غسل جنابت کی ترکیب کے بیان میں
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَائٍ هُوَ الْفَرَقُ مِنْ الْجَنَابَةِ
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ غسل کرتے تھے اس برتن میں جس میں تین صاع پانی آتا تھا جنابت سے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father from Aisha, umm al-muminin, that whenever the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did ghusl for major ritual impurity, he would begin by washing his hands, and then do wudu as for prayer. He would then put his fingers in the water and rub the roots of his hair with them. Then he would pour as much water as two hands can hold on to his head three times, and over the entire surface of his skin.
غسل جنابت کی ترکیب کے بیان میں
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَأَفْرَغَ عَلَی يَدِهِ الْيُمْنَی فَغَسَلَهَا ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَنَضَحَ فِي عَيْنَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَی ثُمَّ الْيُسْرَی ثُمَّ غَسَلَ رَأْسَهُ ثُمَّ اغْتَسَلَ وَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَائَ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ غُسْلِ الْمَرْأَةِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ لِتَحْفِنْ عَلَی رَأْسِهَا ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِنْ الْمَائِ وَلْتَضْغَثْ رَأْسَهَا بِيَدَيْهَا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب غسل جنابت شروع کرتے تو پہلے اپنا داہنا ہاتھ پانی ڈال کر دھوتے پھر اپنی شرمگاہ دھوتے پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے پھر منہ دھوتے اور آنکھوں کے اندر پانی مارتے پھر داہنا ہاتھ دھوتے پھر بایاں ہاتھ دھوتے پھر سارے بدن پر پانی ڈال کر غسل کرتے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عائشہ ام المومنین سے پوچھا گیا کس طرح غسل کرے عورت جنابت سے کہا کہ ڈالے اپنے سر پر تین چلو دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر اور ملے اپنے سر کر دونوں ہاتھوں سے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that when Abdullah ibn Umar used to do ghusl for major ritual impurity he would begin by pouring water on his right hand and washing it. Then, in order, he would wash his genitals, rinse his mouth, snuff water in and out of his nose, wash his face and splash his eyes with water. Then he would wash his right arm and then his left, and after that he would wash his head. He would finish by having a complete wash and pouring water all over himself.
دخول سے غسل واجب ہونے کا بیان اگرچہ انزال نہ ہو
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا يَقُولُونَ إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عائشہ کا قول یہی تھا کہ جب مس کرے ختنہ ختنہ سے یعنی سر ذکر عورت کی قبل میں غائب ہوجائے تو واجب ہوا غسل۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that Umar ibn al-Khattab and Uthman ibn Affan and Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, used to say, "When the circumcised part touches the circumcised part, ghusl is obligatory."
دخول سے غسل واجب ہونے کا بیان اگرچہ انزال نہ ہو
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ فَقَالَتْ هَلْ تَدْرِي مَا مَثَلُکَ يَا أَبَا سَلَمَةَ مَثَلُ الْفَرُّوجِ يَسْمَعُ الدِّيَکَةَ تَصْرُخُ فَيَصْرُخُ مَعَهَا إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
ابی سلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ میں نے پوچھا حضرت عائشہ ؓ کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے تو کہا حضرت عائشہ نے کہ تو جانتا ہے اپنی صفت کو اے ابوسلمہ صفت تیری مثل چوزہ مرغ کے ہے جب مرغ کو بانگ کرتے سنتا ہے تو آپ بھی بانگ کرنے لگتا ہے جب تجاوز کرے ختنہ ختنے سے تو واجب ہوا غسل۔
Yahya related to me from Malik from Abun Nadr, the mawla of Umar ibn Abdullah that Abu Salamaibn Abdar-Rahman ibn Awf related that he had asked Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, what made ghusl obligatory. She said, "Do you know what you are like, Abu Salama? You are like a chick when it hears the cocks crowing and so crows with them. When the circumcised part passes the circumcised part, ghusl is obligatory."
