کتاب دیتوں کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 41 · 44 hadiths · Page 3 of 3

1451Mauwatta Imam Malik

قصاص کا بیان

بَاب الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ يَذْكُرُ أَنَّهُ أُتِيَ بِسَكْرَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنْ اقْتُلْهُ بِهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي تَأْوِيلِ هَذِهِ الْآيَةِ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ فَهَؤُلَاءِ الذُّكُورُ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى أَنَّ الْقِصَاصَ يَكُونُ بَيْنَ الْإِنَاثِ كَمَا يَكُونُ بَيْنَ الذُّكُورِ وَالْمَرْأَةُ الْحُرَّةُ تُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ كَمَا يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْأَمَةُ تُقْتَلُ بِالْأَمَةِ كَمَا يُقْتَلُ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْقِصَاصُ يَكُونُ بَيْنَ النِّسَاءِ كَمَا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالْقِصَاصُ أَيْضًا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَذَكَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ فَنَفْسُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ بِنَفْسِ الرَّجُلِ الْحُرِّ وَجُرْحُهَا بِجُرْحِهِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُمْسِكُ الرَّجُلَ لِلرَّجُلِ فَيَضْرِبُهُ فَيَمُوتُ مَكَانَهُ أَنَّهُ إِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ يُرِيدُ قَتْلَهُ قُتِلَا بِهِ جَمِيعًا وَإِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ إِنَّمَا يُرِيدُ الضَّرْبَ مِمَّا يَضْرِبُ بِهِ النَّاسُ لَا يَرَى أَنَّهُ عَمَدَ لِقَتْلِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ الْقَاتِلُ وَيُعَاقَبُ الْمُمْسِكُ أَشَدَّ الْعُقُوبَةِ وَيُسْجَنُ سَنَةً لِأَنَّهُ أَمْسَكَهُ وَلَا يَكُونُ عَلَيْهِ الْقَتْلُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ عَمْدًا أَوْ يَفْقَأُ عَيْنَهُ عَمْدًا فَيُقْتَلُ الْقَاتِلُ أَوْ تُفْقَأُ عَيْنُ الْفَاقِئِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ دِيَةٌ وَلَا قِصَاصٌ وَإِنَّمَا كَانَ حَقُّ الَّذِي قُتِلَ أَوْ فُقِئَتْ عَيْنُهُ فِي الشَّيْءِ بِالَّذِي ذَهَبَ وَإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ عَمْدًا ثُمَّ يَمُوتُ الْقَاتِلُ فَلَا يَكُونُ لِصَاحِبِ الدَّمِ إِذَا مَاتَ الْقَاتِلُ شَيْءٌ دِيَةٌ وَلَا غَيْرُهَا وَذَلِكَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ قَالَ مَالِك فَإِنَّمَا يَكُونُ لَهُ الْقِصَاصُ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي قَتَلَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَاتِلُهُ الَّذِي قَتَلَهُ فَلَيْسَ لَهُ قِصَاصٌ وَلَا دِيَةٌ قَالَ مَالِك لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ قَوَدٌ فِي شَيْءٍ مِنْ الْجِرَاحِ وَالْعَبْدُ يُقْتَلُ بِالْحُرِّ إِذَا قَتَلَهُ عَمْدًا وَلَا يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ وَإِنْ قَتَلَهُ عَمْدًا وَهُوَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ

امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ ایک شخص نے نشے کی حالت میں ایک شخص کو مار ڈالا معاویہ نے جواب لکھا کہ تو بھی اس کو مار ڈال۔ کہا مالک نے میں نے اس کی تفسیر بہت اچھی سنی فرمایا اللہ تعالیٰ نے قتل کر آزاد کو آزاد کے بدلے میں اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں تو قصاص عورتوں میں آپس میں لیا جائے گا جیسا کہ مردوں میں لیا جاتا ہے اور مرد اور عورت میں بھی لیا جائے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے نفس بدلے نفس کے قتل کیا جائے گا تو عورت مرد کے بدلے میں قتل کی جائے گی اور مرد عورت کے بدلے میں مارا جائے گا اسی طرح ایک دوسرے کو اگر زخمی کرے گا تب بھی قصاص لیا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص ایک شخص کو پکڑ لے اور دوسرا اس کو آکر مار ڈالے اور معلوم ہوجائے کہ اس نے مار ڈالنے ہی کے واسطے پکڑا تھا تو دونوں شخص اس کے بدلے میں قتل کئے جائیں گے اگر اس نے اس نیت سے نہیں پکڑا تھا بلکہ اس کو یہ خیال تھا کہ دوسرا شخص یوں ہی اسے مارے گا تو پکڑنے والا قتل نہ کیا جائے گا لیکن اس کو سخت سزادی جائے گی۔ اور بعد سزا کے ایک برس تک قید کیا جائے گا۔ کہا مالک نے زید نے عمرو کو قتل کیا یا اس کی آنکھ پھوڑ ڈالی، قصداً اب قبل اس کے کہ زید سے قصاص لیا جائے اس کو بکر نے مار ڈالا یا زید کی آنکھ پھوڑ ڈالی تو اس پر دیت یا قصاص واجب نہ ہوگا کیونکہ عمرو کا حق زید کی جان میں تھا یا اس کی آنکھ میں اب زید ہی نہ رہا یا وہ آنکھ ہی نہ رہی۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ زید عمرو کو عمداً مار ڈالے گا پھر زید بھی مرجائے تو عمرو کے وارثوں کو اب کچھ نہ ملے گا کیونکہ قصاص قاتل پر ہوتا ہے جب وہ خود مرگیا تو نہ قصاص ہے نہ دیت۔ کہا مالک نے آزاد اور غلام میں قصاص نہیں ہے زخموں میں لیکن اگر غلام آزاد کو مار ڈالے گا تو غلام مارا جائے گا اور جو آزاد غلام کو مار ڈالے گا تو آزاد نہ مارا جائے گا یہ میں نے بہت اچھا سنا۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Marwan ibn al-Hakam wrote to Muawiya ibn Abi Sufyan to mention to him that a drunkard was brought to him who had killed a man. Muawiya wrote to him to kill him in retaliation for the dead man.

