کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 39 · 69 hadiths · Page 4 of 4

1378Mauwatta Imam Malik

جو مرد عورت کی مثل ہو اس کا بیان اور لڑکے کا کون حقدار ہے ماں یا باپ

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مُخَنَّثًا کَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ الطَّائِفَ غَدًا فَأَنَا أَدُلُّکَ عَلَی ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَائِ عَلَيْکُمْ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک مخنث خلقی حضرت ام سلمہ کے پاس تھا اس نے عبداللہ بن امیہ سے کہا اور رسول اللہ ﷺ سن رہے تھے اے عبداللہ اگر کل اللہ جل جلالہ تمہارے ہاتھ سے طائف کو فتح کرا دے تو تم غیلان کی بیٹی کو ضرور لینا جب وہ سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بٹیں معلوم ہوتی ہیں اور جب پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو چار کی آٹھ بٹیں معلوم ہوتی ہیں (دونوں جانب پہلو سے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔

Malik said from Hisham ibn Urwa from his father that an effeminate man was with Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace. He said to Abdullah ibn Abi Umayya while the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was listening. "Abdullah! If Allah grants you victory over Taif tomorrow, I will lead you to the daughter of Ghailan. She has four folds on her front and eight folds on her back." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "This sort of man should not enter freely with you." (It was customary to allow men with no sexual inclination to enter freely where there were women).

1379Mauwatta Imam Malik

جو مرد عورت کی مثل ہو اس کا بیان اور لڑکے کا کون حقدار ہے ماں یا باپ

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ کَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ ثُمَّ إِنَّهُ فَارَقَهَا فَجَائَ عُمَرُ قُبَائً فَوَجَدَ ابْنَهُ عَاصِمًا يَلْعَبُ بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِعَضُدِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَی الدَّابَّةِ فَأَدْرَکَتْهُ جَدَّةُ الْغُلَامِ فَنَازَعَتْهُ إِيَّاهُ حَتَّی أَتَيَا أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ فَقَالَ عُمَرُ ابْنِي وَقَالَتْ الْمَرْأَةُ ابْنِي فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ قَالَ فَمَا رَاجَعَهُ عُمَرُ الْکَلَامَ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا کہتے تھے حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک انصاری عورت تھی اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عاصم بن عمر رکھا تھا پھر حضرت عمر نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور مسجد قبا میں آئے وہاں عاصم کو لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا مسجد کے صحن میں حضرت عمرنے اس کا بازو پکڑ کر اپنے جانور پر سوار کرلیا لڑکے کی نانی نے یہ دیکھ کر ان سے جھگڑا کیا اور اپنا لڑکا طلب کیا پھر دونوں حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آئے حضرت عمر نے کہا میرا بیٹا ہے عورت نے کہا میرا بچہ ہے ابوبکر صدیق نے کہا عمر اسے چھوڑ دو بچے کو اور دے دو اس کی نانی کو حضرت عمرچپ ہو رہے اور کچھ تکرار نہ کی۔

Malik related to me that Yahya ibn Said said that he heard al-Qasim ibn Muhammad say, "A woman of the Ansar was married to Umar ibn al-Khattab. She bore Asim ibn Umar to him, and then he separated from her. Umar came to Quba and found his son Asim playing in the courtyard of the mosque. He took him by the arm and placed him before him on his mount. The grandmother of the child saw him and argued with Umar about the child so they went to Abu Bakr (RA) as-Siddiq. Umar said, My son. The woman said, My son. Abu Bakr (RA) said, Do not interfere between a child and its mother. Umar did not repeat his words." Yahya said that he heard Malik say, "This is what I would have done in that situation."