دخول سے غسل واجب ہونے کا بیان اگرچہ انزال نہ ہو
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِيَّ أَتَی عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ اخْتِلَافُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ أَسْتَقْبِلَکِ بِهِ فَقَالَتْ مَا هُوَ مَا کُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّکَ فَسَلْنِي عَنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يُصِيبُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُکْسِلُ وَلَا يُنْزِلُ فَقَالَتْ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ فَقَالَ أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ لَا أَسْأَلُ عَنْ هَذَا أَحَدًا بَعْدَکِ أَبَدًا
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری آئے حضرت عائشہ کے پاس اور کہا ان سے کہ بہت سخت گزرا مجھ کو اختلاف صحابہ رسول ﷺ کا ایک مسئلے میں شرماتا ہوں کہ ذکر کروں اس کو تمہارے سامنے تو فرمایا عائشہ نے کہ کیا ہے وہ مسئلہ جو تو اپنی ماں سے پوچھ لے مجھ سے کہا ابوموسیٰ نے کوئی جماع کرے اپنی بیوی سے پھر دخول کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے اس نے کہا کہ جب تجاوز کر جائے ختنہ ختنے سے واجب ہوا غسل کہا ابوموسیٰ نے کہ اب نہ پوچھوں گا اس مسئلے کو کسی سے بعد تمہارے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that Abu Musa al-Ashari (RA) came to Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and said to her, "The disagreement of the companions in a matter which I hate to bring before you has distressed me." She said, "What is that? You did not ask your mother about it, so ask me." He said, "A man penetrates his wife, but becomes listless and does not ejaculate. "She said, "When the circumcised part passes the circumcised part ghusl is obligatory." Abu Musa added, "I shall never ask anyone about this after you."
دخول سے غسل واجب ہونے کا بیان اگرچہ انزال نہ ہو
مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ الرَّجُلِ يُصِيبُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُکْسِلُ وَلَا يُنْزِلُ فَقَالَ زَيْدٌ يَغْتَسِلُ فَقَالَ لَهُ مَحْمُودٌ إِنَّ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ کَانَ لَا يَرَی الْغُسْلَ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِنَّ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ نَزَعَ عَنْ ذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ
محمود بن لبید انصاری نے پوچھا زید بن ثابت انصاری سے کہا ایک شخص جماع کرے اپنی بیوی سے پھر دخول کرے لیکن انزال نہ ہو کہا زید نے غسل کرے کہا محمود نے کہ ابی بن کعب اس صورت میں غسل کو واجب نہیں جانتے تھے کہا زید نے کہ ابی بن کعب قبل موت کے پھرگئے اس قول سے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abdullah ibn Kab, the mawla of Uthman ibn Affan that Mahmud ibn Labid al-Ansari asked Zayd ibn Thabit about a man who penetrated his wife but became listless and did not ejaculate. Zayd ibn Thabit said, "He does ghusl." Mahmud said to him, "Ubayy ibn Kab used not to think that ghusl was necessary," but Zayd ibn Thabit said, "Ubayy ibn Kab drew away from that before he died."
دخول سے غسل واجب ہونے کا بیان اگرچہ انزال نہ ہو
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب تجاوز کرے ختنہ ختنہ سے واجب ہوا غسل۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "When the circumcised part passes the circumcised part, ghusl is obligatory."
جنب جب سورہنے کا ارادہ کرے غسل سے پہلے تو وضو کرکے سونے یا کھانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ ذَکَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَکَرَکَ ثُمَّ نَمْ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے ذکر کیا رسول اللہ ﷺ سے کہ اسے رات کو نہانے کی حاجت ہوتی ہے تو فرمایا آنحضرت ﷺ نے وضو کرلے اور دھولے ذکر اپنے کو پھر سو جائے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar that Abdullah ibn Umar related that Umar ibn al-Khattab mentioned to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, that he would sometimes become junub in the night. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Do wudu and wash your penis, and then sleep."
جنب جب سورہنے کا ارادہ کرے غسل سے پہلے تو وضو کرکے سونے یا کھانے کا بیان
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ إِذَا أَصَابَ أَحَدُکُمْ الْمَرْأَةَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلَا يَنَمْ حَتَّی يَتَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں جب کوئی تم میں سے جماع کرے اپنی عورت سے پھر سونا چاہے قبل غسل کرے تو یہ سوئے یہاں تک کہ وضو کرلے جیسے کہ وضو ہوتا ہے نماز کے لئے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, used to say, "If you have intercourse with your wife and then wish to go to sleep before doing ghusl, do not sleep until you have done wudu as for prayer."
