کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں

Mauwatta Imam Malik · Chapter 29 · 101 hadiths · Page 5 of 6

1111Mauwatta Imam Malik

جب حاملہ عورت کا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَقَدْ حَلَّتْ لِلْأَزْوَاجِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ فَجَائَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَبَعَثُوا کُرَيْبًا مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِکَ فَجَائَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْکِحِي مَنْ شِئْتِ قَالَ مَالِک وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے اس عورت کی عدت میں اختلاف کیا جو پندرہ دن کے بعد اپنے خاوند کے مرنے کے بعد بچہ جنے ابوسلمہ نے کہا جب وہ بچہ جنے تو اس کی عدت گزر گئی اور عبداللہ بن عباس نے کہا نہیں دونوں عدتوں میں جو دور ہو وہاں تک انتظار کرے اتنے میں ابوہریرہ آئے انہوں نے کہا کہ میں اپنے بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں پھر ان سب لوگوں نے اس مسئلے کو پوچھنے کے واسطے حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس کریب کو بھیجا جو عبداللہ بن عباس کے مولیٰ تھے انہوں نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے خاوند کے مرنے کے بعد چند روز کے بعد جنی جب آنحضرت ﷺ سے بیان کیا آپ نے فرمایا تو حلال ہوگئی جس سے چاہے نکاح کرے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اور ہمارے شہر کے عالم اسی مذہب پر رہے۔

1112Mauwatta Imam Malik

جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان

زَيْنَبَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَائَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَی أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ قَالَتْ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَی أَهْلِي فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُکْنِي فِي مَسْکَنٍ يَمْلِکُهُ وَلَا نَفَقَةٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَتْ فَانْصَرَفْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِي فَنُودِيتُ لَهُ فَقَالَ کَيْفَ قُلْتِ فَرَدَّدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَکَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي فَقَالَ امْکُثِي فِي بَيْتِکِ حَتَّی يَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَهُ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَی بِهِ

زینت بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان جو ابوسعید خدری ؓ کی بہن ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور پوچھا کہ مجھے اپنے لوگوں میں جانے کی اجازت ہے کیونکہ میرے خاوند کے چند غلام بھاگ گئے تھے وہ ان کو ڈھونڈنے کو نکلے جب قدوم (ایک مقام ہے مدینہ سے سات میل پر) میں پہنچی وہاں غلاموں کو پایا اور غلاموں نے میرے خاوند کو مار ڈالا اور میرا خاوند میرے لئے نہ کوئی مکان ذات کا چھوڑ گیا ہے نہ کچھ خرچ دے گیا ہے اگر آپ کہئے تو میں اپنے کنبے والوں میں چلی جاؤں آپ ﷺ نے فرمایا چلی جا جب میں لوٹ کر چلی حجرہ کے باہر نہیں پہنچی تھی کہ آپ ﷺ نے پکارا یا کسی اور نے آپ کے کہنے پر پکارا اور مجھ سے پوچھا میں نے سارا واقعہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی گھر میں رہ یہاں تک کہ عدت پوری ہو میں نے اسی گھر میں عدت کی چار مہینے دس تک جب حضرت عثمان ؓ خلیہ ہوئے انہوں نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھوا بھیجا اور اسی کے موافق حکم کیا۔

1113Mauwatta Imam Malik

جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَرُدُّ الْمُتَوَفَّی عَنْهُنَّ أَزْوَاجُهُنَّ مِنْ الْبَيْدَائِ يَمْنَعُهُنَّ الْحَجَّ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ان عورتوں کو بیداء سے پھیر دیتے تھے حج کو نہ جانے دیتے تھے جو خاوند کے مرنے کے بعد سے عدت میں ہوتی تھیں۔

1114Mauwatta Imam Malik

جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان

عَنْ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ تُوُفِّيَ وَإِنَّ امْرَأَتَهُ جَائَتْ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَذَکَرَتْ لَهُ وَفَاةَ زَوْجِهَا وَذَکَرَتْ لَهُ حَرْثًا لَهُمْ بِقَنَاةَ وَسَأَلَتْهُ هَلْ يَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَبِيتَ فِيهِ فَنَهَاهَا عَنْ ذَلِکَ فَکَانَتْ تَخْرُجُ مِنْ الْمَدِينَةِ سَحَرًا فَتُصْبِحُ فِي حَرْثِهِمْ فَتَظَلُّ فِيهِ يَوْمَهَا ثُمَّ تَدْخُلُ الْمَدِينَةَ إِذَا أَمْسَتْ فَتَبِيتُ فِي بَيْتِهَا

سائب بن خباب کا انتقال ہوگیا تو ان کی بی بی عبداللہ بن عمر کے پاس آئیں اور اپنے خاوند کا مرنا بیان کیا اور کہا کہ میری کچھ کھیتی ہے چاہے اگر آپ اجازت دیجیے تو میں شب کو وہاں رہا کروں انہوں نے اس سے منع کیا تو وہ مدینہ سے صبح کو جاتیں دن بھر اپنے کھیت میں رہتیں اور سارا دن وہاں کاٹتیں شام کو پھر مدینہ میں آ جاتیں اور رات پھر اپنے گھر میں بسر کرتیں۔

1115Mauwatta Imam Malik

جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْمَرْأَةِ الْبَدَوِيَّةِ يُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا إِنَّهَا تَنْتَوِي حَيْثُ انْتَوَی أَهْلُهَا

ہشام بن عروہ سے روایت ہے ان کے باپ عروہ کہتے تھے کہ جو لوگ جنگل میں رہا کرتے ہیں اگر ان میں سے کسی کا خاوند مرجائے تو وہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہے جہاں وہ اتریں وہاں وہ بھی اترے۔ (عذر کی وجہ سے)

1116Mauwatta Imam Malik

جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَا تَبِيتُ الْمُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَا الْمَبْتُوتَةُ إِلَّا فِي بَيْتِهَا

عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ جس عورت کا خاوند مرجائے یا طلاق دے دے وہ رات کو اپنے گھر میں رہا کرے۔

1117Mauwatta Imam Malik

جب ام ولد کا مالک مر جائے اس کی عدت کا بیان

الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ إِنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ فَرَّقَ بَيْنَ رِجَالٍ وَبَيْنَ نِسَائِهِمْ وَکُنَّ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ رِجَالٍ هَلَکُوا فَتَزَوَّجُوهُنَّ بَعْدَ حَيْضَةٍ أَوْ حَيْضَتَيْنِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ حَتَّی يَعْتَدِدْنَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ سُبْحَانَ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ فِي کِتَابِهِ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا مَا هُنَّ مِنْ الْأَزْوَاجِ

قاسم بن محمد کہتے تھے کہ یزید بن عبدالملک نے مردوں اور ان عورتوں کے درمیان جو ام ولد تھیں تفریق کردی اور ان کے مولیٰ مرگئے تھے انہوں نے ایک حیض یا دو حیض کے بعد نکاح کر لئے تھے اور حکم دیا چار مہینے دس دن عدت کرنے کاتب قاسم بن محمد نے کہا سبحان اللہ اللہ فرماتا ہے جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت کریں اور ام دلد بیبیوں میں داخل نہیں۔

1118Mauwatta Imam Malik

جب ام ولد کا مالک مر جائے اس کی عدت کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا حَيْضَةٌ

عبداللہ بن عمر نے کہا ام ولد کا مولیٰ جب مرجائے تو ایک حیض تک عدت کرے۔

1119Mauwatta Imam Malik

لونڈی کا جب مولی یا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان

و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا حَيْضَةٌ قَالَ مَالِك وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مِمَّنْ تَحِيضُ فَعِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ

قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ ام ولد کا جب آقا مرجائے تو ایک حیض تک عدت کرے اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے

1120Mauwatta Imam Malik

لونڈی کا جب مولی یا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان

عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ کَانَا يَقُولَانِ عِدَّةُ الْأَمَةِ إِذَا هَلَکَ عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَانِ وَخَمْسُ لَيَالٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ مَالِک فِي الْعَبْدِ يُطَلِّقُ الْأَمَةَ طَلَاقًا لَمْ يَبُتَّهَا فِيهِ لَهُ عَلَيْهَا فِيهِ الرَّجْعَةُ ثُمَّ يَمُوتُ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِهِ إِنَّهَا تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْأَمَةِ الْمُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَيْنِ وَخَمْسَ لَيَالٍ وَإِنَّهَا إِنْ عَتَقَتْ وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ ثُمَّ لَمْ تَخْتَرْ فِرَاقَهُ بَعْدَ الْعِتْقِ حَتَّی يَمُوتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِهِ اعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْحُرَّةِ الْمُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَذَلِکَ أَنَّهَا إِنَّمَا وَقَعَتْ عَلَيْهَا عِدَّةُ الْوَفَاةِ بَعْدَ مَا عَتَقَتْ فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْحُرَّةِ قَالَ مَالِک وَهَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا

سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ لونڈی کا خاوند جب مرجائے تو اس کی عدت دو مہینے پانچ دن ہے۔ ابن شہاب نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔ کہا مالک نے جو غلام لونڈی کو طلاق رجعی دے پھر مرجائے اور اس کی عورت عدت میں ہو تو اب دو مہینے پانچ دن تک عدت کرے۔ اگر وہ لونڈی آزاد ہوجائے اور اپنے خاوند سے جدا نہ ہونا چاہے یہاں تک کہ خاوند اس کا عدت میں مرجائے تو اب وہ لونڈی مثل آزاد عورت کے چار مہینے دس دن تک عدت کرے کیونکہ عدت وفات کے بعد آزادی کے اس پر لازم ہوئی تو مثل آزاد عورت کے کرنا چاہیے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔

1121Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَائَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَائَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ فَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ کَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ کَائِنَةٌ

ابن محیریز سے روای تھے کہ میں مسجد میں گیا وہاں ابوسعید خدری کو بیٹھے دیکھا میں نے پوچھا عزل درست ہوئے انہوں نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بن مصطلق میں گئے وہاں عورتیں کافروں کی قید ہوئی ہم لوگوں کو شہوت ہوئی اور مجردی دشوار گزری اور یہ بھی کہ ہم چاہتے تھے کہ ان عورتوں کو بیچ کر روپیہ حاصل کریں اس لے ہم نے چاہا کہ عزل کریں پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ موجود ہیں بغیر آپ ﷺ سے پوچھے کیونکر عزل کریں اس لئے آپ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا عزل رکنے میں کچھ قباحت نہیں کیونکہ جس جان کو پیدا کرنا اللہ کو منظور ہے وہ خوار مخواہ پیدا ہوگی قیامت تک۔

1122Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ مَالِك عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ

سعد بن ابی وقاص عزل کرتے تھے

1123Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ کَانَ يَعْزِلُ

ابو ایوب انصاری عزل کرتے تھے۔

1124Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَعْزِلُ وَكَانَ يَكْرَهُ الْعَزْلَ

عبداللہ بن عمر عزل نہیں کرتے تھے اور مکروہ جانتے تھے۔

1125Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَجَائَهُ ابْنُ قَهْدٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ عِنْدِي جَوَارِيَ لِي لَيْسَ نِسَائِي اللَّاتِي أُکِنُّ بِأَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهُنَّ وَلَيْسَ کُلُّهُنَّ يُعْجِبُنِي أَنْ تَحْمِلَ مِنِّي أَفَأَعْزِلُ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَفْتِهِ يَا حَجَّاجُ قَالَ فَقُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ إِنَّمَا نَجْلِسُ عِنْدَکَ لِنَتَعَلَّمَ مِنْکَ قَالَ أَفْتِهِ قَالَ فَقُلْتُ هُوَ حَرْثُکَ إِنْ شِئْتَ سَقَيْتَهُ وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَشْتَهُ قَالَ وَکُنْتُ أَسْمَعُ ذَلِکَ مِنْ زَيْدٍ فَقَالَ زَيْدٌ صَدَقَ

حجاج بن عمرو بن غزیہ بن ثابت پاس بیٹھے تھے اتنے میں ابن فہد ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور کہا اے ابس سعید میرے پاس چند لونڈیاں ہیں جو میری بیبیوں سے بہتر ہیں مکر میں نہ نہیں چاہتا کہ وہ سب حاملہ ہوجائیں کیا میں اس سے عزل کروں زید نے حجاج سے کہا مسئلہ بتاؤ حجاج نے کہا اللہ تمہیں بخشے ہم تو تمہارے پاس علم سکیھنے کو آتے ہیں زید نے کہا بتاؤ جب میں نے کہا وہ کھیتیاں ہیں تیری تیرا جی چاہے ان میں پانی پہنچا یا جی چاہے سوکھا رکھ میں اس یا ہی سنا کرتا تھا زید سے زید نے کہا سچ بولا۔

1126Mauwatta Imam Malik

عزل کے بیان میں

عَنْ ذَفِيفٌ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْعَزْلِ فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ فَقَالَ أَخْبِرِيهِمْ فَکَأَنَّهَا اسْتَحْيَتْ فَقَالَ هُوَ ذَلِکَ أَمَّا أَنَا فَأَفْعَلُهُ يَعْنِي أَنَّهُ يَعْزِلُ قَالَ مَالِک لَا يَعْزِلُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ الْحُرَّةَ إِلَّا بِإِذْنِهَا وَلَا بَأْسَ أَنْ يَعْزِلَ عَنْ أَمَتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهَا وَمَنْ کَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةُ قَوْمٍ فَلَا يَعْزِلُ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ

ذفیف سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ سے سوال ہوا عزل کرنا درست ہے یا نہیں انہوں نے اپنی لونڈی کو بلا کر کہا تو ان کو بتادے اس نے شرم کیا عبداللہ بن عباس نے کہا دیکھ لو ایسا ہی حکم ہے میں تو عزل کیا کرتا ہوں۔ کہا مالک نے آزاد عورت سے عزل کرنا بغیر اس کی اجازت کے درست نہیں اور اپنی لونڈی سے بغیر اس کی اجازت کے درست ہے اور پرائی لونڈی سے اس کے مالک کی اجازت لینا ضروری ہے۔