1380Mauwatta Imam Malik

اس میں عیب نکلنے کا بیان اور اس کا تاوان کس پر ہے۔

بَاب الْعَيْبِ فِي السِّلْعَةِ وَضَمَانِهَا قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ السِّلْعَةَ مِنْ الْحَيَوَانِ أَوْ الثِّيَابِ أَوْ الْعُرُوضِ فَيُوجَدُ ذَلِكَ الْبَيْعُ غَيْرَ جَائِزٍ فَيُرَدُّ وَيُؤْمَرُ الَّذِي قَبَضَ السِّلْعَةَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى صَاحِبِهِ سِلْعَتَهُ قَالَ مَالِك فَلَيْسَ لِصَاحِبِ السِّلْعَةِ إِلَّا قِيمَتُهَا يَوْمَ قُبِضَتْ مِنْهُ وَلَيْسَ يَوْمَ يَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ ضَمِنَهَا مِنْ يَوْمَ قَبَضَهَا فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ نُقْصَانٍ بَعْدَ ذَلِكَ كَانَ عَلَيْهِ فَبِذَلِكَ كَانَ نِمَاؤُهَا وَزِيَادَتُهَا لَهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ يَقْبِضُ السِّلْعَةَ فِي زَمَانٍ هِيَ فِيهِ نَافِقَةٌ مَرْغُوبٌ فِيهَا ثُمَّ يَرُدُّهَا فِي زَمَانٍ هِيَ فِيهِ سَاقِطَةٌ لَا يُرِيدُهَا أَحَدٌ فَيَقْبِضُ الرَّجُلُ السِّلْعَةَ مِنْ الرَّجُلِ فَيَبِيعُهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَيُمْسِكُهَا وَثَمَنُهَا ذَلِكَ ثُمَّ يَرُدُّهَا وَإِنَّمَا ثَمَنُهَا دِينَارٌ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَذْهَبَ مِنْ مَالِ الرَّجُلِ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ يَقْبِضُهَا مِنْهُ الرَّجُلُ فَيَبِيعُهَا بِدِينَارٍ أَوْ يُمْسِكُهَا وَإِنَّمَا ثَمَنُهَا دِينَارٌ ثُمَّ يَرُدُّهَا وَقِيمَتُهَا يَوْمَ يَرُدُّهَا عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَلَيْسَ عَلَى الَّذِي قَبَضَهَا أَنْ يَغْرَمَ لِصَاحِبِهَا مِنْ مَالِهِ تِسْعَةَ دَنَانِيرَ إِنَّمَا عَلَيْهِ قِيمَةُ مَا قَبَضَ يَوْمَ قَبْضِهِ قَالَ وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَنَّ السَّارِقَ إِذَا سَرَقَ السِّلْعَةَ فَإِنَّمَا يُنْظَرُ إِلَى ثَمَنِهَا يَوْمَ يَسْرِقُهَا فَإِنْ كَانَ يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ كَانَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَإِنْ اسْتَأْخَرَ قَطْعُهُ إِمَّا فِي سِجْنٍ يُحْبَسُ فِيهِ حَتَّى يُنْظَرَ فِي شَأْنِهِ وَإِمَّا أَنْ يَهْرُبَ السَّارِقُ ثُمَّ يُؤْخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَيْسَ اسْتِئْخَارُ قَطْعِهِ بِالَّذِي يَضَعُ عَنْهُ حَدًّا قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ يَوْمَ سَرَقَ وَإِنْ رَخُصَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ بَعْدَ ذَلِكَ وَلَا بِالَّذِي يُوجِبُ عَلَيْهِ قَطْعًا لَمْ يَكُنْ وَجَبَ عَلَيْهِ يَوْمَ أَخَذَهَا إِنْ غَلَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ بَعْدَ ذَلِكَ

