہارے تمام اچھے اور برے اعمال کو ریکارڈ کر رہے ہیں، اور ان سے تمہارا کوئی کام چھپا ہوا نہیں ہے، خواہ تم اندھیرے میں، خلوتوں میں، سنسان جنگلوں میں، یا اور کسی ایسی حالت میں اس کا ارتکاب کرو جہاں تمہیں پورا اطمینان ہو کہ جو کچھ تم نے کیا ہے وہ نگاہ خلق سے مخفی رہ گیا ہے۔ ان نگراں فرشتوں کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
(آیت) فِيْٓ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَاۗءَ رَكَّبَكَ ، یعنی باوجود اس کے کہ تخلیق سب انسانوں کی ایک خاص وضع اور ہیت اور مزاج پر ہونے کی وجہ سے سب میں اشتراک ہے اس کا نتیجہ بظاہر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب ایک ہی شکل و صورت کے ہوتے باہمی امتیاز دشوار ہوجاتا، مگر حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ نے کروڑوں بلکہ اربوں پدموں انسانوں کی شکل و صورت میں ایسے امتیازات پیدا فرمادیئے جو ایک دوسرے سے مشتبہ نہیں ہوتے صاف اور نمایاں امتیاز رہتا ہے۔ انسان کی ابتدائی تخلیق کے یہ کمالات قدرت بیان فرما کر ارشاد فرمایا مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْم کہ اے غافل انسان جس پروردگار نے تیرے وجود میں ایسے…
Read the full tafseer →ان فرشتوں کی صفت ’کِرام‘ سے مقصود اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ یہ جس ڈیوٹی پر مامور ہیں اس کو نہایت فرض شناسی، پورے احساس ذمہ داری اور کامل غیرجانب داری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ نہ کام چوروں کی طرح یہ اپنے فرض میں کوئی غفلت برتتے، نہ احساس ذمہ داری سے محروم لوگوں کی طرح کبھی دفع الوقتی اور مداہنت سے کام لیتے اور نہ کسی کے دباؤ یا اس کی خوشامد میں آنے والے ہیں کہ کسی کے ساتھ جانب داری برتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
7۔ 1 یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اس کے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔ 7۔ 2 یعنی تجھے ایک کامل انسان بنادیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل فہم رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
2: یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کہ معاذاللہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وان علیکم ............................ تفعلون (10:82 تا 12) ” حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں ، ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں “۔ یہ محافظ وہ روحانی مخلوقات ہیں جو فرشتوں سے ہیں۔ یہ ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں ، اس کی نگرانی کرتے ہیں ، اور جو اعمال وہ کرتا ہے اسے لکھتے ہیں ، ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس طرح ریکارڈ تیار کرتے ہیں ، اللہ کی طرف سے ہم پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ ہم اس کی تفصیلی کیفیات بھی جانیں۔ اللہ کو معلوم ہے کہ ہمارے اندر ان غیبی امور کے ادراک کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اور نہ اس میں ہمارا کوئی فائدہ ہے کہ ہم ریکارڈ کیے جانے کی کیفیت بھی جانیں۔ کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
6 جو نہ خیانت کرتے ہیں نہ کوئی عمل لکھے بغیر چھوڑتے ہیں۔ نہ ان سے تمہارے اعمال پوشیدہ ہیں جب سب عمل ایک ایک کر کے اس اہتمام سے لکھے جا رہے ہیں تو کیا یہ سب دفتر یونہی بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ ہرگز نہیں۔ یقیناً ہر شخص کے اعمال اس کے آگے آئیں گے اور اس کا اچھا برا پھل چکھنا پڑے گا۔ جس کی تفصیل آگے بیان کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت 12{ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کر رہے ہو۔“ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے بطور نگران مقرر کر رکھے ہیں جو اس کا ایک ایک عمل لکھ رہے ہیں۔ اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کا محاسبہ کرنا منظور نہیں ہے تو گویا وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کا فرشتوں کو بطور نگران مقرر کرنا اور ان فرشتوں کا ایک ایک انسان کے ایک ایک عمل کا ریکارڈ مرتب کرنا سب کا رعبث ہے۔ ایسے خیالات کے حامل لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ”کارِعبث“ اللہ کے شایانِ شان نہیں ‘ وہ احتساب ضرور کرے گا اور اس احتساب کے نتائج بھی ضرور نکلیں گے ‘ جن کا ذکر اگلی آیات میں ہے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9 یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے انکار کی وجہ یہ نہیں کہ تمہیں بات کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ تم جزا و سزا کے قانون الٰہی کے منکر ہو۔ تمہاری خواہش یہ ہے کہ تم جیسے بھی دنیا میں زندگی بسر کرتے رہو تم سے مرنے کے بعد کوئی محاسبہ نہ ہو اور یہ کس قدر ظلم اور بےانصافی کی بات ہے کہ تمہیں قوتیں اور تصرف و اختیار تو تمام مخلوق پر دیا جائے لیکن تم پر ذمہ داری کچھ بھی نہ ہو ؟ یہ دھوکا تمہیں کیسے لگ جاتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
6۔ یعنی جزاء وسزا نہ صرف واقع ہوکر رہے گی بلکہ اس کے لیے پورے انتظامات اور ایک مکمل نظام ابھی سے موجود ہے۔ اللہ کے فرشتے اعمال کی پوری رپورٹ لکھنے کے لیے مقرر ہیں۔ امین ومتدین ایسے کہ حق تعالیٰ انہیں ” معزز “ کے لقب سے پکارتا ہے۔ اور نظر ان کی اتنی گہری کہ باریک سے باریک اور خفی سے خفی عمل و محرک عمل بھی ان سے چھوٹنے نہیں پاتے۔ ؛ (آیت) ” حفظین “۔ اس میں اشارہ ہے کہ ان سے فروگذاشت ممکن نہیں۔ (آیت) ” کراما “۔ اس میں اشارہ ہے کہ کوئی امر خلاف دیانت یا خلاف حکم ان سے صادر ہونا ممکن نہیں۔ (آیت) ” یعلمون ماتفعلون “۔ اس میں اشارہ ہے کہ کوئی عمل، خفی ساخفی بھی ہو، ان کی نظروں سے مخفی نہیں رہ سکتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور گرجائیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے بعدازاں آپس میں مل جائیں گے تو سب مل کر ایک سمندر ہوجائیں گے اور شرییں شور کے ساتھ مخلوط ہوجائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں مدفون مردوں کو زندہ کردیا جائے گا، اذا اور اس پر معطوف کا جواب علمت نفس ہے، ہر شخص اپنے اگلے اعمال کو اور پچھلے اعمال جن کو نہیں کیا یعنی ہر نفس ان مذکورہ اوقات میں جو کہ قیامت کا دن ہے جان لے گا، اے کافر انسانچ کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا…
Read the full tafseer →کراما کاتبین . جو اللہ کے ہاں معزز اور سزا و جزا کیلئے تمہارے اعمالناموں میں تمہارے ہر عمل کو لکھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
(5۔ 6) اے کافر ! مثلا کلاہ بن اسید تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ کفر کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے جس نے تجھ کو نطفہ سے پیدا کیا اور پھر تیری ماں کے پیٹ میں تیرے اعضاء کو درست کیا اور پھر معتدل القامت بنایا، پھر جس صورت میں چاہا تجھ کو پیدا کردیا یا یہ اچھی بری صورت میں بنا دیا اور اگر وہ چاہتا تو بندر اور سور کی شکل میں بنا دیتا مگر تم جزا و سزا کے دن ہی کو جھٹلاتے ہو اور ہم نے تمہارے اوپر تمہاری نگرانی اور تمہارے اعمال لکھنے کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں وہ اللہ کے ہاں معزز اور تمہارے تمام اقوال و افعال سے باخبر ہیں۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ (الخ) ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