جنب جب سورہنے کا ارادہ کرے غسل سے پہلے تو وضو کرکے سونے یا کھانے کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَطْعَمَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ طَعِمَ أَوْ نَامَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ جب سو رہنے یا کھانے کا ارادہ رکھتے حالت جنابت میں منہ دھوتے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک اور سر پر مسح کرتے پھر کھانا کھاتے یا سو رہتے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar, if he wished to sleep or eat while junub, would wash his face, and his arms to the elbows, and wipe his head. Then he would eat or sleep. 2.2O The Repetition of the Prayer by a Person in a State of Major Ritual Impurity, his Doing Ghusl, when He has Prayed without Remembering it, and his Washing his Garments.
جنب نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھولکر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
عَنْ عَطَائَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَبَّرَ فِي صَلَاةٍ مِنْ الصَّلَوَاتِ ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنْ امْکُثُوا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ وَعَلَی جِلْدِهِ أَثَرُ الْمَائِ
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تکبیر کہی کسی نماز میں نمازوں میں سے پھر اشارہ کیا مقتدیوں کو اپنے ہاتھ سے اس بات کا کہ اپنی جائے پر جمے رہو اور آپ ﷺ گئے گھر میں بعد اس کے لوٹ کر آئے اور آپ ﷺ کے بدن پر پانی کے نشان تھے۔
Yahya related to me from Malik from Ismail ibn Abi Hakim that Ata ibn Yasar told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said the takbir in one of the prayers and then indicated to them with his hand to stay in place. He left and then returned with traces of water on his skin.
جنب نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھولکر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
عَنْ زُيَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَی الْجُرُفِ فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ قَدْ احْتَلَمَ وَصَلَّی وَلَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَانِي إِلَّا احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ وَصَلَّيْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ قَالَ فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَی فِي ثَوْبِهِ وَنَضَحَ مَا لَمْ يَرَ وَأَذَّنَ أَوْ أَقَامَ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَی مُتَمَکِّنًا
زیبد بن صلت سے روایت ہے کہ نکلا میں ساتھ عمر بن خطاب کے جرف تک تو دیکھا عمر نے اپنے کپڑے کو اور پایا نشان احتلام کا اور نماز پڑھ چکے تھے بغیر غسل کے تب کہا قسم اللہ کی نہیں دیکھتا ہوں میں اپنے کو مگر مجھے احتلام ہوا اور خبر نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی اور غسل نہیں کیا کہا زبید نے پس غسل کیا حضرت عمر نے اور دھویا جو نشان دکھائی دیا کپڑے میں اور جو نہ دکھائی دیا اس پر پانی چھڑک دیا اور اذان کہی یا اقامت کہی پھر نماز پڑھی جب آفتاب بلند ہوگیا اطمینان سے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Zuyayd ibn as-Salt said, "I went with Umar ibn al-Khattab to Juruf and he looked down and noticed that he had had a wet dream and had prayed without doing ghusl. He exclaimed, By Allah I realise that I have had a wet dream and did not know it and have not done ghusl. So he did ghusl and washed off whatever he saw on his garment, and sprinkled with water whatever he did not see.Then he gave the adhan or the iqama and prayed in the midmorning."
جنب نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھولکر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غَدَا إِلَی أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا فَقَالَ لَقَدْ ابْتُلِيتُ بِالْاحْتِلَامِ مُنْذُ وُلِّيتُ أَمْرَ النَّاسِ فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَی فِي ثَوْبِهِ مِنْ الْاحْتِلَامِ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ أَنْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب صبح کو گئے اپنی زمین میں جو جرف میں تھی پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا پھر کہا میں مبتلا ہوگیا احتلام میں جب سے خلیفہ ہوا پھر غسل کیا اور دھویا جو نشان پایا اپنے کپڑے میں احتلام کا پھر نماز پڑھی جب آفتاب نکل آیا
Yahya related to me from Malik from Ismail ibn Abi Hakim from Sulayman ibn Yasar that Umar ibn al-Khattab went out early in the morning to his land in al-Juruf and found semen on his garment. He said, "I have been tried with wet dreams since I have been entrusted with governing the people." He did ghusl and washed his garment of what he saw of the semen, and then prayed after the sun had risen.