1452Mauwatta Imam Malik

قتل عمد میں عفو کرنے کا بیان

بَاب الْعَفْوِ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ أَدْرَكَ مَنْ يَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَوْصَى أَنْ يُعْفَى عَنْ قَاتِلِهِ إِذَا قَتَلَ عَمْدًا إِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ وَأَنَّهُ أَوْلَى بِدَمِهِ مِنْ غَيْرِهِ مِنْ أَوْلِيَائِهِ مِنْ بَعْدِهِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَعْفُو عَنْ قَتْلِ الْعَمْدِ بَعْدَ أَنْ يَسْتَحِقَّهُ وَيَجِبَ لَهُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى الْقَاتِلِ عَقْلٌ يَلْزَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الَّذِي عَفَا عَنْهُ اشْتَرَطَ ذَلِكَ عِنْدَ الْعَفْوِ عَنْهُ قَالَ مَالِك فِي الْقَاتِلِ عَمْدًا إِذَا عُفِيَ عَنْهُ أَنَّهُ يُجْلَدُ مِائَةَ جَلْدَةٍ وَيُسْجَنُ سَنَةً قَالَ مَالِك وَإِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ عَمْدًا وَقَامَتْ عَلَى ذَلِكَ الْبَيِّنَةُ وَلِلْمَقْتُولِ بَنُونَ وَبَنَاتٌ فَعَفَا الْبَنُونَ وَأَبَى الْبَنَاتُ أَنْ يَعْفُونَ فَعَفْوُ الْبَنِينَ جَائِزٌ عَلَى الْبَنَاتِ وَلَا أَمْرَ لِلْبَنَاتِ مَعَ الْبَنِينَ فِي الْقِيَامِ بِالدَّمِ وَالْعَفْوِ عَنْهُ

امام مالک نے کئی اچھے عالموں سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ جب مقتول مرتے وقت اپنے قاتل کو معاف کر دے تو درست ہے قتل عمد میں اس کو اپنے خون کا زیادہ اختیار ہے وارثوں سے۔ کہا مالک نے جو شخص قاتل کو عمداً معاف کردے تو قاتل پر دیت لازم نہ ہوگی مگر جب کہ قصاص عفو (معاف) کر کے دیت ٹھہرا لے۔ کہا مالک نے اگر قاتل کو مقتول معاف کردے تب بھی قاتل کو سو کوڑے لگائیں گے اور ایک سال تک قید کریں گے۔ کہا مالک نے جب کوئی شخص عمداً مارا گیا اور گواہوں سے قتل ثابت ہوا اور مقتول کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں بیٹوں نے تو معاف کردیا لیکن بیٹیوں نے معاف نہ کیا تو بیٹیوں کے معاف کرنے سے کچھ خلل واقع نہ ہوگا بلکہ خون معاف ہوجائے گا کیونکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے ان کو اختیار نہیں ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصاص لیا جائے گا دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہو لے جب وہ اچھا جائے گا تو قصاص لیں گے اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مرگیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصداً تو اس سے قصاص لیا جائے گا البتہ اگر اپنی عورت کو تنبیہاً رسی یا کوڑے سے مارے اور بلاقصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہوجائے یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ امام مالک کو پہنچا کہ ابوبکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا۔

Yahya related to me from Malik that he saw whomever he was satisfied with among the people of knowledge say about a man who willed that his murderer be pardoned when he murdered him intentionally, "That is permitted for him. He is more entitled to the mans blood than any of his relatives after him."