یعلمون ماتفعلون : تمہارا کوئی مخفی سے مخفی کام ، حتیٰ کہ تمہاری نیتیں اور ارادے بھی ان سے پوشیدہ نہیں۔ لہٰذا تمہارا یہ سمجھنا کہ تمہارے چھپا کر کئے ہوئے گناہ ریکارڈ میں نہیں آئیں گے اور تم ان کی سزا سے بچ جاؤ گے، ، زبردست نادانی ہے۔ ان فرشتوں کا مزید ذکر سورق ق (17، 18) میں دیکھیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وان علیکم لحفظین، کراما کاتبین، یعلمون ماتفعلون۔ یعنی فرشتوں میں نگہبان ہیں وہ بڑے معزز ہیں یہ اسی طرح ہے جس طرح یہ فرمایا، کرام بررہ۔ عبس) معزز نیک ہیں۔ یہاں تین مسائل ہیں : کراما کاتبین کس حالت میں بندے سے جدا ہوتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے، کراما کاتبین کی عزت کیا کرو وہ دو حالتوں کے سوا تم سے الگ نہیں ہوتے، قضائے حاجت، حقوق زوجیت جب تم میں سے کوئی ایک غسل کرے تو وہ دویار یا کسی چیز سے پردہ کرے یا اس کا بھائی اس کا پردہ کرے۔ حضرت علی سے مروی ہے فرشتہ بندہ سے رخ پھیرے رہتا ہے جب تک اس کی شرمگاہ ننگی ہو، روایت بیان کی ہے بندہ جب حمام میں بغیر چادر کے داخل ہوتا ہے تو دو فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
جنابت کے وقت اور غسل کے وقت۔ 27۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے ایک آدمی کو کھلی زمین میں ننگا غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا اما بعد اللہ سے ڈروا اور ان کراماکاتبین فرشتوں کی عزت و تکریم کرو جو تمہاے ساتھ ہیں تم سے جدا نہیں ہوتے مگر دو حالتوں میں سے ایک حالت میں ایک وہ حالت جب آدمی بیت الخلاء میں ہوتا ہے اور دوسری وہ حالت جب بندہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا ہے یعنی ہم بستری میں ہوتا ہے اور وہ معزز ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام رکھا۔ پس تم میں سے ہر کوئی دیوار یا اپنے اونٹ کے وجود کے ساتھ بھی ایسی…
Read the full tafseer →[كِرَامًا كَاتِبِيْنَ : جو معزز ہیں، لکھنے والے ہیں ] (آیت۔ 11) کِرامًا اور کَاتِبِیْنَ ، یہ دونوں حٰفِظِیْنَ کا بدل ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
﴿كَلَّا﴾ (ہرگز نہیں ! ) یعنی نفس و شیطان کے دھوکہ میں نہ آئیں دھوکہ میں پڑنا اپنی خیر خواہی کے خلاف ہے اور اس سے بڑھ کر تمہارا اپنی جانوں پر یہ ظلم ہے کہ تم جزا اور سزا ہی کو جھٹلاتے ہو (اور یہ سمجھتے ہو کہ کوئی مواخذہ اور محاسبہ ہونا ہی نہیں ہے) حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں جو معزز ہیں (اللہ کے نزدیک مکرم ہیں) اور تمہارے اعمال کو لکھنے والے ہیں اور تم جو کام کرتے ہو وہ ان کو جانتے ہیں (لہٰذا تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرو اور گناہوں سے بچو) ۔ اس کے بعد قیامت کے دن کی جزا اور سزا کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔ ﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ0013﴾ (بلاشبہ نیک لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
بسم اللہ الرحمن الرحیم : سورة الانفطار : حوادث ارض وسماوشمس وقمر برقیام قیامت : سورة انفطار بھی مکی سورتوں میں سے ہے جس کی انیس آیات ہیں، اس کا مضمون بھی سورة تکویر کی طرح نظام عالم کے درہم برہم ہونے، قیامت کے وقت انقلابات کونیہ کے برپا ہونے پر مشتمل ہے پھر یہ کہ روز محشر ابرار ونیکو کار لوگوں کا کیا حال ہوگا، اور فساق وفجار کس طرح عذاب جہنم میں مبتلا ہونگے ، سورت کی ابتداء میں یہ ظاہر کیا گیا کہ قیام قیامت پر آسمانوں کا نظام اس طرح درہم برہم کردیا جائے گا کہ آسمان شق ہوجائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور سمندر آگ سے دہکا دہئے جائیں گے اور مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
5:۔ ” وان علیکم “ تم حشر و نشر اور جزاء و سزاء کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم پر نگران فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے نزدیک عزت والے ہیں اور تمہارے تمام نیک و بد اعمال کو لکھتے رہتے ہیں وہ تمہارے تمام چھوٹے بڑے اور اچھے برے عملوں کو جانتے ہیں۔ کیونکہ خلوت و جلوت میں وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔ ” یعلمون ما تفعلون “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے صرف ظاہری اعمال ہی کو جانتے ہیں اور دلوں کے ارادوں کو نہیں جانتے ان کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ” ان الابرار لفی نعیم “ یہ بشارت اخرویہ ہے، نیک لوگ اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے قیامت کے دن ہر قسم کی نعمتوں میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے انسان پر کیے الذی خلقک “ اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کے ساتھ مغرور کیا ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ، فسوک ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا ” فعدلک “ پھر برابر کیا۔ تمام اعضاء اور جوڑوں کو درست کیا۔ ان میں تناسب رکھا۔ عقل ، شعور ، اخلاق ، مزاج تمام قوی مہیا کئے اور پھر جس قسم کی چاہی صورت بخشی۔ ان تمام حقائق کے باوجود تم اپنے رب سے کیوں روگردانی کرتے ہو۔ اور قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو۔ (انصاف کا دن) فرمایا خبردار ! بل تکذبون بالدین بلکہ تم انصاف کو جھٹلاتے ہو۔ تم سمجھتے ہو۔ کہ یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا۔ ہرگز…
Read the full tafseer →كِرَامًا كَاتِبِيْنَ 11 ۙ كرم الكَرَمُ إذا وصف اللہ تعالیٰ به فهو اسم لإحسانه وإنعامه المتظاهر، نحو قوله : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وإذا وصف به الإنسان فهو اسم للأخلاق والأفعال المحمودة التي تظهر منه، ولا يقال : هو كريم حتی يظهر ذلک منه . قال بعض العلماء : الكَرَمُ کالحرّيّة إلّا أنّ الحرّيّة قد تقال في المحاسن الصّغيرة والکبيرة، والکرم لا يقال إلا في المحاسن الکبيرة، كمن ينفق مالا في تجهيز جيش في سبیل الله، وتحمّل حمالة ترقئ دماء قوم، وقوله تعالی: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ [ الحجرات/ 13] فإنما کان کذلک لأنّ الْكَرَمَ الأفعال المحمودة، وأكرمها وأشرفها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
ترکیب ¦ الکریم صفۃ اولی للرب الذی الخ صفۃ ثانیۃ مقررۃ للربوبیۃ مبنیۃ للکرم فسواک فعدلک عطف صلۃ الذی ای خلقک فی ای صورۃ الجار متعلق برکبک وما مزیدۃ وشاء صفۃ لصورۃ ای رکبک فی ای صورۃ شاء ھا وقیل یتعلق مجذوف علی انہ حال ای رکبک حاصلا فی ای صورۃ شاء ھا وانما لم یعطف الجملۃ ما قبلہا لانھا بیان لعدلک وان علیکم خبران لحافظین اسمھا کراما صفۃ للحافظین وکذا کاتبین وکذایعلمون وقیل ھذا حال من الکاتبین فان مع اسمھا و خبرہا وصفات الاسم جملۃ اسمیۃ فی محل النصب علی الحال من فاعل تکذبون ای تکذبون والحال ان علیکم من یردتکذیبکم وقیل مستانفۃ مسوقۃ لبیان ما یبطل تکذیبھم۔ تفسیر ¦ جب یہ حالت ہے کہ ایک روز قیامت آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ ۔ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ۔ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ (الانفطار : 10 تا 12) (حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں۔ معزز کاتب۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔ ) مکذبین کی غلطی کا ازالہ یعنی تمہارا یہ خیال کہ دنیا کے دارالعمل کے بعد کوئی دارالجزاء نہیں۔ اس لیے ہمیں جزاء و سزا کے بارے میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ تم چاہے کیسے بھی تصورات رکھو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ذمہ دار حیثیت سے دنیا میں بھیجا ہے، تمہیں شتر بےمہار بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہاری اس حیثیت کو جانچنے کے لیے اس نے تم پر کچھ نگران مقرر کر رکھے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
فہم القرآن ربط کلام : لوگوں تک ان کے اعمال نامے پہنچنے کے بعد ہر شخص کو رب کریم کا خطاب۔ جب تمام لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں اعمال نامے تھما دیئے جائیں گے تو پھر ایک مرحلہ ایسا آئے گا۔ جب رب کریم پورے جلال کے ساتھ ان لوگوں کو مخاطب فرمائیں گے۔ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اس کے فرامین سے روگردانی کی ہوگی۔ ہر مجرم یہی سمجھے گا کہ رب ذوالجلال صرف مجھے ہی مخاطب کر رہا ہے اس لیے خطاب ہوگا کہ اے مجرم انسان ! تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ نہ تو نے اپنے رب کی کرم نوازیوں کا شکر ادا کیا اور نہ ہی اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کی…