جنب نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھولکر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّی بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ثُمَّ غَدَا إِلَی أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا فَقَالَ إِنَّا لَمَّا أَصَبْنَا الْوَدَکَ لَانَتْ الْعُرُوقُ فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ الْاحْتِلَامَ مِنْ ثَوْبِهِ وَعَادَ لِصَلَاتِهِ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے صبح کی نماز پڑھائی لوگوں کو پھرگئے اپنی زمین کی طرف جو جرف میں تھی پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا تو کہا کہ جب سے ہم کھانے لگے چربی نرم ہوگئیں رگیں پھر غسل کیا اور دھویا احتلام کے نشان کو اپنے کپڑے سے اور لوٹا یا نماز کو۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Sulayman ibn Yasar that Umar ibn al-Khattab led the people in the subh prayer and then went out to his land in Juruf and found semen on his clothes. He said, "Since we have been eating rich meat our veins have become fulsome." He did ghusl, washed the semen from his clothing, and did his prayer again.
جنب نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھولکر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّهُ اعْتَمَرَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَکْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَرَّسَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَرِيبًا مِنْ بَعْضِ الْمِيَاهِ فَاحْتَلَمَ عُمَرُ وَقَدْ کَادَ أَنْ يُصْبِحَ فَلَمْ يَجِدْ مَعَ الرَّکْبِ مَائً فَرَکِبَ حَتَّی جَائَ الْمَائَ فَجَعَلَ يَغْسِلُ مَا رَأَی مِنْ ذَلِکَ الْاحْتِلَامِ حَتَّی أَسْفَرَ فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ أَصْبَحْتَ وَمَعَنَا ثِيَابٌ فَدَعْ ثَوْبَکَ يُغْسَلُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَاعَجَبًا لَکَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ لَئِنْ کُنْتَ تَجِدُ ثِيَابًا أَفَکُلُّ النَّاسِ يَجِدُ ثِيَابًا وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُهَا لَکَانَتْ سُنَّةً بَلْ أَغْسِلُ مَا رَأَيْتُ وَأَنْضِحُ مَا لَمْ أَرَ
یحییٰ بن عبداللہ بن حاطب سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرہ کیا ساتھ عمر بن خطاب سے کئی شتر سواروں میں ان میں عمرو بن عاص بھی تھے اور عمر بن خطاب رات کو اترے قریب پانی کے تو احتلام ہوا حضرت عمر کو اور صبح قریب تھی اور قافلہ میں پانی نہ تھا تو سوار ہو کے حضرت عمر یہاں تک کہ آئے پانی کے پاس اور دھونے لگے کپڑے اپنے یہاں تک کہ روشنی ہوگئی اور عمر بن عاص نے کہا حضرت عمر سے صبح ہوگئی ہمارے پاس کپڑے ہیں اپنا کپڑا چھوڑ دیجئے دھو ڈالا جائے گا اور ہمارے کپڑوں میں سے ایک کپڑا پہن لیجئے تو کہا عمر بن خطاب نے کہ تعجب ہے اے عمرو بن عاص کیا تمہارے پاس کپڑے ہیں تو تم سمجھتے ہو کہ سب آدمیوں کے پاس کپڑے ہوں گے قسم اللہ کی اگر میں ایسا کروں تو یہ امر سنت ہوجائے بلکہ دھو ڈالتا ہوں میں یہاں نجاست معلوم ہوتی ہے اور پانی چھڑک دیتا ہوں جہاں نہیں معلوم ہوتی۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father fromYahyaibn Abd ar-Rahman ibn Ha ib that he had set off for Mumra with Umar ibn al-Khattab in a party of riders, among whom was Amr ibn al-As. Umar ibn al-Khattab dismounted for a rest late at night on a certain road near a certain oasis. Umar had a wet dream when it was almost dawn and there was no water among the riding party. He rode until he came to some water and then he began to wash off what he saw of the semen until it had gone. Amr ibn al-As said to him, "It is morning and there are clothes with us, so allow your garment to be washed. Umar ibn al-Khattab said to him, "I am surprised at you, Amr ibn al-As! Even if you could find clothes, would everybody be able to find them? By Allah, if I were to do it, it would become a sunna. No, I wash what I see, and I sprinkle with water what I do not see." Malik spoke about a man who found traces of a wet dream on his clothes and did not know when it had occurred and did not remember anything he had seen in his sleep. He said, "Let the intention of his ghusl be from the time when he last slept, and if he has prayed since that last sleep he should repeat it. This is because often a man has a wet dream and sees nothing, and often he sees something but does not have an emission. But, if he finds liquid on his garment he must do ghusl. This is because Umar repeated what he had prayed after the time he had last slept and not what was before it."