کہا مالک نے ایک شخص جانور یا کپڑا یا اور کوئی اسباب خریدے پھر یہ بیع ناجائز معلوم ہو اور مشتری (خریدنے والا) کو حکم ہو کہ وہ چیز بائع (بچنے والا) کو پھیر دے (حالانکہ اس شئے میں کوئی عیب ہوجائے) تو بائع (بچنے والا) کو اس شئے کی قیمت ملے گی اس دن کی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی نہ کہ اس دن کی جس دن وہ پھیرتا ہے کیونکہ جس دن سے وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی اس دن سے وہ اس کا ضامن ہوگیا تھا اب جو کچھ اس میں نقصان ہوجائے وہ اسی پر ہوگا اور جو کچھ زیادتی ہوجائے وہ بھی اسی کی ہوگی اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مال ایسے وقت میں لیتا ہے جب اس کی قدر اور تلاش ہو پھر اس کو وقت میں پھیر دیتا ہے جب کہ وہ بےقدر ہو کوئی اس کو نہ پوچھے تو آدمی ایک شئے خریدتا ہے دس دینار کو پھر اس کو رکھ چھوڑتا ہے اور پھیرتا ہے ایسے وقت میں جب اس کی قیمت ایک دینار ہو تو یہ نہیں ہوسکتا کہ بےچارے بائع (بچنے والا) کا نو دینار کا نقصان کرے یا جس دن خریدا اسی دن اس کی قیمت ایک دینار تھی پھر پھیرتے وقت اس کی قیمت دس دینار ہوگئی تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو ناحق نو دینار کا نقصان دے اسی واسطے وہ قیمت اس دن کی واجب ہوئی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی ہو۔

Yahya said that he heard Malik speak about a man who bought goods - animals or clothes or wares, and the sale was found not to be permitted so it was revoked and the one who had taken the goods was ordered to return the owner his goods. Malik said, "The owner of the goods only has their value on the day they were taken from him, and not on the day they are returned to him. That is because the man is liable for them from the day he took them and whatever loss is in them after that is against him. For that reason, their increase and growth are also his. A man may take the goods at a time when they are selling well and are in demand, and then have to return them at a time when they have fallen in price and no one wants them. For instance, the man may take the goods from the other man, and sell them for ten dinars or keep them while their price is that. Then he may have to return them while their price is only a dinar. He should not go off with nine dinars from the mans property. Or perhaps they are taken by the man, and he sells them for a dinar or keeps them, while their price is only a dinar, then he has to return them, and their value on the day he returns them is ten dinars. The one who took them does not have to pay nine dinars from his property to the owner. He is only obliged to pay the value of what he took possession of on the day it was taken ." He said, "Part of what clarifies this is that when a thief steals goods, only their price on the day he stole them is looked at. If cutting off the hand is necessary because of it, that is done. If the cutting off is delayed, either because the thief is imprisoned until his situation is examined or he flees and then is caught, the delay of the cutting off of the hand does not make the hadd, which was obliged for him on the day he stole, fall from him even if those goods become cheap after that. Nor does delay oblige cutting off the hand if it was not obliged on the day he took those goods, even if they become expensive after that."

1381Mauwatta Imam Malik

قضاکی مختلف احادیث کا بیان اور قضا کے مکروة ہونے کا بیان

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ کَتَبَ إِلَی سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنْ هَلُمَّ إِلَی الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَکَتَبَ إِلَيْهِ سَلْمَانُ إِنَّ الْأَرْضَ لَا تُقَدِّسُ أَحَدًا وَإِنَّمَا يُقَدِّسُ الْإِنْسَانَ عَمَلُهُ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّکَ جُعِلْتَ طَبِيبًا تُدَاوِي فَإِنْ کُنْتَ تُبْرِئُ فَنَعِمَّا لَکَ وَإِنْ کُنْتَ مُتَطَبِّبًا فَاحْذَرْ أَنْ تَقْتُلَ إِنْسَانًا فَتَدْخُلَ النَّارَ فَکَانَ أَبُو الدَّرْدَائِ إِذَا قَضَی بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ أَدْبَرَا عَنْهُ نَظَرَ إِلَيْهِمَا وَقَالَ ارْجِعَا إِلَيَّ أَعِيدَا عَلَيَّ قِصَّتَکُمَا مُتَطَبِّبٌ وَاللَّهِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابوالدرداء نے سلمان فارسی کو لکھا کہ چلے آؤ مقدس زمین میں سلمان نے جواب لکھا کہ زمین کسی کو مقدس نہیں کرتی بلکہ آدمی کو اس کے عمل مقدس کرتے ہیں اور میں نے سنا ہے تم طبیب بنے ہو لوگوں کی دوا کرتے ہو اگر تم لوگوں کو دوا سے اچھا کرتے ہو تو بہتر ہے اور اگر تم طب نہیں جانتے تو اور خواہ مخواہ طبیب بن گئے تو بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی آدمی کو مار ڈالو تو جہنم میں جاؤ پھر ابوالدردا جب فیصلہ کیا کرتے دو شخصوں میں اور وہ جانے لگتے تو دوبارہ ان کو بلاتے اور کہتے پھر بیان کرو اپنا قصہ میں تو واللہ طب نہیں جانتا یوں ہی علاج کرتا ہوں۔