Read the full tafseer →1 1 : کِرَامًا کَاتِبِیْنَ (معزز لکھنے والے مقرر ہیں) یعنی تم تو جزاء کو جھٹلا رہے ہو۔ اور کاتب تمہارے اعمال کو لکھ رہے ہیں تاکہ تم کو بدلہ دیا جائے۔
Read the full tafseer →11 ۔” کراما “ اللہ پر۔ ” کاتبین “ تمہارے اقوال اور اعمال کو لکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فرمایا (كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ ) یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا وسزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمہارا محاسبہ ہوگا اللہ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو تمہارے اقوال وافعال کو لکھتے رہتے ہیں۔ انہیں ان اقوال افعال کا علم ہے اس میں افعال قلوب، افعال جوارح سب داخل ہیں پس تمہارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام واجلال اور احترام کرو۔
Read the full tafseer →(11) ’ ’ کراما کا تبین " سے مقصود و مراد ؟ سو اس سے معزز لکھنے والے فرشتے مراد ہیں، یعنی وہ فرشتے جو انسان کے اعمال نامے لکھنے پر مقرر و مامور ہیں، سو ان نگران فرشتوں کی صفت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا یعنی " کچھ ایسے معزز فرشتے جو لکھتے جا رہے ہیں "۔ سو وہ بلا کم وکاست پوری دیانت داری اور امانت داری کے ساتھ اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق تمہارے تمام کیے کرائے اور عمل و کردار کا پورا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ ہَذَا کِتَابُنَا یَنطِقُ عَلَیْْکُم بالْحَقِّ إِنَّا کُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( الجاثیہ 29 پ 25) یعنی ہم برابر لکھواتے جارہے تھے وہ سب جو تم لوگ اپنی دنیاوی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کا نقشہ تشریح : سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی دی گئی یہ خبر قابل غور ہے کہ '' آسمان پھٹ جائے گا ''۔ یہ اس دن ہوگا جس کو قیامت کا دن کہا گیا ہے۔ اور یہ خبر اس لیے بالکل سچ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو دی گئی ہے دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ ماہرین فلکیات اور سائنس دان بھی اپنے تجربات کے بعد اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ واقعی یہ کائنات ایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ آسمان حفاظتی مضبوط چھت ہے جس کے پھٹ جانے سے ایسی تباہی پھیلے گی کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ کیونکہ کائنات کا توازن بڑے حساب کتاب سے رکھا گیا ہے اگر وہ بگڑ گیا تو یہی ہوگا۔ جس کا ذکر یہاں بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الانفطار۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 8 عزت والے اس لئے کہ وہ لکھنے میں رہتے دیتے ہیں اور نہ کوئی بات زیادہ لکھتے ہیں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں ننگے ہونے سے منع فرماتا ہے لہٰذا تم اپنے ساتھ رہنے والے کراماً کاتبین فرشتوں سے شرم کرو جب تم میں سے کوئی شخص کھلی جگہ نہائے تو اسے چاہیے کہ کپڑے سے پردہ پوشی کرلے یا دیوار یا اونٹ وغیرہ کی اوٹ کرلے۔ (ابن کثیر بحوالہ بزار)
Read the full tafseer →(82:11) کراما بزرگ، عزت والے۔ باوقار لوگ۔ کریم واحد۔ کاتبین کتابۃ (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، بزرگ اور معزز لکھنے والے اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کی حفاظت اور اس کے اعمال و اقوال کی کتابت پر مامور ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
انسان کی پیدائش اور حشر کا ذکر۔ (ف 1) یعنی زمین پر کے سب سمندر شریں وشور مل کر ایک ہوجائیں اور قبریں پھٹ جائیں گی اور ان میں سے مردے زندہ کر کے نکالے جائیں گے اس وقت ہر نفس اپنے اعمال خیر وشر جان لے گا جو اس نے زندگی میں کیے ہوں گے کہ میں نے نیک عمل و بدعمل کیا بھیجا اور کیا چھوڑا اور توبہ اور نیک عمل کو پست پشت ڈالنے کا ثمرہ بھی معلوم ہوجائے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائیں گے اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست ونابود تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا، برابھلا دیکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[7] کراماً کاتبین کے معنی ہیں لکھنے والے۔ یہ فرشتے ہیں جو ہر آدمی کے اعمال نیک و بد کے لکھنے کے لئے اس پر تعینات ہیں۔ کراماً کاتبین تھی تو فرشتوں کی صفت مگر اب ان کا نام پڑگیا ہے، اس لئے ان الفاظ کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