عورت کو اگر احتلام ہو مثل مرد کے تو اس پر غسل واجب ہے۔
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةُ تَرَی فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَی الرَّجُلُ أَتَغْتَسِلُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ أُفٍّ لَکِ وَهَلْ تَرَی ذَلِکَ الْمَرْأَةُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِبَتْ يَمِينُکِ وَمِنْ أَيْنَ يَکُونُ الشَّبَهُ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام سلیم نے کہا رسول اللہ ﷺ سے عورت دیکھے خواب میں جیسا کہ مرد دیکھتا ہے کیا غسل کرے تو کہا عائشہ نے ام سلیم کو نوج نگوڑی کیا عورت بھی دیکھتی ہے خواب میں تو فرمایا رسول اللہ ﷺ نے خاک آلود ہو داہنا ہاتھ تیرا اور کہاں سے ہوتی ہے مشابہت۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Umm Sulayman said to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "Should a woman do ghusl when she experiences the same as a man in her sleep?" The Messenger of Al lah said to her, "Yes, she should do ghusl. "Aisha said to her, "Shame on you! Does a woman see that?" (i.e. a liquid.) The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to her, "May your right hand be full of dust. From where does family resemblance come?"
عورت کو اگر احتلام ہو مثل مرد کے تو اس پر غسل واجب ہے۔
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ هَلْ عَلَی الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا رَأَتْ الْمَائَ
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے ام سلیم آئیں رسول اللہ ﷺ کے پاس تو کہا یا رسول اللہ ﷺ نہیں شرماتا اللہ سچ سے کیا عورت پر بھی غسل ہے جو اس کو احتلام ہو فرمایا آپ ﷺ نے ہاں جب کہ دیکھے پانی کو۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father from Zaynab bint Abi Salama that Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Umm Salama, the wife of Abu Talha al-Ansari, came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah! Allah is not ashamed of the truth-does a woman have to do ghusl if she has had an erotic dream? He said, Yes, if she sees any liquid. "
اس میں مسائل غسل جنابت کے مذکور ہیں
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ لَا بَأْسَ أَنْ يُغْتَسَلَ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ مَا لَمْ تَکُنْ حَائِضًا أَوْ جُنُبًا
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کچھ مضائقہ نہیں کہ مرد غسل کرے اس پانی سے جو عورت کی طہارت سے بچا ہو جبکہ وہ عورت حیض اور جنابت سے نہ ہو۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "There is no harm in doing ghusl with water that has been used by ones wife as long as she is not menstruating or in a state of major ritual impurity (junub)."
اس میں مسائل غسل جنابت کے مذکور ہیں
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَعْرَقُ فِي الثَّوْبِ وَهُوَ جُنُبٌ ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ
عبداللہ بن عمر کو پسینہ آتا کپڑے میں اور وہ جنبی ہوتے تھے پھر اسی کپڑے سے نماز پڑھتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to sweat in a garment while he was junub and then pray with it on.
اس میں مسائل غسل جنابت کے مذکور ہیں
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَغْسِلُ جَوَارِيهِ رِجْلَيْهِ وَيُعْطِينَهُ الْخُمْرَةَ وَهُنَّ حُيَّضٌ
ابن عمر کی لونڈیاں ان کے پاؤں دھوتی تھیں اور ان کو جائے نماز اٹھا کردیتی تھیں حالت حیض میں۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that the slave girls of Abdullah ibn Umar used to wash his feet and bring him a mat of palm leaves while they were menstruating. Malik was asked whether a man who had women and slavegirlscould have intercourse with all of them before he did ghusl. He said, "There is no harm in a man having intercourse with two of his slave girls before he does ghusl. It is disapproved of, however, to go to a freewoman on anothers day. There is no harm in making love first to one slave girl and then to another when one is junub." Malik was asked about a man who was junub and water was put down for him to do ghusl with.Then he forgot and put his finger into it to find out whether it was hot or cold. Malik said, "If no filth has soiled his fingers, I do not consider that that makes the water impure."