Malik related to me from Yahya ibn Said that Abud-Darda wrote to Salman al-Farsi, "Come immediately to the holy land." Salman wrote back to him, "Land does not make anyone holy. Mans deeds make him holy. I have heard that you were put up as a doctor to treat and cure people. If you are innocent, then may you have delight! If you are a quack, then beware lest you kill a man and enter the Fire!" When Abud-Darda judged between two men, and they turned from him to go, he would look at them and say, "Come back to me, and tell me your story again. A quack! By Allah!"

1382Mauwatta Imam Malik

قضاکی مختلف احادیث کا بیان اور قضا کے مکروة ہونے کا بیان

قَالَ مَالِک يَقُولُ مَنْ اسْتَعَانَ عَبْدًا بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فِي شَيْئٍ لَهُ بَالٌ وَلِمِثْلِهِ إِجَارَةٌ فَهُوَ ضَامِنٌ لِمَا أَصَابَ الْعَبْدَ إِنْ أُصِيبَ الْعَبْدُ بِشَيْئٍ وَإِنْ سَلِمَ الْعَبْدُ فَطَلَبَ سَيِّدُهُ إِجَارَتَهُ لِمَا عَمِلَ فَذَلِکَ لِسَيِّدِهِ وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک يَقُولُ فِي الْعَبْدِ يَکُونُ بَعْضُهُ حُرًّا وَبَعْضُهُ مُسْتَرَقًّا إِنَّهُ يُوقَفُ مَالُهُ بِيَدِهِ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْدِثَ فِيهِ شَيْئًا وَلَکِنَّهُ يَأْکُلُ فِيهِ وَيَکْتَسِي بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا هَلَکَ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَقِيَ لَهُ فِيهِ الرِّقُّ قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْوَالِدَ يُحَاسِبُ وَلَدَهُ بِمَا أَنْفَقَ عَلَيْهِ مِنْ يَوْمِ يَکُونُ لِلْوَلَدِ مَالٌ نَاضًّا کَانَ أَوْ عَرْضًا إِنْ أَرَادَ الْوَالِدُ ذَلِکَ

کہا مالک نے اگر کسی شخص نے دوسرے کے غلام سے بغیر اس کی اجازت کے کسی بڑے کام میں مدد لی جس کے واسطے نوکر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے یا مزدوربلانے کی اور غلام میں کوئی عیب ہوگیا اس کام کرنے کی وجہ سے تو اس پر ضمان لازم آئے گی اور جو غلام صحیح وسالم رہا اور اس کے مولیٰ (مالک) نے مزدوری طلب کی تو مزدوری دینی پڑے گی۔ کہا مالک نے اگر غلام کا ایک حصہ آزاد ہو اور کچھ فقیق (مملوک) تو مال اس کا اس کے پاس رہے گا اگر اس میں کوئی نیا کام نہیں کرسکتا بلکہ بقدرضرورت کھاتاپیتا ہے تو جب مرجائے گا تو وہ مال اس کو ملے گا جس کی ملک باقی تھی۔ کہا مالک نے جس روز سے لڑکا مالدار ہوجائے تو والد نے جو اس پر خرچ کیا ہو اس روز سے حساب کر کے اس سے کٹوتی لے سکتا ہے اگر چاہے، خواہ مال لڑکے کا نقد کی قسم سے ہو یا جنس کی قسم سے۔

Yahya said that he heard Malik say, "If someone makes use of a slave, without permission of its master, in anything important to him, whose like has a fee, he is liable for what befalls the slave if anything befalls him. If the slave is safe and his master asks for his wage for what he has done, that is the masters right. This is what is done in our community."