ف 1: اس میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے جو سرکشی اور عناد کا وتیرہ اختیار کررکھا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رشدوہدایت کے استفادہ کے مواقع عنایت نہیں فرمائے ہیں یا عقل و دانش اس راہ میں حائل ہے اور نیک نیتی کے ساتھ اسلام کے حقائق کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے ۔ بلکہ بات یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ اصول مکافات ععمل کے قائل نہیں ہیں ۔ قیامت اور جزاوسزا کو نہیں تسلیم کرتے ۔ اس لئے دین کی قدر و قیمت ہی ان کے دلوں سے اٹھ گئی ہے اور اب یہ اس قابل نہیں رہے کہ ان معارف پر غور کرسکیں ۔
Read the full tafseer →(11) جو معزز اور کاتب اعمال ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ف 1۔ یعنی باوجود اشتراک خلق و تسویہ و تعدیل کے پھر الگ الگ طور پر پیدا کیا، ماغرک سے پہلے معاد کا اور اس کے بعد مبدا کا ذکر اشارہ ہے کہ گو امر مانع اغترار ہو پھر بھی غرور سے باز نہیں آتا اور کریم کی صفت میں تلقین حجت نہیں، بلکہ تقویت ہے مانع کی یعنی کریم ہونا مقتضی ہے کہ اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔
Read the full tafseer →وہ کراما ً کاتبین ہیں جو نہایت بزرگ اور شریف ہیں 11 ؎ مطلب یہ ہے کہ جو فرشتے تمہارا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں وہ نہایت بزرگ ہیں وہ ایک ایک حرکت کو ریکارڈ کر رہے ہیں اور اس میں ذرا برابر بھی کمی و بیشی نہیں کریں گے وہ معمولی قسم کے اہلکار نہیں کہ ہماری کہی گئی بات میں کسی طرح کا تساہل برتیں ۔ مطلب یہ ہے کہ بھیگی بلی بنانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے کچھ کرسکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں ان کو جو ذمہ داری ہم نے سونپ دی ہے وہ اس کو پورا کر رہے ہیں اور پورا کرتے رہیں گے ان کو نہ تو کسی سے ذاتی دوستی ہے اور نہ ہی وہ کسی سے ذاتی طور پر دشمنی رکھتے ہیں ۔ ان کا کام ہے کہ جس ذمہ داری پر ان کو لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ (He composed you in whichever form He willed....82:8). This is to indicate that since the basic structure of all human beings is the same, it was expected that the zillions of members of the human society would have shared the same shape, size and features, but the perfect mastery and the wonderful acumen of the Supreme Creator has created them so differently that each one of them has its own unique features that make him clearly distinct from all others, and no one is confused with another. Having stated the creative acumen of the Great Creator, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
7 That is, "whether you deny the meting out of rewards and punishments, belie it, or mock it, the reality cannot change. The reality is .that your Lord has not left you to your self in the world, but has appointed over each one of you honest and upright guardians, who are recording objectively and faithfully all your good and evil acts, and none of your acts is hidden from them, whether you commit it in darkness, or in private, or in far off jungles, or in secret when you are fully satisfied that whatever you have done bas remained hidden from human eye. For these guardian angels Allah has…
Read the full tafseer →