1453Mauwatta Imam Malik

زخموں میں قصاص کا بیان

بَاب الْقِصَاصِ فِي الْجِرَاحِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ كَسَرَ يَدًا أَوْ رِجْلًا عَمْدًا أَنَّهُ يُقَادُ مِنْهُ وَلَا يَعْقِلُ قَالَ مَالِك وَلَا يُقَادُ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى تَبْرَأَ جِرَاحُ صَاحِبِهِ فَيُقَادُ مِنْهُ فَإِنْ جَاءَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ مِثْلَ جُرْحِ الْأَوَّلِ حِينَ يَصِحُّ فَهُوَ الْقَوَدُ وَإِنْ زَادَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ أَوْ مَاتَ فَلَيْسَ عَلَى الْمَجْرُوحِ الْأَوَّلِ الْمُسْتَقِيدِ شَيْءٌ وَإِنْ بَرَأَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ وَشَلَّ الْمَجْرُوحُ الْأَوَّلُ أَوْ بَرَأَتْ جِرَاحُهُ وَبِهَا عَيْبٌ أَوْ نَقْصٌ أَوْ عَثَلٌ فَإِنَّ الْمُسْتَقَادَ مِنْهُ لَا يَكْسِرُ الثَّانِيَةَ وَلَا يُقَادُ بِجُرْحِهِ قَالَ وَلَكِنَّهُ يُعْقَلُ لَهُ بِقَدْرِ مَا نَقَصَ مِنْ يَدِ الْأَوَّلِ أَوْ فَسَدَ مِنْهَا وَالْجِرَاحُ فِي الْجَسَدِ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَإِذَا عَمَدَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَفَقَأَ عَيْنَهَا أَوْ كَسَرَ يَدَهَا أَوْ قَطَعَ إِصْبَعَهَا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ مُتَعَمِّدًا لِذَلِكَ فَإِنَّهَا تُقَادُ مِنْهُ وَأَمَّا الرَّجُلُ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ بِالْحَبْلِ أَوْ بِالسَّوْطِ فَيُصِيبُهَا مِنْ ضَرْبِهِ مَا لَمْ يُرِدْ وَلَمْ يَتَعَمَّدْ فَإِنَّهُ يَعْقِلُ مَا أَصَابَ مِنْهَا عَلَى هَذَا الْوَجْهِ وَلَا يُقَادُ مِنْهُ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَقَادَ مِنْ كَسْرِ الْفَخِذِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصال لیا جائے گا دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہولے جب وہ اچھا ہوجائے تو قصاص لیں گے اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مرگیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصا تو اس سے قصاص لیا جائے گا البہ اگر اپنی عورت کو تنبیہا رسی یا کوڑے سے مارے اور بلا قصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہوجائے یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ حضرت امام مالک کو پہنچا کہ ابابکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا

1454Mauwatta Imam Malik

سائبہ کی دیت وجنایت کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ سَائِبَةً أَعْتَقَهُ بَعْضُ الْحُجَّاجِ فَقَتَلَ ابْنَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَائِذٍ فَجَائَ الْعَائِذِيُّ أَبُو الْمَقْتُولِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَطْلُبُ دِيَةَ ابْنِهِ فَقَالَ عُمَرُ لَا دِيَةَ لَهُ فَقَالَ الْعَائِذِيُّ أَرَأَيْتَ لَوْ قَتَلَهُ ابْنِي فَقَالَ عُمَرُ إِذًا تُخْرِجُونَ دِيَتَهُ فَقَالَ هُوَ إِذًا کَالْأَرْقَمِ إِنْ يُتْرَکْ يَلْقَمْ وَإِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک سائبہ نے جس کو کسی حاجی نے آزاد کردیا تھا ایک شخص کے بیٹے کو جو بنی عاذ میں تھا مار ڈالا مقتول کا باپ حضرت عمر ؓ کے پاس اپنے بیٹے کی دیت مانگنے آیا حضرت عمر ؓ نے کہا اس کے لئے دیت نہیں ہے وہ شخص بولا اگر میرا بیٹا سائبہ کو مار ڈالتا تو تم کیا حکم کرتے حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اس وقت تم کو اس کی دیت ادا کرنی ہوتی وہ شخص بولا پھر تو سائبہ کیا ہے ایک چتلا سانپ ہے اگر چھوڑ دو تو ڈس لے اگر مارو تو بدلہ لے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from Sulayman ibn Yasar that a slave was set free by one of the people on hajj and his master had abandoned the right to inherit from him. The ex-slave then killed a man from the Banu Aidh tribe. An Aidhi, the father of the slain man came to Umar ibn al-Khattab seeking the blood-money of his son. Umar said, "He has no blood-money." The Aidhi said, "What would you think if it had been my son who killed him?" Umar said, "Then you would pay his blood-money." He said, "He is then like the black and white Arqam snake. If it is left, it devours and if it is killed, it takes revenge."