1127Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ بِهِ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَحَتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حمید بن نافع ؓ سے روایت ہے کہ زبیب بنت ابی سلمہ نے تین حدیثیں ان سے بیان کیں ایک تو یہ کہ میں ام حبیبہ کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی جب ان کے باپ ابوسفیان بن حرب مرے تھے تو ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس روز دی ملی ہوئی تھی وہ خوشبو ایک لونڈی کے لگا کر اپنے کلوں پر لگالی اور کہا کہ قسم اللہ کی مجھ خوشبو کی احتیاج نہیں مگر میں نے رسول اللہ ﷺ نے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں کہ کسی مردے پر تین دن تک زیادہ سوگ کرے سو اے خاوند کے کہ اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے

1128Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

قَالَتْ زَيْنَبُ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ حَاجَةٌ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

زینب نے کہا میں زینب بن جحش پاس جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی گئی جب ان کے بھائی مرگئے تھے انہوں نے خوشومنگا کر لگائی اور کہا قسم اللہ کی مجھے خوشبو کی حاجت نہیں مگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں کہ سوگ کرے کسی مردے پر تین روز سے زیادہ مگر خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔

1129Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَکَتْ عَيْنَيْهَا أَفَتَکْحُلُهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا کُلُّ ذَلِکَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ کَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّی تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْئٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ

زینب نے کہا میں نے اپنی ماں ام سلمہ کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی انہوں نے کہا ایک عورت آئی ٤ رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میری بیٹی کا خاوند مرگیا اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں اگر فرمائیے تو سرمہ لگا دوں آپ نے فرمایا نہیں نہیں دو بار یا تین بار بلکہ چار مہینے دس دن تک پرہیز کرنا ضروری ہے اور جاہلیت میں ایک سال تک پرہیز کرتے تھے جب سال ختم ہوتا تو اونٹ کی مینگنی پھینکتے تھے۔ حمید نے کہا میں نے زینب سے پوچھا اونٹ کی مینگنی پھینکنے کیا مطلب ہے انہوں نے کہا زمانہ جاہلیت میں جب عورت کا خاوند مرجاتا تو ایک کھنڈر میں چلے جاتے اور برے سے برے کپڑے پہن لیتے پھر ایک سال تک خوشبو وغیرہ کچھ نہ لگاتے بعد سال کے ایک جانور لاتے گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ اس کو اپنے بدن پر ملتے اکثر وہ مرجاتا بعد اس کے باہر نکلتے تو ایک اونٹ کی مینگنی اس کو دیتے اس کو پھینک کر پھر اختیار ہوتا چاہے خوشبو لگائے یا اور کوئی کام کرے۔

1130Mauwatta Imam Malik

سوگ کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ زَوْجَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ عَنْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِامْرَأَةٍ حَادٍّ عَلَی زَوْجِهَا اشْتَکَتْ عَيْنَيْهَا فَبَلَغَ ذَلِکَ مِنْهَا اکْتَحِلِي بِکُحْلِ الْجِلَائِ بِاللَّيْلِ وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمَا کَانَا يَقُولَانِ فِي الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا إِنَّهَا إِذَا خَشِيَتْ عَلَی بَصَرِهَا مِنْ رَمَدٍ أَوْ شَکْوٍ أَصَابَهَا إِنَّهَا تَکْتَحِلُ وَتَتَدَاوَی بِدَوَائٍ أَوْ کُحْلٍ وَإِنْ کَانَ فِيهِ طِيبٌ قَالَ مَالِک وَإِذَا کَانَتْ الضَّرُورَةُ فَإِنَّ دِينَ اللَّهِ يُسْرٌ

حضرت ام المومنین عائشہ اور حضرت ام المومنین حفصہ سے رواتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں سوگ کرنا کسی مردے پر تین راتوں سے زیادہ مگر خاوند پر۔ حضرت ام سلمہ نے ایک عورت سے کہا جو سوگ میں تھی پنی خاوند کے اور اس کی آنکھ دکھتی تھی رات کو وہ سرمہ لگالے جس سے آنگھ روشن ہو اور دن کو پونچھ ڈالے۔ سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے جس عورت کا خاوند مرجائے اور اس کو آنکھ کے آشوب یا کسی اور دکھ کی تکلیف ہو وہ سرمہ لگائے اور دو کرے اگرچہ اس میں خوشبو ہو۔ کہا مالک نے جب ضرورت ہو تو اللہ جل جلالہ کا دین آسان ہے۔