1383Mauwatta Imam Malik

قضاکی مختلف احادیث کا بیان اور قضا کے مکروة ہونے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَلَافٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ کَانَ يَسْبِقُ الْحَاجَّ فَيَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغْلِي بِهَا ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ فَأَفْلَسَ فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّ الْأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ بِأَنْ يُقَالَ سَبَقَ الْحَاجَّ أَلَا وَإِنَّهُ قَدْ دَانَ مُعْرِضًا فَأَصْبَحَ قَدْ رِينَ بِهِ فَمَنْ کَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ نَقْسِمُ مَالَهُ بَيْنَهُمْ وَإِيَّاکُمْ وَالدَّيْنَ فَإِنَّ أَوَّلَهُ هَمٌّ وَآخِرَهُ حَرْبٌ

عمر بن عبدالرحمن بن دلاف مزنی سے روایت ہے کہ ایک شخص قبیلہ جہینہ کا سب حاجیوں سے آگے جا کر اچھے اچھے مہنگے اونٹ خریدا کرتا تھا اور جلدی چلا کرتا تھا سب حاجیوں سے پہلے پہنچتا تھا ایک بار وہ مفلس ہوگیا اور اس کا مقدمہ حضرت عمر کے پاس آیا آپ نے کہا بعد حمد وصلوۃ کے لوگوں کو معلوم ہو کہ اسیفع نے جو جہنیہ کے قبیلے کا ہے دین اور امانت میں بھی بات پسند کی کہ لوگ اس کو کہا کریں کہ وہ سب حاجیوں سے پہلے پہنچا آگاہ رہو کہ اس نے قرض خریدا ادا کرنے کا خیال نہ رکھا تو وہ مفلس ہوگیا اور قرض نے اس کے مال کو لپیٹ لیا تو جس شخص کا اس پر قرض آتا ہے وہ ہمارے پاس صبح کو آئے ہم اس کا مال قرضخواہوں کو تقسیم کریں گے تم لوگوں کو چاہیے کہ قرض لینے سے پرہیز کرو قرض میں لیتے ہی رنج ہوتا ہے اور آخر میں لڑائی ہوتی ہے

Malik related to me from Umar ibn Abd ar-Rahman ibn Dalaf al-Muzani from his father that a man from the Juhayna tribe used to buy camels before people set out for hajj and sell them at a higher price. Then he travelled quickly and used to arrive in Makka before the others who set out for hajj. He went bankrupt and his situation was put before Umar ibn al-Khattab, who said, "O People! al-Usayfi, al-Usayfi of the Juhayna, was satisfied with his deen and his trust because it was said of him that he arrived before the others on hajj. He used to incur debts which he was not careful to repay, so all of his property has been eaten up by it. Whoever has a debt against him, let him come to us tomorrow and we will divide his property between his creditors. Beware of debts! Their beginning is a worry and their end is destitution. "

1384Mauwatta Imam Malik

غلام کسی کا نقصان کرین یا کسی کو زخمی کریں تو کیا حکم ہے۔

قَالَ مَالِک يَقُولُ السُّنَّةُ عِنْدَنَا فِي جِنَايَةِ الْعَبِيدِ أَنَّ کُلَّ مَا أَصَابَ الْعَبْدُ مِنْ جُرْحٍ جَرَحَ بِهِ إِنْسَانًا أَوْ شَيْئٍ اخْتَلَسَهُ أَوْ حَرِيسَةٍ احْتَرَسَهَا أَوْ ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ جَذَّهُ أَوْ أَفْسَدَهُ أَوْ سَرِقَةٍ سَرَقَهَا لَا قَطْعَ عَلَيْهِ فِيهَا إِنَّ ذَلِکَ فِي رَقَبَةِ الْعَبْدِ لَا يَعْدُو ذَلِکَ الرَّقَبَةَ قَلَّ ذَلِکَ أَوْ کَثُرَ فَإِنْ شَائَ سَيِّدُهُ أَنْ يُعْطِيَ قِيمَةَ مَا أَخَذَ غُلَامُهُ أَوْ أَفْسَدَ أَوْ عَقْلَ مَا جَرَحَ أَعْطَاهُ وَأَمْسَکَ غُلَامَهُ وَإِنْ شَائَ أَنْ يُسْلِمَهُ أَسْلَمَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْئٌ غَيْرُ ذَلِکَ فَسَيِّدُهُ فِي ذَلِکَ بِالْخِيَارِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک غلام کی جنایت میں سنت یہ ہے کہ اگر غلام کا رقبہ (گردن۔ آزادی یا غلامی) اس میں پھنس جائے گا تو مولیٰ (مالک) کو اختیار ہے چاہے ان چیزوں کی قیمت یا زخم کی دیت ادا کرے اور اپنے غلام کو رکھ لے چاہے اس غلام ہی کو صاحب جنایت کے حوالے کردے غلام کی قیمت سے زیادہ مولیٰ (مالک کو کچھ نہ دینا ہوگا اگرچہ اس چیز کی قیمت یا دیت اس کی قیمت سے زیادہ ہو۔

Yahya said that he heard Malik say, "The sunna with us about the crime of slaves is that the hand is not cut off for any harm that a slave causes a man, or something he pilfers, or something guarded which he steals, or hanging dates he cuts down or ruins, or steals. That is against the slaves person and does not exceed the price of the slave whether it is little or much. If his master wishes to give the value of what the slave took or ruined, or pay the blood-price for the injury, he pays it and keeps his slave. If he wishes to surrender him, he surrenders him, and none of that is against him. The master has the option in that."

1385Mauwatta Imam Malik

اپنی اولاد کو جو دینا درست ہے اس کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ مَنْ نَحَلَ وَلَدًا لَهُ صَغِيرًا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَحُوزَ نُحْلَهُ فَأَعْلَنَ ذَلِکَ لَهُ وَأَشْهَدَ عَلَيْهَا فَهِيَ جَائِزَةٌ وَإِنْ وَلِيَهَا أَبُوهُ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان نے کہا کہ جو شخص اپنے نابالغ لڑکے کو کوئی چیز ہبہ کرے تو درست ہے جب کہ علانیہ دے اور اس پر گواہ کر دے پھر اس کا ولی باپ ہی رہے گا۔

Malik related to me from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that Uthman ibn Affan said, "If someone gives something to his small child who is not old enough to look after it himself, and in order that his gift might be permitted he makes the gift public and has it witnessed, the gift is permitted, even if the father keeps charge of it."

1386Mauwatta Imam Malik

اپنی اولاد کو جو دینا درست ہے اس کا بیان

قَالَ مَالِک الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ نَحَلَ ابْنًا لَهُ صَغِيرًا ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا ثُمَّ هَلَکَ وَهُوَ يَلِيهِ إِنَّهُ لَا شَيْئَ لِلْابْنِ مِنْ ذَلِکَ إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْأَبُ عَزَلَهَا بِعَيْنِهَا أَوْ دَفَعَهَا إِلَی رَجُلٍ وَضَعَهَا لِابْنِهِ عِنْدَ ذَلِکَ الرَّجُلِ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَهُوَ جَائِزٌ لِلْابْنِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ جو شخص اپنے نابالغ بچے کو سونا یا چاندی دے پھر وہ بچہ مرجائے اور باپ ہی اس کا ولی تھا تو وہ مال اس بچے کا شمار نہ کیا جائے گا الاّجس صورت میں باپ نے اس مال کو جدا کردیا ہو یا کسی کے پاس رکھوایا ہو تو وہ بیٹے کا ہوگا (اب وہ مال بیٹے کے سب وارثوں کو بموجب فرائض کے پہنچے گا)۔

Malik said, "What is done in our community is that if a man gives his small child some gold or silver and then dies and he has it in his own keeping, the child has none of it unless the father set it aside in coin or placed it with a man to keep for the son. If he does that, it is permitted for the son."